آزاد کشمیر کے انتخابات کا منظر نامہ


\"khawajaتیرہ ہزار تین سو مربع کلومیٹر پر پھیلے آزاد کشمیرکی قانون ساز اسمبلی کے اکتالیس حلقوں میں انتخاب کے تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ بائیس لاکھ پچھتر ہزار ووٹر چار سو تیئس امیدواروں میں سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ انتخابی عمل کے لئے پانچ ہزار چارسو ستائیس پولنگ اسٹیشنزمیں آٹھ ہزارچھیالیس پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں جہاں پر امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس ،ایف سی اور فوج کے سترہ ہزار افسر اور جوان تعینات کئے گئے ہیں۔ دس اضلاع پر مشتمل آزاد کشمیر کی آبادی تقریبا پچا س لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ آزاد کشمیر میں زیادہ تر گوجری اور ہندی زبان بولی جاتی ہے لیکن پنجابی اور پشتو بولنے والی آبادی کی قابل ذکر تعداد بھی موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں شرح خواندگی پینسٹھ فیصد ہے۔ عام طو ر پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو سیاسی جماعت اسلام آباد میں اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو، کشمیری عوام اسی کو مظفرآباد کا اقتدار بھی سونپ دیتے ہیں اور اگر انتخابات کا موقع نہ ہو تو راتوں رات قانون ساز اسمبلی کے ارکان کی بڑی تعداد مقتدر جماعت کی بیعت کر لیتی ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے لیکن میاں نواز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد آزاد کشمیر کے حوالے سے ایک اچھی روایت قائم کی ہے کہ انہوں نے مظفرآباد حکومت کو کام کرنے کا موقع دیا تا کہ عوام ان کی کارکردگی جان سکیں۔ گزشتہ انتخابات کے وقت چونکہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اس کے باوجود مسلم لیگ ن گیارہ نشستیں لے اڑی تھی لیکن مسلم کانفرنس جس کو مسلم لیگ ن کی غیر مشروط حمایت حاصل ہوتی تھی وہ صرف پانچ نشستیں حاصل کر سکی تھی۔ چارآزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے تھے جن میں سے دو پیپلزپارٹی کے ساتھ شامل ہو گئے جبکہ ایم کیو ایم دو اور جے یو آئی ف صرف ایک نشست پر کامیا ب ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی نے چھبیس نشستیں حاصل کرکے حکومت بنائی تھی۔

موجودہ انتخابات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں اندازہ قائم کرنے کے لئے کچھ  محرکات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ جس سے یہ اندازہ ہو کہ آزاد کشمیر کے عوام کا سیاسی رجحان کیا ہے۔ سچی بات ہے کہ عوام میں سیاسی شعور تو موجود ہے، شہری اپنے نمائندوں سے اپنے حقوق اور بنیادی سہولتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں لیکن ووٹ ڈالنے کے وقت ذاتی مفادات غالب آجاتے ہیں۔ موجودہ انتخابات میں بھی نئے چہرے بہت کم نظر آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی سیاست آج بھی ذات برادری کی قید سے آزاد نہیں ہوئی لیکن کسی حد تک اب نظریا ت کی بات کی جاتی ہے اور اس پر اصرار بھی کیا جاتا ہے۔ عوام سے جب گزشتہ حکومت کی کارکردگی سے متعلق پوچھا جائے تو شہریوں کی اکثریت پیپلزپارٹی کی حکومت سے نالاں نظر آتی ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام نہ صرف چودھری عبدالمجید کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں بلکہ عوام کو ان سے سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ اقتدار ،میں آکر انہوں نے اپنے ووٹرز سے رابطہ منقطع کر لیا تھا۔ اسی طرح چودھری عبدالمجید اور ان کے پیشرو مسلم کانفرنس کے وزیراعظم سردار سکندر حیات سے ایک بڑی شکایت اوربھی ہے کہ ترقیاتی کام تو ایک طرف گیارہ برس گزرنے کے باوجود دوہزار پانچ کے زلزلے میں ہونے والی تباہی کے بعد ار بوں روپے کی ملکی اور غیر ملکی نقد امداد اور دوسرے منصوبوں کے باوجودآزاد کشمیر میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کی مکمل بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ ایسا نہیں ہے کہ گزشتہ دونوں ادوار کے دوران ترقیاتی کام بالکل نہیں ہوئے ،کام ضرور ہوئے ہیں اور زندگی بہت حد تک معمول پر ہے لیکن آج بھی سینکڑوں سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کا معاملہ لٹک رہا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں ایک مثال ضلع باغ سے پیپلزپارٹی کے منتخب ہونے والے سردار قمر زمان کی ہے جنہوں نے باغ کو دوسرے علاقوں سے ملانے کے لئے بہت اچھی سڑکیں تعمیر کروائیں لیکن عوام صرف اتنے سے مطمئن نہیں ہیں اور پھرچودھری عبدالمجید حکومت کی مجموعی کارکردگی کا تاثر اتنا برا ہے کہ ان کے لئے اپنی نشست سے کامیابی بھی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلم کانفرنس یا سردار عبدالقیوم ایک بڑا نام تھا لیکن پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں وزیر امور کشمیر میاں منظور وٹو کے ساتھ مل کر سردا ر عبدالقیوم کے صاحبزادے سردار عتیق نے جو سلوک راجہ فاروق اور مسلم کانفرنس کے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ کیا اس کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم کانفرنس اور سردار عتیق کی عوامی حمایت میں واضح کمی آئی اوراسی کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کا قیام بھی  عمل میں آیا۔ جس کے فورا بعد آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران مسلم لیگ ن نے گیارہ نشستیں حاصل کرلیں اور مسلم کانفرنس پانچ نشستوں تک محدود ہوگئی۔ اس وقت جو بڑے بڑے پہلوان آزاد کشمیر کے انتخابی اکھاڑے میں موجود ہیں ان میں مسلم لیگ ن کے راجہ فاروق حیدر، تحریک انصاف کے بیرسٹر سلطان محمود، مسلم کانفرنس کے سردار عتیق، پیپلزپارٹی کے چودھری عبدالمجید اور لطیف اکبر قابل ذکر ہیں۔ راجہ فاروق حیدر تو آسانی سے کامیا ب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلم کانفرنس دھیر کوٹ ضلع باغ سے سردارعتیق کی نشست پر تو شائد کامیا ب ہو جائے لیکن مزید کوئی نشست جیتنا بہت مشکل ہو گا اسی طرح پیپلزپارٹی کے موجودہ وزیراعظم چودھری عبدالمجید بھی شائد ہی اپنی نشست پر کامیابی حاصل کر سکیں۔ مسلم لیگ ن نے ضلع باغ میں جو ایک نیا سیاسی گھو ڑا مشتاق منہاس کی صورت میں متعارف کرایا ہے اس کے ریس جیتنے کے امکانات بھی واضح ہیں۔ جماعت اسلامی کے سیاسی کردارکو میں اگر میں منافقت سے تعبیرکروں تو مجھے معاف کیجئے گا کیونکہ پاکستان میں تحریک انصاف سے اتحاد اور مسلم لیگ ن کی مخالفت کرنے والی جماعت اسلامی کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حامی ہے۔ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے اس کے رہنماؤں نے آزاد کشمیر میں بھی خود کو لیڈر کی بجائے ایجیٹیڑ کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن واضح طو ر پر بیس سے زائد نشستیں حاصل کرتی نظر آرہی ہے اور ممکن ہے وہ سادہ اکثریت کے ساتھ اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے ،دوسرے نمبر پر پیپلزپارٹی پانچ سے دس تک نشستیں حاصل کر کے اپوزیشن کی بڑی جماعت کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔ چار پانچ آزاد امیدوار بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جو یقینی طور پر اکثریتی جماعت میں شمولیت کو ہی ترجیح دیں گے۔ بچے کچھے میں سے تحریک انصاف ،مسلم کانفرنس اور ایم کیوایم یا جے یو آئی کے حصے میں کیا آئے گا اس کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں۔ جہاں تک آئندہ وزیراعظم کا تعلق ہے میں راجہ فاروق حیدر کو آزاد کشمیر کا آئندہ وزیراعظم دیکھ رہا ہوں۔ گو کچھ آوازیں مشتاق منہاس کے حق میں بھی اٹھ رہی ہیں اور مسلم لیگ ن کی قیادت یہ حیران کن فیصلہ کر بھی سکتی ہے لیکن مشتاق منہاس کے مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد وزارت عظمی کے دوسرے امیدوار بھی راجہ فاروق حید ر کی حمایت کر رہے ہیں اس لئے یہ فیصلہ مشکل ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔