کشمیریوں کے چھلنی چہرے اور متفرقات


خبروں کا ہجوم ہے۔ ہر خبر اپنی جگہ اہم اور توجہ کی مستحق ۔ غور کی دعوت دیتی اور عواقب کو جاننے کا پیغام لاتی ہے۔ کس خبر کو چن \"edit\" لیا جائے اور اس پر بات کی جائے۔ کس کو نظر انداز کر دیا جائے اور انتظار کیا جائے کہ یہ خبر اپنی نوعیت کا آخری سانحہ ہو گا اور اس کے بعد خیر ہی خیر ہو گی۔ حوادث میں گھری اس قوم کی قسمت میں ابھی وہ دن دیکھنا نصیب میں نہیں ہے، جب حادثہ سے سبق سیکھتے ہوئے تعمیر اور آگے بڑھنے کا راستہ کھوجنے کی روایت کو پروان چڑھایا جا سکے۔ لکھنے والے کےلئے مشکل یہ ہے کہ وہ ایسی مایوسی میں کیوں کر امید کی روشنی تلاش کرے اور کیوں کر غمگین کر دینے والے سانحات کو نظر انداز کر دے۔ یہی دیکھ لیجئے گزشتہ دس روز سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ چھروں والے کارتوس استعمال کر کے نوعمر بچوں کو نابینا اور چہرے چھلنی کرنے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود عالمی منظر نامہ میں کشمیر کی خبر اخباری کالم کے کسی کونے میں بھی جگہ پانے سے قاصر ہے۔ اور کیوں نہ ہو۔ کون ہے جو ان لوگوں کا وکیل ہو۔ پاکستان؟ جس پر دہشت گردی کو پروان چڑھانے کے الزامات ہیں اور ان الزامات کو مسترد کرنے والے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ مقبوضہ کشمیر آگ میں جل رہا ہے لیکن آزاد کشمیر میں جمعرات کو ہونے والے انتخابات جیتنے کے شوق میں جوڑ توڑ ، خرید و فروخت ، برادری بازی اور ساز باز کا بازار گرم ہے۔

کون کہہ سکتا ہے کہ اسی خطے کے بعض لوگوں کو جان کے لالے پڑے ہیں۔ کیسے جان لیا جائے کہ ان کشمیری لیڈروں نے کشمیر کاز پر دنیا کو بیدار کرنا ہے۔ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کرنے والے اپنے بھائیوں کو آزادی سے بہرہ ور ہونے میں مدد فراہم کرنی ہے۔ ان کو تو انتخاب لڑنا ہے۔ ان کو تو اپنے علاقے میں خاندانی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے والی برادری کا خم ٹھونک کر مقابلہ کرنا ہے۔ انہیں تو پاکستان کی اہم قومی پارٹیوں کے ساتھ ساز باز کر کے اسمبلی کی نشست اور خاص طور سے سبقت لے جانے والے دھڑے کا حصہ بننا ہے تاکہ آئندہ 5 سال تک ان دشمنوں کو نیچا دکھایا جا سکے جو حکومت میں ہوتے ہوئے ان کی ضرورتوں اور تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ اب ہماری باری ہے۔ اس لئے پیپلز پارٹی نہیں تو مسلم لیگ (ن) یا پھر پاکستان تحریک انصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بھی ایسی پارٹی کا ہاتھ پکڑنا ضروری ہے جو کامیابی کی ضمانت بن سکے۔ اسمبلی میں نشست دلوا سکے۔ تا کہ بعد میں اقتدار کےلئے جوڑ توڑ کا باقاعدہ حصہ بنا جا سکے۔ پاکستان کی قومی سیاسی پارٹیاں بڑھ چڑھ کر مقامی عناصر کو آپس میں لڑانے کے کھیل میں مصروف ہیں۔ یہ اس ملک کی سیاسی پارٹیاں ہیں جو کشمیر پر قبضہ کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلانے کا دعویدار ہے۔ اس ملک کا کہنا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب کا حق دیا جائے۔ یعنی اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کا موقع فراہم ہو۔ لیکن یہی ملک اور اس ملک کی اہم ترین پارٹیاں اپنے ہی زیر انتظام کشمیر میں آباد لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق اپنے رہنما چننے کا موقع دینے کےلئے تیار نہیں ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ اپنی مرضی کے ابن الوقتوں کے ذریعے اقتدار پر قبضہ جمایا جائے۔ کشمیر کے معاملات خود چلائے جائیں۔ کیونکہ اس دھندے میں وفاق سے ملنے والے بجٹ کو من مانی سے صرف کرنے ، سرکاری منصوبوں میں بندر بانٹ کرنے اور ملازمتوں میں حصہ وصول کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس دوران مقبوضہ کشمیر کے لوگ بہادری سے لڑ رہے ہیں۔ بے خوفی سے مر رہے ہیں۔ ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ لیکن پہلے یہ انتخابات کا معرکہ تو سر کر لیں۔

8 جولائی کو 22 سالہ حریت پسند برہان وانی کو سرکاری اطلاعات کے مطابق اپنے 3 ساتھیوں سمیت مسلح افواج کے ساتھ مقابلہ میں مار دیا گیا۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ ان نوجوانوں کو گرفتار کیا جا چکا تھا اور تشدد کر کے نام نہاد پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے اسے ماورائے عدالت قتل قرار دیا ہے۔ مقبول کشمیری لیڈر کی شہادت سے مقبوضہ کشمیر میں آگ بھڑک اٹھی۔ 40 ہزار سے زائد لوگ اس کے جنازے میں شرکت کےلئے ایک چھوٹے سے گاؤں میں جمع ہوئے۔ خوفزدہ بھارتی پولیس اور فوج نے کرفیو نافذ کر کے اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر گولی چلا کر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کی کوشش کی۔ اب تک 50 سے زائد کشمیری نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ آج ہی تین کشمیریوں کو گولی ماری گئی ہے۔ اس پر بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لے رہی ہے۔ ہجوم کر منتشر کرنے کےلئے خصوصی شاٹ گن سے ایسے کارتوس فائر کئے جاتے ہیں جو عام طور سے جانوروں کے شکار کےلئے استعمال ہوتے ہیں لیکن بھارتی فوج کے جواں مرد ان سے انسانوں کا شکار کر رہے ہیں۔ حکم ہے کہ چھروں والے یہ کارتوس ضرورت پڑنے پر استعمال کئے جائیں اور انہیں صرف جسم کے نچلے حصہ میں مارا جائے، تاکہ نشانے پر آنے والے کو کوئی طویل المدت نقصان نہ پہنچے۔ لیکن یہ کتابوں میں لکھی باتیں ہیں جو سیاستدان اپنی تقریروں کو دلفریب بنانے کےلئے استعمال کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری عوام کے غضب سے ہراساں بھارتی سکیورٹی فورسز انتقام اور غصے میں ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ سری نگر کے اسپتال میں لائے گئے 117 نوجوانوں کے جسم چھروں سے چھلنی ہیں۔ یہ سارے چھرے جسم کے بالائی حصے اور خاص طور سے چہروں پر فائر کئے گئے ہیں۔ 7 نوجوان بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ 50 سے زائد مستقل نابینا ہو سکتے ہیں۔ آنکھوں کی روشنی کھو دینے والوں میں 14 سال کی انشا ملک بھی شامل ہے۔

یہ معصوم بچی تو کوئی احتجاج کرنے گھر سے نہیں نکلی تھی۔ اس نے تو گھر کی بالکونی سے جھانک کر صرف یہ دیکھنے کی کوشش کی تھی کہ کیا اس کے ابو نماز پڑھ کر مسجد سے آ رہے ہیں کہ گلی کے موڑ پر کھڑے فوجی نے اسے ’’دہشتگرد‘‘ سمجھ کر نشانہ بنایا۔ کون ہے جو اس ظلم کو طاقت کے ان ایوانوں میں اٹھائے جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کے آزاد کشمیری بھائی ابھی انتخاب لڑنے میں مصروف ہیں۔ بس دو روز میں یہ کام مکمل ہو جائے تو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور کریں گے۔ اس وقت تک دو چار نعرے لگا لئے جائیں، بھارت کو صلواتیں سنا لی جائیں اور عالمی ضمیر کے سونے کا ماتم کر لیا جائے۔ بس یہ نہ پوچھا جائے کہ کیا ان لیڈروں کا ضمیر زندہ ہے جو کشمیر کے نام پر سیاست کر کے ، روٹی روزی کا سامان بہم پہنچا کر بھی کشمیریوں کے بہتے خون کی بات کرنے کی بجائے انتخابی کامیابی کےلئے زیادہ پریشان ہیں۔ اس دوران پاکستان کی وزارت خارجہ ، وزیراعٖظم اور آرمی چیف کے بیانات کو بھارتی جارحیت کے منہ پر طمانچہ سمجھا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں لگی آگ اور آزاد کشمیر میں بلند ہوتے انتخابی نعروں سے دور کراچی میں عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان پیپلز پارٹی اور نئی نویلی پاک سرزمین پارٹی کے سینئر لیڈروں کی ضمانتیں منسوخ کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ان لوگوں پر ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کو تحفظ دینے اور ضیا الدین اسپتال میں علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اس جج کو بھی علم ہو گا کہ یہ الزام بھی سیاسی ہے اور اس کا فیصلہ بھی سیاست کرے گی۔ لیکن فی الوقت وہ انصاف اور قانون کا جھنڈا بلند کر کے چند اہم لیڈروں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کی قدرت رکھتا تھا۔ سو وہ کر گزرا۔ ہم میں سے ہر شخص وہ کرنا چاہتا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔ یہ جانے بغیر کہ اس کے کیا نتائج مرتب ہوں گے۔ کیا اس طرح دہشتگردی ختم ہو گی۔ کیا لوگ آئندہ ان ملزموں کو جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ دوبارہ ووٹ دینے سے انکار کر دیں گے۔ عدالت کو تو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ جیسے رینجرز کو حاصل شدہ اختیار کو استعمال کرنا ہے۔ بھلے صوبے کا وزیراعلیٰ ماروائے آئین اقدامات کا ڈھنڈورا پیٹتا رہے۔

قانون کی سربلندی کےلئے ہی خصوصی عدالت نے بغاوت اور آئین سے غداری کے مقدمہ میں مطلوب سابق صدر ، آرمی چیف اور مرد آہن ۔۔۔۔۔۔ حالیہ بھگوڑے پرویز مشرف کے عدالت میں حاضر نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسی غصے میں پہلے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ پھر مفرور کے ضامن راشد قریشی کا 15 لاکھ زر ضمانت ضبط کیا گیا۔ اب حکم ہوا ہے کہ پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کر لی جائے اور اس کے سارے اکاؤنٹ منجمد کر دئے جائیں۔ جونہی ملزم گرفتار ہو یا خود گرفتاری دے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق انصاف ہو سکے۔ یہ ملزم ملک کی سب سے بڑی عدالت کے حکم پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی خصوصی اجازت سے ملک سے باہر بغرض علاج روانہ ہوا تھا۔ دبئی جا کر بیماری کا کھیل کھیلنے کے علاوہ وہ فارغ اوقات میں سیاست کے مزے بھی لوٹ لیتا ہے۔ لیکن خصوصی عدالت کے فاضل جج وکیل صفائی کی یہ وضاحت ماننے کےلئے تیار نہیں ہیں کہ پرویز مشرف کو ملک سے باہر علاج کی شدید ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مقدمہ کی سماعت اس وقت تک ملتوی بھی کر دی گئی ہے جب تک ملزم پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوتا۔ کیوں فاضل جج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ملزم کی غیر حاضری میں اس مقدمہ کی سماعت نہیں ہو سکتی۔ لیجئے یہ قصہ بھی تمام ہوا۔

دو سال تک آئین سے غداری کرنے والے کو مثال بنانے کا ڈھونگ رچانے کے بعد آخر خصوصی عدالت نے بھی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اس معاملہ کو سمیٹنے میں ہی عافیت سمجھی، جیسی کہ وزیر داخلہ نے مارچ میں سپریم کورٹ کے کندھے کا سہارا لیتے ہوئے انسانی ہمدردی کے جذبہ سے معمور ہو کر شدید علیل پرویز مشرف کو بیرون ملک روانہ ہونے کی خصوصی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ ایسی ہی نظر کرم کی منتظر ایان علی بھی ہے جس پر ڈالر اسمگل کرنے کا الزام ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم بھی جاری کیا لیکن وزارت داخلہ کے بزرجمہروں کو ہر بار اس نوجوان ماڈل کے بیرون ملک جانے سے قومی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ کرنسی اسمگلنگ کیس شاید آئین کو کاغذ کا ردی ٹکڑا سمجھنے والے فوجی جرنیل کے جرم سے زیادہ سنگین ہو گا۔ عام آدمی بھلا ان معاملات کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔ یہ ایوان اقتدار کی سیاسی پیچیدگیاں ہیں، جنہیں صرف وہی لوگ جان سکتے ہیں جو ان ایوانوں میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ اور کیوں نہ ہو ایک سابق آرمی چیف اور ایک کم عمر ماڈل میں کوئی فرق تو روا رکھنا ضروری ہے۔ آخر حفظ مراتب مشرقی روایات کا اہم حصہ ہے۔

انہی اخلاقی روایات کا پاس کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے رات تین بجے سندھ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو فون کر کے ان کے بیٹے کی بازیابی کی خوشخبری سنائی اور مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے بخار میں مبتلا ہونے کے باوجود اس اہم موقع پر فوج کی توصیف کرنا اور سجاد شاہ کو مبارک دینا ضروری سمجھا۔ وزیراعلیٰ سندھ تو بنفس نفیس مبارکباد دینے چیف جسٹس کے گھر پہنچ گئے۔ سجاد شاہ اور اہل خاندان کےلئے یہ یقیناً خوشی کی خبر ہے۔ لیکن مبارکباد دینے سے پہلے کیا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک عام شہری بھرے بازار میں اغوا ہو جاتا ہے، صوبے کی پولیس اور رینجرز کی تمام کوششوں کے باوجود وہ کراچی سے قبائلی علاقے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ حادثاتی جھڑپ میں بازیاب کروایا جاتا ہے تو مبارکباد کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف لڑائی کی کارکردگی کے بارے میں ایک سوال بھی کر لیا جائے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 620 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali