پیپلز پارٹی کی تضاد بیانی اور سیاسی مشکل


\"edit\"سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے فوج کی طرف سے ملک کی خارجہ پالیسی میں مداخلت پر سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی سیاسی سول حکومت کو خارجہ تعلقات کے حوالے سے خودمختاری سے پالیسی بنانے اور معاملات طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ پارٹی کے سینیٹرز کا کہنا تھا کہ فوجی مداخلت ہی کی وجہ سے پاکستان دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار ہے چوں کہ سول حکومت اپنی مرضی کے مطابق ملک کی راہ متعین کرنے سے قاصر ہے اور دفتر خارجہ کی حقیقت ایک پوسٹ آفس سے زیادہ نہیں ہے۔ اصل فیصلے جی ایچ کیو میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج کے دفتر تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ ٹویٹ پیغامات کے ذریعے خارجہ امور پر اظہار رائے کرتے ہیں جو بعض اہم معاملات میں مہلک اثرات پر منتج ہو سکتے ہیں۔ پارٹی نے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اصولی طور پر یہ بات مان لینے کے باوجود کہ ملک کی منتخب سیاسی حکومت کو خارجہ اور دفاعی امور سمیت ہر شعبہ میں آزادی سے پالیسی بنانے کا حق اور عمل کروانے کا اختیار ہونا چاہئے، یہ جاننا بھی ضروری ہو گا کہ اس تبدیلی کے عملی امکانات کتنے ہیں اور ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کا اصل موقف کیا ہے۔

آج جس وقت رضا ربانی کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایک کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر اور سینیٹر شیری رحمان فوج کی خارجہ امور میں مداخلت پر ناراضگی اور مایوسی کا اظہار کر رہے تھے تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ یہ الزام عائد کر رہے تھے کہ نواز شریف کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ دوستی کی وجہ سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم کرنے اور حالات خراب کرنے کا حوصلہ ہوا ہے۔ اس بیان کی قدروقیمت اور دلیل کی وقعت سے قطع نظر اگر اسے سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے نمائندوں کے بیانات کی روشنی میں پڑھا جائے تو نہایت غیر واضح اور متضاد صورتحال سامنے آتی ہے۔ یعنی ایک طرف تو پارٹی اعلیٰ جمہوری روایات کی پاسدار بنتے ہوئے سینیٹ کے مقدس اور اہم فورم پر یہ گفتگو شروع کرنے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے کہ اب پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے۔ اب فوج کی خارجہ امور میں مداخلت کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ سینیٹر فرحت اللہ بابر اور ان کے ہمنوا یہ تو بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ کام کس طرح سرانجام دیا جائے گا کیوں کہ اس اجلاس کی صدارت سینیٹر رضا ربانی کر رہے تھے جو فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے اکیسویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے آنسو بہاتے پائے گئے تھے۔ یعنی ان میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق فیصلہ کر سکتے اور اپنی قیادت یا فوج کی مرضی کے خلاف رائے کا اظہار کرنے کی جرات کرتے۔ ایسے لیڈروں کی موجودگی میں موجودہ پیچیدہ اور مشکل صورت حال میں ایسے مباحث کا آغاز کسی نہ کسی طرح سیاسی فائدہ اٹھانے کی وجہ تو بن سکتا ہے لیکن ان سے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے۔ فرحت اللہ بابر اور شیری رحمان کو فوج کے خلاف پھنکارتے ہوئے خود بھی اس کا بخوبی احساس ہو گا۔ تب ہی قومی اسمبلی میں ان کے ساتھی وزیراعظم کو ملک دشمن ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں تو سینیٹ کے بااصول سینیٹر اسی وزیراعظم کو فوج کے مقابلے میں بااختیار بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس تضاد میں کوئی حکمت تو ضرور ہو گی جو عام آدمی کو سمجھ نہیں آ سکتی۔

اس تضاد بیانی کی وجہ سے سیاستدان اس ملک میں جمہوری روایات کے تسلسل اور استحکام کی علامت بننے کی بجائے، حالات کو جوں کا توں رکھنے کے رویہ کے نمائندہ بن چکے ہیں۔ لوگ برادری کی مجبوری، علاقائی مفادات کی تکمیل یا گروہی مفادات کی وجہ سے اپنی پسند کے لیڈر کو ووٹ دیتے ہیں۔ اور مختلف حلقوں سے منتخب ہو کر عوام کی نمائندگی کے دعویدار قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں میں اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے سیاسی و دیگر مفادات محفوظ رہیں۔ اس لئے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے جمہوری روایات اور فوجی مداخلت کے معاملات ہردلعزیز ہو جاتے ہیں لیکن جوں ہی وہی پارٹی اور لوگ حکومت سنبھالتے ہیں تو اس کے تسلسل کے لئے وہ فوج کی ہر بات ماننے اور آرمی چیف کے عہدہ کی مدت میں توسیع کرنے میں لمحہ بھر تاخیر نہیں کرتے۔ فرحت اللہ بابر کو فوجی اور سول معاملات پر اصولی باتیں کرنے سے پہلے اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا ریکارڈ دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور شاید کسی سطح پر اسٹیبلشمنٹ میں پیپلز پارٹی کے بارے میں بداعتمادی بھی موجود ہے لیکن پارٹی نے آصف علی زرداری کی قیادت میں جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس فاصلے کو پاٹنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

تاہم مرکز میں اقتدار سے محروم ہونے اور فوج کی نئی قیادت کے تحت دہشت گردی کے خلاف مہم کے دوران جب پیپلز پارٹی کو سندھ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو آصف زرداری نے آرمی چیف کو للکارنے کی جو غلطی کی تھی، وہ اب تک جلاوطنی کی صورت میں اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اگر پاکستان پیپلز پارٹی واقعی سول معاملات میں فوجی مداخلت کو غلط اور ملکی مفادات مخالف رویہ سمجھ کر اسے ختم کروانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے آصف علی زرداری کو یا تو حوصلہ کر کے ملک واپس آ جانا چاہئے یا ایک بیان میں ان وجوہات پر روشنی ڈالنی چاہئے جن کی وجہ سے وہ ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ بصورت دیگر پارٹی کے نمائیندوں کی باتوں کو صرف سیاسی ہتھکنڈا ہی سمجھا جائے گا خواہ اس کا اظہار سینیٹ جیسے مقدس فورم پر ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ کوئی بھی یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہو گا کہ پیپلز پارٹی نے درپردہ فوج کی ناراضگی دور کرنے کی پالیسی ترک کر کے اب درحقیقت فوج کو چیلنج کرنے یا اس کے غیر پیشہ وارانہ اختیارات کو محدود کرنے کے نیک قومی مقصد کے لئے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

یوں بھی جس پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے انتخابات میں اپنی پارٹی کو کامیاب کروانے کے لئے وزیراعظم نواز شریف پر شدید نکتہ چینی کر رہے ہوں، اس پارٹی سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ملک میں بہتر سیاسی کلچر کے فروغ اور فوج کے مقابلے میں سول حکومت اور اداروں کو زیادہ بااختیار بنانے کے عظیم مقصد کے لئے حکمران جماعت کے ساتھ چلنے پر تیار ہو سکتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری تو نواز شریف کو نریندر مودی کا یار قرار دے کر انہیں ملک کا غدار بتانے میں اپنا پورا زور صرف کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مل کر ملک میں مسلسل سیاسی طوفان برپا رکھنے پر مصر ہے۔ ایسی صورت میں یہ تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے حکمران پارٹی کو زچ کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے لیکن یہ کیوں کر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایک اعلیٰ اصول کے تحفظ کے لئے وہ ملک میں سیاسی ڈائیلاگ کا آغاز کر کے فوج کو یہ بتا دینا چاہتی ہے کہ سول حکومت کے سیاسی اختیارات کے حوالے سے تمام سیاسی قوتیں یک آواز ہیں۔ اس کے برعکس پانامالیکس اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سے تو پیپلز پارٹی متعدد بار یہ واضح کر چکی ہے کہ اب وہ سیاسی حکومت کو بچانے کے لئے 2015 کے دھرنے کے دوران کی گئی ”غلطی“ کو نہیں دہرائے گی۔

کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد سے فوج ملک کے سیاسی معاملات میں دخیل رہی ہے۔ اس مدت میں براہ راست فوجی حکومت کے 20 برس کو نکال بھی دیا جائے تو باقی ماندہ 19 برس میں پیپلز پارٹی نے نصف سے زیادہ مدت تک حکومت کی ہے۔ ان سب ادوار میں، جن میں بے نظیر بھٹو کے دو ادوار بھی شامل ہیں۔ اس دوران پیپلز پارٹی کوئی ایسا آئینی یا سیاسی اقدام نہیں کر سکی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ اس ملک میں فوج کو سیاسی معاملات سے بے دخل کرنے کی کوئی تحریک شروع کی جا رہی ہے۔ یہ بھی اس ملک کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ بے نظیر بھٹو 1993 میں فوج کے ساتھ ”مفاہمت“ ہی کے نتیجہ میں برسراقتدار آئی تھیں۔ اسی طرح 2007 میں ان کی واپسی بھی ایک فوجی آمر کے ساتھ معاہدہ کے نتیجہ میں ہوئی تھی۔ دونوں مرتبہ اسی امریکہ نے پیپلز پارٹی اور فوج میں یہ ڈیل کروائی تھی جس پر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سازش کرنے اور انہیں مروانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بے نظیر بھٹو کو 2008 کے انتخاب سے پہلے ہی شہید کر دیا گیا ورنہ وہ تو پرویز مشرف کے ساتھ اقتدار میں شرکت کے معاہدہ کے تحت ہی ملک واپس تشریف لائی تھیں۔

ان تلخ تاریخی حقائق کو بھلابھی دیا جائے، تو یہ دعویٰ زمینی حقائق کی غلط تصویر کشی کے مترادف ہے کہ اس وقت سفارتی، سیاسی اور خارجہ امور کے حوالے سے ملک کو جن مشکلات کا سامنا ہے، وہ صرف فوج کی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ اور اگر سول سیاسی حکومت کو خارجہ و دیگر امور میں پالیسی بنانے کا مکمل اختیار حاصل ہو جائے تو حالات بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس طرح فوج پر تمام غلطیوں اور کوتاہیوں کا الزام عائد کر کے ملکی معاملات میں اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے کوئی قابل عمل طریقہ دریافت کرنا مشکل ہو گا۔ جو اختیار فوج کو 40 برس سے حاصل ہے، اسے محدود کرنے کے لئے سیاستدانوں کو یکجہتی اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ یہ کام صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب اقتدار کے لئے جوتیوں میں دال بانٹنے کا طریقہ ختم کیا جا سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 625 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali