پچھلے پہر کی برقی گالم گلوچ اور پتھر کے صنم


\"Sadia\"یہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہمارے ایک دیرینہ عزیز نے واٹس ایپ پر میسج کیا۔ رات کا آخری پہر تھا لہٰذا ماتھا ٹھنکا۔ جیسا کہ حضور سے بات کا شرف کم ہی نصیب ہوتا ہے لہٰذا یہی گمان ہوا کہ یا تو خاندان میں خدانخواستہ کوئی خاندانی ایمرجنسی آن پڑی ہے یا پھر وہی رانگ ونڈو کا بہانہ ہے۔ اجی ہمیں تو کوئی رشتےدار دن کی چمکتی روشنی میں در خور اعتنا نہ سمجھے۔ یہ تو پھر ایک تاریک پہر تھا۔

بادل نخواستہ کھولا تو معلوم ہوا کہ ہم اتنے بے وقعت بھی نہ تھے۔ تھی تو ایمرجنسی ہی۔ قبلہ عالی مرتبہ نے ہمیں ایک خاصہ کرارا طماچہ بھیجا تھا۔ یہ برقی گالم گلوچ درحقیقت ہماری ایک دل شکن پوسٹ کی شان میں تھی جس میں یہ گستاخ قبلہ کی ایک عزیز سیاسی شخصیت کی شان میں توہین کی مرتکب ٹھہری تھی۔ خاصا ناقابل تلافی گناہ تھا۔ برملا اظہار میں نہ دیر کی ضرورت تھی نہ مناسب الفاظ کی۔ یہ اور بات ہے کہ آپ کی یہ سہیلی نیکی کی طرح اپنی فیس بک پوسٹس بھی دریا میں ہی ڈال دیتی ہے۔ لہٰذا حافظے نے کچھ وفا نہ کی۔ ہمدم دیرینہ کا مزاج اس قدر برہم تھا کہ اپنا آپ پنجاب پولیس کے کسی قیدی کی طرح معلوم ہوا جسے اپنا ناکردہ گناہ تو معلوم نہ ہو لیکن ڈرائنگ روم کی یاترا سے بچنے کے لئے فٹافٹ اقبال جرم کر ڈالے۔ ہم نے بھی نہ چاہتے ہوئے اسی میں عافیت جانی۔

 ویسے ہمارا خیال ہے کہ زیادہ ہیرو بنے بغیر ایک اعتراف یہ بھی کر لیں کہ ہمیں کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا۔ بلکہ بالکل بھی اچھا نہ لگا۔ شاید برا ہی لگا۔ رنگ بھی لال ہوا۔ دانت بھی کچکچائے۔ ایک لمحے کو تو جی چاہا کہ ڈھیروں مغلظات بکنے کے بعد اپنا فون بھی دیوار میں دے ماریں۔ خدا کا کرم کہ اسی وقت خیال آیا کہ بات پرائی لیکن فون تو اپنا ہی ہے۔ آپ کے دولہا بھائی نے ہماری سالگرہ پہ جس نادر محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ تحفہ عنایت فرمایا تھا اس ناقدری پر ان کا دل تو شاید سلامت رہے لیکن یہ بے جان شیشے کا کھلونا ضرور چکنا چور ہو جائے گا۔ اب یہ ہمارا میکہ تو ہے نہیں جو صرف والدہ ماجدہ کی فلائنگ چپل سے ہی خلاصی ہو جائے۔ یہاں تو دل کی طرح یہ کرچیاں بھی خود ہی سمیٹنا ہوں گی۔ شیشہ چبھنے کا اندیشہ بھی نظرانداز کرنا زیاں کاری ہو گی۔ اور بقول حضرت اقبال کے \’کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں\’۔۔۔ کیوں جی؟فوراََ ہی آنکھوں کے سامنے اپنا پکّی اینٹ سی بھی وزنی فون بھی لہرا گیا جو ہماری مسکیں سم کی آرام گاہ ٹھہرتا۔۔ ارے بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

غریب انسان کو غصّہ جچتا ہے بھلا ؟ توبہ کیجئے۔ نوکر کیا اور نخرہ کیا۔ یہ تو سوچنے کے بعد بھی گنگا کے پوتر جل سے اشنان واجب ہے۔ بس جی اسی وقت اس غصّے کو دل میں آتے کسی نیکی کے خیال کی طرح تھوک پھینکا اور اپنا مبارک فون طاق پر کسی مقدّس صحیفے کی طرح سجا دیا۔

سر جھٹکا۔ ریفرجریٹر کی گہرایوں سے نکال کر یخ پانی کا گلاس پیا تو جی کچھ سنبھلا۔ سانس میں سانس آئی۔ آخر کو سوشل میڈیا کی ان کہی سلیبرٹی ہیں ہم۔ دامن نچوڑ دیں تو لایکس امڈ پڑیں۔ ہماری تو \’آئی لو انڈا برگر\’ کی پوسٹ پر بھی پچاس سے کم لایکس نہیں ہوتے۔ کیا بات کرتے ہیں صاحب! سوشل میڈیا برانڈ ہے آپ کی سہیلی، برانڈ! ہماری مجلس کی زینت تو عش عش کرنے والے ہمنوا ہی ہیں۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے کہ اپنا مندر تعمیر کروا کر اپنی ہی پرستش شروع کروا لیں اپنے فیس بک فالورز سے۔ بس ذرا چار پیسے آنے دیں۔

ویسے سچ کہیں تو خدا کی تخلیقات میں سب سے عجیب یہ حضرت انسان ہی ہیں جو خود کو اشرف المخلوقات بتاتے نہیں تھکتے۔ دماغ زیادہ خراب ہو جائے تو خدائی کے دعوے دار بھی بن بیٹھتے ہیں اور منہ کی کھاتے ہیں۔ آئینے میں اپنا ہی چہرہ دیکھا تو خیال آیا \’ذات دی کوڑ کرلی تے شہتیراں نال جپھے\’۔ سچ کہئے تو خوف کے مارے دل بھر آیا۔ اپنی شخصیت کے مجروح ہوئے پندار کو یہی محاورہ سنایا تو کسی کونے میں دبک کر خود ہی اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گیا۔

انہی ہمدم دیرینہ کے بارے میں سوچا تو فوراََ سومنات کا مندر یاد آیا۔ محمود غزنوی نے یہ بت ڈھاتے ہوئے بس ان مٹی کے مجسموں کا ہی تو سوچا۔ اپنا فتح و تکریم کے شادیانے بھی گونجتے سنائی دیے ہوں گے۔ آخر بت گرانے کے لیے ہی تو ہوتے ہیں۔ بنانے والا پجاری اور توڑنے والا فاتح کہلاتا ہے۔ یہ تاریخ کا دستور ہے۔ کتنے ہی پجاریوں کے بھی تو دل ٹوٹے ہوں گے۔ بہت سوں نے اسے ظلم کہا ہو گا اور بہت سے مذہب ترک کر بیٹھے ہوں گے کہ جو خدا خود کو نہ بچا سکے ان کو کیا شما دیں گے۔ اپنا اپنا ایمان ہے جناب۔

بس اس ساری بے سروپا گفتگو کا ایک ہی حاصل ہے۔ جب تک ہم ان پتھر کے صنموں کی پوجا کرتے رہیں گے دل یوں ہی چکنا چور ہوتے رہیں گے۔ سومنات یوں ہی فتح ہوتا رہے گا۔ تلواریں یوں ہی چلتی رہیں گی۔ بت ٹوٹتے رہیں گے۔ پجاریوں کا خون بہے گا بھی اور کھولے گا بھی۔ سیاست جس کی بنیاد ہی اختلاف رائے ہے ان پتھر کےصنموں کی بساط سے آگے کی بازی ہے۔ جب تک پوجا جاری رہی، مندر کے دئیے جلتے رہے، دل یوں ہی ٹوٹیں گے۔ سومنات کی کہانی بار بار دہرائی جائے گی۔ بس اتنا یاد رکھیے گا کہ تاریخ نے سومنات کا بت شکن فاتح اور پجاری مفتوح ہی ٹھہرایا ہے۔ بڑی ہی دل شکن ادا ہے یہ تاریخ کی بھی۔ مورخ کچھ بھی کہے بار بار لوٹ کر آتی ضرور ہے۔ بھلا آپ اور ہم کون ہیں اختلاف کرنے والے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔