قندیل کا قتل: سب داغ اچھے نہیں ہوتے


\"muhammadجو کچھ قندیل نے دکھایا اگر وہ ہم نہیں دیکھنا چاہتے تھے تو پھر یہ دیکھنے والے کون تھے؟ اسے دکھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ایک فاحشہ مان کے اگر آگے بڑھوں تو تماشایوں میں مجھے اپنی جھلک نظر آتی ہے۔ میں اتنا بزدل ہوں کہ خود کو نہیں دیکھ سکتا میری نظر کمزور پہ پڑتی ہے اور وہی میری ہر حرکت کا ذمہ دار ہے۔

عورت کے حوالے اب کچھ باتوں کے اعتراف کا وقت آ گیا ہے، ہم بطور اکثریت بہت منافقانہ چالیں چلتے ہیں ہمارے عورت کے بارے میں دوغلے رویے ہیں۔ ہم اس کے وجود کی صحبت کے لئے اس قدر بے چین واقع ہوئے ہیں کہ ایک ہلکا سا نسوانی اشارہ سوشل میڈیا پہ مل جا ئے اور چاہے اس کے پیچھے کسی ہم جنس کی شرارت ہی ہو اس پوسٹ کو پسند کرنے میں ہماری فراخدلی کو عمر اور بزرگی جیسی حقیقتیں بھی نہیں رد کر سکتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ \”پوسٹ\” کے نیچے رائے دینے میں کچھ ذرا کھل کھلا کے اپنی کیفیات کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ اپنے ادبی انداز سے اپنے ذوق جمالیات کی تسکین کرتے ہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہو تا ہے کہ تاثر مثبت رہتا ہے اور عمر کی قید سے بھی بری ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ان اعمال میں برائی تلاش کرنے سے زیادہ انہیں ماننے کی ضرورت ہے۔ ہم جو ظاہر کرنے کی سعی کرتے ہیں دراصل ہم وہ ہوتے ہی نہیں ہیں۔ مردوں کے اس معاشرے میں خود مرد بھی خاص طرح کے رویے کا شکار ہیں۔ ایک مرد جتنی بھی کارآمد معلومات پوسٹ کرے ادھر کوئی نہیں بھٹکے گا مگر عورت کے نام والے لفافے میں اگر کچھ پھینکا جائے تو سب لپکتے ہیں۔ برائی یہ ہے کہ ہم تسلیم نہیں کرتے اور مسلسل یوں ظاہر کرتے ہیں کہ ہم تو اس رجحان سے لگ بھگ ایک دنیا دوری پہ ہیں۔ یہ ہمارے سما ج کی جنسی بھوک ہے جسے مٹانے کے لیئے ہم بد مست ہو کے سب کرنے پہ آمادہ ہوتے ہیں مگر چھپا کے تا کہ کوئی دیکھ نہ لے، اس سوشل میڈیا سے میں نے جو استفادہ کیا وہ دراصل اپنے قیاس کو یقین میں بدلنے کے لئے کہ ہم معاشرتی طور پہ جن خرابیون کو شمار کرتے ہیں ان کے حل میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔ ہماری سوچ کیا ہے اور ہم زیادہ وقت کن مشاغل مین صرف کرنا پسند کرتے ہیں۔ انتہائی معزرت کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ لوگوں کی بڑی تعداد اپنا وقت عورت کی تلاش میں سوشل میڈیا پہ صرف کرتی دکھائی دے گی اور جو وقت سستانے کو ملتا ہے وہ سیاسی لطیفوں اور چٹکلوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف ہم غیرت کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ قندیل کی پوسٹ پہ جا کہ اپنی قلبی حالت کو بیان کرنے کے بعد پھر بے حیائی کی حدود\"qandeel\" کی تعریف کرنے میں کسی عا لم اور مفتی سے کم حیثیت ہم کبھی گوارا نہیں کرتے ۔ہمارے ہاں غیرت کی علامت صرف عورت تصور ہوتی ہے اور اسے بے غیرتی پہ آمادہ کرنے والے کو ہم کبھی ذمہ دار نہیں کہتے کیونکہ ہم اس ننگے پن سے ڈرتے ہیں جس پہ جھوٹ کی چادر چڑھا کے ہم اس کی ستر پوشی کا ناٹک کرتے ہیں۔ اس کی تصویروں پہ تبصروں کی بھرمار دراصل ہمارے سماج کی برہنہ حالت ہے ہان مگر \”غیرت دیوتا\” کی بھینٹ اسے چڑھنا ہی تھا حالانکہ وہ تو منٹو کے اس افسانے کا کردار تھی جو چھپ نہیں سکا مگر اس کی عکس بندی ضرور ہوئی۔ اس کہانی سے اگر لذت کے مواد کو نکال باہر کیا جائے پھر تو ہمیں اپنے آس پاس سب کچھ ننگ دھڑنگ دکھائی دے گا۔ لبوں کو جتنا بھی سی لیا جائے مگر حقیقت تو قائم رہتی ہے۔ آج تک عورت کی بطور جنس حیثیت میں اس کی انسانی صفت جتنی مجروح ہوئی ہے قندیل اس کا روشن آئینہ تھی جس میں سماج کا عکس دکھائی دے رہا تھا اگر یہ زیادہ وقت ہمارے سامنے رہتی تو ہماری تنی ہوئی نسیں پھٹ جاتیں ہمیں جب کوئی ہماری حقیقت بتائے تو ہم جنونی بن کے اسے نوچ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے ہی اس نے حد پار کی ہلاک ہو گئی۔ عورت اپنی مرضی سے زندگی نہیں گزار سکتی بلکہ اس کا مرد مالک یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس نے عزت کا پاس کیسے رکھنا ہے۔ خاندان کا مرد اگر کسی کھیل کا شیدائی ہو جائے اور کھیلے، اس سے عزت پہ کوئی آنچ نہیں آتی۔

اسی بارے میں: ۔  کمیونسٹ مینی فیسٹو کی 168 ویں سالگرہ

قندیل نے نام نہاد عزت کے نام پہ جینے سے انکار کر دیا۔ اس نے بطور انسان اپنی حیثیت کو آزمایا اور وہی ہوا جو اس سے پہلے نجنانے کتنی قندیلوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس نے معاشرے کے دوغلے پن کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا کہ اسے اپنے ہونے پہ کوئی شرمندگی نہیں۔ ایک گھٹن زدہ ماحول میں اس نے اپنے انداز سے سانس لنیے کی جرات کی ۔ ایک رجعتی ماحول سے اٹھ کر کوئی اپنی مر ضی سے جینے کی جسارت کرے تو کیا اس کا انجام موت ہے؟ سینکڑوں خواتین کی نام نہاد غیرت پہ مارے جانے کی سالانہ رپورٹس اس کا صاف ثبوت ہیں۔ تمام مذمتیں ہوتی ہیں مگر پھر اسی معاشرے سے کوئی اٹھتا ہے پھر نئی مذمتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ہم سماجی اقدار میں عورت کے سبق کا از سر نو جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ یہاں عورت سے منسوب عزتوں سے عورت خود عاری ہے مگر اس کی زبان اور اس کے لب آزاد نہیں ہیں۔ عورت کو جنس کے روپ میں دیکھنے کے لیئے تڑپنے والے اپنی سوچ کے زاویے کو جب بدلیں گے تو انہیں ہر عورت انسان نظر آئے گی اور غیرت کے علمبردار جب عورت کو اپنی ملکیت سے آزاد کریں گے تو پھر وہ اس کے حق اور اس کی مر ضی کو اہمیت دیں گے۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو ریاست کی عدالتوں سے رجوع کرے اپنی عدالتیں لگانے اور خود منصف بننے کا رواج بہت خطرناک ہے۔ غیرت کی بھینٹ چڑھنے والی خواتین ایک طرف، غیرت کے نام پہ سمجھوتہ کر کے جینے والی عورتوں کی بہت بڑی تعداد پل پل کی اذیت کا شکار ہے۔ مگر بدلے میں اسکی وفا شعاری کی سند جب اسے ملتی ہے تو بہل جاتی ہے۔ یہ اس کے لیئے بڑا انعام ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ”آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟“

ہمیں جو بیہودگی اور بے باکی منٹو کے کرداروں میں نطر آتی رہی، آج اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی ہماری نظر نے ہمیں وہی دھوکہ دیا ہے۔ ہم اپنی فکر کا جائزہ لیں تو ہم کھلی حقیقت کے منکر ہیں۔ ہم اپنی سوچ سے منحرف ہیں ہم اپنی دلچسپیوں کے پیچھے چلتے ہوئے کبھی تسلیم نہیں کرتے کہ ہم کس منزل کے راہی ہیں۔ مگر دوسروں پہ انگلی اٹھانے میں کوئی پہل کر کے تو دیکھے۔ وہ زندہ تھی تو کسی نے اسے تماشہ بنا کے شہرت پائی تو کسی نے ملامتوں کی زنجیر اسے پہنائی اور اب جب اسے اس دنیا سے بے دخلی کا پروانہ تھمایا گیا تو ہم اس کے کردار کی جھاڑ پونجھ کر رہے ہیں، مٹی ڈال کر اب مٹی ہٹانے کی کاوش ہو رہی ہے۔ ہمیں اپنے آلودہ دامن نظر نہیں آ رہے۔ ہماری جنسی درندگی سات پردوں میں پوشیدہ سہی ،مگر ہمارے ہاں کم سن بچوں بچیوں کو جس جنسی تشدد کا نشانہ بنا کے موت کی نیند سلایا جاتا ہے، ہم کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ ہم لذت پرستی کا شکار ہیں اور پھر ہم اس سے منہ موڑتے ہیں اور اگر ہم اس حق کو اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں تو پھر یہ کسی عورت کے لیئے کیوں اتنا ناجائز ہے؟ ہمیں قوانیں کو جانچنے کی ضرورت ہے کہیں کوئی گنجائش اس رجحان کو پروان ہی نہ چڑھا رہی ہو خواہ وہ بے نام سی کوئی مصلحت ہو یا انتخابی سیاست کی روایتی مجبوری۔ کیونکہ قندیل کے قتل کے چھینٹے سب تماشائیوں کے دامن پہ رہیں گے۔ کچھ داغ اچھے نہیں ہوتے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔