طوائف اور رقصِ ابلیس


\"javed-iqbal-malik\"

موت ایک ابدی حقیقت ہے جس سے انکار کسی بھی ذی روح کو نہیں مگر پھر بھی موت موت ہے ہر ذی روح اس سے خوف زدہ ہی رہتا ہے۔ جب موت اُس کو قدرتی انداز سے گھیر لیتی ہے تو وہ بھی اُس کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ فرد کے ساتھ ساتھ سماج اور سماجی رشتے تک اُ سکی موت کو قبول کر لیتے ہیں۔ مگر یہی موت اگر نا گہانی ہو تو پھر لواحقین تو بچارے ہوتے ہی ہیں آس پاس کا ماحول بھی بہت دیر تک سوگوار رہتا ہے۔ لوگ کسی کی ناگہانی موت کو سالوں یاد کرتے رہتے ہیں۔ اور نہ ختم ہونے والے دکھ کی داستان جاری رہتی ہے۔

آجکل ریاست کا کردار افراد کی زندگیوں میں بہت اہم ہے ۔ جو ریاست اپنے شہریوں کا خیال رکھتی ہے اُس کو آجل بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرح کے الزامات کے باوجود امریکہ و دیگر ممالک میں شہریت لینے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اور تو اور لوگ غیر قانونی ذرائع سے بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اُن ممالک میں داخل ہونے کی کوشش میں جان گنوا دیتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو سمجھی نہ جا سکے۔ آسان فمہم زبان میں کہا جائے تو اُن ریاستوں میں فرد کی انا کو مجروح نہیں کیا جاتا۔ فرد اپنے شہری حقوق ڈنکے کی چوٹ پر حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں بنیادی حقوق تک سلب ہو چکے ہیں۔ ریاست خود آج تک یہ طے کرنے میں ناکام ہے کہ سچ اور جھوٹ کا معیار کیا ہے۔ کون سی چیز جائز اور کون سی ناجائز ہے۔ کس چیز کا تعلق افراد کی ذاتیات سے ہے اور کن امور کا تعلق ریاست سے۔ پورے کا پورا نظام ایک قیاس پر چل رہا ہے۔ جب کو سادہ لوح اس ملک کی محبت میں کوئی قدم اُٹھاتا ہے تو تب اُس کو احساس دلا دیا جاتا ہے کہ اور بھائی لگتا ہے آپ نئے آئے ہیں شاید۔ یعنی کسی کو برائے راست کسی مثبت کام سے روکنے کا یہ پہلا حربہ ہوتا ہے۔ اگر آپ برا کام کریں تو روکے گا کوئی نہیں سب پیٹھ پیچھے برائی کر کے اس کو ثواب سمجھیں گے۔ تمام قابل اور شریف النفس بے کار اور چور ڈاکو مسند پر فائز ہیں۔ مطلب سنگ و خشت مقید اور سنگ آذاد کی ہم زندہ مثال ہیں۔

قندیل بلوچ اس معاشرے کا ایک ایسا ہی کردار تھا جس کو دیکھ کر ہم اندازہ لگا سکتے تھے کہ ہماری اندرونی حالت کیا ہے۔ قندیل ایک ایسی بیٹی تھی جو کسی ایدھی ہوم یا دماغی امراض کے ادارے میں نہیں بلکہ ہم سب کے درمیان رہ رہی تھی۔ مگر ہم بے خبر بن کر سوتے رہے۔ یہ اچھی حکومتوں کے کام ہوتےہیں کہ وہ اپنے معاشرے کے اندر ہونے والے مثبت کاموں کی ترغیب اور منفی سرگرمیوں کو رد کرنے کا باقاعدہ نظام ترتیب دیتے ہیں۔ مگر یہاں تو سارے کا سارا سسٹم صرف تماش بین جیسا ہے۔ ملک میں پائی جانے والی تعلیم یافتہ کلاس (جو صرف بے نام پروفیشنل تعلیم رکھتی ہے سماجی علوم سے بے بہرہ)ہو یا حکومتی ایوانوں میں براجمان سب کے سب ایک جیسے ہیں۔ پورے نظام کو صرف ایک کھیل کی طرح بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس میں اگر کسی کو مردہ قرار دے دیا جائے تو اُس زندہ انسان کو یہ ثابت کرنے میں ہی سالوں لگ جائیں گے کہ وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔

قندیل کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی ہزاروں واقعات ہو چکے ہیں۔ ہماری اقتدار مافیا صرف زبانی جمع خرچ کی ماہر ہے اُن کو بھی پتا ہے کہ بے چارے غریب عوام کے پاس احتجاج کا بھی وقت نہیں ہے۔ اُن کی چالاکیوں کو پکڑنا عوام کے بس میں نہیں ہے۔ ہماری اقتدار مافیا کسی بھی دینی اور اخلاقی بیماری کو زیرِ بحث ہی نہیں لاتی، کیونکہ بیشتر کی نہ تو دینی تعلیم ہے نہ اخلاقی تربیت۔ انہیں اگر کسی سے خوف ہے تو وہ ہے مُلاء کیوں کہ اُس کے پاس ایک ہتھیار ہے کافر کا لیبل ۔ ادھر لیبل لگایا اور اُدھر بندہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ اسی خوف کی وجہ سے ہر دور میں لبرل ہو یا فوجی ہر حکومت میں دینی جماعتوں سے رشتہ کبھی نہیں ٹوٹا۔ یہ مت سمجھیں کہ یہ الحاق دین سے محبت کا نتیجہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت حکوت کوئی اور کر رہا ہوتا۔ یہ تو صرف آٹے میں نمک کی مقدار کے برابر دینی جماعتوں کو شامل رکھتے ہیں کیونکہ سکون سے حکومت کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو ابلیسی ذہن ہر جگہ محوِرقص ہے اور ہم اسے اپنی بقا سجھ رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی اس ملک میں امن لانا چاہتے ہیں تو برے لوگوں کو جان سے مارنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے بلکہ اگر ضرورت ہے تو ایے لوگوں کی اصلاح کی۔ وہ پروگرام جن سے ایسے مریض ذہنوں کی تیمار داری ہو سکے تب کہیں جا کر ہم اپنے روشن مستقبل کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جاوید اقبال ملک

جاوید اقبال ملک صاحب انڈس یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ کامرس کے سربراہ ہیں۔

javed-iqbal-malik has 4 posts and counting.See all posts by javed-iqbal-malik