قندیل کے قاتل


فوزیہ سے قندیل بننے کا مرحلہ کوئی پلک جهپکتے میں طے نہیں ہوا تها اس کے پیچهے ماں باپ بهائیوں شوہر ساس سسر نہ جانے کس کس \"Shamshadسے جهگڑوں مباحثوں مار کٹائیوں اور سب سے بڑه کر پاکستان جیسی مذہبی اور ثقافتی رسم و رواجوں میں جکڑی سوسائٹی سے مقابلہ کرنا پڑا تها اسے۔۔
یہ سب کرنے کے لیے اس نے پہلے شرم و حیا کو ایک کونے میں رکھ چهوڑا تها پهر فوزیہ سے قندیل اور قندیل سے سکینڈل گرل بننے کے ہر مرحلے میں سچے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچی بات دکھائی دیتی نظر آتی رہی کہ جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو۔۔۔

شہرت و دولت کی حرص میں شرم و حیا کو پیچهے چهوڑتی قندیل شوبز کی دنیا میں کہاں کہاں اور کس کس کے پاس نہیں رلی ۔کہاں کہاں اس کا استحصال نہیں ہوا۔ شو بز اور میڈیا میں لڑکیوں کے اس استحصال کا رونا تو وہ اپنے ہر انٹرویو میں روتی آئی ہے۔۔۔۔

سوشل میڈیا پر گل کھلانے سے پہلے اس نے الیکٹرانک میڈیا پر جگہ بنانے کی جان توڑ کوشش کی تهی وہاں دکھائی دینے والی چمک دهمک اور شہرت کی ان بلندیوں کو چهونے کی اپنی سی ہر ممکن ٹرائی کر لی تهی اس نے۔

ڈراموں فلموں لبرلز اور موم بتی ماسیوں کی دکھائی شہرت و دولت کی ان ہواوں فضاوں میں وہ بهی اڑنا پهرنا چاہتی تهی۔۔۔

مگر حقوق نسواں اور آزادی کے نعرے لگانے والوں خواتین کو قومی دهارے میں شامل کرنےکے دلفریب خواب دکھانے اور انہی پورا کرانے میں ان کی مدد کرنے کے نعرے مارنے والوں خواتین کی فلاح و بہبود کے نام پر اربوں کے فنڈ بٹورنے والی این جی اوز اور سب سے بڑه کر اس کی موت پر مگر مچھ کے ٹسوے بہانے والے بعض فیس بکی دانشوروں اور موم بتی ماسیوں میں سے کسی نے آگے بڑه کر اسے کوئی سہارہ نہیں دیا تها۔ کوئی کمرشل ایڈ کوئی اشتہار کوئی ڈرامہ کسی چهوٹی موٹی کمپنی یا پراڈکٹ کی برانڈ ایمبیسڈر بنانے میں ہی کچه معاونت کی ہوتی اس مظلوم کی جسے تمہاری دکھائی راہ نے شرم و حیا کی چادر اتار کر منہ پهٹ بنا دیا تها۔۔

عورت کے ان تماش بینوں اور دلالوں میں سےکس کس لبرل اور روشن خیال نے اس کا استحصال نہیں کیا تها یہی تو وہ کہتی تهی میرا منہ نہ کھلوائیں۔۔

جب اس حالات کی ماری نے دیکھ لیا کہ فلموں ڈراموں اشتہارات مارننگ ایونگ شوز کہیں بهی اس کی دال نہیں گل رہی ہر طرف یا تو اس کا استحصال ہو رہا ہے یا کوئی استحصال کی کوشش میں۔لگا ہوا ہے۔۔۔اور تو اور دین کے نام پر علانیہ اس مقدر کی ماری کو ملے بهی تو بهلا کون ملے؟ مفتی عبد القوی ملے جو ہوس پرستوں کے لیے ایک نئی راہ نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں آپ شادی ایک اور نکاح متعدد کر سکتے ہیں۔ ان جیسوں سے قندیل کی بے باک و بے چین روح کیا کسب فیض کرتی لہذا جو ہوا وہ تماشا پوری قوم نے میڈیا پر ایسا دیکھا کہ قندیل کی بے باکیاں دیکھ کر عورتیں شرما رہی تهیں اور مفتی کی بے شرمیاں دیکھ کر علما منہ چهپا رہے تهے۔۔ الامان و الحفیظ
۔پس پردہ نہ جانے کن کن جعلی پیرو فقیروں عاملوں کے مراقبوں اور چلوں کی بهینٹ چڑهی ہو گی۔ بخدا مقدر والی نکلیں وینا ملک سارہ چوہدری نرگس جنید جمشید اور بہت سے لوگ اور کھلاڑی جنهیں مولانا طارق جمیل جیسے مصلح اور درد دل رکھنے والے عالم ملے جن کے پیار خلوص اور فکر نے ان کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔۔۔

شوبز اور کھیل تماشوں کی چمک دهمک دکھا کر جس سراب کے پیچهے ہماری نئی نسل کو لگا دیا گیا ہے اس چیستان میں نہ جانے کتنی قندیلیں بهٹک گئی ہیں اور کتنی اس بازار میں جا بیٹهی ہیں۔

اس مردہ قندیل کے لاشے پر ٹسوے بہانے والے بیشتر وہی ہیں جنهوں نے سوشل میڈیا پر اس کی بے ہودگیاں دیکھنے کے لیئے اس کے پیج کو لائک کر رکھا تها قندیل کی بےہودگیوں پر اسے لائکس اور کمنٹس دینے والے اور اپنی ٹی آر پی کے لیے اس کے ڈهٹائی پر مبنی انٹر ویوز کر کے اسے بے شرمی کے بانس پر چڑهانے والے قندیل کے اصل قاتل ہیں۔۔۔ جنهوں نے نہ اسے آگے بڑهنے دیا اور نہ واپسی کا راستہ چهوڑا۔۔۔

خبر آئی ہے کہ قندیل کے والد نے وجہ قتل پیسوں کا جهگڑا بتائی ہے بهائی قندیل سے پیسے مانگ رہا تها وہ رات ہی گهر آیا تها سب گهر والے سو گئے صبح جب قندیل دیر تک نہ اٹهی اس کے کمرے میں دیکھا تو وہ مردہ حالت میں تهی اور نقدی اور موبائل وغیر بهائی لیکر فرار ہو چکا تها

معاملہ بهی قرین قیاس لگتا ہے اور پیسے لینے یا مانگنے کا یہ سلسلہ عرصے سے چلا آ رہا ہو گا اب کی بار حالات کی ماری قندیل نے منع کر دیا ہو گا کیونکہ سوشل میڈیا پر اپنی بے تکی ویڈیوز اور پوز بنا کر آخر وہ کتنا کما لیتی ہو گی جو اپنے سات بهائیوں کو بهی کھلاتی
بس یہی وجہ نزاع بنی جسے ایک سوچے سمجهے منصوبے کے تحت ڈالر و ڈونیشن بٹورنے کے لیے غیرت کے نام پر قتل کا عنوان دے دیا گیا۔۔

ورنہ جس بهائی کی غیرت جاگنی ہوتی تو اسی روز جاگ جاتی جس روز وہ فوزیہ سے قندیل بنی تهی اس روز جب قندیل کے بهائی اور فیملی والے کڑوا گهونٹ پی گئے تهے آج برسوں بعد تک تو وہ اس سب کے عادی ہو چکے تهے۔

خوش کن نعرے بنانے اور لگانے والے ان ظالموں نے نہ جانے کتنی فوزیاوں کو قندیل بنا کر بے رحم دنیا کے آگے پهینک دیا جو صرف مرنے کے بعد مگر مچھ کے ٹسوے بہاتے ہیں دعا کے لیے ہاتھ تک نہیں اٹهاتے۔

سوشل میڈیا پر آٹه دس لاکھ فالوورز رکھنے والی قندیل جسے گوگل پر تلاش کی جانے والی پاکستان کی پہلی دس شخصیات میں شامل ہونے کا اعزاز بهی حاصل تها کے جنازے پر چند سو گاوں والوں کی شرکت کا نظارہ ہماری بچیوں کے لیے یقینا لمحہ فکریہ ہے۔۔
قندیل اب ہم میں نہیں رہی رب کریم سے دعا ہے اس کی خطاوں کو معاف فرمائے اس کی مغفرت فرمائے یقینا یہاں اس دنیا کی چکا چوند کے چکر میں اس نے بہت دکھ اٹهائے ہوں گے۔۔۔ اللہ اس سے در گزر کا معاملہ فرما۔ امین


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شمشاد احمد شاد کی دیگر تحریریں
شمشاد احمد شاد کی دیگر تحریریں

One thought on “قندیل کے قاتل

  • 21-07-2016 at 3:09 pm
    Permalink

    شمشادصاحب بہترین کالم لکھا ہے آپ نے ،یقیناً یہ ہمارے لیے ایک لمحہء فکریہ ہے اور میری فیس بک کے ماہرین اور انتظامیہ سےدردمند اور پرسوز درخواست ہے کہ کسی طرح سے قندیل بلوچ کےپچھلے تمام اکاؤنٹ کو بلاک کروا دیا جائے تا کہ اسکی گزشتہ پوسٹ اس کیلئے عذاب جا ریہ کاسبب نہ بنیں اللہ اسکی مغفرت فرماے آمین

Comments are closed.