اب قندیل سے کچھ آگے۔۔۔


\"bty\"ذہن شدید الجھن کا شکار ہے۔ لفظ ڈر رہے ہیں کہ جونہی ادا ہوں گے، دھر لئے جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ معنی سمجھے جائیں تنقید کے نشتر کس لئے جائیں گے۔ پر میں پھر بھی کہوں گی کہ ضروری ھے۔ بہت سی تحریریں پڑھیں۔ قندیل کی بہادری کو خراج عقیدت بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ محبتوں کے پھول بھی نچھاور ہوئے اس پر۔ علامت بھی بنادی گئی کہ اچانک سے قندیل بلوچ ایک عورت کی مظلویت کی۔ اپنے خاندان کو مالی سپورٹ کرنے والی یہ لڑکی بے گناہ قتل کر دی گئی او وہ بھی غیرت کے نام پر۔ ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ عورت آخر کب تک غیرت کی بھینٹ چڑھتی رہے گی؟ کب تک اس مردانہ شاونسٹ معاشرے میں عورت زندگی تو اپنی محنت سے کمائے گی‘ مزدوریاں کرے گی‘ اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالے گی اور جوں ہی ذرا سر خرو نظر آئے گی اسے مار دیا جائے گا کیونکہ مردوں کے اس معاشرے کی غیرت یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ کوئی عورت اپنے بل بوتے پر ترقی کرے‘ خوش رہے اور من پسند زندگی جئے۔ بہت کچھ پڑھا‘ سنا اور اب میں حاضر ہوں اپنے نقطہ نظر کے ساتھ۔ مجھے بھی آپ سب کی طرح ”غیرت“ کے نام پر قتل سے نفرت ہے۔ میں بھی انسانیت دوست ہوں اور بحیثیت ایک عورت…. عورت کی ترقی کی بہت بڑی حامی ہوں اور کسی ایسے ”وسیم“ کی قطعاً حامی نہیں۔ جو بہن کا پیسہ تو کھائے اور غیرت سے نہ مرے پر اس کی کامیابوں کو قتل کرنے مرد بن کر نکل کھڑا ہو۔

نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک لمحے کو ذرا سوچئے کیا قندیل جو کچھ کررہی تھی وہ سب ٹھیک تھا؟ نہیں نہیں…. اس سوال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لہٰذا اسے مار دینا چاہئے تھا۔ میں قندیل کی کہانی کے پس منظر میں کچھ اور دیکھتی ھوں۔سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جب کوئی قندیل اس قسم کی حرکات کرتی ہے جس میں اس کے جسم کی نمائش ہو‘ کردار کی بے راہ روی نمایاں ہو‘ دین سے غفلت‘ جہالت کی حد تک واضح ہو۔ تو کیا ہمارا معاشرہ ایسی قندیلوں سے تنگ نہیں ہوتا؟ یہاں میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ انفرادی آزادی اور اس کے اظہار کے حق میں بولنے والے اس بات پر ضرور غو رکریں کہ یہ آزادی انفرادی یا عمل انفرادی کب رہا جب اس کی Target Audience آپ، ہم‘ ہمارے بچے‘ ہم سب ہیں۔ موبائل کیم کے سامنے اپنے جسم کے اتار چڑھاﺅ دکھا کر نوجوان لڑکوں کو Instigate کرنا ، ‘ ٹھمکے لگا کر ، Vulgar Gestures دے کر جن کو محظوظ کیا جائے انہیں سے رنڈی‘ گشتی اور نہ جانے کیا کیا القابات سن کر ذرا پل بھر کو نہ چوکنا، بلکہ فخریہ Controversial بننے کو شہرت سمجھنا۔۔۔ ایسی کئی قندیلیں بڑے چھوٹے سائز میں ہمارے ارد گرد عام زندگی میں بھی اپنی تب و تاب دکھانے کو بے قرار ہیں۔ ایک خاص ذہنیت کی مالک ایسی خواتین کے لئے تعلیم matter نہیں کرتی۔ ان کے لئے جسم کی بالیدگی ذہن و فکر کی بالیدگی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ Fashion designers نے مشکل آسان کی تو کبھی درزیوں کی Perfect Understanding نے اور نکل پڑیں اپنے اپنے دا ئرے میں منفرد دکھنے کا شوق لئے۔ بے پرواہ اس بات سے کہ ان کے Sleeve less اور See through لباس ان کے بے بس گونگے باپ کو بھا نہیں رہے پر شریف آدمی کے پاس الفاظ ہیں نہ ہی جرات اپنی تنی ہوئی بھنوﺅں والی بیوی سے ٹکرانے کی جو اپنی جوان بیٹی کے Fashion trends کی حمایتی ہے۔ ایسی ماﺅں کو کوئی اعتراض بیٹیوں کے نیم برہنہ لباس سے ہے نہ ان کے ساری رات جاگ کر Cam آن کرکے Chat کرنے سے اور نہ ہی واحیات ٹائٹلز کے ساتھ اپنے اپنے Pages اور Blogs بنانے اور اس پر Weird قسم کے Stuff کو Share اور Promote کرنے سے۔ کہ یہ سب آج کے دور کی ضرورت ہے۔ آپ ہی بتائے کہ کیا اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہمارے معاشرے کو؟ اس کے اثرات ایک ماں کی لاپرواہی سے کتنی بیٹیوں کی بے راہ روی پر منتج ہوتے ہیں۔ بیٹیوں کی شادی کر دی جاتی ہے مگر جہیز میں جو ہٹ دھرمی‘ ضد اور Compromise نہ کرنے کی سوچ یہ بیٹیاں لے کر چلتی ہیں تو انہیں زندگی کی کوئی حقیقت‘ کوئی تقاضا اس بات پر آمادہ نہیں کر سکتا کہ ان کو گاڑی کا دوسرا پہیہ بننا ہے۔ اپنے کم آمدنی والے ‘ مجبور اور تقدیر سے ہارے ہوئے شوہر کا ساتھ دینا ہے سنجیدگی کے ساتھ ۔۔۔ اور اپنی زندگی کا معیار عزت دار طریقے سے بلند کرنا ہے نہ کہ کسی مجبور ی اور بے کسی میں گھرے شوہر سے راہ الگ کر لینی ہے۔ آج یہ ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  میرا بیانیہ بیان ہونے لگا

مجھے یاد ہے کہ جب ایسے ہی حالات کی تنگی سے گھبرا کر شادی کے تیسرے ہی سال میں بہت دکھی ہوگئی تھی تو ہر بیٹی کی طرح میں نے بھی اپنے والد کے سامنے بیٹھ کر خوب آنسو بہائے‘ تقدیر کو کوسا‘ اپنے خواب دہرائے‘ تو والد صاحب جو بڑی دیر سے میری کہانی سنتے رہے تھے اور مجھے لگ رہا تھا کہ ابھی سینے سے لگا لیں گے اور کچھ آسرا دیں گے میری ڈانوا ڈول زندگی کو۔ کچھ دیر میری کتھا سننے کے بعد بولے۔ ”آپ رو رو کر کس کو دکھا رہی ہو؟ اس وقت آپ اپنے خاوند کے ساتھ نہیں دو گی تو کون دے گا؟ پڑھی لکھی ہو اپنے گھر کے لئے محنت کرو اور اس کمزور وقت میں اس کی طاقت بنو۔“ الفاظ مرہم جیسے تو نہ تھے مگر ان کی تاثیر سے آنسو تو تو قضا ہوٰے ہی ‘ ہمت اور طاقت کی شفا بھی ملی۔ کھڑی ہوگئی۔ جاب کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مشکل وقت ٹل گیا۔ سب ٹھیک ہوگیا۔ آج دبئی میں الحمدللہ بہت اچھی زندگی گزار رہی ہوں۔ انگریزی ادب کی استاد ہوں کالج میں اور اپنے شوہرکے لئے باعث فخر ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ زندگی نے یہ بات بہت خوب سمجھائی کہ کبھی جب ایک ساتھی حالات کے Low web پر ہو تو دوسرا اس کا ہاتھ تھامے رہے۔ نہ کہ بھاگ جائے اور اپنی ترقی کی راہیں استوار کرے اور قندیل بنے ایک ایسی راہ کی جو بہت سوں کو گمراہی کے اندھیروں میں لے جاتی ہو۔

اسی بارے میں: ۔  خواتین بل اور ہمارا رویہ

 جیسا کہ میں نے کہا کہ کالج میں پڑھاتی ہوں بہت قریب سے دیکھ رہی ہوں اپنی new generation کو Social Media کے ہاتھوں تباہ ہوتے۔ دیکھتی ہوں کہ نا پختہ ذہنوں کو جنسیت کے نشہ سے معذور اور معزول کرتا ہے۔ کیا ہمیں ضرورت نہیں اس پہلو پر بھی غور کرنے کی؟

میں اتفاق نہیں کرتی ان تمام لوگوں سے جو کہہ رہے ہیں کہ ”قندیل ایک آئینہ تھی۔ ہم سے اپنے قبیح چہرے دیکھے نہ گئے تو ہم نے اسے مار دیا۔“

”وہ محض اُس Sexuality کی بات boldly کررہی تھی جو کہ انسان کی instinct ہے“ وغیرہ وغیرہ

نہیں ۔۔۔ مجھے اتفاق نہیں۔ کیا آئینہ تھا وہ جو میں نے دیکھا۔ جس میں مجھے صرف ایک عورت کی تضحیک اور تذلیل ہی نظر آئی ۔ حیران ہوں کہ آج ہمارا معاشرہ اس کو کامیابی اور بہادری کا نام کیوں دے رہا ہے؟صاحب! جبلت کو شعور لگامیں ڈالتا ہے۔ اسی کا نام Morality ہے جو ہر ماں کو منتقل کرنی ہے اپنی بیٹیوں کو اور باپ کا کردار بھی اس ذمہ داری سے بری نہیں۔

 یہ Sensibility صحت مند معاشروں کے لئے نہایت ضروری ہے ورنہ ہم بھی مغربی معاشروں کی طرح Schi zophrenia کا شکار ہو کر اایک دوسرے کو اگر قتل نہ کریں گے تو یقینا خود کشی کا شکار ہوں گے۔ قتل انسانیت سوز عمل ہے۔ اس کا انصاف تو ضرور ہونا چاہئے جس کے لئے ”غیرت“ کا نام کوئی دلیل نہیں مگر ”خود سری“ کو بھی خدارا Free Will کا ٹائٹل دے کر اسے Iconic نہ بنایئے ورنہ یہ سلسلہ تھمے گا نہیں اور موجودہ صورتحال کی طرح Honour Killing کی مد میں کوئی دلیل‘ کوئی جواز آئندہ بھی کبھی ہاتھ نہ آئے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “اب قندیل سے کچھ آگے۔۔۔

  • 27-07-2016 at 12:38 pm
    Permalink

    بہت عمدہ
    غیرت، مذہب اور روایت کے نام پر قتل کی ہرچند اجازت نہیں دی جاتی لیکن یہ سوچنا اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نوبت کیوں آتی ہے۔ ہم وومین ایمپاورمنٹ کی شخصی آزادی کی جب بات کرتے ہیں تو کیوں اس کا مطلب قدامت پسند اور جدت پسند ہر دو کے لیے مخصوص لباس اور ادائیں حیا اور بےحیائی ہی سامنے آتے ہیں۔ عورت کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں کہ اسے کم لباس پہنا کر اور تتلی کی طرح ڈال ڈال منڈلانے دیا جائے کہ یہ شخصی آزادی ہے۔ بلکہ میں نے اب تک معاشرے میں جو مضبوط کامیاب خواتین دیکھی ہیں ان کی اکثریت اپنی فیلڈ میں کامیاب، معاشرے کی خدمت میں آگے، سلجھی ہوئی اور شائستہ نظر آتی ہے۔ جو ایک ویژن لے کر چلتی ہیں اور اس کے تحت دوسری خواتین کی فلاح کی کوششیں کرتی ہیں۔
    ایک تو غیرت کا کانسیپٹ ہی دھندلا کر دیا گیا ہے۔ غیرت ایک پسندیدہ مثبت جذبہ تھا جو ان بے جا قتل اور جبر کا جواز بنا کر دھندلا دیا گیا ہے۔ اور اب اس جذبے پر مسلسل لعن طعن جاری ہے۔ کسی انسان کے قتل میں غیرت کو جواز بنانے کر اسے جائز قرار دینے میں توکسی بھی مہذب معاشرے اور مذہب میں قطعی اجازت نہیں دی گئی۔ پھر کیا وجہ ہے جو تواتر سے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں۔
    یہ معاشرتی فرسٹریشن ہے اور عزت بےعزتی کے وہ احساسات جو بیٹی کے پیدا ہوتے ساتھ ہی جنم لیتے ہیں۔ اکثر جاہل باپ بھائیوں کو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی یقین کی حد تک یہ گمان ہوتا ہے کہ لڑکی ضرور بڑی ہوکر کسی عاشق کے ساتھ بھاگ جائے گی اس لیے اس کی لگامیں کس کر رکھی جائیں۔ یہ منفی رجحان حد سے بڑھ کر ایسی سنگین وارداتوں کا موجب ہوتا ہے۔ جس لڑکی کو انسانی درجے سے کم تر سلوک کا سامنا ہو وہ اور راہ فرار ڈھونڈتی اور ماری جاتی ہے۔ یہ عمل اور ردعمل کی چین چلتی چلی جاتی ہے۔ جو کچھ منفی خیالات کا شاخسانہ ہوتی ہے۔
    غیرت یہ نہیں۔ غیرت یہ ہے کہ آپ کے زیرسایہ پروان چڑھنے والی / والوں کی ہرممکن اعانت کی جائے ان کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے تاکہ اگر ہم نہ رہیں تو ہماری عزتیں اتنی مضبوط ہوں کہ کوئی ان کو پامال نہ کرسکے۔ اور وہ معاشرے میں سراٹھاکر آگے بڑھ سکیں۔ ایسے ہی عزت اور غیرت کی حفاظت ممکن ہے۔

  • 27-07-2016 at 12:41 pm
    Permalink

    اوپر کے کمنٹ میں ایک تصحیح: پہلی سطر میں دی جاتی کی جگہ “دی جاسکتی” پڑھا جائے۔

    انسان خطا کا پتلا ہے لہذا کمنٹ سیکشن میں ایڈٹ کی سہولت بھی مہیا کردی جائے۔

  • 27-07-2016 at 12:58 pm
    Permalink

    Very well said Humaira. Your last lines further elaborate the purpose of my writing. But it is a bitter truth that most of the people are afraid to be diagnosed. And u know we can’t get well until we know the cause of disease. Highly obliged on your sensible response. NIBRAS SOHAIL

Comments are closed.