سوال کیسے اٹھتا ہے؟


\"wajahat\"برادرم آصف محمود نکتہ اٹھاتے ہیں کہ ملک میں غربت، تعلیم، صحت اور امن و امان کے لاتعداد مسائل ہیں۔ جینے والوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ اس پر بات نہیں کی جاتی۔ بہت سی توانائی ایسے مسئلوں پر صرف ہو رہی ہے جن سے عام آدمی کا لینا دینا نہیں۔ یہ بات وزن سے خالی نہیں۔ لکیر کے دوسرے سرے پر برادرم اوریا مقبول ہیں، انہیں شکایت ہے کہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے سوال اٹھائے جاتے ہیں جن کا مقصد طے شدہ امور پر تنازع پیدا کرنا ہے۔ جو لوگ ایک جمہوری معاشرے میں آئین کی دی ہوئی آزادیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا دکھ بیان کرتے ہیں، اوریا مقبول انہیں فتنہ پرور قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہی سوال اٹھایا جا ئے جس کی اجازت دی جائے۔ اوریا مقبول کی دلیل میں وزن سے قطع نظر ماننا چاہئے کہ بہت سے لوگ ان کی بات سنتے ہیں اور ان کے نقطہ نظر کو درست جانتے ہیں۔ تھوڑا سا پیچھے چلتے ہیں۔ 2003 کا برس تھا۔ پرویز مشرف کی اسمبلیاں قائم ہو چکی تھیں۔ اب تو بہت سی گواہیاں موجود ہیں کہ ان انتخابات میں ضمیرکا احتشام کیسے بروئے کار لایا گیا تھا۔ قومی احتساب بیورو کی فائلیں کہاں رکھی تھیں۔ ایم ایم اے کی جعلی ڈگریوں کا پلندہ کس میز پر رکھا تھا۔ سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت میں محب وطن دھڑے کی شناخت کیسے کی گئی تھی۔ کراچی میں آج کی معتوب سیاسی جماعت کا مقام تب کہکشاں میں کیا تھا۔ قومی اسمبلی کی ایک سیٹ جیت کر سترہویں آئینی ترمیم پر صاد کرنےوالے محترم سیاسی رہنما کون تھے۔ یادش بخیر! چوہدری شجاعت حسین کا طوطی بولتا تھا۔ چوہدری صاحب کہا کرتے تھے کہ آمر کی وردی اور آئین میں ترمیم وکیلوں کا درد سر ہے، لوگ تو عزت کی روٹی مانگتے ہیں۔ بیماری میں دوا کا مطالبہ کرتے ہیں۔سرکاری دفتر میں کام کروانا چاہتے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین کی بصیرت کے سائے میں عوام کئی برس تک جھولیاں بھر کر عزت پاتے رہے تا آنکہ نیب کی مدد سے عوام کو عزت دینے والے نے این آر او کی مدد سے عوام کی عزت کو مزید چار چاند لگانا چاہے۔ دیکھئے احتساب بڑے کام کی چیز ہے۔ یہ ایوب خان کو چھ برس کے لئے سیاستدانوں سے نجات دیتا ہے۔ یحییٰ خان نے تین سو تین کے احتساب سے قوم کا وقار بلند کیا۔ جنرل ضیاالحق نے احتساب کے ذریعے آٹھ برس تک چام کا سکہ چلایا، چمڑی سیاسی کارکنوں کی ادھیڑی گئی اور دام کسی اور نے کھرے کئے۔ احتساب کی تنبیہ الغافلین چھڑی کی مدد سے پرویز مشرف چین کی بنسی بجاتے رہے۔ ہمارے استاد ڈاکٹر اقبال احمد مئی 2001ءمیں دنیا سے رخصت ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ سیاست عوام کے مسائل کا فکری تجزیہ کر کے زمینی حل ڈھونڈنے کا نام ہے۔ آئین اور شہری آزادیوں کے مسائل محض وکیلوں کا مسئلہ ہوتے تو سوویت یونین میں تو وکلا برادری نہیں پائی جاتی تھی۔ پنچایت کے اصول پر کام کرنے والی ریاست روٹی، روزگار اور سر پر چھت کی ضمانت دیتی تھی۔ بینک میں سود کا نظام نہیں تھا۔ سوویت یونین کا انہدام دلیل ہے کہ جمہوری بندوبست، اختلاف رائے کی ثقافت اور شفاف جوابدہی کا طریقہ کار موجود نہ ہو تو عوام کے معیار زندگی میں بہتری کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

پچھلے دنوں بہت سے معاملات پے در پے پیش آئے۔ پاکستان کے ایک نہایت قابل احترام شہری ایدھی صاحب دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ریاست اور شہریوں نے ایدھی صاحب کو محبت اور احترام کے ساتھ رخصت کر کے انسانی خدمت کی عظمت واضح کی۔ ایک بچی پنجاب میں قتل ہوئی ہے۔ محترمہ مریم نواز کسی سرکاری منصب پر فائز نہیں ہیں لیکن مسلم لیگ نواز میں ان کا سیاسی وزن معلوم حقیقت ہے۔ انہوں نے غیرت کے نام پر خون ناحق کے خلاف قانون سازی کا عندیہ دیا ہے۔ بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں۔ انسان دوستی کے معاملات پر ان کی رائے میں تازگی پائی جاتی ہے۔ ملک میں آبادی کی اوسط عمر بائیس برس ہے تو قومی قیادت میں جواں سال سوچ کی اہمیت بالکل واضح ہے۔ ادھر ایک خضر صورت محترم نے کراچی کے ایک چوک میں خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ کے لئے نہایت توہین آمیز اور ناقابل اشاعت الفاظ استعمال کئے۔ انہوں نے اپنی فرق مبارک سے ٹوپی اتار کر آرمی چیف کے سیلوٹ کی تضحیک بھی کی۔ درویش کی بزدلی ملاحظہ کیجئے کہ مریم نواز کا نام لینے اور بلاول زرداری کا ذکر کرنے میں جھجک نہیں مگر گجرات سے تعلق رکھنے صاحب تقویٰ کا نام لیتے ہوئے ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے۔ منبر و محراب کے \”حکام بالا اور حکام مجاز\” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ حکام بالا کا ترجمہ ’افضل‘ اور حکام مجاز کا ترجمہ ’قادری‘ کرتا ہے۔ کوئی حد ہی نہیں اپنی شرافت کی۔۔۔ ادھر مولانا صاحب مجمع عام کے بیچ ڈٹ کر کہتے ہیں کہ انسانیت کے نام پر کام کرنے کی اجازت اسلام نہیں دیتا۔ تیری آواز مکے اور مدینے….

موقع بہت اچھا ہے۔ دھوپ چھاو¿ں کی پہچان رکھنے والی صحافی گر کی بات بتایا کرتے ہیں کہ اس موقع پر پہلے جملے میں پاک فوج کے لئے عوام کے بے پناہ احترام کا ذکر کریں۔ پھر یاد دلانا چاہئے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کی حفاظت کے لئے ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے اور پھر بتانا چاہئے کہ فوج کے موجودہ سپہ سالار ملکی تاریخ کے بہترین رہنما ہیں۔ مگر رکئے! عذر خواہی کے یہ پیرائے پامال ہو چکے۔ سیلوٹ کی ایک تاریخ ہمارے ملک میں مرتب ہو چکی ہے۔ سیلوٹ کے نام سے ایک کتاب بریگیڈئر صدیق سالک نے لکھی تھی۔ فروری1999 میں واہگہ بارڈر پر ایک سیلوٹ کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ اور نیپال کے دارلحکومت کھٹمنڈو میں چل کر ایک مصافحہ کیا گیا تھا۔2014 کے ابتدائی مہینے تھے، سینہ گزٹ خبر ایجنسی نے بتایا تھا کہ گوادر میں سیلوٹ نہیں کیا گیا۔ اب کراچی کے اسٹیڈیم میں پاکستان کے بہترین انسان کو سیلوٹ کیا گیا ہے۔ ہم سیلوٹ کا احترام سمجھتے ہیں، گزارش یہ ہے کہ سیلوٹ کو غیر مصدقہ سیاسی مباحث کا آلہ کار نہیں بنانا چاہئے۔ یہ سیلوٹ پاکستانی قوم کی امانت ہے۔ سیلوٹ کی اس امانت کی توہین صرف چندے کی رقم کے لئے ایدھی، ابرار الحق اور عمران خان کے خلاف توہین آمیز اور تفرقہ آمیز زبان بولنے والے مذہبی رہنما نے نہیں کی۔ ترکی میں ہونے والے سیاسی واقعات کو پاکستان کے اداروں کے ٹکراو¿ میں گھسیٹ لانے والا صحافی بھی قوم کے احترام کی نفی کرتا ہے۔ تسلیم کہ دنیا بھر میں ہونے والے واقعات ہمارے ملک پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر ترکی کی بغاوت میں ٹینک استنبول کی سڑکوں پر نکلے ہیں تو پانامہ کا معاملہ بھی پاکستان کی زمین سے نہیں اٹھا تھا۔ پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کو قوم کے اجتماعی احترام سے الگ نہیں کرنا چاہئے۔ قوم کا احترم سوال اٹھانے کی آئینی آزادی میں ہے۔ سوال اٹھایا ہی تب جاتا ہے جب ناانصافی، جھوٹ اور تضاد کی نشاندھی کرنا مقصد ہو، جب سوچ کا دائرہ بڑھانا مقصود ہو۔ ابن رشد سوال اٹھاتا ہے کہ روئی آگ کیوں پکڑتی ہے اور اسے ابو یوسف یعقوب المنصور ستر برس کی عمر میں جلاوطن کرتا ہے۔ برونو گورڈیانی ستاروں پر سوال اٹھاتا ہے تو اسے زندہ جلایا جاتا ہے۔ سوال اٹھانے والوں کی کامیابی یہ ہے کہ وہ علم نجوم کو علم فلکیات میں تبدیل کرتے ہیں۔ سونا بنانے کے مفروضہ علم کو کیمیا کی سائنس بناتے ہیں۔ غلامی کے ادارے پر سوال اٹھا کر نسل کے امتیاز کو ملیامیٹ کردیتے ہیں۔ عورت اور مرد میں امتیاز کا سوال اٹھا کر انسانی مساوات کا اصول راسخ کرتے ہیں۔ ایدھی کو سیلوٹ کرتے ہیں تو انسانیت کا پرچم بلند کر دیتے ہیں۔ خدمت خلق کے ضمن میں ایدھی کی عظمت سوال اٹھانے کے حق سے جڑی ہوئی ہے۔ شہریوں کی بنیادی ضروریات اٹھارویں ترمیم کے آئینی قالب میں ضمانت پاتی ہیں اور جمہوریت کی بحث کو لوگوں کے معیار زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “سوال کیسے اٹھتا ہے؟

  • 23-07-2016 at 12:57 pm
    Permalink

    وجاہت مسعود صاحب کے ہاں ایک اصطلاح “پاکستانی قوم” تواتر کے ساتھ استعمال ہوتا ہے…ایک قد آور علمی شخص کی جانب سے کنفیوژ اور غلط العام اصطلاح کا استعمال باعثِ حیرت ہے…

  • 23-07-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    ’’سوال اٹھایا ہی تب جاتا ہے جب ناانصافی، جھوٹ اور تضاد کی نشاندھی کرنا مقصد ہو، جب سوچ کا دائرہ بڑھانا مقصود ہو‘‘۔ استاد محترم وجاہت مسعود کی ہی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اور کچھ سوال اٹھاتے ہیں
    قندیل بلوچ کے مبینہ غیرت کےنام پر قتل کو دیگر ویب سائٹس کی طرح ’’ہم سب ‘‘ پرنمایاں جگہ ملی، دوسروں کو ریٹنگ کیلئے قتل میں کرداراداکرنےکاذمہ دار قراردیتے مضامین شائع ہوئے، کیا اس ذمہ داری میں مضمون نگاروں نے اپنا حصہ نہیں ڈالا؟
    شاہد آفریدی اور عمران خان کو Tease کرنےوالی قندیل بلوچ کو پاکستانی معاشرے میں عورتوں کی نمائندہ آواز قراردینےوالے اس کےقتل کے بعد صرف عبدالقوی ،غیرت اور معاشرے کو ذمہ دارکیوں قراردیتے رہے؟
    ڈیرہ غازی خان کی قندیل کا قتل ۔۔قتل تھا۔۔۔لیکن اُسی ڈیرہ غازی خان میں غیرت کے نام پر قتل ہونےوالے مرد کی کہانی کو’’ ہم سب‘‘ پر جگہ کیوں نہیں ملی؟
    ایدھی صاحب کے معاملے پر جب ایک شخص کی جانب سے گالی کےاستعمال کو بلاگ کا عنوان بنالیاجائے تو ادارتی پالیسی کہاں چلی جاتی ہے؟

  • 24-07-2016 at 8:07 am
    Permalink

    ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کشمیریوں پر کتنا ظلم ہو رہا ہے۔مگر ہم سب کے دانشوروں کو نہ عورتوں کے حقوق دیکھائی دیے نہ بچوں کے نہ بڑوں کے
    یہ کیا ہے؟

Comments are closed.