مبارک بیگم کا پاکستانی دوست


\"asgharآج صبح پہلا ایس ایم ایس میرے چھوٹے بھائی ناصر علی سید کا ملتان سے آیا۔ ناصر چوتھے نمبر پر ہمارے خاندان میں پیدا ہوا۔ میرے ہاتھوں میں کھیلا۔ انگریزی ادب میں ایمرسن کالج سے عرش صدیقی نے ایم اے کرایا۔ پھر کالج میں استاد منتخب ہوا۔ بے حد خاموش طبع اور اپنے میں گم رہنے والا استاد اب تو پرنسپل ہے۔ پیغام میں نے پڑھا تو اپنی موسقیی سے رغبت کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ ناصر علی سید کا پیغام تھا کہ برصغیر کی ایک بڑی آواز دو دن پہلے ہم سے روٹھ گئی۔ کسی اخبار اور چینل سے میں نے یہ خبر نہیں سنی یا پڑھی۔ اسے یہ خبر اس لئے ملی کہ اس کے اس خاندان اور گلوکارہ سے ذاتی تعلقات تھے۔ یہ گلوکارہ کون تھی۔ جب ناصر علی سید نے مجھے اس کے گیت لکھے تو میرا ماتھا ٹھنکا کہ یہ تو کوئی اور نہیں یہ تو مبارک بیگم ہیں۔ تو صاحبو مبارک بیگم دو دن پہلے ہمیں چھوڑ گئیں۔ آج ایک انگریزی اخبار میں اس کی خبر دو دن بعد شایع ہوئی ہے۔ مبارک بیگم کے چند گیت ملاحظہ ہوں۔

کبھی تنہایوں میں او تمہاری یاد آئے گی

مجھ کو اپنے گلے لگا لو – اے میرے ہمراہی

تم کو کیا بتلاؤں میں کہ تم سے کتنا پیار ہے

ہم حال دل سنائیں گے سنئے کہ نہ سنئے\"01

مبارک بیگم کی عمر اسی برس کی تھی۔ وہ ممبئی میں جوگیشوری میں رہتی تھیں۔ جہاں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے پچاس ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

خاص طور پر بمل رائے کی فلموں \”دیوداس\” اور \”مدھومتی\” کے لئے گایا۔ انہوں نے بڑے موسیقاروں کے لئے گایا۔ خاص طور پر ایس ڈی برمن، شنکر جے کشن، خیام اور سلیل چودھری قابل ذکر ہیں۔ مبارک بیگم اور گیتا دت نے کم گایا لیکن اپنا نقش چھوڑ گئیں۔ یہ بھی ناصر علی سید نے بتایا کہ آج گیتا دت کی برسی ہے۔ ناصر کا ان سے بھی فون پر رابطہ رہا ہے۔

ناصر ملتان میں ایک خاموش زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن کسی کو نہیں معلوم اس کے پاس برصغیر کی موسیقی کی ایک بہت بڑی لائبریری ہے۔ شاید ذاتی لائبریریوں میں یہ سب سے بڑی لائبریری ہو کیونکہ اس حوالے سے ریسرچ موجود نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ ابھی سکول ہی میں تھا کہ اس نے سیلون ریڈیو سے رابطہ شروع کیا۔ یہ رابطہ اتنا مضبوط ہوتا گیا کہ ایک وقت آیا وہ \”سیلون ریڈیو پریوار\” کا صدر منتخب ہوگیا۔ پوری دنیا میں ریڈیو سیلون پریوار ایک کنبے کی طرح ہے۔ اس کلب کا ہر ممبر ایک دوسرے سے رابطے میں ہے۔ ریڈیو سیلون نے ناصر علی سید کو کئی اعزاز دئے اور اس پر خصوصی پروگرام نشر کئے۔ اس لئے کہ ناصر نے ان کی توجہ ان بھولے بسرے موسیقاروں \"Singerاور گلوکاروں کی طرف دلائی جو لوگوں کی یادوں سے محو ہوچکے ہیں۔ اس کے پاس ایک یا دو گیت گانے والے سنگرز کی پوری تفصیل ہے۔

اسی بارے میں: ۔  چند نشریاتی زنخوں کی مردانگی

اب مبارک بیگم سے تعلق ریڈیو سیلون کی وجہ سے ہوا تو فون پر رابطہ رہنے لگا۔ وہ بہت شفقت سے فون پر موسیقی کے حوالے سے باتیں کرتی تھیں۔ سادہ خاتون تھیں۔ ممبئی کی فلمی زندگی سے کٹ چکی تھیں۔ جوگیشوری جہاں وہ رہتی تھیں ممبئی کے مضافات میں شمار ہوتا ہے۔ آخری بار سات آٹھ مہینے پہلے بات ہوئی تھی۔ ناصر علی سید نے مبارک بیگم کے نادر گیتوں کو جب تلاش کیا اور مبارک بیگم کو بتایا تو وہ حیران رہ گئیں کہ یہ تو یہاں کسی کو معلوم نہیں۔ مبارک بیگم نے جن موسیقاروں کے ساتھ کام کیا آج انھیں بھی کوئی نہیں جانتا۔ مثلا سنیل بھاٹکر، رام گنگولی، شوکت حسین، سی آر جن اور ایک گیت جو سلطانہ ڈاکو کے لئے گایا اس کی بہت کم لوگوں کو خبر ہے، گیت یہ تھا:

\”مہاراجہ کیوڑیا کھول – بوندن برسن لاگی\”

اب ناصر علی سید سے کوئی برصغیر کی موسیقی کی تعلیم کی بات کرے تو وہ تو ویسے بھی استاد ہے بہت کچھ جانتا ہے۔ راگ راگنی جانتا \"03ہے۔ لیکن افسوس ملتان میں ہے اور وہاں موسیقی کی کوئی اکیڈمی اول تو ہے نہیں، ہوگی تو کامیاب ہونا مشکل ہے۔

ریڈیو سیلون بچپن میں صبح سویرے سکول جانے سے پہلے گھر میں بج رہا ہوتا تھا۔ گیتوں میں آغاز کلاسیکل سے ہوتا پھر فلمی موسیقی سنائی جاتی۔ ناشتے کے لئے دہی لینے جاتا تو دکان پر ریڈیو سیلون کے گیت سنتے سنتے سکول کا وقت گزر جاتا اور مار کھانا پڑتی۔ بچپن اور لڑکپن انڈین فلموں کی موسیقی سنتے سنتے پروان چڑھا۔ اگرچہ پاکستانی موسیقی بھی انہی پوری طاقت سے ہماری یادوں میں جگہ لے چکی تھی۔

ناصر علی سید کی موسیقی کی لائبریری دیکھ کر خیال آیا کہ ہم اپنی موسیقی کے سفر کو کیا 1947 سے شروع کریں گے۔ اگر جڑواں سے شروع کریں تو موسیقی کا سفر برصغیر میں بہت پیچھے سے شروع ہوتا ہے۔ موسیقی کا کوئی مذہب اور ملک نہیں ہوتا۔ اسے تو پھیلنا ہوتا ہے۔ سو ہماری تمہاری موسیقی کا سوال نہیں اٹھتا۔ لیکن ریڈیو سیلون کی خدمات سے مجھے تو ریڈیو پاکستان لاہور کی موسیقی کے لئے خدمات یاد آرہی ہیں جو ناقابل فراموش ہیں۔ گزشتہ روز میں ریڈیو پاکستان لاہور کی عمارت کے سامنے سے گزرا۔ مجھے عمارت دکھائی نہیں دی۔ درختوں اور بیلوں کے جھاڑ میں کہیں چھپی ہوئی تھی۔ کبھی اس عمارت میں داخل ہونے کے لئے پاؤں ڈگمگاتے تھے۔ کیا کیا ہستیاں وہاں دن رات کلاسیکی موسیقی، غزل، ٹھمری، گیت، فولک اور قوالی کی روایت کو \"04لے کر چل رہی تھیں۔ ہمت نہیں ہو رہی کہ سب کے نام لکھوں۔ 1974 کی ایک انتہائی سرد رات کو میں نے فہیم جوزی، شائستہ حبیب اور نسرین انجم بھٹی کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے سٹوڈیو میں موسیقی کے اس عظیم خزانے کو چیدہ چیدہ سنتے ہوئے صبح کر دی تھی۔ کئی بار درخواست کی ہے کہ ریڈیو پاکستان کے اس خزانے کو جدید سطح پر سی ڈیز میں بنا کر مارکیٹ کیا جائے۔ معلوم نہیں کہ وہ سب خزانہ کس حال میں ہوگا۔ ریڈیو پاکستان کراچی اور پشاور کی اپنی تاریخ ہے۔ جو آنکھوں کے سامنے مٹتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ ان سب کو ایک ناصر علی سید کی ضرورت ہے۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت میں اب رینجرز نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کوئی دن گزرتا ہے کہ ریڈیو پاکستان لاہور کی عمارت پر بھی کسی ادارے کا شب خون کوئی انہونی بات نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں: ۔  داغ اچھے ہوتے ہیں یا صفائی جزوئے ایمان ہے

اگر ناصر علی سید نے برصغیر کے بھولے بسرے گلوکاروں کو سینے سے لگا رکھا ہے تو ہم بھی کیوں نہ اپنے پاکستان کے چند عظیم گانے والوں کو یاد کر لیں جو نئی نسل کے دھیان میں نہیں ہیں۔ ایس بی جان تو کراچی میں موجود ہیں۔ میری ان سے ملاقات رہتی ہے۔ سلیم رضا پر اسرار طور پر فوت ہوئے۔ شرافت علی، منیر حسین کسی کو یاد نہیں۔ زاہدہ پروین، آئیرن پروین بھی اب یاد نہیں۔ نسیم بیگم شاید یاد رہ جائیں۔ \"05ذرا آگے آتے ہیں، نیّرہ نور، عالمگیر نے کتنی خوبصورت روایت کو جنم دیا۔ نیّرہ آپا تو خاموش بیٹھی ہیں۔ عالمگیر اپنی بیماری سے لڑ رہے ہیں، الله شفا دے۔ کسی کو نہیں معلوم اخلاق احمد کیسی نادر آواز تھی۔ بیماری سے لڑنے کے لئے لندن چلے گئے جہاں پر میری ان سے بے شمار ملاقاتیں ہوئیں۔ انتہائی اعلیٰ دوست تھے۔ میں جب جاتا وہ ملنے آجاتے، گھنٹوں ہم باتیں کرتے۔ پھر آخر میں وہ کچھ سناتا اور میں اسے قریبی ٹیوب سٹیشن چھوڑ آتا۔ ایسے ہی رجب علی بھی اب لندن میں ہے۔ میرا بہت ہی قریبی دوست ہے، جاتا ہوں تو وہ آجاتا ہے ملنے۔ اے نیر لاہور میں ہیں۔ میرا ایک دوست پرویز مہدی جتنا انڈیا میں مقبول تھا ایسی شہرت اس نے پاکستان میں نہ دیکھی، خاموشی سے چلا گیا۔ عالم لوہار کو ہم نے سامنے بیٹھ کر سنا۔ وہ بھی چلا گیا مگر اپنی جگہ عارف لوہار تو ہمیں دے گیا۔ کہانی ادھوری ہے، ادھوری رہنے دو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔