کشمیر – ایک سلگتی جنّت


آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر \"muzzafar\"

کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

آہ! یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ

ہے کہاں روزمکافات اے خدائے دیر گیر؟

بہت پہلے ڈاکٹَر اقبال نے کشمیریوں کے حوالے سے جو درجِ بالا اشعار کہے تھے وہ تب بھی برمحل تھے اور آج بھی حسبِ حال ہیں۔

ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا عظیم پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع وادیِ کشمیر قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ، ان پہاڑوں کی برف پوش چوٹیاں، صدیوں کی برف اپنے سینے سے لگائے میلوں لمبے گلیشیرز، شور مچاتے ہوئے دریا، بلند و بالا آبشار، گھنے جنگل، اور سرسبز و شاداب وادیاں اس خِطّے کو ایک مثالی حسن عطا کرتے ہیں کشمیر، کو اس کے غیرمعمولی حسن کی وجہ سے جنتِ ارضی بھی کہا جاتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے سرزمینِ کشمیر پر جب قدم رکھا تو بے اختیار پکار اٹھا۔

اگر فردوس بر روئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ دو ممالک کی ہٹ دھرمی نے اس ارضی جنت کے باسیوں کی زندگیاں اسی دنیا میں جہنم بنا دی ہیں۔ تقسیمِ ہندوستان سے قبل کشمیری ڈوگرہ حکمرانوں کے ظلم و کرم کا شکار تھے۔ جب کہ تقسیم کے بعد سے اب تک کشمیریوں کی زندگیاں ہندوستان اور پاکستان کی سیاست اور باہمی چپقلش کی سولی چڑھی ہوئی ہیں۔

ہندوستان کے کشمیر میں ظلم و ستم کے پیچھے کار فرما عوامل تو سمجھ میں آتے ہیں۔ اور دنیا کو ہندوستان کی جانب سے کشمیر پر برپا کیا جانے والا ظلم و بربریت کا حشر بھی دکھائی دیتا ہے مگر پاکستان کا کشمیر کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ پاکستان یوں تو کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت اور استصواب رائے کا بہت بڑا پرچارک بنا ہوا ہے مگرحقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کے اس حق کو سب سے پہلے مسٹر جناح نے ماننے سے انکار کیا تھا۔

ہندوستان کے معروف قانونی ماہر اور ایڈوکیٹ اے جی نورانی نے اپنی کتاب

The Kashmir Dispute (1947-2012)

میں لکھا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے یکم   نومبر 1947  کو لاہور میں مسٹر جناح کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجویز پیش کی کہ جونا گڑھ، حیدرآباد، اور کشمیر جیسی ان ریاستوں، جن کے اکثریتی عوام اور حکمرانوں کا مذہب ایک نہیں تھا، کے پاکستان یا ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ وہاں کے عوام کی آزادانہ رائے سے کیا جانا چاہئے۔ لیکن مسٹر جناح نے یہ تجویز مسترد کر دی۔

Kashmir In Conflict کی مصنفہ وکٹوریہ شوفیلڈ کے مطابق مسٹر جناح کا خیال تھا کہ ہندوستان نے چونکہ الحاقِ کشمیر دھوکہ دہی سے کیا ہے، اس لئے وہاں رائے شماری کی ضرورت نہیں تھی۔ اور ریاستوں کا الحاق ان کے عوام کی اکثریت کے حساب سے ہونا چاہئے۔ مسٹر جناح کشمیر کے بدلے میں جونا گڑھ ہندوستان کو دینے پر راضی تھے

 ایک بے رحم سچ یہ بھی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک رکاوٹ, 1955 میں قائم شدہ بغداد پیکٹ جسے بعد ازاں سینٹو الائینس کا نام دیا گیا، میں پاکستان کی شمولیت تھی۔ امریکی پشت پناہی سسے بننے والے امریکی حلیف ممالک کے اس اتحاد کا بنیادی مقصد سوویت یونین کی جنوب مغربی سرحدوں کے ساتھ ملحقہ مضبوط ریاستوں کو اکٹھا کر کے روس کا مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھنے کا راستہ روکنا تھا۔

پاکستان کی اس معاہدے میں شمولیت کو بنیاد بنا کر جواہرلعل نہرو نے نہ صرف کشمیر میں استصواب رائے کروانے کے وعدے کو بالائے طاق رکھ دیا۔ بلکہ اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی وجہ سے سویت یونین بھی اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش ہونے والی قراردادوں کو ویٹو کرتا رہا۔ اور یوں پاکستان کو امریکی سرد جنگ کا حِصّہ بننے کی سزا ملتی رہی۔ روس نے یہ دشمنی کچھ ایسے نبھائی کہ صدر خروشیف نے اپنے دورہِ ہندوستان میں مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں جا کر علی العلان دنیا کو بتایا کہ سوویت یونین جموں و کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے۔

مسئلہِ کشمیر کو ایک اور دھچکا پاکستان کی طرف سے انتہائی برے طریقے سے لانچ کئے گئے آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے بھی لگا۔ اگست 1965 میں پاکستان نے فوج کے تریبیت یافتہ لگ بھگ 30,000 رضاکاروں اور مجاہدین کو، جنہیں ناردرن لائٹ انفنٹری، آزاد کشمیر رائفلز اور سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز کی مدد حاصل تھی، مقبوضہ کشمیر میں داخل کروا دیا۔ پلان کے مطابق ان لوگوں کو مقامی آبادی میں گھل مل کر انہیں ہندوستانی فوج کَے خلاف گوریلہ لڑائی کے آغاز پر آمادہ کرنا تھا جس کے تحت پلوں، سرنگوں، بڑی سڑکوں، فوجی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو تباہ کر کے وادی میں مسلّح بغاوت کی بنیاد ڈالی جانا تھی۔ پاکستان کا خیال تھا کہ امریکی امداد میں ملنے والے جدید اسلحے کے بل بوتے پر آپریشن ضرور کامیاب ہو جائے گا۔ اور بالفرض اگر آپریشن کامیاب نہ بھی ہوا تو کم از کم مسئلہِ کشمیر بین الاقوامی سطح پراجاگر ہو جائے گا۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ نہایت بری منصوبہ بندی، کا شاہکار آپریشن جبرالٹر بری طرح ناکام ہوا۔ پاکستان کے بھیجے گئے لوگ مقامی آبادی کو ہندوستان کے خلاف کھڑا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ بلکہ مقامی لوگوں نے پاکستان سے آئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ہندوستانی حکام کے حوالے کر دیا۔ آپریشن کی ناکامی پر جھلاہٹ کے شکار پاکستان نے یکم ستمبر 1965 کو لائن آف کنٹرول کے قریب اکھنور پر حملہ کر دیا۔ جس کا مقصد ہندوستانی فوج کی کشمیر میں سپلائی لائن کو کاٹ دینا تھا۔ انڈیا نے اس کا بدلہ پاکستانی پنجاب میں انٹرنیشنل بارڈر پر محاذ کھول کر لیا۔ ہماری درسی کتب میں ہمیں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ انڈیا نے 1965 میں \”بزدل چوروں\” کی طرح لاہور پر کوئی الٹی میٹم دیئے شب خون مار دیا۔ جب کہ حقیقت میں تو یہ آپریشن جبرالٹر اور اکھنور حملے کا جواب تھا۔ اب آپ کسی کے ملک کے خلاف گوریلا کارروائی کریں، لڑائی کے محاذ کھول دیں تو وہ ملک کیا آپ کو الٹی میٹم دے کر آپ پر جوابی حملہ کرے گا؟ واہ کیا منطق ہے!

رہی سہی کسر 1999 میں کارگل آپریشن نے پوری کر دی جب پاکستان افواج \”مجاہدین \” کے بھیس میں کارگل اور دراس کے قریب بلند برفیلی چوٹیوں پر موسمِ سرما میں، جب ہندوستانی افواج سخت سردی کی وجہ سے نچلے علاقوں میں منتقل ہو جاتی ہیں، قابض ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں کارگل – لیہہ روڈ پاکستانی افواج کی براہِ راست زد میں آ گئی اور یوں نہ صرف وادیِ کشمیر کا لیہہ سے زمینی رابطہ منقتطع ہونے کا خدشہ تھا، بلکہ سیاچین کے محاذ پر ہندوستانی فوج کی سپلائی لائن کو بھی بڑا خطرہ پیدا ہو گیا۔ ہندوستان نے بڑے پیمانے پر اس حرکت کا جواب دیا اور اس کا فضائی بیڑا بھرپور طریقے سے کارگل کی جنگ میں شریک ہوا۔ معاملہ اس قدر سنگین تھا کہ خِطے میں ایٹمی جنگ چِھڑنے کے خطرات منڈلانے لگے۔ اس صورتِ حال کو محسوس کرتے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر بِل کلنٹن نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے فوجی کارگل سیکٹر سے واپس بلائے۔ بین الاقوامی دباؤ اور پاکستانی فوج کو ہونے والے بے تحاشا جانی نقصان کے باعث پاکستان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ باقی آپریشنز کی طرح کارگل آپریشن بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر پایا، بلکہ الٹا مسئلہِ کشمیر پر بھارت کی ہٹ دھرمی میں اضافہ ہو گیا۔

کشمیر کی جغرافیائی حدوں میں ایک بڑا ڈینٹ اس وقت پڑا جب حکومتِ پاکستان نے 2 مارچ 1963 کو سنکیانگ کا لگ بھگ 13,000 مربع میل علاقہ چین کو جیسے ہدیتاً تحفتاً بخش دیا۔ اس معاہدے پر اس وقت کے چینی وزیرِ خارجہ مسٹر چن یی اور ان کے پاکستانی ہم منصب، مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے دستخط کئے۔ یاد رہے کے نام نہاد آزاد کشمیرریاست کا کل رقبہ 5,134 مربع میل ہے جب کہ چین کو تھالی میں رکھ کر دیا جانے والا علاقہ آزاد کشمیر کے کل رقبے سے قریباً اڑھائی گنا زیادہ ہے۔

کشمیر کا المیہ یہ ہے کہ اسے پاکستان اور ہندوستان دونوں نے اپنی اپنی بساطِ سیاست کا ایک مہرہ بنا رکھا ہے۔ ہندوستان نے تو جو کشمیریوں کے ساتھ سلوک روا رکھا وہ اپنی جگہ افسوسناک ہے ہی (یہ اور بات ہے کہ ہندوستان نے اپنے زیرِ قبضہ ریاست جموں و کشمیر میں مثالی ترقیاتی کام کئے ہیں) ہمارا اصل شکوہ تو پاکستان سے ہے جو نہ صرف کشمیر کے اکثریتی عوام کا ہم مذہب ملک، بلکہ بظاہر کشمیریوں کے حقِ خوداِرادیت کا بہت بڑا داعی بھی ہے۔ مگر حقیقت میں پاکستان کا طرزِ عمل کشمیریوں کے حق میں اتنا ہی برا اور غیر جمہوری ہے جتنا ہندوستان کا۔ اسلام آباد میں ۔ نظریات، مقاصد ، نعرے ، تحریک آزادی ، حق خود ارادیت و خود مختاری جیسے تمام الفاظ فقط ہاتھی کے دانت ہیں جو کھانے کے اور، اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ ان کی حقیقت کسی ریگیستان میں ایک سراب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں مسئلہ کشمیر بہت سوں کی روزی روٹی کا ایک مستقل ذریعہِ آمدنی ہے۔ چاہے وہ پاکسانی ایجنسیوں کے پروردہ خفیہ فنڈز کی فیوض و برکات سے مستفیذ ہونے والے کشمیری حرّیت پسند ہوں یا آزاد کشمیر کے وہ سیاسی زعماء جن کی یوں تو کسی یونین کونسل کے ممبر جیسی حیثیت بھی نہیں، مگر جو حکومتِ پاکستان کی آشیر باد سے مسندِ اقتدار پر براجمان ہو کر دونوں ہاتھوں سے آزاد کشمیر کو لوٹنے کھسوٹنے میں ہمہ وقت ایک دوسرے پر سبقت لینے میں کوشاں رہتے ہیں، یا پھر پاکستان کی افوج جن کے لئے مسلہِ کشمیر کا لا ینحل رہنا ہی ان کی بقا اور ترقی کی کنجی ہے۔ یہ سب کبھی ایسے حالات نہیں پیدا ہونے دیں گے کہ کشمیر کی موجودہ حثیت میں تبدیلی آئے اور ان کی روزی روٹی بند ہو۔

ہندوستان اپنے بات پر سختی سے قائم ہے کہ وہ کشمیریوں کو مراعات تو دینے کو تیار ہے مگر کشمیر کی جغرافیائی حدوں میں تبدیلی کی بات بھی سننے کا روادار نہیں۔ اسی طرح پاکستان بھی اپنے دعووں کے برعکس اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کو تیار نہیں۔ ان حالات میں بیچارے کشمیری کیا کریں؟ اور آخر اس مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

مشرف دور میں بیک ڈور ڈپلومیسی کی وساطت سے کشمیر کا ایک قابلِ عمل حل نکال لیا گیا تھا۔ اس مجوزہ حل کے چیدہ چیدہ نکات میں کشمیر سے دونوں ممالک کی افواج کا انخلا، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، ریاستی انتضام و انصرام میں ریاست کی اپنا عمل دخل، اور اس حل کو کامیابی سے پایہِ تکمیل پہنچانے کے لئے ایک روڈ میپ کا بنایا جانا، شامل ہیں۔ ہماری رائے کے مطابق یہ اس مسئلے کا سب سے بہتر اور قابلِ عمل حل ہے مگر بدقستمی سے پاکستان میں نواز شریف، بے نظیر اور دوسرے سیاست دانوں نے اپنی مشرف دشمنی میں اس حل کو مسترد کر دیا۔ اسی طرح ہندوستان میں وزیراعظم من موہن سنگھ اور ان کے ہم خیال لوگوں نے بھی اس فارمولہ کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔ اور یوں مسئلہ کشمیر ویسے کا ویسا، جنوبی ایشیا کے امن کو ایک مستقل خطرے کی صورت اختیار کیئے ہوئے ہے۔

پاکستان کی جانب سے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا دعویٰ محض دنیا کو دکھانے اور کشمیریوں کو سبز باغ دکھانے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے اس منافقانہ طرزِعمل کی قلعی اس بات سے کھل جاتی ہے کہ ایک طرف تو 1974 کے انٹیریم کانسٹیٹیوشن ایکٹ، جو صدرِ پاکستان کی منظوری سے نافذ ہوا، کے ابتدائے میں یہ کہا گیا ہے کہ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعیّن ریاست کے عوام کی رائے کے مطابق، جو کہ اقوامِ متحدہ کے کمشن برائے ہندوستان و پاکستان کی قراردادوں کی روشنی میں آزادانہ اور جمہوری طریقے سے کرائے گئے استصواب رائے کی روشنی میں ابھی ہونا باقی ہے۔

جبکہ دوسری جانب، اسی ایکٹ کی شق نمبر 7 کی رو سے کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کو نظریہِ الحاقِ پاکستان کے خلاف بات کرنے یا ایسی سرگرمیوں میں حِصّہ لینے کی اجازت نہیں ہے جو اس نظریے کو روح کے منافی ہوں۔ اب بھلا کوئی بتائے کہ کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں؟ کیا یہی وہ آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کا حق ہے جو پاکستان کشمیریوں کو دینا چاہتا ہے؟

اس شق کی وجہ سے آزادی پسند جماعتیں اور افراد آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے یہ ایکٹ پاکستان کے منافقانہ کردار کی قلعی مکمل طور پر کھول کر رکھ دیتا ہے۔

آزاد کشمیر کو پاکستان کا دیا گیا ایک تحفہ کشمیر کونسل بھی ہے۔ جس کا کل ممبران کل چودہ ممبرز میں سے سات کشمیری اور سات پاکستانی ہیں۔ کونسل کا چیئرمین وزیرِ اعظم پاکستان اور نائب چِیئرمین صدرِ پاکستان ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر کا صدر یا نمائندہ فقط ایک عام ممبر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کونسل کے اختیارات آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے بھی زیادہ ہیں اور طرفہ تماشہ یہ کہ کشمیریوں کے ٹیکس کی بلاشرکت غیرے مالک اس کونسل کا آڈٹ بھی حکومتِ آزاد کشمیر کے اختیار میں نہیں۔ یہ ہے وہ آزادی – اور جمہوریت جو پاکستان نے آزاد کشمیر کو تحفے میں دے رکھی ہے۔

میری نظر میں کشمیر دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعے سے بڑھ کر کچھ ہے۔ یہ مسئلہ ہے ان رشتہ داروں کا، جن کے سگے اور خونی رشتوں کے درمیان لائن آف کنٹرول نامی ایک غیر قدرتی لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ یہ مسئلہ ان بیچارے لوگوں کا ہے جنہیں دریائے نیلم کے اس پار بسنے والے اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے سو سو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں – کوئی چھے ماہ کی طویل کاغذی کارروائی کے بعد ہی چند خوش قسمت لوگ اپنے پیاروں سے مل پاتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہے میرے جیسے ان کشمیریوں کا جن کی روح تو لائن آف کنٹرول کے اس پار پیر پنجال کے دامن میں واقع گل مرگ کے سبزہ زاروں میں، کسی وادیِ لولاب کے گلزاروں میں، کہیں ٹنگ مرگ یا سون مرگ کے بلند و بالا کوہساروں میں کہیں ویری ناگ یا کوکرناگ کے آبشاروں میں یا کہیں لداخ میں خردنگ لا کی بلندیوں پر جیسے جنم جنم سے بھٹک رہی ہے، مگر جن کی آنکھوں کو اس جنت کے دیدار سے محروم کر دیا گیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ لوگ جب ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں تو وہ آخر کار اپنا مقصد حاصل کر ہی لیتے ہیں۔ جلد یا بدیر۔ یہ بات ہندوستان اور پاکستان کو سمجھنا چاہئے کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنے کی نیت سے دست بردار ہو جانا چاہئے۔ ورنہ ایک دن کشمیری جو ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں، اپنا حق چھین کر رہیں گے۔

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتشِ چنار

ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 5 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari