ترکی، ایدھی اور قندیل


\"anwarدنیا کی ہزار سالہ تاریخ بتاتی ہے جس کے ساتھ عوام ہوں وہ جیت جاتا ہے، کیونکہ عوام کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔ گیارہویں صدی عیسوی کی شروعات میں ہسپانیہ کے حکمران طبقہ بدستور عیش و عشرت میں مگن رہا کہ کوئی ان کی حکمرانی کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف غریب اور مفلوک الحال عوام تھے۔ عوام کے مشتعل ہجوم نے شاہی محلات کو تہس نہس اور تباہ کرکے رکھ دیا۔ روس کے لوگ الیگزنڈر دوم کی عیاشیوں کو اپنی غربت کا مذاق سمجھتے تھے۔ حکمران طبقے نے عوام کو دبانے کے ہزار جتن کئے۔ سیکڑوں لوگ گرفتار ہوئے۔ سینٹ پیٹرز برگ کے قلعوں میں لوگوں پر تشدد کیا گیا اور بہت سو کو پھانسیاں دی گئیں۔ ہر نیا آنے والا زار تاریخ کا پہیہ واپس موڑنا چاہتا تھا، مگر وہ آخری زار ثابت ہوتا اور عوام کا غصہ انقلاب کا بے خوف لاوا بن گیا، پھر راستے کی ہر عمارت اور رکاوٹ خس وخاشاک ہوگئی۔ حکمرانوں کے عشرت کدے، ماتم خانوں میں تبدیل ہوگئے۔

امریکا کے شہر ’شکاگو‘ میں مزدوروں کی المناک زندگیاں اپنے مالکان کے تعیش کو دیکھ کر کڑھتی تھیں اور پھر یکم مئی کی وہ صبح طلوع ہوئی جب حکمرانوں کا عوام سے مقابلہ ہوا اور آخر کار فتح عوام ہی کی ہوئی۔ انقلابِ فرانس میں بھی فتح عوام ہی کی ہوئی۔ انقلاب ِچین کو دیکھیں جب ماﺅزے تنگ نکلے تو ان کے ساتھ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا، چنانچہ فتح ماﺅزے تنگ کی ہی ہوئی۔ ایران میں بھی یہی کچھ ہوا۔ ماضی قریب کے انقلابات کو دیکھ لیں۔  2011 میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں جو انقلابات آئے تو ان کے ساتھ عوامی طاقت تھی۔ لیبیا کے کرنل معمر قذافی کے خلاف جو بغاوت کامیاب ہوئی ،اس کی وجہ بھی عوامی طاقت ہی تھی۔ اسی طرح تیونس کے حکمران زین العابدین کو کچلنے والے بھی عوام ہی تھے۔ پاکستان میں فوجی بغاوت اسی وقت کامیاب ہوئی جب عوام نے ان کا استقبال کیا۔ جب عوام نے انکار کیا تو وہ ہار گئے۔ یاد کریں جب پرویز مشرف نے آئین کو پامال کرکے ایمرجنسی لگائی اور حاضر سروس ججوں کو معطل کردیا تو عوام ججوں کے ساتھ تھے، مشرف کے ہر قسم کے ہتھکنڈوں کے باوجود جج بحالی تحریک کامیاب ہوئی اور جج بحال ہوگئے۔

اصل طاقت عوام ہی ہیں جس کے ساتھ عوام ہوتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے جب جب عوام نے آمروں کا ساتھ دیا تو وہ کامیاب ہوگئے اور جہاں جہاں پر عوام نے سویلین کا ساتھ دیا تو فتح نے ان کے قدم چومے۔

ترکی میں ہونے والی حالیہ فوجی بغاوت کو ہی دیکھ لیں۔ طیب اردگان کی حکومت کا جانا یقینی تھا۔ 15 منٹ کے بعد ترکی صدر اپنی کابینہ سمیت جیل میں ہوتے، لیکن جب عوام نے ان کا ساتھ دینے کا ارادہ کرلیا تو حالات پلٹ گئے۔ عوام نے بوٹوں اور ٹینکوں کو شکست دے دی۔ عوام ہمیشہ انہی کا ساتھ دیتے ہیں جو ان کے مسائل کا حل کرتا ہے۔ جو ان کے دُکھ درد میں شریک ہوتا ہے، جو ان کے آنسو پونچھتا ہے، جو ان کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی راحت قربان کر دیتا ہے۔ طیب اردگان نے 1994 سے لے کر 2016 تک 22 سال ملک و قوم کی ہر قسم کی خدمت ہے۔ بائیس سال پہلے جب استنبول کے میئر بنے تو استنبول ہر قسم کے جرائم کی آماجگاہ اور گندگی کا ڈھیر تھا۔ انہوں نے چند ہی سالوں میں استنبول کو جرائم فری اور کرپشن فری کردیا۔ جس شہر میں لوگ آنے سے ڈرتے تھے، وہاں لاکھوں کی تعداد میں سیاح آنے لگے۔ جب ترکی کے لوگوں نے طیب کی خدمت کو دیکھا تو انہوں نے طیب اردگان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ ترکی کے وزیراعظم اور صدر منتخب ہوگئے۔ طیب اردگان ترکی کو جدید فلاحی اور اسلامی اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ سفر جاری تھا کہ ترکی کے بہی خواہوں نے شب خون مارنے کی کوشش کی، مگر عوام نے انہیں ناکام بنا دیا۔

اگر ہمارے سیاستدان اور حکمران چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت چلے تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ طیب اردگان کی طرح ملک و قوم کی خدمت کریں۔ وہ غیر ملکی آقاﺅں پر تکیہ کرنے کے بجائے عوام کی خدمت کر کے ان کے دل جیتیں، ورنہ بوٹوں اور ٹینکوں والے جب آئیں گے تو عوام ان کا پھولوں اور مٹھائیوں کے ساتھ استقبال کریں گے۔

اب آجائیں عبدالستار ایدھی کی طرف۔ ایدھی صاحب وہ شخص تھے جنہوں نے 1951 سے 2016 تک 66 سال ملک و قوم کی خدمت کی۔ ملک کا کوئی خاندان ایسا نہیں ملے گا جس میں ایدھی صاحب کے شروع کردہ فلاحِ انسانیت کے منصوبوں میں سے کسی نہ کسی طرح فائدہ نہ اٹھایا ہو۔ ایدھی صاحب نے انسانیت کی خدمت کے 18 مختلف ادارے شروع کئے ہوئے تھے۔ قومی سطح پر 23 ادارے چلا رہے تھے۔ جو کام حکومتوں کے کرنے کا تھا وہ کام ایدھی صاحب تنہا کر رہے تھے۔ انہوں نے بلا رنگ و نسل اور قوم وملک ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہوکر سب کی بلاامتیاز خدمت کی۔ ان کی خدمتِ خلق کا دائرہ پوری دنیا پر محیط تھا۔ انسانیت کی خدمت اور وطن کی محبت ان کے رگ و پے میں رچی بسی تھی۔ وہ ایک سچا محب وطن اور انسانیت کا درد رکھنے والا عظیم، مثالی اور قابلِ تقلید انسان تھا۔ اگر ان کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی ہے تو یہ ان کا حق تھا۔

عبدالستار ایدھی کی موت کے بعد بعض لوگوں نے ان کی پرانی اخباری باتیں اُٹھاکر ان کو ملحد کہا اور ان کی خامیاں بیان کرکے ان کے عزت و احترام میں کمی کرنے کی بھونڈی و ناکام سعی کی، حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے ان کو جو عزت و مرتبہ ملا وہ نظریات کی وجہ سے نہیں، بلکہ انسانیت کی اعلیٰ خدمت پر ملا ہے۔ وہ ایک انتہائی کم پڑھا لکھا اور سادہ مزاج آدمی تھا۔ نظریات کی بنیاد پر فتوے اس شخص پر لگتے ہیں جو کسی جماعت کا بانی ہو۔ ایدھی صاحب کا نظریہ تو خدمتِ خلق تھا۔ ایدھی صاحب نے سب سے زیادہ نومولود بچے لبرل لوگوں کے اُٹھائے اور سب سے زیادہ لاشیں مولویوں کی اٹھائیں۔ وہ ہر طبقے کا محسن تھا۔ وہ سب طبقوں سے زیادہ مولویوں سے محبت کرتا تھا۔ ان کی لاشوں کو مفت تابوت فراہم کرتا تھا۔ اپنے محسن کی بعد از مرگ ایسی کردار کشی تو نہیں کرنی چاہیے۔ احسان کا بدلہ احسان نہیں تو کم از کم جفا سے تو نہ دیں۔ بقول شیخ سعدیؒ کے قوتِ نیکی بدادی بدمکن۔

اب آجائیں قندیل بلوچ کی طرف! خدا لگتی کہتا ہوں ہمیں ایدھی کی موت سے بھی زیادہ دکھ قندیل بلوچ کی مظلومانہ ہلاکت پر ہوا ہے۔ اس کا کوئی ایسا جرم نہ تھا کہ اس سے جینے کا حق ہی چھین لیا جاتا۔ کیا اس نے ’کفرِ بواح‘ کیا تھا؟ کیا اس نے اسلام کا انکار کیا تھا؟ کیا ختمِ نبوت کی منکر تھی؟ کیا وہ اللہ و رسول اور اسلام کی اساسی تعلیمات کو نہیں مانتی تھی؟ ایسی کوئی بات نہ تھی۔ وہ اللہ رسول کو بھی مانتی تھی اوردینِ اسلام کے بنیادی احکام کو بھی ۔ وہ ابھی کم عمر تھی، شعور پختہ نہ تھا، دکھوں کی ستائی ہوئی تھی۔ اس کی کوئی صحیح راہنمائی کرنے والا نہ تھا۔ دیہاتی، جاہل اور غریب معاشرے کی پیداوار تھی۔ رفتہ رفتہ وہ درست نہج پر آجاتی۔ وہ جو بھی اور جیسی بھی تھی، مگر اس کا کوئی ایسا جرم نہ تھا کہ اسے قتل کردیا جاتا، اس سے جینے کا حق بھی چھین لیا جاتا۔

ہمارا معاشرہ انتہائی تنگ نظر اور شدت پسند ہوگیا ہے۔ قوت برداشت ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہر طبقہ چاہتا ہے کہ وہی حق پر ہے۔ ہر طبقے بلکہ ہر شخص نے اپنی مرضی سے غیرت کا ایک دائرہ بنا رکھا ہے، جو اسے تجاوز کرتا ہے وہ اس کی نظر میں واجب القتل قرار پاتا ہے۔ خدارا! دوسروں کو بھی جینے کا حق دیجئے۔ رواداری کا مظاہرہ کیجیے۔ اپنے اندر وسعتِ ظرفی پیدا کیجیے۔ ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کیجیے۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور معاف کرنا سیکھیے۔ ہماری ترکی کے طیب اردگان سے بھی درخواست ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے جانی دُشمنوں کو بھی معاف فرمائیں۔ اگر آپ نے معاف کردیا تو ترکی کے نیلسن منڈیلا بن جائیں گے۔ اگر انتقام لیا تو انتقام در انتقام کے سارے سلسلے اندھے غار کی طرف جاتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “ترکی، ایدھی اور قندیل

  • 21-07-2016 at 8:39 pm
    Permalink

    ماشاٴالله، کیا کشادہ ذہنی ہے۔ جو اسلام سے انکار کرے، وہ واجب القتل؛ جو ختم نبوت کی منکر ہو اسکا قتل جائز اور بجا؛ جو الله اور رسول کی اساسی تعلیمات کو نہ مانے اسکا قتل آپکو منظور۔ “کفر بواح” کیا ہوتا ہے، یہ مجھے نہیں معلوم، کیونکہ کفر کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں اور کس قسم کے لے قتل، کس کے لئے کوڑے، کسکے لئے پتھر، کسکے لئے مسواک کی ڈنڈی، یہ سب باتیں دنیا میں دوسروں کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے کے لئے میں ضروری نہیں سمجھتا۔

  • 22-07-2016 at 1:31 pm
    Permalink

    زندہ باد۔ غازی صاحب نے لبرل طبقہ ہی نہیں بلکہ اشرف علی تھانوی صاحب کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔ مقدس ہستیوں کا کیا ذکر علم غیب تو غازی صاحب کے پاس بھی ہے۔ ہر کہ شک آند کافر گردد۔

  • 23-07-2016 at 9:15 am
    Permalink

    محترم کا پہلا فقرہ ہی داد طلب ہے: “دنیا کی ہزار سالہ تاریخ۔۔” لطف یہ کہ یہی مضمون آج “جنگ” میں اسی ابتدائی فقرہ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔

Comments are closed.