جمہوریت ملک کے لیے تباہ کن ہے


\"usman پاکستانی مارشل لا کے دور کو یاد کر کے صبح شام روتے رہتے ہیں۔

جب ان کو یاد آتا ہے کہ کس طرح جنرل ایوب خان نے بھارت کو دریا بیچ دیئے اورجنرل یحییٰ خان نے ملک توڑ دیا تو ان کے دل ان عظیم کارناموں کی یاد میں تڑپ اٹھتے ہیں

کیا ہوا کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان میں دہشت گردی، فرقہ واریت شروع ہوئی اور کیا فرق پڑتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نہ صرف امریکا کے آگے گھٹنے ٹیکے گئے بلکہ کشمیر پر بھی بھارت سے سمجھوتہ کر لیا گیا۔۔ تھے تو وہ اپنے دور کے بہترین آمر۔

جمہوریت ساری خرابیوں کی جڑ ہے، جب قیام پاکستان کے 23سال بعد ملک میں پہلی بار جمہوریت آئی تو پتہ ہے کہ سب سے بڑ انقصان کیا ہوا؟

کمبخت بھٹو نے دستور بنا کر دے دیا، کیا بغیر دستور کے سب ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا تھا، اب دستور کے بعد مارشل لاء لگانے میں کتنی دقت ہوتی ہے ، پاکستانیوں کو اس سے بہت تکلیف ہے۔

جمہوری حکمرانوں نے پاکستان کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، بھٹو نے ایٹم بم بنایا، نوازشریف نے دھماکا کردیا، اس ایٹم بم کی وجہ سے ملک کتنا رسک میں ہے، خدانخواستہ اگرغلطی سے پھٹ پھٹا گیا تو پورا ملک ختم ہوجائے گا

جمہوریت سے پہلے پاکستانی کتنے امن سے رہتے تھے، ان کے پاس شناختی کارڈ تک نہیں تھا، پولیس روکتی تھی تو شناختی کارڈ طلب نہیں کرتی تھی، جمہوری حکمرانوں نے شناختی کارڈ بنا کر پولیس کو گویا شہریوں کوتنگ کرنے کا بہانہ دیدیا

صرف پہلی جمہوری حکومت نے اتنے مسائل کھڑے کئے کہ پاکستانی آج تک ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، کیا ہوتا کہ اگر پاکستان دولخت کرنے کے ذمہ داران کے تعین کےلیے حمودالرحمان کمیشن نہ بنایا جاتا، ذمہ دار بھی تو ہمارے اپنے ہیں، اپنوں کی غلطی کو معاف کردینا چاہیے، یہ احساس جمہوری حکمرانوں میں بالکل نہیں ہے۔

 بھارت نے ہمارے 70 ہزار فوجیوں کو قید کر لیا اور جمہوری حکومت نے مذاکرات کی میز پربھارت پر ایسا چھومنتر کیا کہ بغیر کچھ دیئے ان قیدیوں کو واپس لے آئی، یہ حماقت کی انتہا تھی، اب تک یہ قیدی بھارت میں ہوتے تو لال قلعے پر فتح کا پرچم لہرا چکا ہوتا

 جمہوریت سے پہلے پاکستانی سکون سے رہ رہے تھے، دنیا کو ہمارا پتہ تھا اور نہ ہمیں دنیا کی خبرتھی، خوامخواہ عالمی معاہدے کرکے اور مسلم سربراہی کانفرنس کے ذریعے دنیا کو خود کی جانب متوجہ کرا لیا، اب عالمی سطح پر پاکستان کو جو مسئلہ ہوتا ہے، اس کی وجہ جمہوری حکمرانوں کی یہی غلطیاں ہیں

 وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں مجموعی طورپر مکمل جمہوریت صرف پندرہ بیس سال رہی ہے ورنہ ملک تباہ ہوچکا ہوتااور ابھی تک ملک میں جتنی تباہی ہے، وہ صرف ان پندرہ بیس مکمل جمہوری برسوں کی وجہ سے ہے ورنہ ان ادوار کو ہٹا کر ملک کے 58 برس تو راوی بس چین ہی چین لکھتا ہے۔

اس بات پر بھی خدا کا شکر ادا کیا جانا چاہیے کہ جمہوریت کے مکمل ادوار والے پندرہ بیس برسوں میں پاکستانیوں نے ان جمہوری حکمرانوں کو چین سے نہیں رہنے دیا، مسلسل تضحیک، تحقیر، تذلیل اور توہین کی ہمت کسی کسی میں ہوتی ہے اور پاکستانی جمہوریت کے خلاف کچھ بھی کرنے کو ہمہ وقت تیار ہیں

 نوے کی دہائی میں دو دو مرتبہ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف اقتدار میں آئے اور ان کو پاکستانیوں نے ایسا بھگایا کہ بیچارے اپنے دور اقتدار میں حکومت تو کیا خاک کرتے، حکومت بچاتے رہ گئے اور اسی بچاؤ میں کہیں کے نہ رہے مگر اپنے ٹوٹے پھوٹے ادوار میں بھی یہ ملک کے ساتھ ہاتھ کر گئے، کسانوں اور مزدوروں کو اتنا نوازا کہ وہ شیر ہوگئے اور مطالبات کرنے لگے۔

پاکستان کے دوسرے مکمل جمہوری دور میں پاکستانیوں کے خلاف سازش کی گئی اور آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کردیا گیا، گوادر ترقی کر رہا تھا مگر اسے امریکا سے لے کر چین کے حوالے کر دیا گیا، ملازمین کی تنخواہیں 158 فیصد تک بڑھا دی گئیں تاکہ لوگوں کو فضول خرچی کی لت پڑجائے

دوسرے مکمل جمہوری دور تک ملک کا سب سےبڑا مسئلہ صوبائی خود مختاری تھا، علاقائی سیاسی جماعتیں لڑتی رہتی تھیں اور یہ مسئلہ لہوگرم رکھنے کا ایک بہانہ تھا مگر لعنت ہو کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد اسے حل کرکے ملکی فضا بالکل ٹھنڈی کردی گئی

 اقتدار میں رہتے ہوئے جمہوری وزرائے اعظم معزول ہوئے، پھانسی پر لٹکایا گیا، ان کے خلاف کرپشن کے اتنے مقدمات بنے کہ کسی اور کے خلاف بنتے تو اب تک شرم سے خودکشی کر لیتا مگر پھر بھی یہ گدھے سمجھ نہیں رہے۔

 صرف یوسف رضا گیلانی کی مثال لیں، موصوف پاکستان کے وزیراعظم تھے، گو پاکستان کے آئین میں بظاہر کوئی ایسی شق نہیں ہے مگر عدالت تو نکتہ نواز ہے، کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایسا قانونی نکتہ نکالا کہ یوسف رضا گیلانی کو معزول کر کے گھربھیج دیا، موصوف پر 50 لاکھ روپے کی کرپشن کا الزم لگا، یہ کرپشن کا ایک معاملہ ہے مگر اس کے خلاف پاکستان کے ہر شہر میں 26 الگ الگ مقدمات قائم کئے گئے اورکل کا یہ وزیراعظم آج ملک بھر میں رسوا ہوتا پھر رہا ہے، کبھی کسی شہر میں مقدمات بھگتتا ہے تو کبھی کسی شہر میں مگر پھر بھی جمہوریت جمہوریت کہنے سے باز نہیں آتا، جمہوریت سے پاکستانیوں کی نفرت توایک الگ معاملہ ہے، مذہبی انتہاپسندوں کی نفرت کا بھی نشانہ بن کر یہ لوگ سدھرتے نہیں ہیں، گیلانی کے بیٹے کواغوا کرکے برسوں تک یرغمال بنا کر رکھا گیا اور بازیابی کے بعد بیٹا بھی باپ کے نقش قدم پر چل پڑا۔

 ایسا ہی ایک اڑیل شخص پنجاب کا گورنر تھا، توہین رسالت کے الزام میں اسے قتل کردیا گیا، بیٹے کو اغوا کرلیا، پورےخاندان کو برباد کر کے کاروبار تباہ کر دیا مگر اب اس کا بیٹا بھی بازیابی کے بعد جمہوریت کا ترانہ گا رہا ہے

صبح شام ذلیل ہوتے ہیں مگر سدھرتے نہیں ہیں، ان جمہوریوں سے انتقام لینے کے لیے پاکستانیوں کو کچھ ہٹ کر سوچنا پڑے گا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔