ترکی: بغاوت کے بعد خوف اور بے یقینی


\"Turkey\'sترکی میں 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد بے یقینی اور خوف میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صدر رجب طیب اردگان نے بغاوت کو ناکام بنا کر اقتدار پر اپنا تسلسل برقرار رکھا ہے تاہم ان کی حکومت اس بغاوت کے اثرات ختم کرنے کے لئے جو اقدامات کر رہی ہے، اس سے نہ صرف یہ کہ لوگوں میں بدحواسی بڑھ رہی ہے بلکہ صدر اردگان کے اندرونی خوف کا بھی پتہ چلتا ہے۔ کل قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 3 ماہ کے لئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ 2002کے بعد پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔ اس حکم کے تحت جس کی اب پارلیمنٹ سے بھی منظوری لے لی گئی ہے۔ صدر پارلیمنٹ اور وزیراعظم کی رائے کے بغیر صدارتی حکم کے تحت حکومت کر سکتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو گرفتار کیا جا سکتا ہے یا اس کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔ صدر اردگان نے اس فیصلہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں فوجی بغاوت کی راہ ہموار کرنے والے دہشت گردوں کا صفایا کرنے اور فوج میں سے بغاوت کا وائرس ختم کرنے کے لئے غیر معمولی اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔ یورپین ملکوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد فرانس نے بھی انتہائی اقدامات کئے تھے اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ترکی کو بھی غیر معمولی صورت حال درپیش ہے، اس لئے بعض انتہائی اقدام ضروری ہیں۔ الجزیرہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ اب جمہوریت زیادہ مضبوط ہو گی۔

صدر طیب اردگان اختیارات کو فرد واحد کے ہاتھ میں جمع کرنے کو مکمل اور قابل تحسین جمہوریت قرار دیتے ہیں۔ اسی لئے وہ بغاوت کو عذر بنا کر ملک میں اپنے اختیار کو درپیش ہر قسم کا خطرہ دور کر دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت ان کے خیال میں ان کے اقتدار و اختیار کو سب سے بڑا خطرہ ملک کے مقبول مذہبی رہنما فتح اللہ گولن سے ہے۔ 75 سالہ گولن خود تو امریکہ میں مقیم ہیں لیکن ترکی میں ان کی تحریک ہزمت Hizmet بااثر اور طاقتور ہے۔ گزشتہ چند روز کے اقدامات دراصل اس تحریک اور ملک کے مختلف اداروں میں فتح اللہ گولن کے اثرورسوخ کو ختم کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں ملک میں اسلامی انقلاب لانے کی خواہش میں گولن اور اردگان مل کر کام کرتے رہے ہیں۔ اردگان کو اس مقام تک پہنچانے میں فتح اللہ گولن نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ حتی کہ 2007 میں فوج کی طرف سے اردگان کی سیاسی حکومت کو جو اندیشہ لاحق ہوا تھا، اسے ختم کرنے میں گولن کے حامیوں نے ہی مدد فراہم کی تھی اور فوج کی طرف سے بغاوت کی سازش کو ناکام بنایا گیا تھا۔ اس سازش کے انکشاف کے بعد فوج پر کنٹرول کرنے اور اسے سیاست سے دور کرنے کے لئے متعدد اقدامات بھی کئے گئے تھے۔ اب صدر اردگان کا کہنا ہے کہ گولن نے ہی اپنے حامیوں کے ذریعے تازہ بغاوت کا ڈول ڈالا تھا۔ فتح اللہ گولن اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور اردگان کی الزام تراشی کا جواب دینے کے لئے انہوں نے بغاوت کو ڈرامہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ترکی اس وقت دو طاقتور شخصیتوں کے باہمی ٹکراﺅ کا مرکز بن چکا ہے۔ صدر اردگان بغاوت کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گولن کے حامیوں کا صفایا اور ان کی تحریک ہزمت کو بے اثر کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ایک مقبول فلاحی تحریک کو کیا سخت گیر ریاستی اقدامات کے ذریعے دبایا جا سکتا ہے۔

رجب طیب اردگان کی نگرانی میں حکمران اے کے پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اب اسے ایک ایسا موقع ملا ہے کہ گولن کے حامیوں کو تمام اہم اور طاقتور پوزیشنوں سے ہٹا کر ملک کے نظام اور سماج پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے صرف فوج اور پولیس میں ہی تطہیر کا عمل شروع نہیں ہوا بلکہ عدالتوں، انتظامیہ، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو فارغ کیاجا رہا ہے۔ دس ہزار کے لگ بھگ لوگ زیر حراست ہیں جبکہ سو کے لگ بھگ جنرل اور ایڈمرل بغاوت کے شبہ میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود صدر اردگان کو اندیشہ ہے کہ ملک میں اب بھی بغاوت کا امکان موجود ہے۔ اس رائے سے ترکی کے امور کو جاننے والے متعدد مبصر اور تجزیہ نگار متفق ہیں لیکن اس خطرہ سے نمٹنے کے لئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں، ان سے صدر اردگان کے حامیوں کے سوا باقی سب لوگوں کا اختلاف ہے۔ ہر شعبہ میں کام کرنے والا شخص بے یقینی کا شکار ہے۔ ملک بھر کے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں جمہوریت کی سربلندی اور عوامی حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کے نام پر روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے منعقد ہو رہے ہیں۔ حتی کہ یونیورسٹیوں کے استاد بھی حکومت کی حمایت میں جلوس نکالنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ صدر اردگان اور ان کے ساتھی اسے اپنی مقبولیت اور جمہوریت کی فتح قرار دے سکتے ہیں لیکن دراصل یہ خوف اور بے یقینی کی علامت ہے جو ترکی کے خوشحال مستقبل، اقتصادی استحکام اور جمہوریت کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

ناکام فوجی بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کے لیڈروں کو پکڑنا اور سزا دینا ضروری تھا لیکن اسے بہانہ بنا کر اپنے سب سے بڑے مخالف اور ایک مقبول مذہبی و فلاحی تحریک کی کمر توڑنا اور اس کے لیڈر کے خلاف الزام تراشی کرنا کوئی خوش آئند اقدام نہیں ہے۔ امریکہ سے اب فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صدر باراک اوباما نے اگرچہ بغاوت کے حوالے سے تحقیقات میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن گولن کی واپسی کے بارے میں امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں صرف الزامات کی بنیاد پر ترکی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ترک حکومت بغاوت میں گولن کے ملوث ہونے کے شواہد اور ثبوت پیش کرتی ہے تو ضرور اس درخواست پر غور کیا جا سکتا ہے۔ دریں حالات معلوم ہوتا ہے کہ صدر اردگان اور ان کے حامیوں کا مقصد بھی فتح اللہ گولن کی واپسی نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف الزام تراشی کی بنیاد پر فضا ہموار کر کے ترکی میں ان کے ہمدردوں اور تحریک کو کچلنا بنیادی مقصد ہے۔ اسی لئے 50 ہزار کے لگ بھگ سرکاری ملازمین کو برطرف کرتے ہوئے یہ ”الزام“ کافی سمجھا گیا ہے کہ وہ فتح اللہ گولن یا ہزمت کے حامی ہیں۔ یہ طریقہ کسی بھی جمہوری لیڈر کو زیب نہیں دیتا۔ اس طرح نہ تو بغاوت کے اصل اسباب پر حقیقی غور کیا جا سکے گا اور نہ ان عوامل کا خاتمہ ہو سکے گا جو فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان کشیدگی یا تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لئے بہت سے ماہرین کو اندیشہ ہے کہ ان اقدامات اور بغاوت کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں حقیقی فوجی بغاوت کا زیادہ امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر رجب طیب اردگان نے پارلیمانی جمہوریت کو مستحکم کرنے کی بات کی ہے لیکن درحقیقت 2014 میں وزیراعظم سے صدر منتخب ہونے کے بعد سے طیب اردگان ملک میں صدارتی نظام لانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ عملی طور پر ملک کا وزیراعظم صدر کے ہاتھ میں ایک مہرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ سارے اختیارات صدر خود استعمال کرتے ہیں اور تمام فیصلے کرنے کے مجاز بھی وہ خود ہی ہیں۔ چند ماہ پہلے ملک کے وزیراعظم اور اردگان کے معتمد داﺅد اوغلو کو صرف اس لئے اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا کیوں کہ وہ ملک میں پارلیمانی نظام کا تسلسل چاہتے تھے لیکن یہ اصول صدر اردگان کی اختیار کے لئے بے پناہ خواہش کے راستے میں رکاوٹ تھا۔ اب بھی صدر اردگان بغاوت کے بعد حالات سے نمٹنے کے لئے جو اقدامات کر رہے ہیں، ان کا مقصد نظام یا جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے صدر کے اختیار اور شخصی اقتدار کو فروغ دینا ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران شخصیت کے اسی ٹکراﺅ کی وجہ سے ہی صدر اردگان اور فتح اللہ گولن کے درمیان اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ 2013 کے دوران حکومت نے ہزمت تحریک کے زیر انتظام اسکولوں کو بند کر کے اس تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو اسی سال کے آخر میں گولن کے حامیوں کی طرف سے حکومتی عہدیداروں کی بدعنوانی کے قصے عام کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا اور کئی وزیروں کو استعفیٰ دینا پڑا۔ صدر اردگان نے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے دلجمعی سے کام کرنے کی بجائے اسے گولن کی طرف سے انہیں اور ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا۔ اور جو لیڈر ایک دہائی سے زیادہ مدت تک صدر اردگان کا سرپرست اور حامی رہا تھا، اسے دہشت گرد گروہوں کا قائد قرار دیا جانے لگا۔

ترکی اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، اس میں جمہوریت اور معیشت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو زیادہ بااختیار بنانے کی ضرورت تھی۔ انتقامی رویہ اختیار کر کے گولن تحریک سے متاثرین کو بے روزگار کرنے کی بجائے نظام کو اتنا لچکدار بنانے کی ضرورت تھی جہاں شخصیتیں بے معنی اور اصول اور جمہوری رویئے اہمیت حاصل کر لیں۔ بدقسمتی سے ترکی میں یہ مزاج دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ اسی لئے اندیشوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 5 برس پہلے آج ہی کے دن ناروے میں ایسی ہی بحرانی صورت حال پیدا ہوئی تھی۔ ایک قوم پرست دہشت گرد آندرس برائیویک نے حکومتی دفاتر اور ایک یوتھ فیسٹیول پر حملہ کر کے 77 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ سانحہ ناروے جیسے چھوٹے اور پرامن ملک کے لئے کسی غیر معمولی حادثہ سے کم نہ تھا۔ تاہم اس وقت ملک کے وزیراعظم ینس ستولتن برگ Jens Stoltenberg نے اعلان کیا کہ حملہ آور ہماری آزادی، ہمارے طرز زندگی اور ہماری روایات کو ختم کرنا چاہتا تھا، وہ جمہوریت کا دشمن تھا۔ لیکن ہم مزید آزادی اور مزید جمہوریت کے ذریعے اس کا مقابلہ کریں گے۔ پوری قوم نے وزیراعظم کی اس پکار کا ساتھ دیا اور ناروے کامیابی سے اس بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔

رجب طیب اردگان بھی ناروے کے 22 جولائی 2011 کے سانحہ کے بعد وہاں کی حکومت کے اقدامات سے سبق سیکھیں تو وہ مزید اختیار اور کنٹرول کی خواہش اور کوشش کرنے کی بجائے جمہوری روایات کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے کام کریں۔ ایسا ہو سکے تو پانچ برس بعد دنیا یہ کہے گی کہ اردگان نے سازش اور بغاوت کا مقابلہ حکمت اور جمہوریت سے کیا اور ملک کو خوشحالی اور ترقی کی نئی منزل پر گامزن کر دیا۔ بصورت دیگر مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا آسان نہیں ہو سکتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “ترکی: بغاوت کے بعد خوف اور بے یقینی

  • 30-07-2016 at 6:40 pm
    Permalink

    ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ مسلم ممالک بجائے جمہوریت کی راہ اپنانے کے، روز بہ روز فاشزم سے نزدیک تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اگلے آنے والے کچھ برسوں میں یہ دنیا تہزیب بماقبلہ بربریت کی جنگ لڑرہی ہوگی اوربدقسمتی سے بیشتر مسلمان اس جنگ میں تہزیب کاساتھ دیتے نظر نہیں آرہے۔

Comments are closed.