حباب لہو کشمیر اپنے وجود کی گواہی دے گا


\"rabiaآزاد کشمیر و \’ مقبوضہ کشمیر\’ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری 19 جولائی کو یوم قرارداد الحاق پاکستان منار ہے ہیں اور اس عہد کی تجدید کے ساتھ کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور ساری ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔ کشمیریوں نے پاکستان کے قیام سے قبل 19 جولائی 1947 کو اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کرکے قوم کو امید کی نئی کرن دکھائی تھی۔ بھارت نے68 سالوں سے طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کو پیدائشی حق، حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ کر لیا تھا۔

کشمیری آئے دن آزادی اور پاکستان سے الحاق کی دعائیں کرتے ہیں،

جدوجہد کرتے ہیں، اور بھارت بربریت دکھاتے ہوئے آئے روز نہتے کشمیریوں کو شہید، پابند سلاسل کرتا ہے، 8 جولائی کو بھی کچھ ایسا خوفناک ہوا کہ نہتے کشمیری اک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے، یوتھ لیڈر برہان مظفر وانی کو اس کے دو ساتھیوں سمیت بےدردی سے قتل کردیا گیا۔

بھارت کی 7 لاکھ مسلح فوج کشمیر میں خون کی ہولی کھیلتی آ رہی ہے، لیکن آزادی کے متوالوں کی جدوجہد میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی، عالمی برادری کشمیر کے موقف پر خاموش رہ کر بھارت کی درندگی کی حمایت کرتی آئی ہے، کسی سے دو لفظ بھی مذمت کے نہیں بولے گئے۔

حباب لہو کشمیر اپنے ہونے کی گواہی دیتا آیا ہے اور دے رہا ہے۔ جس کی بھاری قیمت ہر وقت کے حکمرانوں کو ادا کرنی پڑے گی۔ کشمیر کے مرغزاروں میں بچے بچے کے لہو نے آبیاری کی ہے۔

وحشی درندوں اور شیطان صفت بھارتی قابض فوج نے پچھلے ہفتے 45 سے زائد مظاہرین کو شہید کر دیا۔ ساڑھے تین ہزار مرد و خواتین اور بچے زخمی ہوئے۔ آنسو گیس یا واٹرکینن سے مظاہرین کو منتشر نہیں کیا گیا بلکہ چھرے فائر کیے گئے۔ یوں بھی کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اسپتالوں میں گھس کر، ایمبولینس روک کر زخمیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

کتنی ہی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، کتنوں کی ہی دنیا تاریک ہوگئی، کتنے ہی معذور ہوگئے، کتنوں کے سہاگ لُٹ گئے، لیکن یہ کوئی نئی بات تو نہیں، گزشتہ 28 سالوں سے ایسا ہی ہوتا آرہا ہے۔

۔10 دن سے روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قلت ہوگئی ہے۔ موبائل، انٹرنیٹ سروس پر پابندی لگادی گئی، اخبارات کی اشاعت روک دی گئی۔

۔20 جولائی کو کشمیر میں ہونے والی حالیہ بربریت کے خلاف پاکستان میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔

کشمیر جو جنت نظیر ہے، جہاں کے لوگوں کے دل حق خود ارادیت کے لیے دھڑکتے ہیں، جو من کے صاف ہیں،اپنے ملک کی آزادی کے لیے اک کال پر گھروں سے نکل آتے ہیں، سینہ تان کر باطل کو للکارتے ہیں، اور سر اٹھا کر جام شہادت نوش کرتے ہیں۔

برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل اور احتجاج کے دوران درجنوں کشمیریوں کو شہید کیے جانے پر جدوجہد آزادی کو اک نئی روح مل گئی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری پر آزادنہ اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیری، پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کشمیر کاز اک بار پھر سرگرم ہوگئی ہے۔

اے وقت کے منصفو! گرم لوہے پر ضرب ہی کارآمد رہتی ہے، اٹھو انصاف کرو اور اپنے ہونے کا ثبوت دو۔

اُدھر 21 جولائی آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے ذریعے بارہوایں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا جو کشمیر کاز کے لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے، بھارت ہر صورت ان انتخابات کو ناکام بنانا چاہتا ہے اور کشمیری کامیاب۔

آزاد کشمیر میں منعقد ہونے والے انتخابات میں تین طرح کی پارٹیاں شامل ہیں،جن میں سے ایک دھڑا قوم پرست جماعتوں کا ہے، نظریات کی سیاست کرنے والا دھڑا خود مختار کشمیر کا حامی ہے اور نظریہ الحاق پاکستان سے اختلاف رکھتا ہے، اور انتخاب لڑنے کے لیے نظریہ الحاق پاکستان سے وفاداری کا حلف لینا لازمی ہے۔

یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ جس علاقے کو پاکستان آزاد سمجھتا ہے، بھارت اسے مقبوضہ کہتا ہے، اور جہاں وہ اپنی ہٹ دھرمی دکھاتا آرہا ہے اسے آزاد تصور کرتا ہے اور پاکستان کے لیے بھارت کے زیر انتظام علاقہ مقبوضہ کشمیر ہے۔

مسئلہ کشمیر جس کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا، دوملکوں کی سیاست کی نذر ہوگیا،

دونوں اطراف کی حکومتیں آپس کی اقتدار کی جنگ میں کشمیر کو متنازع رکھ کر بھول گئیں۔ لیکن جلد ہی حباب لہو کشمیر اپنے وجود کی گواہی دے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ربیعہ کنول مرزا

ربیعہ کنول مرزا نے پنجاب اور پھر کراچی یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ صحافت میں کئی برس گزارے۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شعبہ ہے

rabia-kanwal-mirza has 20 posts and counting.See all posts by rabia-kanwal-mirza

One thought on “حباب لہو کشمیر اپنے وجود کی گواہی دے گا

Comments are closed.