میونخ میں حملہ: آٹھ ہلاک، حملہ آوروں کی تلاش جاری


\"munich\"جرمنی کے شہر میونخ کے اولمپیا شاپنگ مال میں فائرنگ سے آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔  پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم تین حملہ آور شامل تھے اور وہ تاحال مفرور ہیں۔  اس علاقے میں پولیس کی بڑی تعداد پہنچ گئی ہے اور وہاں بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔ پولیس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھروں ہی میں رہیں۔ اس حملے کو مشتبہ دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمن وزیرِ داخلہ ٹوماس ڈی میزیئر حملے کے وقت چھٹیوں پر امریکہ جا رہے تھے، لیکن حملے کی خبر ملنے کے بعد وہ وطن واپس آ رہے ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے عملے نے ایک اجلاس میں صورتِ حال کا جائزہ لیا، تاہم اس اجلاس میں چانسلر موجود نہیں تھیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ اس کارروائی کو اسلام پسندانہ کارروائی قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔ پولیس کے مطابق جب تک شواہد نہیں ملتے، اس حملے کے لیے کسی کو ذمہ دار نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ پولیس نے علاقے کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے میونخ میں ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں واشنگٹن حکومت جرمنی کے ساتھ ہے۔ اس کارروائی میں چھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

ابتدائی خبروں کے مطابق میونخ کے اخبار ’آبینڈ سائی ٹُنگ‘ نے اس شاپنگ سینٹر میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پندرہ تک بتائی تھی۔ ٹی وی فوٹیج میں ایمرجنسی کے وقت استعمال میں آنے والی درجنوں گاڑیاں اب بھی دیکھی جا رہی ہیں۔

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔