لاڑکانہ کی حالت زار – جمہوریت بہترین انتقام ہے


ناصر فاروق

\"nasirاُس شہر کی جانب بڑھتے ہوئے ذہن کے تخیلاتی پردے پر بہتر تصورات ابھر رہے تھے، مگر شہر کے سے آثار کہیں نظر نہ آتے تھے، کھیت آس پاس سے ڈولتے ہوئے گزر رہے تھے۔ کچی پکی پگ ڈنڈیوں پر ڈگمگاتی وین نہ جانے کس لمحے کھیتوں سے نکل کر بے رنگ سی آبادی میں داخل ہو گئی۔ بے ہنگم راستے، پُر پیچ گلیاں، اور لال اینٹوں کے مکانات کا بے ربط سلسلہ شروع ہوا۔ انتہائی ناقص نقشہ پر آڑی ترچھی لکیروں کی طرح کھنچی ہوئی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے ہوتی ہوئی وین اڈے پر جا رکی۔ آس پاس کا ماحول گرد آلود غربت میں اٹا ہوا تھا۔ یہاں پہنچ کر میزبان سے فون پر رستے کی مزید رہنمائی حاصل کی، ایک چنگچی والے سے بات ہوئی اور سفر آگے بڑھا۔۔۔ اب گاڑی کی نسبت چنگچی میں شہر کا مشاہدہ آسان اور براہ راست ہو گیا۔ سفر سڑکوں سے نکل کر تنگ گلیوں میں مُڑ گیا۔ گلیاں کیا تھیں، گندگی کے ڈھیروں کے درمیان سے گزرتے تنگ راستے تھے۔ سفر میں روانی ممکن نہ تھی، جگہ جگہ دیگر چنگچیوں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کے لئے گنجائش بنا بنا کر راہ نکالی جا رہی تھی۔ نظر جو پڑی تو انکشاف ہوا کہ نکاسی کا نظام زمانہ قدیم کی بیرونی کُھلی نالیوں سے ہو کر گزرتا ہے، جن کے کنارے معصوم بچوں کا کھیلنا موت کا کھیل لگ رہا تھا۔ یہ احساس شدید تر ہوتا جارہا تھا کہ اس شہر سے کسی ترقیاتی منصوبے کا گزر کبھی ہوا ہی نہیں۔ اب کان کی لوئیں گرم ہوچکی تھیں اور سماعت کے پردوں پر مسلسل ایک جملہ چوٹ کی طرح لگ رہا تھا کہ، ’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘۔

یہ 1970 سے آج تک چار بار اقتدار میں رہنے والی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کا شہر لاڑکانہ تھا۔ اس شہر کی سیاسی پیشرفت نے بھٹو خاندان کو ایوانوں تک پہنچایا اور پیپلزپارٹی نے اس شہر کو کہاں پہنچا دیا! یہ ذوالفقار بھٹو کے والد زمیندار شاہ نواز بھٹو کا شہر تھا۔ یہ پاکستان کے دو وزرائے اعظم ذوالفقار بھٹو اور بینیظیر بھٹو کا شہر تھا۔ یہ سندھ کے سابق وزرائے اعلٰی محمد ایوب کھوڑو اور ممتاز بھٹو کا شہر تھا۔ یہ جئے سندھ قومی محاذ کے چئیرمین بشیر احمد قریشی کا شہر تھا۔ یہ ناول نگار فاطمہ بھٹو کا شہر تھا۔ مگر لگتا یوں تھا جیسے جمہوریت کا بہترین انتقام ہو۔

\"larkana\"افسوسناک سفر میزبان کے گھرانے تک پہنچا تو کُھلا کہ لاڑکانہ کے عام لوگ کتنے معصوم اورمہمان نواز ہیں، زبان اورنسل کے تعصب سے پاک اور دلنواز ہیں۔ گھر کی بنی ہوئی مٹھائی اور انڈوں کے ساتھ گرما گرم پراٹھے اور اردو سے نابلد سندھی ماں کی محبت کا مزہ روح کو خوشی سے سرشار کر گیا۔ چھابی ( روٹیاں رکھنے کی ہاتھ سے بنی ہوئی چنگیری) کا تحفہ آج تک انمول محسوس ہوتا ہے۔ چند گھنٹے کی یہ مہمان نوازی لاڑکانہ کا سارا ُدکھ رفع کر گئی۔ دریائے سندھ کے بہاؤ سے ہوتا ہوا یہ سفر وادی سندھ کی قدیم گزرگاہوں میں داخل ہو گیا۔ چھبیس سو سال قبل مسیح کے ثقافتی آثار نظر آنے لگے۔ میزبان کی رہنمائی کا ساتھ رہا۔  شہر موئن جو داڑو کی جانب جوں جوں بڑھتے گئے، لاڑکانہ کی تنگی بتدریج کشادگی میں بدلتی گئی۔ یوں تو موئن جو داڑو مقام عبرت ہے۔

یوں تو اس مقام سے استغفراللہ پڑھتے ہوئے گزرجانا چاہیئے۔ مگر جمہوریت کے بہترین انتقام کا مشاہدہ عبرت کی سنگینی کہیں پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ موئن جو داڑو کی کشادہ گلیاں، فن تعمیر کا عمدہ شہکار، منصوبہ بندی ایک ایک اینٹ سے نمایاں، اورحاصل کرنے کے لئے عبرت اور سیکھنے کے لئے بہت سے سبق، جاننے کے لئےبہت سی سچائیاں۔

\"MOHENJOلاڑکانہ اور موئن جو داڑو میں عبرتوں کے احساسات یکسر جدا اور مختلف تھے۔۔۔۔ ایک شہر کے لوگ خدا بن بیٹھے تھے۔ دوسرے شہر نے کچھ خداؤں کو خود پر مسلط کر لیا ہے۔ لاڑکانہ شہر میں جمہوریت کا بہترین انتقام عتاب الٰہی کی نئی صورت نظر آیا۔۔۔۔ موئن جو داڑو عالمی ورثہ کہلاتا ہے مگر لاڑکانہ شہر کا تو کوئی والی وارث ہی دکھائی نہیں دیتا۔ اس شہر کی سیاسی تاریخ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ ہے۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو 1970 سے 77 تک انتخابات میں اس شہر سے منتخب ہوئے۔ انیس سو اٹھانوے میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر پیپلز پارٹی کی بیگم نصرت بھٹو، بینیظیر بھٹو، اور بیگم اشرف عباسی نے کامیابی حاصل کی۔ نوے، ترانوے، اورستانوے میں پیپلزپارٹی کے نمائندے لاڑکانہ سے ایوانوں تک پہنچے۔ قتل سے پہلے بینیظر بھٹو لاڑکانہ این اے 207 سے انتخاب لڑ رہی تھیں، بعد ازاں اُسی نشست سے آصف زرداری کی بہن فریال تالپور نے کامیابی حاصل کی۔

پیپلزپارٹی کے لئے تقریباََ نصف صدی تک ایوانوں کا رستہ لاڑکانہ سے ہو کر گزرا ہے، مگر لاڑکانہ پر اس دوران کیا کچھ گزری؟ یہ لاڑکانہ سے گزر جانے والا مسافر با آسانی جان سکتا ہے۔ اسے سوائے جمہوریت کے بہترین انتقام کے کیا کہا جاسکتا ہے؟ یہاں پیپلزپارٹی کے رویے کا ایک اور سنگین پہلو قابل افسوس ہے۔ پیپلزپارٹی کے ذمے داران نے موئن جو داڑو تک جانے والی پکی سڑک سے لے کر سیاحوں کے لئے ہوائی اڈے تک ہر کام بڑی تن دہی اور ذمےداری سے نبھایا ہے۔ دو شہروں کی یہ سنگین کہانی زمیندارانہ نظام میں جمہوریت کی ہلاکت خیزی کو نمایاں کرتی ہے۔ پاکستان میں زمیندارانہ، جاگیردارانہ، اور برادری سیاست کا نظام جب تک جڑ سے نہ اکھڑ جائے، سیاسی شعور کی آبیاری ممکن نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “لاڑکانہ کی حالت زار – جمہوریت بہترین انتقام ہے

  • 24-07-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    لاڑکانہ کے بارے میں آپکی راۓ اپنی جگہ مگر آپکے بلاگ میں کچھ تاریخی غلطیاں ہیں ریکارڈ کے لیےدرستگی ضروری ہے
    1: پیپلزپارٹی 70 کےالیکشن ضرورجیتی تھی مگر اقتدارمیں16دسمبر1971 کےبعد یعنی سقوط ڈھاکہ کےبعد آئی جنوری 72 سے مارچ 77 تک اسی حکومت نے نوے ہزار جنگی قیدی اور مقبوضہ علاقے دشمن سے واپس لیے ، سربراہی کانفرنس بلائی ، آپپکے والدین کو “شناختی کارڈ ” کے ذریعے شناخت دی ، آپکے چچا ماموں کو بیرون ملک جانے اور آپکی تعلیم ، گھر اور شادی کے لیے پیسے کما کر لانے کے لیے “پاسپورٹ ” ایشو کیا ،کراچی کو تین ہسپتال دیے تو فاٹا کو بجلی ،بلوچستان میں محفوظ سفرکے لیے سرنگوں کا جال بچھا یا تو مخلوط انتخابات ، میٹرک تک مفت تعلیم ، مفت یونی فارم ،پکی پکائی روٹی پلانٹ اور 30 روپے میں عوامی سوٹ سب کے لیے کا اجراء کیا سندھ میں پہلا خواتین میڈیکل کالج بنایا تو جنوبی پنجاب نے بھی انجینرنگ یونیورسٹیوں اور کالجوں کی شکل دیکھی ! یہ اور بہت سے مشکل ترین قومی پروجیکٹ اسی دور میں مکمل ہوۓ ایسے میں زلفی بھٹو نے ” اپنے” لاڑکانہ کو نظرانداز کیا جسکی میں بھی آپکے ساتھ مل کر” مذمت ” کرتی ہوں
    2: 1977 کےالیکشن میں بھی پی پی پی جیتی ضرور مگر اقتدار فوجی آمروں نے چھین لیا لحاظہ یہ امپریشن دینا کہ شاید چار دفعہ لاڑکانہ سے الیکشن جیتنے والی پیپلزپارٹی 20 سال تک اقتدار میں بھی رہی صحافتی بد دیانتی ہے
    3: جس “نصف صدی” کاذکر آپ فرمارہے ہیں اس دوران پیپلزپارٹی کو صرف 17 سال کااقتدارملا اسمیں بھی پاکستان کے تمام صوبوں کی زنجیر کہلانے والی یہ پارٹی ساوتھ پنجاب ،بلوچستان خیبرپختونخواہ کے دورافتادہ علاقوں اورفاٹا کوترقی دیتی رہی اور “بد نصیب ” کو یہ خیال نہ آیا کہ لاڑکانہ کو متحدہ کا کراچی اور ن لیگ کا لاہور بنا دیتی
    4 : جمہوریت پرتو اپ نےتبرے ڈال دیے پر یہ نہیں بتایا کہ 17 سال کی جمہوریت نےجو ” زخم ” لگاۓ اسپر 36 سالہ آمریت کیوں نہ مرہم رکھ سکی ؟ آخر کیوں ہم لاڑکانہ کی حدودمیں سفرکرتے بھٹو کے چانڈکہ میڈیکل کالج سے ہوتے ہوۓ بینظیربھٹو کے “زیبسٹ” کانظارہ کرتے زرادری دورکی شہید محترمہ بینظیربھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ میں داخل ہوجاتےہیں؟
    4: اپنے میزبانوں کی مہربانی اور دریا دلی کاقصہ بتاتے آپ خود اعتراف کررہے ہیں کہ وہ لسان اور نسل کے تعصب سے پاک ہیں بس پھر آپکے بلاگ کا یہی جواب ہےکہ کاش لاڑکانہ سے جیتنے والی پیپلزپارٹی کراچی سے جیتنے والی متحدہ اور لاہور سے جیتنے والی نواز لیگ کی طرح “زبان اور نسل ” کے تعصب سے لتھڑی ہوتی تو آج میٹھے لوگوں کا میٹھا شہر لاڑکانو ” شیشے کی سڑکوں “پر دوڑتی پراڈو کا شہرہوتا نہ کہ آپکے میزبان کی میٹھی ماں کا

  • 26-07-2016 at 11:34 am
    Permalink

    رائے کا بےحد شکریہ۔ خاکسارناصرفاروق

  • 26-07-2016 at 1:14 pm
    Permalink

    سندھ میں سندھی زبان کا رائج کرنا، اور میریٹ کو تباہ کر کے سندھیوں کے لئے تلمی اداروں اور ملازمتوں میں کوٹہ رکھنا شاید تعصب میں نہیں آتا.
    جس فاٹا کی ترقی کا ذاکر جناب نے کیا اس کو زمانے نے آج دیکھ لیا، بلوچستان میں ایرانی ہلوکوپٹرس سے معصوم بلوچی کی نسل کشی شاید بھول گئی.
    بھٹو صاحب نے جو اچھے کام کے وہ تعریف کے قبل ضرور ہیں مگر یہ بھی ایک کھلی حقیتت ہے لاہور، لندن کا بھٹو الگ اور لاڑکانہ کا بھٹو الگ ہی تھا، لاڑکانہ کا بھٹو ایک وڈیرہ ہی رہا اور اعوام کو اپنی جاگیر ہی سمجھتا رہا.
    رہی بات تعلیمی اداروں کی تو ہمارا زور صرف ان ک افتتاح تک ہی رہا، چانڈکا میڈیکل کالج اور پیوپلس میڈیکل کالج ور کے اور آج تک بنالقوامی تو بوہت دور کی بات پاکستان میں بھی ٹاپ کے کالجز نہیں بن سکے، آپ کی اپنی ذاتی قابلیت یہ ہے کے اپنے پرائیویٹ ادارے SZABIST کو پاکستان کا بہترین ادارا تک نہ بنا سکے، سندھ کا تو بنا دیتے؟؟ بہرحال لاڑکانہ کا بہترین ادارہ ضرور ہے.
    باتوں سے کام نہیں چلتے نہ ہی صرف برے برے منصوبوں کے افتتاح سے، اصل کام کرنے پڑتے ہیں جناب،

Comments are closed.