کشمیر اور فلسطین کا حتمی حل اور ہماری محدود عقل: ثنا اللہ گوندل


جب سے پیدا ہوئے ہیں ۔ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم دیکھ رہے ہیں۔ ان کی روزانہ کی بنیاد پر تذلیل کی جاتی ہے۔ ہم اس پر تقریریں اور بڑھکیں بھی اسی وقت سے سن رہے ہیں ۔
پاکستان کو یا مسلمانوں کو ان کے لیے کیا کرنا چاہیے یا کیا کرسکتے ہیں؟ اب تک ہم نے جو بھی زبانی یا عملی طور پر کیا ہے۔ اس کا ان کو کیا فائدہ ہوا ہے؟ جو کچھ زبانی یا عملی طور پر ہم نے ماضی میں کیا ہے وہ اگر ٹھیک تھا تو اس سے فائدہ کیوں نہیں ہوا؟ اگر غلط تھا تو مستقبل میں ہم کیا مختلف کر سکتے ہیں جس سے فائدہ ہو؟
ایک طریقہ تو جنگ کا ہے جو ریاستی اور غیر ریاستی دونوں سطح پر آزمایا جا چکا ہے۔ اور اس سے مزید ذلت اور جبر کے علاوہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
کیا یہی واحد طریقہ ہے؟ اور مسلم دنیا میں لڑائی کی نیت، ہمت، سکت اور صلاحیت کتنی ہے؟ اس سے فلسطینیوں یا کشمیریوں کی زندگی بہتر ہوگی یا باقی سب کی افغانستان یا عراق و لیبیا جیسی ہوجائے گی ؟

ہمارے علم، ہمت اور ایمان تینوں کی حالت کچھ زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر مسلم دنیا علم اور معیشت کے ذریعے خود کو مضبوط کرے تو ان کی آواز عالمی سطح پر شاید بہتر سنی جائے ۔

باقی حتمی حل ہماری محدود عقل میں تو کوئی نہیں آتا۔

ثنا اللہ گوندل


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پرانے لطیفوں کی حکمت: ثنا اللہ گوندل