نوازشریف کی ڈیلیں دیکھو سارے


\"wisi

پاکستان میں اب کوئی مارشل لا نہیں لگے گا۔ یہ ادارے کا اپنا فیصلہ ہے جو اب ایک نئی فوجی ڈاکٹرائین ہے۔ جب اس بنیادی فیصلے کو سمجھ لیا جائے تو پھر روز روز حکومت جانے کی خبروں کی کوئی تک نہیں بنتی ہے۔ پھر بھی ہر تھوڑے دن کے بعد حکومت اپنی آخری سانسیں لیتی دکھائی دیتی ہے۔

ضیا دور میں قومی ضروریات کے تحت میڈیا میں سورج مکھی کی فصل کاشت کی گئی تھی۔ اس فصل کا ہر فروٹ اپنی پھول صورت کے ساتھ پنڈی کی جانب منہ کئے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے۔ اسے کوئی کچھ کہے نہ کہے یہ اپنی ڈیوٹی پر آپ ہی لگا رہتا ہے۔ اگر کوئی حوالدار کہیں اپنا کوئی وٹ نکالنے کو کہہ بیٹھے کہ حکومت کیا کر رہی ہے اسے کھچ کر رکھو، تو یہ دربار پنڈی شریف کے ملنگ ات چک دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ تب بھی جب کہنے والے کا خود بھی ایسا کوئی منشا نہ ہو۔

اب ایسا بھی نہیں ہے کہ حکومت سے پنڈی کا کوئی تصادم ہی نہیں ہے۔ بہت سارے اختلاف ہیں ۔ ایک اختلاف کی خبریں تو اب میڈیا میں بھی چھلک چھلک کر آنے لگ گئی ہیں۔ چلیں ہم اسی ایک اختلاف کی بات کرتے ہیں۔ یہ اقتصادی راہداری ہے جس کے بننے کی رفتار پر چین کو بھی تشویش ہونے لگ گئی ہے۔ اس کا اظہار وہ اب پنڈی سے کرنے لگ گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک پنڈی سے صدائیں بلند ہوا کرتی تھیں۔ ہمارا یار چین اسلام آباد والوں کے ساتھ سیٹ ہو گیا ہے۔ اسلام آباد سے مراد نوازشریف تھے۔

چین کو پاکستان میں ہمیشہ ون ونڈو کی سہولت حاصل رہی ہے۔ کبھی کوئی کام نہیں رکا اس بار معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ جمہوریت ہے تو مختلف پراجیکٹ کئی دروازوں کھڑکیوں تک ہر صورت پہنچا کر منظور کروانے ہوں گے۔ اس میں دیر لگے گی جو ہمارے دوست ملک کو بھی گوارا بھی نہیں ہے کہ یہ سلوک ان کے لئے نیا ہے۔ چیف نے اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے ٹریڈ روٹ کا پہلا مرحلہ مکمل کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔

فوج کے تعمیراتی اداروں کے پاس صلاحیت موجود ہے کہ وہ یہ سب کر دکھائیں۔

پر معاملہ اتنا سادہ ہر گز نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ راہداری کی سہولیات فراہم کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے مفادات ہی مدنظر رکھنے ہیں۔ ہم اپنی بیوروکریسی کو اپنے محکموں اور وزارتوں کو صرف ایک حوالے سے جانتے ہیں۔ یہ حوالہ کرپشن ہے ۔ ہم ایک تاثر پر یقین رکھتے ہیں کہ سب کرپٹ ہیں۔ جو بات ہم نظرانداز کرتے ہیں وہ ان محکموں وزارتوں اور افسروں کی پیشہ ورانہ مہارت ہے۔

ایک افسر سے جب یہ کہا کہ سرکار اتنی سستی کیوں دکھا رہی ہے ۔ اتنی اڑیاں کیوں ڈالتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ایک سادہ سا معاملہ ہے کہ چینیوں کو ٹریڈ روٹ کے راستوں پر کچھ چائنہ ٹاؤن دینے ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی یہ ٹاؤن بنے یہ بہت چھوٹی آبادی ہوتی تھی اور کچھ ہی عرصے میں ان شہروں کی ایک بڑی آبادی میں ڈھل گئے جن کی اپنی دنیا تھی۔ ہمیں مطالبات کے جواب میں وہ ضابطے بنانے ہیں جو کئی دہائیوں بعد بھی ہماری ریاستی رٹ برقرار رکھیں۔

یہ تو تکنیکی پہلو تھا ایسا سیاسی پہلو بھی تھا۔ سیاستدان کسی سڑک گلی ٹرانسفارمر کے افتتاحی بورڈ پر نام لکھوانے کے لئے سپریم کورٹ تک چلے جایا کرتے ہیں۔ کریڈٹ لینے کے لئے کچھ بھی کریں گے۔ ٹریڈ روٹ کے کریڈٹ میں نوازشریف کسی کو بھی شریک کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

نوازشریف صرف ایک منتخب وزیراعظم نہیں ہیں۔ ان کو اقتدار کی راہداریوں میں چوتھی دہائی ہونے کو آئی ہے۔ انتظامیہ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا جانتے ہیں۔ قوانین سے اپنے مطلب کا فائدہ لینے سے واقف ہیں۔ اپنے اختیارات کو ٹائمنگ کے ساتھ استعمال کر کے ریاستی اداروں کو بڑے آرام سے بے بس کر دیتے ہیں۔

یہ بے بسی جب فرسٹریشن میں ڈھلتی ہے تو ادارے اپنے کسی گھوڑے پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ اسی ہاتھ کو کپتان امپائر کی انگلی بتایا کرتے ہیں۔ جب اس قسم اک اتحاد بھی ہو جائے تو نوازشریف اس کا مقابلہ بھی بے رحم سیاست سے کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے بھی وہ اپنی شخصیت کا بھولا پن برقرا رکھنے کا تاثر قائم رکھتے ہیں۔ اس زور آزمائی میں وہ تو مارا ہی جاتا ہے جو بطور گھوڑا میدان میں اتارا جائے۔ نوازشریف اس اعصابی گیم میں اپنے لئے ایک ڈیل حاصل کرتے ہیں۔ یہ ان کی کاروباری نفسیات بھی ہے جو مسائل میں انہیں ایک حل دے دیتی ہے۔ لوگ اس کو ان کی خوش قسمتی بتاتے ہیں۔ جبکہ وہ صرف حالات کے مطابق اپنے لئے ایک فائدہ مند سودا کرتے ہیں۔

اس بار نوازشریف اداروں سے سول رٹ منوانا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مشکل ٹارگٹ ہے۔ لیکن وہ یہ جنگ چھیڑ بیٹھے ہیں۔ وہ ریاستی فیصلوں پر سول کا اختیار چاہتے ہیں۔ کم از کم اس سے کہیں زیادہ جو موجودہ حالت میں ملا ہوا ہے۔ خارجہ پالیسی، افغان پالیسی، انڈیا پالیسی ان سب پر۔

نوازشریف نے اس بار سب کے ساتھ تب جنگ چھیڑی ہے جب وہ اپنی پارٹی اور خاندانی محاذ پر بھی ایک بڑی تبدیلی کا ڈول ڈال چکے ہیں۔ وہ مریم نواز کو اپنی وارث کے طور پر نمایاں کر رہے ہیں۔ ایسا کر کے انہوں نے اپنی پارٹی اور خاندان کے اندر بھی اپنے مخالفین کے اعصاب کا امتحان لینا شروع کر دیا ہے۔

نوازشریف جب اگلے الیکشن کے لئے اپنی گیم بنا رہے تھے۔ اس وقت پاکستانی سیاست کے طاقتور ترین کھلاڑی آصف زرداری بھی نوازشریف کو چیلنج کرنے انکے خلاف میدان میں آ گئے۔ آصف زرداری کو اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا ہیں۔ سیاست میں انکی پارٹی پیچھے جا چکی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اب جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ اب اپنی سیاست کرنی ہے ۔ انہیں اب اپنے بڑے حریف، جو نوازشریف ہیں، انہیں گرانا ہے۔ شاید اب نہیں لیکن اگلے الیکشن میں ضرور۔ ان کی اسی سوچ اور کوششوں سے اپوزیشن کا اتحاد قائم ہوتا دکھائی دیا۔ اس اتحاد کو کپتان کے بیانات کمزور کرتے ہیں لیکن یہ ٹوٹنے سے بچا ہوا ہے۔

نوازشریف اپنی ساری چالیں پردے کے پیچھے، بلکہ اپنے بستر سے چل رہے ہیں۔ اپوزیشن جب ان کے خلاف متحدہ محاز قائم کرنے جا رہی تھی تو کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاک سرزمین پارٹی اور آصف علی زرداری کی پی پی کے اہم راہنماؤں کی گرفتاریوں کا ایک واقعہ ہوا ہے۔

یہ چھوٹا سا ایک واقعہ ہے۔ اب یہ انڈے بچے دیتا رہے گا۔ اس کارروائی میں نوازشرف کا کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا۔ یہ معاملہ سندھ کا ہے جہاں ان کا کوئی ووٹ بنک نہیں ۔ یہاں جو کچھ بھی ہارنا ہے وہ یہاں کی طاقتور پارٹیوں کو ہی ہارنا ہے۔ نوازشریف کے پاس سندھ میں ہارنے کو کچھ نہیں ۔ انہیں کچھ نہ کچھ فائدہ ہی ہو گا ۔ میڈیا کو ایک کہانی مل جائے گی ۔ اپوزیشن ایک دوسرے کو ٹکر ٹکر دیکھے گی کہ اس کی مہم کی بنیاد ہی کرپشن پر اٹھنی تھی۔ سندھ کی دونوں بڑی پارٹیاں قانون کے علاوہ اپنے ووٹروں کے غصے کا سامنا کریں گی۔ یہ وقت ہوگا کہ نوازشریف سندھ میں اپنا راستہ بنائیں اگر ان کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔

ابھی تو صرف اتنا ہوا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ اداروں نے جو سینگ پھنسا رکھے ہیں، انہیں کارکردگی دکھانے کو ایک چیلنج مل گیا ہے۔ میڈیا ادارے اور ان کے مخالف سیاستدان سب کو ایک مصروفیت مل جائے گی۔ رہ گیا کپتان تو اپنی سیاست غرق کرنے کو وہ خود ہی کافی ہیں۔ حضرت آج کل اپنی ہی صوبائی حکومت کا تیاپانچہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

نوازشریف اس صورتحال میں سب کے اعصاب کا امتحان لیتے ہوئے اپنے لئے حسب معمول کوئی بہتر ڈیل تلاش کریں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “نوازشریف کی ڈیلیں دیکھو سارے

  • 23-07-2016 at 11:07 am
    Permalink

    بابا جی
    گستاخی معاف لیکن .. تجزیہ کچھ بکھرا بکھرا سا ہے – بیان کا زور بھی ماند پڑا ہے – تحریر بھی معمول سے لمبی ہے – شاید سنجیدہ تحریریں آپ کے کھیلنے کا میدان نہیں –

Comments are closed.