انتقاد فکر کی روایت بمقابلہ مذہبی روایت


sajid aliبیسویں صدی کے ایک بہت ممتاز فلسفی کارل پوپر نے دو روایات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک انتقاد فکر کی روایت اوردوسری مذہبی روایت۔ مذہبی روایت میں اصل فریضہ ہے: بانی مذہب کی تعلیمات کو من و عن محفوظ رکھنا اور ان کو کسی تغیر و تبدل کے بغیر آئندہ نسلوں کو منتقل کرنا۔اس روایت میں کسی نئی سوچ یا فکر کی گنجائش نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ کچھ تعبیرات حتمی صورت اختیار کر لیتی ہیں، جن کو بلا دلیل ماننے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ کیوں اور کیسے جیسے سوالات کو شیطانی وسوسہ اور ایمان کی کمزوری گردانا جاتا ہے۔چنانچہ بانیءمذہب کے ساتھ کچھ اور افراد بھی احترام اور تقدیس کے منصب پر فائز ہو جاتے ہیں اور ان کے اقوال و افکار کو بھی سند کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ مذہبی روایت میں اسلاف کے افکار پر تنقید کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے ؛ہر نئی بات کو بدعت قرار دیا جاتا ہے اور بدعت ایک گناہ عظیم ہے۔
مذہبی روایت میں جو لوگ کوئی نئی بات سوچتے ہیں، ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ اسے اسلاف کی سند کے ساتھ بیان کریں اور یہ ثابت کریں کہ یہ بات فی الواقع نئی نہیں ہے بلکہ اسلاف کی فکر سے ماخوذ ہے۔ مذہبی فکر میں نئی بات پیش کرنے والے، جنہیں پرانی فکر کے حامل حقارت سے متجددکہتے ہیں، یہ دعوی کرتے ہیں کہ ماقبل صدیوں کے لوگوں نے اصل تعلیمات کو درست طور پر بیان نہیں کیا اور ان میں بہت سا بگاڑ پیدا کر دیا ہے اوروہ اصل معنی اور مفہوم کی بازیافت کر رہے ہیں۔ سر سید سے لے کر مکتب حمید الدین فراہی تک اسی صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔
مذہبی روایت کا ایک دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلاف کے باہمی اختلافات میں کسی کو غلط اور کسی کو صحیح قرار دینے کی بجائے دورازکار تاویلات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کا اختلاف محض ظاہری اور ان کے مدعا و مقصود کو درست طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے وگرنہ وہ ایک ہی حقیقت کو بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اسلاف سے وابستہ تقدس کے پیش نظر یہ ماننا ممکن نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی فرد غلطی پر تھا کیونکہ غلطی کو بالعموم گناہ کے مترادف خیال کیا جاتا ہے۔اس کی ایک مثال بر صغیر میں شاہ ولی اللہ کی وحدت وجود اور وحدت شہود میں تطبیق پیدا کرنے کی مساعی تھی۔ ان کے نزدیک شیخ اکبر ابن عربی اور شیخ احمد سرہندی دونوں ہی واجب الاحترام بزرگ تھے اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی غلط نہیںہو سکتا تھا۔چنانچہ دونوں کی فکر میں نظر آنے والا اختلاف حقیقی نہیںہو سکتا۔ ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہید نے بھی اپنے دادا کی کتابوں کی شرح کرتے ہوئے عبقات تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں متعدد مقامات پر اپنے دادا سے مختلف رائے ظاہر کی مگر نہ اس اختلاف کا برملا اظہار کیا اور نہ دادا جان کو کسی جگہ غلط قرار دیا۔ کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ آپ جس کااحترام کرتے ہیں اس پر تنقید نہیںکر سکتے، دوسرے لفظوں میں جس پر تنقید کرتے ہیں اس کا احترام نہیں کرتے۔
مذہبی روایت کا یہ رویہ علم و فکر کی راہوں کو بند کرنے والا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی ابتدائی صدیوں میں تنقیدِ فکرکو ہی منہاجِ علم قرار دیا تھا اور وہ اسی منہاج پر عمل پیرا تھے۔ ابتدائی صدیوں کے علمی کارنامے تنقیدِ فکرکے اس منہاج کے استعمال کی درخشاں مثالیں ہیں۔اس وقت تنقید و احترام کو ایک دوسرے کا نقیض نہیںسمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ اسلاف سے اختلاف کرتے ہوئے بالعموم یہ کلمہ کہا جاتا تھا نحن رجال و ھم رجال۔ تاہم بعد کی صدیوں میں گروہی تعصبات اور اسلاف کے ساتھ مبالغہ آمیز وابستگی نے مندرجہ بالا رویے کو جنم دیا جس کے نتیجے میں علم و فکر کی شاہراہ پر ترقی کا سفر رک گیا اور علم و فن جمود کا شکار ہو گئے۔
مذہبی روایت میں چونکہ درست اور صحیح عقائد کی ایک فہرست ہوتی ہے جس میں تغیر، تحریف یا اضافہ کو گمراہی تصور کیا جاتا ہے اس لیے مذہبی روایت میں تاریخ افکار کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا بلکہ اس میں گمراہ فرقوںکی تاریخ لکھی جاتی ہے۔ وہ فرقے جنہوں نے کسی مسئلے پر درست عقائد سے مختلف کسی رائے کو اختیار کیا۔ مسیحیت بالخصوص رومن کیتھولک چرچ والوں نے ایسی بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ مسلم روایت میں بھی ابوالحسن اشعری کی مقالات الاسلامیین اور عبدالکریم شہرستانی کی الملل والنحل سے لے کر درجنوں ایسی تصانیف موجود ہیں جن میں گمراہ فرقوں کے عقاید بیان کیے گئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان گمراہ فرقوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتارہتا ہے۔ بر صغیر پاک و ہند میں سر سید احمد خان سے لے کر جاوید احمد غامدی تک کتنے ہی لوگوں کو گمراہ اور بعض کو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دیا چکا ہے اور ان کے خلاف کتب و مضامین کا ایک انبار جمع ہو چکا ہے۔
تاریخ فلسفہ میں فیثاغورث وہ پہلا فرد ہے جس نے خود کو فلسفی قرار دیا تھا۔ فیثاغورث اور اس کے دبستان کا انداز اگرچہ فلسفیانہ سے زیادہ مذہبی تھا۔ اس میں سر و اخفا کا پہلو بھی تھا۔ فیثاغورث کے شاگردوں کو سختی سے تلقین کی جاتی تھی کہ وہ غیروں کے ساتھ گفتگو سے پرہیز کریں یعنی اپنے عقائد و تعلیمات سے دوسروں کو آگاہ نہ کریں ۔ ایک مشہور حکایت کے مطابق فیثاغورثی دبستان کے ایک رکن، جس کا نام ہپاسوس تھا، کو ایک راز افشا کرنے کی پاداش میں سمندر میں ڈبو کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔حالانکہ اس راز کا تعلق ایک ریاضیاتی مسئلے سے تھا۔ فیثاغورث کی فلسفی سے مراد ایسا شخص ہے جو صداقت کو جانتا ہو۔ ہماری صوفیانہ اصطلاح میں ایسے فرد کو عارف قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس فلسفے کا سقراطی تصور ہے جس میں فلسفی عارف حقیقت نہیں بلکہ اس کا متلاشی ہے۔
فیثاغورث کے برعکس یونان میں ایک اور فلسفیانہ روایت نے جنم لیا جس کا بانی تھیلیز تھا جس نے تنقید فکر کی روایت کی بنا ڈالی۔یہ وہ شخص ہے جسے بالاتفاق فلسفہ اور سائنس کا باوا آدم قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا شمار یونان کے سات عقلاءمیں کیا جاتاہے۔ اس کی اپنی کوئی تحریر موجود نہیں مگر ارسطو نے اس کے بعض اقوال کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً اس کے یہ مشہور اقوال کہ” کائنات کا مبداءپانی ہے“ اور ”زمین ایک سپاٹ طشتری ہے جو پانی پر تیر رہی ہے“۔ اگر غور کیا جائے تو ان اقوال میںبظاہر کوئی ایسی بات نہیں جن کی بنا پر کسی کو فلسفے اور سائنس کا بانی قرار دے دیا جائے۔ کارل پوپر نے اس حکایت کی ایک مفروضاتی تشکیل نو کی ہے جو کافی معقول دکھائی دیتی ہے۔ کارل پوپر کے نزدیک تھیلیز نے ایک ضمنی روایت کی بنیاد رکھی جسے اس نے تنقیدی روایت کا نام دیا ہے۔ انکسیمینڈر تھیلیز کا ایک شاگرد تھاجو تمام عمر استاد کے ساتھ ہی رہا اور استادشاگرد کی وفات میں چندہی سال کا وقفہ تھا۔ پوپر کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ تھیلیزنے اپنے شاگرد کو چیلنج کیاہو کہ کیا وہ اس کے خیال کو بہتر بنا سکتا ہے اورشاگرد نے وہ چیلنج قبول کر لیا۔ گمان کیا جا سکتاہے تھیلیززلزلوں کی توجیہ پیش کرنا چاہتا ہو کہ زمین چونکہ پانی پر تیر رہی ہے اس لیے وہ کبھی کبھار لرزنا شروع ہو جاتی ہے۔ انکسیمینڈر کو اس پر یہ اعتراض تھا کہ اگر زمین کی بنیاد پانی ہے تو پانی کی کیا بنیاد ہے؟ اگر پانی کی بنا تلاش کریں گے تو اس بنا کی بنا تلاش کرناپڑے گی اور یوں یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ انکسیمینڈر نے ایک بہت ہی جرا¿ت مندانہ تصور پیش کیا کہ زمین کی کوئی بنیاد نہیں۔ اس پر اعتراض ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی بنیاد نہیں تو وہ اپنی جگہ پر کس طرح قائم ہے۔ انکسیمینڈر کا جواب تھا کہ چونکہ زمین دوسرے اجرام فلکی سے یکساں فاصلے پر واقع ہے اس لیے وہ اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ اس شخص کی تخلیقی ذہانت کا اندازہ کیجیے کہ وہ چھبیس صدیاں پہلے نیوٹن کی پیش بینی کر رہا تھا۔
انسانی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب ایک شاگرد نے اپنے استاد سے اختلاف کیا اور بہت مختلف نقطہءنظر پیش کیا۔ قدیمی روایت تو یہی سکھاتی تھی کہ گرو کی آگیا کا پالن کرنا چیلے کا دھرم ہے۔ آیونیائی دبستان نے ایک نئی روایت کا آغاز کیا جس میں شاگرد استاد سے اختلاف کرتا ہے اور فکرو نظر کی نئی راہوں کا مسافر ہوتا ہے۔اس روایت کا فیضان تھا کہ تین صدیوں تک علم و فلسفہ میں بے پناہ ترقی ہوئی۔ چار پانچ نسلوں کے دوران ہی یونانیوں نے دریافت کر لیا کہ زمین، سورج اور چاند کرے ہیں۔ چاند زمین کے گرد گھومتا ہے اور اپنی روشنی سورج سے مستعارلیتا ہے۔ وہ اس بات تک بھی پہنچ گئے تھے کہ زمیں ساکن نہیں بلکہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔
گویا فلسفیانہ روایت کا امتیازی وصف تنقیدِ فکر ہے۔ تلاشِ حق کے اس سفر میں اسلاف کے افکار کو تنقید و تجزیہ کی کسوٹی پر پرکھنا، درست کو نادرست سے ممیز کرنا، ان افکار کو بہتر بنانے کی سعی کرنا، اپنے مفروضات کو تنقید کے لئے پیش کرنا، اسی کا نام فلسفہ ہے۔ دوسروں کے خیالات پر تنقید کرنا اور اپنے خیالات پر دوسروں کو تنقید کی دعوت دینا، علم کی ترقی کے لئے لازم ہے۔ تلاشِ حق ایک اجتماعی جدوجہد کا نام ہے، ہر ادنیٰ و اعلیٰ اس میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ کسی فرد یا گروہ کا حق پر اجارہ نہیں۔ فلسفیانہ روایت میں شاگرد کا استاد کو سب سے بڑا خراج تحسین یہ ہے کہ وہ استاد سے آگے نکل جائے۔
جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ مسلم فکری روایت ابتدا میں تنقیدی روایت ہی تھی۔ صداقت کا انحصار افراد پر نہیں بلکہ دلائل و شواہد پر تھا۔ بلادلیل تقلید کو انتہائی معیوب گردانا جاتا تھا۔ امام شافعی کا ایک بہت مشہور قول ہے ہم اپنی بات کو صحیح کہتے ہیں مگر اس میں غلطی کا امکان تسلیم کرتے ہیں، ہم دوسروں کی بات کو غلط کہتے ہیں مگر اس کی صحت کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔
اب کارل پوپر کایہ جملہ بھی دیکھ لیجئے :
‘I may be wrong and you may be right, and by an effort, we may get nearer to the truth.’
(میری رائے غلط ہو سکتی ہے اور آپ کا خیال درست ہو سکتا ہے ۔ اگر ہم مل کر کوشش کریں تو حقیقت کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔)

یہی درست علمی اور عقلی منہاج ہے۔ علم کوئی منزل اور انتہا نہیں۔ جب تک انسان اس کرہ ارض پر موجود ہے اسے مسائل کا سامنا ہو گا اور ان مسائل کا حل دریافت کرنا اس کی بقاکے لیے لازم ہے۔ کسی ایک دور میں حاصل کردہ علم کو حتمی قرار دینے کے نتائج بہت مہلک ہو سکتے ہیں۔ علمی سرگرمی کا ایک ہی فریضہ ہے: گزشتہ نسلوں سے موصول ہونے والے علمی سرمائے کو تنقید کی سان پر پرکھنا، اس میں غلطیاں دریافت کرنا اور ان غلطیوں کو دور کرکے اس میں بہتری لانا۔ انسانی علم خطا و صواب کا آمیزہ ہے اس لیے اس میںحتمیت اور قطعیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ آج ہم سب پر لازم ہے کہ ہم تنقید فکر کی اس صحت مند روایت کا احیا کرنے کی سعی و جہد میں اپنا کردار ادا کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “انتقاد فکر کی روایت بمقابلہ مذہبی روایت

  • 24-01-2016 at 11:35 pm
    Permalink

    الآن جئت بالحق ۔۔۔ (القرآن) اب کی ناں حق کی بات ۔ واقعی ڈاکٹر ساجد علی۔ حق کہا ۔ مرحبا ۔ برمحل اور موزوں بات۔

  • 24-01-2016 at 11:47 pm
    Permalink

    فلسفہ اور علم الکلام میں میں واضح فرق ہے اسے مدنظر تکھنا چاہیے

  • 25-01-2016 at 12:01 am
    Permalink

    ممنون ہوں جناب من

  • 25-01-2016 at 8:55 am
    Permalink

    بہت خوب محترم ڈاکٹر صاحب۔ بہت ہی متوازن اسلوب۔

    • 25-01-2016 at 7:08 pm
      Permalink

      شکراً

  • 29-01-2016 at 6:11 pm
    Permalink

    دانش مند مکرم!تحریر میں خلط مبحث پیدا ہو گیا ہے۔آپ نے فلسفہ اور مذہب کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا ہے لیکن بعض مشترکات کے باوجود دونو میں نمایاں فرق ہے مثلاً یہ کہ فلسفہ شک و ارتیاب اور مسلسل عقلی غور و فکر پر استوار پذیر ہے جب کہ مذہب یقینی عقائد رکھتا ہے اور انھیں بغیر کسی شک و شبہہے کے تسلیم کرنے پر اصرار کرتا ہے۔البتہ مذہب کے بعض مسائل تفہیم و تشریح کے متقاضی ہیں جن میں اجتہاد روا ہے اور ان میں اختلاف کی گنجایش ہمیشہ سے رہی ہے جس پر سواے متشدد مزاج لوگوں کے کسی نے کبھی قدغن عائد نہیں کی؛امام شافعی کا مقولہ اسی نوعیت سے متعلق ہے یعنی جہاں بات فکر و اجتہاد کی ہو وہاں قطعیت کا دعویٰ صحیح ہے نہ مخالف کو کلی طور پر باطل قرار دینے کا کوئی جواز ہے۔جہاں تک بات ہے اسلاف سے سند لانے کی تو یہ بحث بھی قدیم متن کی تفسیر و تعبیر کے حوالے سے ہے کہ جب ایک متن چودہ سو برس سے موجود ہے اور ہر زمانے کے لوگوں سے اس پر عمل کا مطالبہ ہے تو نئی بات کہنے کا کیا جواز؟یہ بحث اصل میں بدعت سے متعلق ہے؛ہاں ، جدید مسائل کے حل و کشود کے لیے بہ ہر حال اجتہاد ہو گا اور اس کی حقیقت محض اس قدر ہے کہ نصوص شریعت سے ماخوذ رہ نمائی کو پیش آمدہ نئی صورت حال پر منطبق کر دیا جائے ؛اس میں بھی اختلاف کی پوری پوری آزادی ہے لیکن نصوص کے دائرے میں رہتے ہوئے!انتقاد فکر کی روایت ہمارے یہاں ہمیشہ سے پوری تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر رہی ہے ؛حنفی ،شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری مکاتب فکر اصل میں اپنے اساتذہ اور بزرگوں سے اختلاف فکر و نظر ہی کے نتیجے میں وجود پذیر ہوئے ہیں۔خلاصہ یہ کہ فلسفہ اور مذہب کی نوعیت میں فرق کی بنا پر ان کے انداز نقد و نظر میں بھی فرق ہے اور بس!یہ نہیں کہ مذہبی فکر میں تنقید کی سرے سے اجازت ہی نہیں اور اسے صرف عقلی علوم ہی میں برتا جاتا ہے۔آخری بات یہ کہ جو امور ہمیشہ سے طے شدہ ہیں اور ان میں کبھی اختلاف نہیں رہا یعنی قطعیات تو ان میں خواہ مخواہ اختلاف دراصل انتشار ہے؛اس لیے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جیسے مثلاً نمازوں کی تعدا،توحید ، رسالت اور آخرت کے عقائد وغیرہ۔

Comments are closed.