اردوان کی حسینہ واجد بن چکی ہے


\"farnood\"

پونے تین ہزار ججز کو پہلے جھٹکے میں فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ہزاروں سرکاری ملازمین کو چلتا کیا
پھر !
باغی فوجیوں کو تختہ دار پہ لٹکانے کے لیے سزائے موت کو بحال کرنے کا عندیہ دیا
اور اب !
پندرہ ہزار سرکاری اساتذہ کو فارغ کرنے کا سندیسہ دے دیا گیا ہے
میرا گمان ہے کہ !
طیب اردوان کو فتح اللہ گولن جیسے درویش کی آہ لگنے جارہی ہے
کیونکہ !
حالات بتارہے ہیں کہ اردوان نے ایک مدبر رہنما کے طور پہ زندہ رہنے کے بجائے حسینہ واجد بننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
کوئی تو سمجھائے !
استبداد کو کوئی بھی معاشرہ قبول نہیں کرتا۔ آپ کو اگر قبول کیا تو اس لیے کہ استبداد کی ایک طویل رات کے بعد آپ کی خرد کا سویرا پھوٹا تھا۔
لیکن !
جوں جوں طاقت میں آتے گئے اظہار رائے پہ بندش عائد کرتے گئے، اب عوام ٹینکوں کے مقابل کھڑے ہوئے تو اس کا آپ نے غیر فطری نتیجہ برامد کیا۔
اگر !
اردوان نے اسی شاخ پہ کلہاڑی ماری کہ جس پہ آشیانہ قائم ہے، تو یہ اس سیاسی شعور کے ساتھ زیادتی ہوگی جو خود اردوان نے پروان چڑھایا تھا۔
بہر خدا !
اب ٹینکوں کے آگے لیٹنے والے جوانوں کے سحر سے نکل آیئے، اور اس جمہوریت کو بچا لیجیے جو خود کشی کے لیے اردوان کی مرسڈیز کے آگے لیٹ گئی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “اردوان کی حسینہ واجد بن چکی ہے

  • 20/07/2016 at 10:53 am
    Permalink

    Few words but so powerful and true. Well put

Comments are closed.