سکردو – فردوس بر روئے زمین است


\"qamar-abbas\"(قمر عباس)

نوٹ: فوٹو گیلری تحریر کے آخر میں موجود ہے۔


شنگریلا جھیل عرف لوئر کچورا جھیل

یہ جھیل شنگریلا ریزارٹ کا حصہ ہے جو کہ سکردو سے تقریباً بیس منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ یہ ایک مقبول سیاحتی مرکز ہے جس کی مشہور خاصیت ایک کریش لینڈنگ شدہ ہوائی جہاز پر بنایا گیا ریستوران ہے۔ سکردو شہر سے شنگریلا کے لیے بہ آسانی ٹیکسی مل جاتی ہے۔ شنگریلا ریزارٹ میں چھے ہزار سے بیس ہزار کی رینج میں کمرہ دستیاب ہے۔

اپر کچورا

اپر کچورا جھیل خوبانیوں کے درختوں میں گھری ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں ہائکنگ، کوہ پیمائی، مچھلی کے شکار وغیرہ کے مواقع میسر ہیں۔ اپر کچورا جھیل کی گہرائی تقریباً دو سو فٹ ہے۔ گرمیوں میں اس جگہ کا درجہ حرارت تقریباً پندرہ سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے لیکن سردیوں میں یہ منجمد ہو جاتی ہے۔ اس کے قریب ہی دریائے سندھ واقع ہے۔

سد پارہ جھیل

سکردو سے نو کلومیٹر کے فاصلے پر گہری نیلی اور ٹراؤٹ مچھلی سے بھری ہوئی سدپارہ جھیل واقع ہے۔ اس جگہ پر ایک ڈیم تعمیر ہو رہا ہے اور جلد ہی یہ خوبصورت منظر پانی میں غرق ہو جائے گا۔ جھیل پر جانے والی سڑک اس وقت ٹرکوں اور تعمیراتی مشینری کی وجہ سے بھری رہتی ہے۔ آٹھ نو کلومیٹر پیدل چل کر یہاں ساڑھے تین گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے لیکن چڑھائی سخت ہے۔ پختہ سڑک بن رہی ہے جو کہ اس جھیل اور آگے دیوسائی کے میدان تک جائے گی۔

دیوسائی کا میدان

دیو سائی دو لفظوں کا مرکب ہے۔ جن بھوت والا دیو، اور سائی، یعنی سایہ۔ مقامی آبادی کا عقیدہ تھا کہ یہاں دیو رہتے ہیں۔ یہاں موسم انتہائی ناقابل اعتبار ہے اور کئی مرتبہ یہاں گرمیوں میں بھی برف باری ہو جاتی ہے۔

مقامی دریا اور پہاڑی نالے

قرب و جوار میں ہی شتنگ نالہ، بڑا پانی، کٹ پانا جھیل، اور دریائے سندھ واقع ہیں۔

فوٹوگرافی کریڈٹ: قمر عباس

Heaven On The Earth – Gilgit/Baltistan


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔