ضیا دور کی واحد اچھائی کا تعزیت نامہ


\"husnain

آج اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہم میں سے ہر ایک کو اپنا بچپن بڑا مزے کا لگتا ہے۔ ہمارا بھی تھا۔ ضیا دور اپنے عروج پر تھا۔ غریب عوام کے لیے کتھارسس کے نام پر سلطان راہی مرحوم کی فلمیں دیکھنا حلال ٹھہرا تھا اور اپر مڈل کلاس والے وی سی آر پر اپنا غم غلط کرتے تھے۔ وی سی آر اس دور کی شاید واحد اچھائی تھی۔ تفریح کا ہر راستہ انسان اپنے اقدار اور مزاج کے مطابق اختیار کرتا ہے۔ کچھ لوگ انگریزی فلمیں دیکھنا پسند کرتے تھے، کچھ ہندوستانی دیکھتے تھے، اور بہت کم لیکن ایک معقول تعداد پاکستانی فلم دیکھنے والوں کی بھی ہوتی تھی۔ شروع میں وی سی آر بھی بغیر ریموٹ کے آتے تھے۔ انگریزی ہو یا ہندوستانی، ہر فلم کے نازک مقامات کے لیے دیکھنے والے کو فارورڈ کے بٹن پر انگوٹھا رکھ کر بیٹھنا پڑتا تھا۔ ہر دوسری فلم کے بعد ہیڈ خراب ہو جاتا تھا جو پانچ یا دس کے نوٹ سے صاف کرنا احسن تھا، ورنہ کن میلیے پر سپرٹ لگا کر بھی یہی کام کیا جاتا تھا۔ اچھے وقت تھے، ٹیکنالوجی بھی ایسی سادہ ہوتی تھی کہ پرنٹ خراب ہوتے ہی وی سی آر پر تھپڑ مارے جاتے اور اکثر پرنٹ صاف ہو بھی جاتا تھا، بلکہ یہ معاملہ تو ٹی وی کا بھی ہوتا تھا۔ واحد چینل صاف نہ آنے کی صورت میں اسے بھی ادھر ادھر سے تھپتھپایا جاتا تو اکثر ’مکھی‘ کم ہو جاتی تھی۔

پھر ریموٹ آیا تو کچھ عرصہ وہ وی سی آر آئے جن کا ریموٹ تار والا ہوتا تھا، جہاں تک تار ہے وہاں آخری حد پر پائیلٹ بیٹھا ہوتا، باقی سواریاں آس پاس ہوتیں اور سب مل کر فلم دیکھا کرتے تھے۔ وائرلیس ریموٹ فلم دیکھنے والوں کے لیے ایک نعمت تھا، نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو اس دور میں وی سی آر دیکھتے اور چلغوزے کھاتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرتے ہوں گے کہ جس نے ان کو یہ ریموٹ والا وی سی آر عطا کیا تھا۔

ویڈیو کیسٹ ایک بہت بڑی انڈسٹری ہوتی تھی، ہر نئی آنے والی فلم پاکستان میں تین چار بڑے نام ریلیز کیا کرتے تھے۔ وہاں سے پھر پورے ملک میں پھیلی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر وہ فلمیں پہنچ جاتی تھیں۔ اب یہ بھائی جان (دکان کے مالک) پر منحصر ہوتا کہ وہ سب سے پہلے کن گاہکوں کو فلم دیتے ہیں۔ زیادہ تر مستقل گاہکوں کو خود فون کر کے بتایا جاتا اور اچھی فلم کے دس بارہ پرنٹ بھی دکان پر قدم رکھتے ہی ختم ہو جاتے۔ باقی عوام باقاعدہ تین گھنٹے انتظار کرتے، جب فلم دکھ دکھا کر پہلے مالک کے یہاں سے واپس آتی تو پھر غریب غربوں کی باری آیا کرتی تھی۔ عجیب و غریب سا پرنٹ ہوا کرتا، ہاں، اسے کیمرہ پرنٹ کہتے تھے۔ اچھی فلمیں سینیما پر آنے کے کم از کم تین چار ماہ بعد ویڈیو پر ریلیز ہوتی تھیں، اتنا صبر کرنے کی بجائے یار لوگ ویڈیو کیمرے لے جا کر سینیما والوں کی ملی بھگت سے فلم ریکارڈ کر لیتے اور وایا دبئی وہ فلم دوسرے یا تیسرے دن وطن عزیز میں میلے لوٹ رہی ہوتی۔ تو بے صبرے کیمرہ پرنٹ دیکھتے اور معقول لوگ اوریجنل پرنٹ یا ’شیشہ پرنٹ‘ آنے کا انتظار کرتے۔ پھر جب ولایت میں سی ڈی وغیرہ کا دور آیا تو یہ دلدر بھی دور ہو گیا، اب سی ڈی پرنٹ آیا کرتا، بہترین کھنکتی ہوئی آواز اور بغیر کسی دانے کے واقعی شیشہ پرنٹ۔ یہ وی سی آر کے شوقینوں کے لیے انقلاب تھا۔ عام فلم کا کرایہ دس روپے ہوتا تو سی ڈی پرنٹ پندرہ میں بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا اور یہ بھی صرف ان گاہکوں کے پاس جاتا جو بھائی جان کے خاص بندے ہوتے۔

ابا وی سی آر کے سخت خلاف تھے۔ وجہ یہ تھی کہ بچے جو کہ پہلے ہی لفنٹر ہو چکے ہیں، پھر بالکل ہی پڑھائی چھوڑ دیں گے۔ بات ویسے صحیح تھی۔ غضب خدا کا، وی سی آر نہ ہونے کے باوجود ایک بچہ عجیب واہیات سے لمبے بال رکھ کر گھومتا ہے، ہر بے ہودہ فیشن کرتا ہے، نئے سے نیا گانا گنگناتا پھرتا ہے، دوستوں یاروں میں لگا رہتا ہے، رانگ نمبر بھی آنے لگے ہیں، فلمیں دیکھنے لگے گا تو مزید ات چک دے گا (حد کر دے گا) اور یہ حال بڑے والے کا تھا۔ چھوٹا لڑکا وی سی آر نہ ہونے کی کسر یوں پوری کرتا کہ فرمان الہی دیکھنے کے بعد ٹی وی سے جدا ہوتا اور چھٹیوں میں تو صبح سات بجے سے پھر جڑ جاتا تھا۔ اندازہ کیجیے، مسجد نبوی کے بننے کی ایک دستاویزی فلم رمضان میں دکھاتے تھے، اس کا پورا سکرپٹ خاور کو یاد ہو چکا تھا، پی ٹی وی پر تکنیکی خرابی کی صورت میں انتظار فرمائیے والے کارڈ کے ساتھ جو میوزک بجتا تھا، وہ تک بھائی کو ازبر تھا۔ تو ایسی بگڑی ہوئی اولاد کے ہوتے ہوئے ابا وی سی آر کے سخت خلاف تھے اور اچھا ہوا کہ تھے۔

مہینے میں ایک دفعہ اجازت ہوتی تھی کہ کرائے پر وی سی آر گھر لایا جائے گا، دو فلمیں اوپر تلے دیکھی جائیں گی اور اگلے دن صبح واپس کر دیا جائے گا۔ ایسی مبارک راتیں بھی آسمان نے دیکھیں کہ لگاتار نو گھنٹے میں تین انڈین فلمیں اوپر تلے دیکھی گئیں۔ فلم والے دن جفی بھی آ جاتا تھا، وہ شروع سے بھائی کا مشیر اول رہا ہے، تو صلاح مشورہ کر کے وی سی آر اور فلمیں لاتے۔ تینوں جوان گانے بھگا بھگا کر فلم دیکھتے، صبح ہوتی تو کچھ یاد نہ ہوتا کہ کون سی فلم کی کہانی کیا تھی ہاں دوستوں میں فخریہ بتانے کو کافی کچھ ہوتا تھا۔ کبھی کبھار امی ان میں سے کوئی ایک آدھ فلم ہماری ریکمنڈیشن پر دیکھ لیتی تھیں ورنہ صبح نو بجے وی سی آر واپس چلا جاتا تھا۔

پھر کمپیوٹر کا دور آیا تو مزے ہی آ گئے۔ سی ڈی کرائے پر لیں، کاپی کریں اور جب چاہے دیکھ لیں، عیاشی سی عیاشی۔ لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ تھا۔ سی ڈی روم ہر ویک اینڈ پر آتا تھا۔ یعنی وہ آلہ جس نے سی ڈی چلانی ہے، وہ ابا ہفتے میں ایک دن لاتے تھے۔ باقی دن کاپی کی ہوئی فلم دیکھو یا ڈنڈے بجاؤ۔ یہ تو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ سی ڈی روم وہیں ہوتا تھا بس آگے ایک سفید پٹی لگا دی جاتی اور بے چارے معصوم بچے واقعی میں بے وقوف بن جاتے کہ ابا سی ڈی روم نکال کر لے گئے ہیں۔

اس کے بعد کیبل کا زمانہ آیا۔ تیس چالیس چینل، کیا فلمیں کیا ڈرامے کیا گانے کیا سٹیج شو، جو مرضی دیکھیں، کیبل بھی ہماری بگڑتی پڑھائی کو سہارا دینے کے لیے نہیں لگوائی گئی۔ اچھا تھا، ورنہ آج چھولے ہی بیچنے تھے۔ شادی سے پہلے ابا نے اجازت دی کہ لو میاں، اب تم اپنا برا بھلا خوب سمجھتے ہو، کمرے میں کیبل لگوا لو اور ہماری بھی سزا معاف ہو، ایک کنکشن نیچے بھی دے دینا۔ یوں کیبل گھر میں آ گئی۔ اب ہم نے ایک ڈی وی ڈی پلئیر لیا، ایک وی سی آر بھی لیا کہ پرانے مشاعرے دیکھیں گے، ایک ریکارڈ پلئیر لیا کہ ذرا پرانے توے بھی سنے جائیں گے، لیکن آہستہ آہستہ کمپیوٹر ان سب چیزوں کا متبادل یا ون ونڈو سلیوشن بن گیا اور وہ چیزیں اب کہیں کونوں کھدروں سے آوازیں دیتی ہیں۔

وی سی آر آج بھی جس گھر میں ہو گا، گٹھری کی صورت کہیں پڑا اپنے گئے دنوں کو یاد کرتا ہو گا۔ آج اس کی یاد یوں کہ وی سی آر بنانے والی آخری کمپنی فونائی الیکٹرک جاپان نے اس ماہ کے آخر تک وی سی آر کی پیداور ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انیس سو تراسی میں جب فونائی نے وی سی آر بنانے شروع کیے تو ایک وقت وہ تھا جب سالانہ ڈیڑھ کروڑ وی سی آر بکتا تھا۔ پھر وہ سی ڈی، ڈی وی ڈی اور بلیو رے کی بھینٹ چڑھتا گیا۔ پچھلے سال صرف چھ سات لاکھ وی سی آر بکے تو کمپنی سمجھ گئی کہ اب بس ہے۔ اب ویسے بھی وی سی آر بنانے کے لیے انہیں پرزوں کی فراہمی بھی مشکل ہو چکی تھی۔ انیس سو ساٹھ کے آس پاس ایجاد ہونے والی یہ ٹیکنالوجی جس نے اسی کی دہائی میں اپنا عروج دیکھا، آخر کار دنیا سے مکمل طور پر غائب ہونے جا رہی ہے لیکن اس کی یادیں ہمارے ساتھ ہیں، اور بڑے مزے کی یادیں ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 320 posts and counting.See all posts by husnain