سائیں قائم علی شاہ


\"wisi قائم علی شاہ کے بارے میں کچھ اچھا کہنے کو کیا ہے۔ سوچنا پڑے گا، سائیں کا نام سامنے آتے ہیں اپنا جیالا دوست یاد آ جاتا ہے۔ اس کمبخت نے اگر کچھ بتایا بھی تھا تو سائیں کے شربت اور سائیں کے کولر ہی کے بارے میں۔ یا پھر یہ کہ میٹنگ کتنی بھی اہم ہو سائیں کا دل کرتا ہے تو وہ صدارتی کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی سو جاتے۔ اگر میٹنگ کرنے والوں کو پھر بھی شرم نہ آتی تو سائیں خراٹے بھی مارنے لگ جاتے تھے۔

اس کے علاوہ کچھ یاد ہے تو سائیں کے بہت سے ویڈیو کلپس ہیں۔ ایک کلپ میں وہ بھینس کا حال چال پوچھنے اس کے بہت ہی قریب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد دکھائی دیتا ہے تو بس اتنا کہ بھینس نہ صرف وہابی ہے بلکہ سید بادشاہوں کی ہڈی پسلی بھی برابر کر سکتی ہے۔

سائیں سرکاری میٹنگ میں بے نیازی فرما کر سو ہی نہیں جایا کرتے تھے۔ اب وہ نام بھی بھولنے لگ گئے تھے۔ اپنے پارٹی صدر کا نام ویسے تو وہ بڑے احترام سے سائیں سردار آصف علی خان زرداری بتایا کرتے ہیں۔ اب سننے میں آ رہا تھا کہ وہ پارٹی صدر کو بھی جب دل کرے سائیں بلاول کہہ لیتے تھے۔

سائیں نے ایک بار سندھ اسمبلی میں شرمناک و عبرتناک صورتحال پیدا کر دی۔ تھر کےبچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کسی لمحے \"qaim-ali-shah\"جذباتی ہوئے۔ اس کے بعد ان کے اندر موجود گائیناکالوجسٹ باہر آ گئی۔ سائیں نے شرع میں کیا شرم کے کلیے پر عمل کرتے ہوئے ہاتھوں سے ڈیزائین بنا بنا کر زچگی کا سارا عمل اسمبلی کے سامنے پیش کیا۔ اسمبلی ممبران مرن والے ہو گئے تھے لیکن ان کی جان تب ہی چھوڑی جب انہوں نے اپنی مرضی مطابق نومولود کی ڈیلوری کر کے دکھا نہیں دی۔

سائیں ویسے تو مسلم لیگ میں ہوا کرتے تھے۔ بھٹو نے پارٹی بنائی تو اس کو ایسے پیارے ہوئے کہ وفاداری کی مثال قائم کر دی۔ ستر کے بعد ہر اس الیکشن میں حصہ لیا جس کا پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ نہیں کیا۔ صرف ایک بار غوث علی شاہ سے شکست کھائی۔ اٹھاسی میں جب محترمہ بے نظیر برسراقتدار آئیں تو سائیں کو وزیر اعلی بنایا۔

اٹھاسی کی پیپلز پارٹی حکومت ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوئی۔ الطاف بھائی تب جوان تھے اور انکی متحدہ بھی۔ پہلے تو پیپلز پارٹی اور متحدہ کا اتحاد ہوا اس کے بعد لڑائی۔ یہ لڑائی لمبی چلی اور اج تک اس کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ بری باتوں کو یاد نہیں کرتے۔ کراچی کے حالات سے عاجز آئی ہوئی محترمہ نے ایک بار سائیں کو ڈانٹا۔ محترمہ نے کہا کہ سائیں آپ کا رعب کیا خاک ہونا ہے، مونچھیں تو آپ کی ہیں نہیں۔ سائیں نے مونچھیں رکھنے میں منٹ نہیں لگایا۔\"qaim\"

سائیں پر ڈھیروں الزامات لگ سکتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی بری کارکردگی کا الزام تو کہیں گیا ہی نہیں۔

ہمارے لوگوں کی اکثریت سیاست کو بھی شو بز ہی سمجھتی ہے۔ جس میں بس ہیرو ہوتے ہیں جنہیں پبلک چاہتی ہے۔ وہ بھی فلموں ڈراموں کے سیٹ پر کشتوں کے پشتے لگاتے رہتے ہیں۔ سیاست زندگی سے متعلق ہے اس ڈرامہ دکھتا تو ہے ہوتا بھی ہے لیکن یہ بہرحال حقیقت ہوتی ہے۔

سندھ کی سب سے بڑی پارٹی کا نام سندھ سید لیگ ہے۔ یہ پارٹی نہ کہیں رجسٹر ہے نہ کوئی اس کا دفتر ہے۔ کون سا سید کدھر جائے گا کس پارٹی میں رہے گا آپس کے سیاسی غیر سیاسی تنازعات کیسے طے کرنے۔ طاقت کے کھیل میں اپنا حصہ کیسے اور کتنا لینا ہے، یہ سب سید لیگ میں ہی طے ہوتا۔ پیر پگارہ سید لیگ کے سربراہ ہوتے تھے۔

پیر پگارہ کی طاقت اور اثر کا اندازہ صرف اس سے لگائیں۔ سندھ کے بھارت کے ساتھ سرحدی علاقوں میں جب وہ کبھی دورہ کرنے جایا کرتے۔ تو دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشن کے ڈٓائیریکٹوریٹ باہم رابطے میں رہتے کہ دورہ سہولت سے ہو جائے۔ بھٹو دور میں پیر پگارہ \"qaim\"نظر بند ہونے کی افواہ پھیلی یا سچ مچ وہ نظر بند کئے گئے۔ تو سندھ میں فساد شروع ہو گیا۔ تب ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر پیر پگارہ نے ریڈیو پر خطاب کر کے اپنے حروں کو پر امن رہنے کو کہا۔

سائیں قائم علی شاہ نے خیر پور میں پیر پگارہ کا مقابلہ کیا۔ دو بار سائیں کے بھانجے پرویز علی شاہ نے پیر پگارہ کو اٹھاسی اور نوے میں قومی اسمبلی کی سیٹ پر شکست دی۔ یہ اپنی پارٹی کے لئے ایک بڑی جیت اور خدمت تھی جو قائم علی شاہ نے اپنی ہمت سے ممکن بنائی۔ آج یہ بالکل غیر متعلق بات ہی لگتی ہے۔

محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی  پر آسمان ہی ٹوٹ کر گر گیا تھا۔ سندھ میں قائم علی شاہ کے علاوہ کسی کو بھی وزیر اعلی بنایا جاتا تو پارٹی میں دراڑ لازمی پڑتی۔ قائم علی شاہ وہ واحد شخص تھے جن کی کسی پاور گروپ کی طرف سے کوئی مخالفت نہیں تھی۔ آصف زرداری چاہتے ہوئے بھی اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ وہ قائم علی شاہ کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلی بنا سکیں۔

سائیں قائم علی شاہ اپنی پارٹی کا چہرہ بنے رہے۔ وزارت اعلی کے اختیارات کئی مختلف لوگ مل کر چلاتے رہے۔ بااختیار ہوتے ہوئے بھی \"qaimقائم علی شاہ کا نام کسی سکینڈل سے آلودہ نہیں ہوا۔

پیپلز پارٹی  نے سندھ میں کوئی مثالی حکومت نہیں چلائی۔ اس کی تعریف کرنے کو کچھ زیادہ باتیں ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ایک بات ہمارے سوچنے کی ہے پیپلز پارٹی بھی پاکستان کا ایک اہم اثاثہ ہے۔ ہم اسے پسند کریں یا اس کی مخالفت کرتے ہوں۔ باقی سیاسی جماعتوں کی طرح یہ بھی ہمارے لئے اہم ہے۔ ہم اس کے فیصلوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ پارٹیاں اچھی ہونگی تو سیاست اچھی ہو گی اور حکومت بھی۔

قائم علی شاہ کو ایک شکریہ کہنا بنتا ہے کہ ان کا پیپلز پارٹی  کو تب متحد رکھنے میں ایک کردار ہے جب وہ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی تھی۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi