چور چوکیدار اور ترکی کے جمہور پسند عوام


\"kaleem\"جمعہ کی شام ترکی میں رات کے نو بج رہے تھے، دارالحکومت انقرہ، استنبول اور اپوزیشن کے گڑھ ازمیر کے علاوہ باقی شہروں میں بھی لوگ رات کے کھانے پر اہل خانہ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے، شہریوں کی بہت بڑی تعداد گھروں سے باہر ریسٹورنٹس میں بھی موجود تھی۔ چوبیس گھنٹے چلنے والے دفاتر میں رات کی شفٹ شروع ہوچکی تھی اور زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ نوبج کرتیس منٹ کے قریب فوجی چھاؤنیوں سے ’’چور چوکیداروں‘‘ کا ایک ٹولہ برآمد ہوا اور اس نے دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں صدارتی محل، پارلیمنٹ اور ذرائع ابلاغ کی اہم عمارات کی طرف بڑھنا شروع کیا۔

رات دس بجے کے قریب آبنائے باسفورس پر ایشیا اور یورپ کو ملانے والے دونوں پل ٹینک کھڑے کر کے بند کر دیے گئے، رات کے دس بج کر تیس منٹ پر، پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے جب ترکی کی مساجد سے اذان کی صدائیں بلند ہورہی تھیں، اقتدار کی ہوس میں مبتلا فوجیوں باغیوں کا ایک ٹولہ ’’ٹی آر ٹی‘‘( ترک ریڈیو اینڈ ٹی وی) کے انقرہ اور استنبول کے دفاتر میں گھسا اور انتہائی مکاری سے دفتر کے عملے کو آگاہ کیا کہ دفتر پر داعش کے حملے کا خطرہ ہے اس لئے آپ لوگ دفتر خالی کردیں۔ عملہ دفتر سے باہر جانے لگا تو اسے ہدایت کی گئی کہ اپنے موبائل ٹیلی فونز ادھر ہی چھوڑ دیں۔ افراتفری کے عالم میں عملے نے باہر نکلنا شروع کر دیا۔ اسی دوران ایک نیوز اینکر کو روک کر حکم دیا گیا کہ یہ بیان ٹی وی سکرین پر پڑھو، اینکر نے بیان دیکھا تو یہ ملک بھر میں ایمرجنسی ایکٹ کے نفاذ کا اعلان تھا۔ کاغذ کے اس ٹکڑے پر یہ بھی تحریر تھا کہ ترکی کے موجودہ آئین کی اب کوئی حیثیت نہیں اور کل نیا آئین جاری کیا جائے گا۔ تذبذب کا شکار اینکر کو گولی مارنے کی دھمکی دے کر مارشل لا کا اعلان کروانے کے بعد ٹی آر ٹی کی سکرین بلیک آؤٹ ہو گئی اور دنیا بھر میں ٹی وی سکرینوں پر بریکنگ نیوز کا مقابلہ شروع ہوگیا۔

\"turkey3\"ترکی کے مقبول سیاسی رہنما اور صدر رجب طیب اردوان ملک کے جنوب مغربی ساحل پر ’’مارما ریز ‘‘ ریزارٹ میں اہل خانہ کے ہمراہ چھٹیاں منا رہے تھے جب انہیں یہ اطلاع ملی (پاکستانی میڈیا اب بھی یہ کہ رہا ہے کہ اردوان بیرون ملک دورے پر تھے، کس ملک کے ؟کوئی پتہ نہیں)۔ کچھ ہی دیر میں اردوان ترکی کے ’’این ٹی وی ‘‘کی سکرین پر نمودار ہوئے، اپنے آئی فون کی ایپلی کیشن ’’فیس ٹائم‘‘ کے ذریعے انہوں نے چوروں کے اس ٹولے کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور باغیوں کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیں۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سی این این کی سکرین پر نمودار ہوئے اور عوام سے کہا کہ ترکی کے پاس جمہوری نظام سے واپس آمریت کی طرف جانے کا کوئی راستہ موجود نہیں اس لئے جمہوری نظام اور ملکی ترقی کے تسلسل کے لئے عوام باہر نکلیں۔ اسی دوران ترکی کے وزیراعظم ’’بِنالی یلدرم‘‘ بھی میڈیا پر آگئے اور انہوں نے عوام سے بغاوت کے خلاف سڑکوں پر آنے کی اپیل کی۔ ترکی کے عوام اپنے رہنماؤں کی اپیل پر سرخ قومی پرچم ہاتھوں میں تھامے جمہوری نظام کے تحفظ کا عزم لئے گلیوں میں نکل آئے، ایک گھنٹے کے اندر اندر انقرہ اور استنبول کی سڑکوں پر انسانی سروں کا سمندر موجزن تھا۔

ازمیر شہر جو کہ اردوان کے سیاسی مخالفین کا گڑھ ہے وہاں کے عوام بھی اپنے ملک میں جمہوری نظام کی حفاظت کے لئے اردوان کی حمایت میں باہر نکل آئے۔ کیا بوڑھے کیا جوان، ہر مرد اور عورت اپنے بدن کی پوری طاقت کے ساتھ باغیوں کے اس ٹولے کے سامنے ڈٹ گیا، کوئی ٹینک کے سامنے لیٹ گیا، کسی نے بندوق چھین کر فوجیوں کو نہتا کیا اور پھر ان کو تھپڑوں، گھونسوں اور لاتوں کے نشانوں پر رکھ لیا۔ صرف دو سے تین گھنٹوں میں منظر بدل چکا تھا۔ چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک دبلا پتلا نوجوان اپنی بیلٹ کے ساتھ جدید تربیت یافتہ باغی فوجیوں کے ایک ٹولے کی پٹائی کر رہا تھا اور وہ سر جھکائے یہ پٹائی برداشت کرنے پر مجبور تھے۔ شہریوں نے باغی فوجیوں کی وردیاں اتروادیں اور انہیں ننگے بدن سڑکوں پر اوندھا لٹا دیا۔ جدید آلات سے لیس اور تربیت یافتہ پولیس بھی باہر نکل آئی اور باغی فوجیوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ اذان فجر سے پہلے منظر پوری طرح بدل چکا تھا، بغاوت ناکام ہو چکی تھی اور باغیوں کی اکثریت کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ترکی کے نہتے عوام نے ٹینکوں پر کھڑے ہو کر جمہوریت کی فتح کا جشن منایا اور پھر سڑکوں پرہی قومی پرچم کی صفیں بچھا کر اپنے خالق کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔

\"turkey1\"قارئین یہ ہے ترکی میں فوجی بغاوت کا آنکھوں دیکھا حال جو ترکی میں مقیم میرے دوست عامر سلطان اور دوسرے صحافیوں کی بدولت میں آپ تک پہنچا رہا ہوں۔ ترکی میں بغاوت ناکام ہو گئی لیکن پاکستان میں ایک عجیب سا ماحول بنا دیا گیا ہے۔ غیر ضروری طور پر ترکی اور پاکستان کا موازنہ کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو صورت حال کیا ہوگی۔ یہ درست ہے کہ ایک ملک کے حالات خطے اور دنیا بھر پر اثر انداز ہو سکتے ہیں لیکن ترکی کی فوج کا پاکستانی فوج سے موازنہ غیر حقیقی ہے۔ جنرل کیانی کے بعد جنرل راحیل شریف کا طرز عمل اس بات کا گواہ ہے کہ فوج اب سیاست میں گھسنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ درست ہے کہ فوجی آمر ’’خدا کے لئے اب آجاؤ‘‘ کے محتاج نہیں ہوتے لیکن گزشتہ آٹھ برس کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ شاید طالع آزما ذہنوں نے ترکی کے سابق صدر سلیمان ڈیمرل کی یہ بات اچھی طرح سمجھ لی ہے کہ’’ دنیا کی کوئی فوج کسی ملک کی تقدیر نہیں بدل سکتی‘‘۔ سیاسی یتیموں اور پیرا شوٹ کے ذریعے ٹی وی سکرینوں پر براجمان ہونے والے اینکر پرسنز کا معاملہ الگ ہے لیکن سنجیدہ صحافی حلقے اور عوام کی اکثریت اب کسی فوجی طالع آزما کے نزول پر مٹھائیاں بانٹنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف ترک عوام کی مزاحمت کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی فوج پر طنزیہ تبصرے اور ذو معنی انداز میں محتاط رہنے کے مشورے بھی ایک گھٹیا سوچ کے سوا کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔

سوشل میڈیا پر ایک بات اندھا دھند پھیلائی جا رہی ہے کہ اگر پاکستان میں ایسے حالات ہوئے تو عوام وزیراعظم کے حق میں باہر نہیں نکلیں گے۔ ایک طبقے نے یہ مفروضہ بھی گھڑا ہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم ہونے کی صورت میں عوام باہر نکل سکتے ہیں۔ اس طبقے کو ترکی کے شہر ازمیر کے باسیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ جن کی اکثریت اردوان کی حامی نہیں لیکن وہ جمہوریت کی بقا کے لئے اردوان کی اپیل پر باہر نکلے۔ ترکی کے عوام کو جمہوریت کی فتح مبارک ہو، پاکستانی اس ناکام بغاوت سے اگر صرف اتنا سیکھ لیں کہ فوج کی طاقت عوام کی حمایت کی مرہون منت ہے تو اسی میں ہم سب کا بھلا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔