ہمیں انسان دوست معاشرہ چاہیے یا انسان دشمن


\"zeeshanخبر ہے کہ پنجاب پولیس نے قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں غیرت کے نام پر قتل کی دفعات (ضابطہ فوجداری کی دفعات 311 اور 305 ) شامل کر لی ہے جس کے تحت مدعی ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور اب فیصلہ صرف عدالت میں ہو گا۔ عدالت سے باہر اگر فریقین باہمی صلح بھی کر لیں گے تب بھی اس عدالتی کاروائی میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ یاد رہے کہ ملزم وسیم مجسریٹ کے سامنے اقبالی بیان میں قندیل بلوچ کے قتل کا اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے یہ سب غیرت کے نام پر کیا۔

یہ ایک بہترین قدم ہے- اب ریاست براہ راست فریق بن چکی ہے اور اس کا اس مقدمہ میں کردار بذات خود مدعی کا ہے جو معزز عدالت سے درخواست کر رہی ہے کہ انصاف کیا جائے۔ یہ دونوں دفعات (311 اور 305 ) اس لئے قائم کی گئی تھیں کہ کاروکاری جیسی انسان دشمن رسم کا خاتمہ کیا جائے۔

یہ ریاست کی طرف سے ایک بہترین قدم ہے جس کی تحسین ضروری ہے۔ مرحومہ قندیل بلوچ واپس نہیں آ سکتیں۔ مطلق انصاف تو تب ہے جب انہیں واپس لایا جا سکے۔ اب اگر قاتل کو سزا ہوتی ہے یا نہیں اس سے مرحومہ کو فائدہ ہونے والا نہیں۔ انصاف سوسائٹی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ایسے عمل کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ آئندہ کوئی شخص اگر ایسا قدم اٹھانے کا سوچے تو وہ جان لے کہ اس کا انجام بدترین ہو گا۔ اب اگر ملزم (یا ملزمان) کو ان کی فیملی معاف کر دیتی ہے جیسا کہ پاکستان میں دیگر غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں ہوتا ہے تو اس سے سوسائٹی انصاف سے محروم ہو جاتی ہے۔ قتل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور انسانی جان (خاص طور پر اس فرد کی جس کی سماج میں پوزیشن کمزور ہے جیسے خواتین) خطرہ میں پڑ جاتی ہے یوں کمزور کے لئے قانون بھی (جس کا دعوی ہے کہ تمام انسان اس کے حضور برابر ہیں) اس کا سہارا نہیں رہتا جو کہ اس صورت میں مدعیان کی مرضی کا پابند ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں دو چیزیں بہت اہم ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔

ریاست کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے بنیادی منصب کو پہچانے اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر ترجیحی بنیادوں پر قائم کرے۔ اس بنیادی منصب میں تین نکات اہم ہیں۔

-امن و امان کی ہر صورت میں پابندی ہو۔ مقام افسوس ہے کہ ریاست کی ترجیحات میں امن و امان سرفہرست نہیں۔ ہم نے انسانی جانوں پر دیگر امور کو ترجیح دے رکھی ہے کبھی ہم بیانیہ کی قیمت یا کولیٹرل ڈیمیج کے نام پر اپنے انسانوں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ کبھی یہاں ثقافت و مذہب کے نام پر قتل ہو رہے ہیں۔ کبھی ٹریفک کے قوانین کی پابندی نہ کرنے کے سبب حادثات معمول ہیں۔ چوری چکاری ڈاکہ راہزنی اور قتل جیسے واقعات نے اس قوم کو اندروں خانہ جنگ میں دھکیل رکھا ہے۔ امن و امان کی بنیادی ذمہ داری ہماری ریاست کی اول و اہم ترجیح نہیں رہی۔

– بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ قانون کی اول ذمہ داری یہی ہے کہ وہ شہریوں کی آزادی ، باہمی مساوات ، اور انصاف کو یقینی بنائیں۔ قانون جبر کا نام نہیں بلکہ تحفظ کا نام ہے۔ شہریت کے حقوق کی پاسداری جمہوریت کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے جو سوشل کنٹریکٹ کا لازمی جزو ہے جس کے بغیر ریاست قائم نہیں ہو سکتی۔ اس ضمن میں بھی ہمارا اجتماعی بندوست غیر ذمہ دار ثابت ہوا ہے۔

– شہریوں کی جائیداد کا تحفظ اور سماجی و معاشی تنازعات کے حل میں ایک مؤثر بندوبست قائم کرنا ریاست کے لئے لازم ہے۔ اس میں بھی ہماری کارکردگی مایوس کن ہے۔ چند ماہ پہلے جب میں پاکستان میں تھا تو میں نے ابو کے دوست کاروباری افراد سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں معاشی سست روی کی کیا وجہ ہے تو تقریبا سب اس بات پر متفق تھے کہ لین دین میں بے ایمانی یہاں معمول بن چکی ہے، لوگ چیک دیتے ہیں وہ باؤنس ہو جاتا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ لوگ پیسے واپس نہیں کرتے قانون مددگار نہیں۔ پاکستان میں معاشی ترقی کے امکانات سے ہمارا سماج محروم نہیں مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ریاست مالی تنازعات کے حل میں سنجیدہ نہیں۔ یہی معاملہ ثقافت کے دوسرے امور میں بھی ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی معاملہ میں اگر آپ کسی کویہ کہہ کر ڈرائیں کہ دیکھ مجھ پر ظلم کی کوشش نہ کرنا ورنہ قانون میرا مددگار ہے تو آپ کو ہنسی اور طنز سننے کو ہی ملے گا- ترقی یافتہ ممالک کا یہ دستور نہیں۔ انسان دوست معاشرے ایسے قائم نہیں ہوتے۔

ہم ان امور میں کیوں ناکام ہیں کیونکہ ہم نے انہیں اپنے اجتماعی بندوبست میں اہم سمجھا ہی نہیں۔ امن و امان ، آزادی مساوات اور انصاف کا ماحول تہذیب و تمدن کے قیام میں لازم ہے۔ سوسائٹی میں اگر تنازعات کے حل کا اجتماعی بندوبست نہ ہو تو سوسائٹی اپنی انسان دوست فطرت پر نہیں رہتی بلکہ اجارہ دار طبقات کی اسیری میں آ جاتی ہے۔ ہم سڑکوں پلوں راہداریوں خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے پیچ و خم میں الجھے ہوئے ہیں اور ان بنیادی ذمہ داریوں سے ہمارے ریاستی بندوبست نے آنکھیں چرا رکھی ہیں۔

یہاں ایک اور بات کا اظہار بھی ضروری ہے جس کا تعلق ہماری معاشرت سے ہے۔ ہم نے ثقافت کی خوبصورتی کو جبر کا ایندھن بنا دیا ہے۔ ہماری معاشرت ہمارے شہریوں کی نمائندہ نہیں بلکہ بالادست طبقات کی مفروضہ اخلاقیات کی اسیر بن چکی ہے۔ ہم اس مسئلہ میں پڑ گئے ہیں کہ آیا قندیل بلوچ صحیح کرتی تھیں یا غلط۔۔ معاشرے کا مسئلہ کسی فرد کی ایسی سرگرمیاں نہیں جو انفرادی آزادی کے ذیل میں آتی ہوں، معاشرے کا سوال یہ ہے کہ آیا کسی فرد کی سرگرمیاں کسی دوسرے فرد کو نقصان تو نہیں پہنچا رہیں۔ قندیل بلوچ نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا، ہاں طالبان نے پہنچایا ہے، کیا ہم نے طالبان کی سرگرمیوں کو سماجی مسئلہ بنایا؟ ثقافت اخلاقی تصورات کی آمریت کا نام نہیں، سماج تو اپنی فطرت میں آزاد رو ہوتا ہے۔ اخلاقیات کا تصور نافذ نہیں ہو سکتا، ہر فرد اپنی فری ول (آزاد ارادے) ، اور ذہانت و دلیل پسندی سے اپنے اخلاقی تصورات خود قائم کرتا ہے۔ اگر اخلاقیات نفاذ کا نام ہے تو پھر نظریاتی و عملی آمریت جائز ٹھہرتی اور تنوع پسندی شر۔ پاکستان کا ہر شہری اپنی فکر و عمل میں آزاد ہے بشرطیہ کہ اس کا کوئی عمل کسی دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ ہمیں کسی فرد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں کہ وہ اپنی ذاتی سرگرمیوں میں کن چیزوں کو جائز سمجھتا ہے اور کن کو ممنوع۔

آئیے انسان دوست معاشرہ قائم کریں، انسان دشمن نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 133 posts and counting.See all posts by zeeshan