باچا خان اور سید مودودی کا نظریہ


adnan Kakarباچا خان یونیورسٹی پر طالبان کے حملے کے بعد ایک بحث نے جنم لیا کہ اب جب کہ جماعت اسلامی اور ہمنواﺅں کا نظریہ آزمایا جا چکا ہے، تو کیوں نہ باچا خان کا نظریہ ٹرائی کیا جائے۔ ہماری رائے میں یہ دونوں نظریات ہماری فہم سے بالاتر ہیں، اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ بھائی صالح خان ترین اور کامریڈ پریشان سرخپوش کو ساتھ بٹھا کر ان سے دونوں نظریات کے بارے میں تفصیل معلوم کی جائے۔

ہم: کامریڈ پرے شان سرخپوش صاحب، اور بھائی صالح خان ترین صاحب، آپ کا بہت شکریہ کہ اس عاجز کی جانکاری بڑھانے کو آپ راضی ہوئے۔

پریشان: یہ پرے شان آپ کس کو کہہ رہے ہیں؟ یہ ٹھیک ہے کہ اے این پی اب حکومت میں نہیں ہے، لیکن ہم پرے شان نہیں ہیں۔

ہم: بھائی صالح ترین نے تو آپ کا یہی نام بتایا تھا۔ کچھ اور ہے کیا؟

پریشان: یہ پری شان ہے، پرے شان نہیں۔ ان جماعتی افراد سے آپ سچ کی توقع کیوں کر رکھ سکتے ہیں؟ یہ تو اقامت بقدر ضرورت کے نظریے کے تحت ہر مکر و فریب کو جائز سمجھتے ہیں۔

صالح ترین: تو آپ اے این پی والے کون سے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟ کیا آپ نے قیام پاکستان کے وقت کانگریس کا ساتھ نہیں دیا تھا، اور گاندھی سے شکوہ نہیں کیا تھا کہ ہمیں بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا ہے؟

پریشان: قیام پاکستان کے وقت، کیا آپ نے جناح کو اتاترک کی مانند فاجر اعظم اور پاکستان کو احمقوں کی جنت نہیں کہا تھا؟ اور جب آپ کی یہ احمقوں کی جنت بن گئی تو آپ نے دیکھا کہ آپ سے بڑا کوئی اور نہیں ہے، اور اس کی سرداری پر کمربستہ ہو گئے۔

صالح ترین: ہم تو ہمیشہ سے قیام پاکستان کے حامی تھے۔ اقبال اور قائداعظم دونوں ہی مولانا مودودی کی نہایت قدر کرتے تھے۔ مولانا نے قدم قدم پر قائداعظم کی راہنمائی کی تھی۔

پریشان: واقعی؟ تمہاری اپنی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ کیسے تم لوگوں نے مسلم لیگیوں کو کاغذی مسلمان کہتے ہوئے تحریک پاکستان کی مخالفت کرنے اور مسلم لیگ کو ووٹ نہ ڈالنے کا کہا تھا۔ بعد میں ریفرنڈم کے وقت پاکستان کا قیام یقینی دیکھ کر اس میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی۔

صالح ترین: تمہاری تو حکومت ایسی غدار تھی کہ پاکستان بنتے ہی قائداعظم نے اسے توڑ دیا تھا۔

پریشان: ہم نے 1948 میں بھابڑا میں چھ سو سے زیادہ لاشیں اٹھائی تھیں اور چپ چاپ انہیں دفن کر دیا تھا۔ باچا خان عدم تشدد کا حامی نہ ہوتا تو پاکستان بنتے ہی ایسی آگ لگتی کہ بجھائے نہ بجھتی۔ باچا خان اپنے نظریے کا سچا پیروکار تھا۔ جماعت کی قلابازی تو دیکھو، عورت کی حکمرانی کیا، اس کی پارلیمنٹ میں رکنیت کو حرام اور اللہ رسول کی نافرمانی کہتے تھے، اور ایسا کرنے والے کو مسلمان ماننے سے انکاری تھے، اور فاطمہ جناح کو حکمران بنانے کی خاطر بقدر ضرورت اقامت دین کا فلسفہ ایجاد کر لیا تاکہ اپنی مسلمانی بچی رہے۔

صالح ترین: قوم کی خاطر بہت کچھ کرنا پڑ جاتا ہے۔

پریشان: اپنی جنت الحمقا، یعنی پاکستان کی مخالفت کرتے کرتے ایک دن دنیا نے دیکھا کہ تم نے ایوب خان کے دور میں نظریہ پاکستان ایجاد کیا، اور خود کو اس کا محافظ مقرر کر دیا۔

صالح ترین: تمہاری جماعت پر تو ذوالفقار بھٹو تک نے پابندی لگا دی تھی۔ تم تو روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان آنا چاہتے تھے۔ اٹک تک کے علاقے کو افغانستان میں شامل کرنے کے خواب دیکھتے تھے۔ تم سے زیادہ پاکستان کو کس نے نقصان پہنچایا ہے؟ تم سب سے بڑے غدار ہو۔

پریشان: تم نے پہنچایا ہے۔ اور کس نے پہنچایا ہے۔ ہر ڈکٹیٹر کی گود میں تم بیٹھے ہو۔ یحییٰ خان سے مل کر بنگالیوں کو مارا۔ ضیا سے مل کر مغربی پاکستانیوں کو مارا۔ اسی کے اشارے پر افغانوں کو مارا۔ اس وقت خان ولی خان نے کہا تھا کہ جو آگ تم افغانستان میں لگا رہے ہو، وہ اٹک پار کر کے تمہیں خود کو جلائے گی۔ ولی خان یہ دیکھ رہا تھا، اور تم القاعدہ کے ساتھ مل کر ساری دنیا میں حکومت بنانے کے چکر میں فساد کر رہے تھے۔

صالح ترین: القاعدہ سے ہمارا کیا تعلق؟

پریشان: بس یہی تعلق ہے کہ ان کے لیڈر جماعت کے لیڈروں کے گھروں اور جمعیت کے ہوسٹلوں سے پکڑے جاتے ہیں۔ صفورا گوٹھ میں داعش کے حملہ آور جماعت اسلامی کے تربیت یافتہ نکلتے ہیں۔ تم تشدد کے حامی ہو، ہم عدم تشدد کے حامی ہیں۔

صالح ترین: یہ سارا پروپیگنڈا ہے۔ جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

پریشان: تمہارے پولیٹیکل اسلام کے مطابق تو حکمرانی حاصل کرنا ایمان مفصل میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کے نظریے کے مطابق تو سارے دیوبندی ہی غیر مسلم ٹھہرے ہیں جو وہ سیاست کو مذہب سے الگ رکھتے ہیں۔ یہ تمہارا یہی فسادی نظریہ ہے جس نے مصر سے لے کر افغانستان تک آگ لگائی ہوئی ہے۔ پہلے القاعدہ اور اب داعش اسی نظریے کی پیروکار ہی تو ہے۔ عالمی خلافت کے نام پر ساری دنیا میں دہشت گردی کر رہی ہے۔

صالح ترین: ہم تو حکم خداوندی بجا لا رہے ہیں۔ تم تو پہلے کانگریس کے اشاروں پر ناچتے تھے۔ وہ گئی تو روسیوں کے ایجنٹ بن گئے۔ جب سوویت یونین ختم ہوا، تو تم امریکہ کے غلام بن گئے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔

پریشان: ہم تو ہمیشہ عدم تشدد کے حامی تھے اور ہیں۔ تمہارا نظریہ کیا ہے؟ جسے حرام کہتے ہو، چند دن بعد اسے حلال قرار دے کر کرنے لگتے ہو۔ عورت کا سیاست میں داخلہ حرام کہتے تھے۔ عورت کی حکمرانی کی حمایت کی۔ امریکہ کو دشمن کہتے ہو، اور سید مودودی کی آل اولاد اور قاضی حسین احمد کی اولاد وہاں جا کر اس کی شہریت لیتی ہے۔ دوسروں کے بچوں کو ان سے جنگ میں مرواتے ہو، اور خود اپنے بچے وہاں سیٹل کراتے ہو۔

صالح ترین: ہم جو بھی ہیں، تمہاری طرح چور نہیں ہیں۔ اے این پی کی گزشتہ حکومت نے تو کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس سے زیادہ بدکردار حکومت تو صوبے میں کبھی آئی ہی نہیں۔

پریشان: اسی صوبے میں ایم ایم اے کی حکومت آئی تھی تو تم نے سارے ایسے سائن بورڈوں پر سیاہی پھیر دی تھی جن پر عورت کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اور بعد میں جب پتہ چلا کہ اس سے پیسے ملتے ہیں، تو اگلے چار سال تک انہیں تصویروں کو چمکاتے رہے۔

صالح ترین: ہمارے پاس اختیار نہیں تھا۔ لیکن تم نے تو بہت بزدلی دکھائی تھی۔ اس الیکشن میں ہمارے مقابلے کے لئے باہر ہی نہیں نکلے۔

پریشان: طالبان کے ہاتھوں ہمارے جتنے آدمی مارے گئے اور پھر بھی ہم سینہ تان کر کھڑے ہیں، وہ ہمارا ہی حوصلہ ہے۔ تمہیں تو طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ تمہاری یہ جہادی سیاست پورے پاکستان کو خاک اور خون میں نہلا چکی ہے۔ یہ سیاست اب تو سکولوں پر حملے کر کے بچوں کو بھی مارنے لگی ہے۔ اب تھوڑے وقت کی بات ہے، جب تمہارے جہادی رکن خلافت کے نام پر داعش سے جا ملیں گے۔

صالح ترین: تم بھی کانگریس، روس اور امریکہ کے بعد کوئی نیا آقا تلاش کر لو گے۔

پریشان: ہم تمہارا قتل و غارت کا بیانیہ اس کے خونی نتائج کے ساتھ دیکھ اور بھگت چکے ہیں۔ اب باچا خان کے عدم تشدد کے بیانیے کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔

ہم: صاحبان، آپ دونوں نے اس عاجز کے علم میں بہت اضافہ کیا۔ مجھے مختصر تو یہ سمجھ آیا ہے کہ سید مودودی کا نظریہ ہے کہ لاہور میں منصورے سے نکلو اور دگڑ دگڑ کرتے ہوئے امریکہ فتح کر کے ہی بریک لگاو¿۔ راستے میں جو نابکار ملے اسے جہنم واصل کر دو۔ خواہ اس کوشش میں ہر سو کفار کی عظیم تعداد کے بدلے ایک لاکھ مسلمان کی معمولی سی تعداد ہی کیوں نہ ماری جائے۔ دوسری طرف باچا خان کا عدم تشدد کا نظریہ ہے، جو کہ لیو ٹالسٹائی سے ہوتا ہوا گاندھی اور ان سے باچا خان تک پہنچا تھا۔ یہ کہتا ہے کہ قتل و غارت نہ کرو۔ اب قتل و غارت والے نظریے پر عمل کر کے ساٹھ ستر ہزار پاکستانی، اور عراق، شام اور افغانستان میں بیس تیس لاکھ مسلمان آنجہانی کرنے اور کروڑوں بے گھر کرنے بعد، غالباً عدم تشدد کے ذریعے تبدیلی لانے والے نظریے کو آزما لینا بہتر ہے۔

آپ سے بس ظفر اقبال کے چند اشعار ہی عرض کر سکتا ہوں۔

خامشی اچھی نہیں ، انکار ہونا چاہیئے
یہ تماشہ اب سرِ بازار ہونا چاہیئے

خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھی
پہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہیئے

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات
جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہیے

بات پوری ہے ، ادھوری چاہیے ، اے جانِ جاں
کام آساں ہے ، اسے دشوار ہونا چاہیے

دوستی کے نام پر کیجئے نہ کیونکر دشمنی
کچھ نہ کچھ آخر طریقِ کار ہونا چاہیے

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب ِ کردار ہونا چاہیئے


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

9 thoughts on “باچا خان اور سید مودودی کا نظریہ

  • 25-01-2016 at 3:10 am
    Permalink

    Koi tukh nhe the tahrer mea….parh kr ye he mehsos huwa ky time he waste Kia

  • 25-01-2016 at 5:26 am
    Permalink

    Mododi ka nazriya Tu bacha khan university par hi musalat kiya gya

  • 25-01-2016 at 5:29 am
    Permalink

    Twhreer ma bahot ehtiat barti gayi ha, lagta ha Adnan Sahb jumatiun Ko naraz nhi krna chahty ?

  • 25-01-2016 at 7:50 am
    Permalink

    This is just a crap and one-sided article published here… Why to held JI responsible for the failure today??? Why not hold big boss’s neck?

    • 25-01-2016 at 7:54 am
      Permalink

      دانشورو مرد بنو قوم کو چورن مت بیچو!
      آج کل کچھ نام نہاد دانشور جو دہشت گردی کے اسباب ڈھونڈنے نکلے ہیں اور اپنی ازلی نفرت کی وجہ سے دینی تحریکوں (اور ان میں بھی خاص طور پر جماعت اسلامی ) کو نشانہ بنانے پے تلے ہوۓ ہیں ان سے عرض ہے کے ریاست کے موجودہ بیانیہ کے اصل ذمداروں کا نام لاتے ہوۓ انکی مردانگی کہاں چلی جاتی ہے ؟
      اگر کسی نے ریاست کے موجودہ حالات کے اصل ذمداران دیکھنے ہو تو وو یہ تین انٹرویو دیکھ لے .
      ١). جنرل مشرف (جو ان کے لبرل پاکستان کے خالق ہیں اور پاکستان کی روشن خیالی کے بانی بھی)، انکا وجاہت علی کو انٹرویو سن لیں .. لنک نیچے دے ہوۓ ہیں .
      ٢). جنرل ضیاء الدین جو کے ملک کی سب سے اعلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ رہ چکے ہیں کا انٹرویو سن لیں جن میں وہ اچھے طالبان کو اپنی چوتھی یا پانچویں ڈیفینس لائن قرار دیتے ہیں .
      ٣). جنرل اسد درانی جو سابقہ آرمی چیف ہیں کا مہدی حسن (الجزیرہ کے نامور صحافی) کو انٹرویو (Head to Head – Pakistan: Victim or exporter of terrorism) سن لیں ور اس کے بعد مرد بنیں ور ٹھیک بات قوم کو بتا نہ شروع کریں .
      https://www.facebook.com/UrduNewsCom/videos/522885501226895/

  • 25-01-2016 at 3:19 pm
    Permalink

    آج کل ہر طرف پھیلی دانشوری دیکھ کر تو لگتا ہے کہ بیچارے سید مودودی خود اپنے نظریے کو ہی صحیح طور سے نہ سمجھ پائے۔ ساری عمر لگے رہے لیکن آج پانچ، چھ دہائیوں بعد کے دانشور جس رستے اور دہشت گردی ک بنیاد ان کی فکر کو قرار دے رہے ہیں، اس رستے پر چلنے والا کوئی فرد مولانا اپنی زندگی میں تیار نہ کر سکے، اس کے باوجود کہ لاکھوں افراد تک ان کی فکر پہنچی اور لوگ ان سے متاثر ہوئے۔ بس بیکار میں پرامن اور آئینی جدوجہد کرتے رہے۔
    مولانا مودودی ‘اسلامی نظام کا غلبہ’ چاہتے تھے۔ اس نظریے کی عملی مثالیں ہمیں دہشت گردوں، داعش، طالبان وغیرہ کی شکل میں پیش کی جا رہی ہیں لیکن مولانا نے خود اپنی زندگی میں اس غلبہ کے لیے کیا رستہ اختیار کیا اور اس فکر کی عملی تشریح کس طرح کی، اس کے متعلق سب راویان خاموش ہیں۔ اس دانستہ پہلوتہی پر کوئی نہیں کھلتا۔ پھر مولانا نے ستم یہ کیا کہ جو جماعت قائم کی اس کے بھی دستور میں لکھوا گئے کہ کوئی خفیہ اور غیر آئینی رستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔
    پھر بھی صاحب، اگر آپ کی لغت اتنی ہی سادہ و معصوم ہے کہ اس میں غلبہ کا مفہوم دہشت گردی کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا تو اس کے لیے تو مولانا کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔
    خیر، دانشوری کے کاروبار میں سب سے آسان کام ہی الفاظ کا گورکھ دھندا کرنا، ابہام پیدا کرنا اور گرد اڑانا ہے، تو اڑائیے جتنی اڑا سکتے ہیں۔

  • 25-01-2016 at 3:48 pm
    Permalink

    کچھ ایسا ہی ہے-

    ہمارے گاؤں کے ایک فوجی کا قصہ مشہور ہے کہ جنگ میں ایک ہندو کو زیر کر کے اوپر بیٹھ گیا اور بندوق کی بٹ سے مارتا مارتا کہہ رہا تھا کہ کلمہ پڑھ ہندو کے بچے-

    ہندو بیچارے نے کہا کہ اچھا پڑھتا ہوں، بس میری جان چھوڑ دو- آپ بڑھاؤ میں پڑھنے کیلئے تیار ہوں-

    فوجی نے اپنا ہاتھ روک لیا اور کچھ سوچنے لگا- تھوڑی دائر کے بعد ہندو بیچارے کو دوبارہ مارنا شروع کردیا یہ کہتے کہتے کہ “بد بخت کافر ! مجھ سے بھی بھلوا دیا تو نے-“

  • 07-02-2016 at 9:50 pm
    Permalink

    افسوسناک حد تک جانبدارانہ

  • 02-03-2016 at 12:08 am
    Permalink

    جانبداری اور علمی بددیانتی کا مظہر. بظاہر نیوٹرل دکهائی دینے کے باوجودسید مودودی کے افکار کے خلاف اپنی ذاتی بهڑاس چهپانہیں پائے.

Comments are closed.