ہمیں مہمان خصوصی بنا دیا گیا


\"mubashir-ali-zaidi\"

بیس بائیس سال پہلے کی بات ہے، عدنان نذر نے بتایا کہ اس کے محلے میں ہر سال 14 اگست کو قومی جذبے کے تحت ایک میوزیکل پروگرام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک بڑا سا پرچم تیار کرتے ہیں۔ کافی خرچہ آتا ہے۔ پھر کسی مہمان خصوصی کو مدعو کیا جاتا ہے جو سارا خرچہ اٹھالیتا ہے۔ عدنان نذر میرا کزن ہے۔ وہی جو اپنے کنوارپن کی کہانیاں لک لکھ کر فیس بک کی سیلی بریٹی بن چکا ہے۔

میں نے اس وقت تک جرنلزم جوائن نہیں کی تھی۔ شاید کالج میں پڑھتا تھا۔ اخبارات اور رسالوں میں چھوٹی موٹی کہانیاں لکھتا تھا۔ میں نے عدنان سے وعدہ کیا کہ دونوں مل کر کسی مہمان خصوصی کو ڈھونڈ لیں گے۔ ہم نے کافی کوشش کی، کوئی مہمان خصوصی نہ ملا۔ بہرحال عدنان نے اپنے محلے کے لڑکوں کے ساتھ مل کر پروگرام کا اہتمام کرلیا۔ وہ ناظم آباد میں رہتا تھا، میں فیڈرل بی ایریا میں۔ اس نے کہا کہ پروگرام 14 اگست کی شام شروع ہوگا۔ میں اپنے محلے کے کئی دوستوں کو لے کر کچھ تاخیر سے پہنچا۔

ہم نے دیکھا، پنڈال بھرا ہوا تھا۔ پورے محلے کے بچے بڑے، لڑکے لڑکیاں، مرد خواتین، بزرگ سب جمع تھے اور اسٹیج پر کوئی گلوکار اس وقت کا مقبول گانا گارہا تھا۔ میری آنکھیں عدنان کو تلاش کررہی تھیں کہ اچانک وہ اسٹیج پر چڑھا اور مائیک لے کر اعلان کیا، ’’خواتین و حضرات، آج کے مہمان خصوصی مبشر علی زیدی تشریف لاچکے ہیں۔ تالیوں سے ان کا استقبال کریں۔‘‘

شرمیلے اور گھبرائے ہوئے مبشر علی زیدی کا ہارٹ فیل ہوتے ہوتے بچا۔ شرارتی عدنان اچھل کر آیا اور میرے گلے میں ہار ڈال دیا۔ تالیاں پیٹی گئیں۔ ہونق مہمان خصوصی کو سب سے اچھی کرسی پر لے جاکر بٹھایا گیا۔ میرے ساتھ وہاں جانے والے دوست ہکابکا سب کارروائی دیکھتے رہے۔

اسٹیج کی طرف جاتے ہوئے میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ مائیک کے سامنے پہنچ کر سانس بھی پھول گیا۔ لوگ متوجہ تھے۔ وہ اچھی اچھی باتیں سننا چاہتے تھے۔ میرے حلق میں الفاظ پھنس گئے۔ ہکلانا شروع کردیا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ ان لوگوں کو کیسے مطمئن کروں۔

مبشر علی زیدی نے کیا انٹ شنٹ گفتگو کی، میں نہیں جانتا!

اس کے بعد میں کرسی پر جم کے رہ گیا۔ ماتھے پر پسینہ موسلادھار بہہ رہا تھا۔ دماغ سائیں سائیں کررہا تھا۔ کم بخت کسی گلوکار کا کوئی گانا موڈ بحال نہیں کرسکا۔ آدھے پونے گھنٹے بعد بریک آیا اور لوگ دائیں بائیں ہوئے تو میں چپکے سے پنڈال سے کھسکا اور دوڑ لگادی۔ مہمان خصوصی صاحب ٹوڈی بس میں سوا روپیہ کرایہ دے کر گھر پہنچ گئے۔ بعد میں عدنان نے بتایا کہ کئی گھنٹوں تک مجھے ناظم آباد کی گلیوں میں تلاش کیا جاتا رہا۔

کئی سال بعد میری شادی ہوئی اور میں سہرا باندھ کر اسٹیج پر بیٹھا تھا تو یہ ظالم دوست مجھے مبارک باد دینے کے لیے ایک ہار لے کر آیا۔ یہ پانچ روپے کے نوٹوں کا ہار تھا۔ کراچی میں، کم از کم ہمارے خاندان میں کوئی ایسا ہار نہیں پہنتا۔ سب ہنسنے لگے۔ اس کے بعد ان صاحب نے لونڈوں کے ساتھ مل کر وہ ریکارڈ بجایا کہ مبشر بھائی گھر پہنچ کر بھی سہرے میں منہ چھپائے رہے۔ بس، میں نے طے کرلیا تھا کہ اب کبھی مہمان بن کر اسٹیج پر نہیں بیٹھوں گا۔

لیکن یہ عجیب سال ہے کہ اس ان پڑھ اور بے ہنر صحافی کو ایک کے بعد ایک دانش گاہ مدعو کیے جارہی ہے۔ جنوری میں لاہور کی یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی نے عزت بخشی۔ پھر کراچی یونیورسٹی کے ماس کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ نے بلایا۔ اس کے بعد جناح یونیورسٹی برائے خواتین نے مدعو کیا۔ پھر بحریہ یونیورسٹی کی تقریب میں جانا ہوا۔

پہلے اسٹیج کی طرف جاتے ہوئے میرے ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے۔ مائیک کے سامنے پہنچ کر سانس بھی پھول جاتا تھا۔ لوگ متوجہ ہوتے تھے۔ وہ اچھی اچھی باتیں سننا چاہتے تھے۔ میرے حلق میں الفاظ پھنس جاتے تھے۔ ہکلانا شروع کردیتا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان لوگوں کو کیسے مطمئن کروں۔

لیکن اب اپنی کیفیت پر قابو پانے کا ایک طریقہ سمجھ میں آگیا ہے۔ اسٹیج کر طرف جاتے ہوئے یاد کرتا ہوں کہ عدنان نے میرا کیا حشر کیا تھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ آنکھوں میں روشنی آجاتی ہے۔ تھوڑا اعتماد آجاتا ہے۔

پھر مبشر علی زیدی کیا انٹ شنٹ گفتگو کرتے ہیں، میری جانے بلا!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi