اوباما کا بیان، دوہرا معیار اور پاکستان کی مشکل


mujahid aliامریکہ کے صدر باراک اوباما نے بھی اب اپنی آواز ان لوگوں کے ساتھ ملا دی ہے جو پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں اور باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کے بعد سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت کو قومی ایکشن پلان پر زیادہ موثر طریقے سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے چارسدہ میں ہونے والے حملے اور اس میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اس سلسلہ میں مزید اقدام کر سکتا ہے اور اسے انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل اسٹیٹ آف یونین خطاب میں باراک اوباما نے پاکستان کو ان خطوں میں شامل کیا تھا جہاں آنے والی دہائیوں میں انتشار کے امکانات موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس بحرانی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شدت پسند عناصر ان علاقوں میں پنپتے رہیں گے۔ پاکستان نے امریکی صدر کی اس رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ زمینی حقائق سے متصادم ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت دہشت گردوں کو کچلنے کے لئے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔

اس دعویٰ کے باوجود رواں سال کے پہلے 20 دن کے اندر ملک کے مختلف حصوں میں متعدد دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جن میں 50 کے لگ بھگ جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ تاہم سب سے المناک سانحہ چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی میں گزشتہ بدھ کو پیش آیا تھا۔ اس موقع پر 4 دہشت گردوں نے 21 افراد کو شہید کر دیا تھا۔ چاروں حملہ آور بھی جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔ اس کارروائی کی ذمہ داری تحریک طالبان کے ایک گروہ نے قبول کی ہے جبکہ دوسرا اسے مسترد کرتا ہے۔ طالب علموں پر ہونے والے اس حملہ نے دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اس واقعہ میں 140 طالب علم اور دیگر افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ چارسدہ میں حملہ کا ماسٹر مائنڈ بھی اسی شخص کو بتایا جاتا ہے جس نے 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس گروہ نے ایک ویڈیو میں آئندہ بھی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی ہے۔ اگرچہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کل چارسدہ میں ملوث چار سہولت کاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس حملہ کی منصوبہ بندی کرنے اور اس پر عمل درآمد کے لئے مدد فراہم کرنے والے عناصر کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں اس حملہ کے بعد سے احساس عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس کے دوران دہشت گردوں کے خلاف جو جنگ جیتی ہوئی سمجھی جا رہی تھی، اب اس کے بارے میں شبہات ابھرنے لگے ہیں۔ لوگوں کی زیادہ تعداد اب آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس اعلان پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ 2016 کے دوران ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

اس بے یقینی کی وجہ فوج کے عزم میں کمی نہیں ہے لیکن سال کے پہلے 20 روز کے دوران پے در پے سامنے آنے والے سانحات اور ان پر سرکاری اداروں کا غیر واضح ردعمل ہے۔ اب یہ رائے تقویت پکڑ رہی ہے کہ فوج نے اگرچہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کیا ہے لیکن حکومت اس فوجی آپریشن کے ثمرات سمیٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہ بات بھی اتفاق رائے سے کہی جاتی ہے کہ فوج تو مستعد ہے اور ہر موقع پر اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے لیکن حکومت قومی ایکشن پلان کے تحت قانون سازی کرنے، انٹیلی جنس کو مربوط بنانے اور مذہبی منافرت کے خلاف اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ برس کے دوران فوج کے کور کمانڈرز کی طرف سے بھی اس بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔ لیکن اس تبصرہ کو سیاسی رنگ دے کر بات گول کر دی گئی تھی۔

دسمبر 2014 کے بعد رونما ہونے والے حالات و واقعات سے یہ دیکھنے میں آ یا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ اکثر ملتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے موقف کی تائید کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ لیکن بظاہر تعاون اور خوشگوار سول ملٹری تعلق کی تصویر عملی منظر نامے میں دھندلی ہو جاتی ہے۔ اب یہ احساس عام ہو رہا ہے کہ فوج اور ملک کے سیاسی رہنماﺅں کے درمیان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے بعض اصولی پالیسی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ یہ اختلافات ملک کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر باہمی اختلاف کے باوجود ساری سیاسی پارٹیاں دہشت گردی کے خلاف فوجی موقف اور ایکشن پلان کی چھتری تلے تو کھڑی نظر آتی ہیں لیکن عملی اقدامات کے سلسلہ میں ان کا زیادہ زور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں صرف ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت سندھ میں رینجرز کے اختیارات پر قدغن لگانے کی خواہشمند پیپلز پارٹی کو تختہ مشق بناتی رہتی ہے جبکہ سندھ کی صوبائی حکومت رینجرز کے بعض اقدامات کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ صوبے میں بدعنوانی اور بلیک منی اور اس میں ملوث بعض اہم اور بااثر سیاستدانوں کو رینجرز کی دسترس سے محفوظ رکھا جائے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کے معاملہ میں یہ اختلاف کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کو دہشت گردوں اور انتہا پسند تنظیموں کا گڑھ بتاتے ہوئے حکومت اور فوج پر تنقید کرتی ہے کہ فوج یا رینجرز ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتی۔ اسی طرح تحریک انصاف کراچی میں تو رینجرز کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی ساری قیادت کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار دلوانا چاہتی ہے لیکن خیبر پختونخوا میں تمام حق و اختیار اپنی صوبائی حکومت کو تفویض کرنے کی حامی ہے۔

ان ہی حالات میں اس سال کے شروع میں بھارتی علاقے پٹھان کوٹ ائر بیس پر دہشت گرد حملہ نے پاکستان کی انتہا پسند تنظیموں اور بااثر قوتوں کے ساتھ ان کے مراسم کے بارے میں بھی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ حملہ اس حوالے سے بھی خاص توجہ کا مرکز بنا ہے کہ یہ کارروائی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ لاہور کے ٹھیک ایک ہفتہ بعد کی گئی۔ اس لئے متعدد مبصر یہ قرار دے رہے ہیں کہ پٹھان کوٹ ائر بیس کو نئی دہلی اور اسلام آباد میں مفاہمانہ عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگرچہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اس حملہ کے بعد قدرے ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے سے گریز کیا ہے لیکن دونوں طرف سے بعض کالم نگاروں ، تبصرہ کرنے والوں اور ٹیلی ویڑن نشریات میں ضرور اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا گیا۔ پاکستان بھارتی حکومت کی خواہش کے مطابق جیش محمد کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ اس کے نتیجہ میں خارجہ امور کے سیکرٹریوں کی ملاقات اور جامع مذاکرات کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوششیں کھٹائی میں پڑی ہوئی ہیں۔

صدر باراک اوباما کا حالیہ بیان بھی پٹھان کوٹ حملہ اور اس پر پاکستانی حکومت کے غیر واضح موقف اور نیم دلانہ اقدامات کی روشنی میں ہی سامنے آیا ہے۔ بھارت اسے سرحد پار سے دہشت گرد کارروائی قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان اس ذمہ داری کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ غیر سرکاری ذرائع اور مبصر اسے بھارتی فوج کی ناکامی اور ان کی انٹیلی جنس کی ناکامی قرار دینے سے بھی نہیں چوکتے۔ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی اسی قسم کی کھینچا تانی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان اسے کراس بارڈر دہشت گردی قرار دیتا ہے جبکہ کابل اس حوالے سے کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جس طرح پٹھان کوٹ حملہ کا مقصد پاک بھارت مذاکرات کو ٹارگٹ کرنا تھا۔ اسی طرح چارسدہ حملہ کا مقصد بظاہر چار ملکوں کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو ناکام بنانا اور پاکستان کو یہ وارننگ دینا ہو سکتا ہے کہ وہ طالبان کے بعض گروہوں کو ان مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوششیں ترک کر دے۔

اس الجھی ہوئی اور پیچیدہ تصویر میں یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اگر پاکستان کی حکومت اور فوج ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے تو جیش محمد ، جماعت الدعوة اور اسی قسم کی بعض عالمی طور سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور ان کی قیادت سے لاتعلقی دیکھنے میں کیوں نہیں آتی۔ کیا وجہ ہے کہ حافظ سعید ، ملا عبدالعزیز اور مولانا مسعود اظہار جیسے کردار کھلم کھلا ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تائید و حمایت کرتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب یا نیشنل ایکشن پلان کی زد میں بھی نہیں آتے۔ اسی طرح امریکہ کو بھی اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ تیرہ برس تک افغانستان میں فوجی کارروائی کرنے کے باوجود وہ ایسی افغان فوج کیوں تشکیل دینے میں ناکام رہا جو اپنے ملک کے سب علاقوں پر حکومت کی عملداری نافذ کر سکے۔ افغانستان کے متعدد علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں اور بعض علاقوں میں جن میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ لگنے والا صوبہ کنڑ اور نورستان شامل ہیں، لاقانونیت کا راج ہے اور وہاں کسی کا بھی کنٹرول نہیں ہے۔

امریکہ یوں تو پاکستان سے تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اچھے برے طالبان کی تخصیص ختم کر کے بلا تفریق سب گروہوں کے خلاف کارروائی کرے لیکن گزشتہ پانچ چھ برس سے وہ براہ راست یا بالواسطہ طور سے افغان طالبان سے سیاسی مذاکرات کرنے کی تگ و دو بھی کر رہا ہے۔ اس وقت بھی قطر میں امریکہ اور مغرب کے غیر سرکاری نمائندوں کے ذریعے پگواش کانفرنس کے نام سے طالبان کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان بھی اچھے اور برے طالبان یا دہشت گردوں میں تفریق ختم کرنے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن نہ افغان طالبان کی سرپرستی سے دستبردار ہونا چاہتا ہے اور نہ ان عسکری گروہوں اور مذہبی لیڈروں سے علیحدگی اختیار کرتا ہے جو بوقت ضرورت بھارت میں کارروائی کرنے اور ملک میں اسلام اور جہاد کے نام پر بھارت دشمن جذبات کو ہوا دینے کے کام آسکیں۔

بدنصیبی سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے سوال پر کوئی لیڈر اور حکومت پورا سچ بولنے اور سامنے لانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہیں صرف وہ عناصر دہشت گرد لگتے ہیں جو ان کے مفادات کے خلاف سرگرم ہوں اور ان کی ہدایات ماننے سے انکار کر دیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے سارے لیڈر اور ملک جب تک اس دوہرے معیار اور پالیسی کو ترک کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے، اس وقت تک دہشت گردی کسی نہ کسی صورت میں کہیں نہ کہیں پر موجود رہے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali