قائم علی شاہ رخصت ہوئے


\"edit\"طویل مدت تک سندھ کے وزیراعلیٰ رہنے والے عمر رسیدہ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ پارٹی قیادت کے فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ اتوار کو دبئی میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں سید قائم علی شاہ اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان نے بھی شرکت کی تھی۔ اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، معاون چیئرمین آصف علی زرداری کے علاوہ فریال تالپور ، رحمان ملک اور دیگر رہنما شریک تھے۔ اگرچہ یہ اہم اجلاس صوبے میں رینجرز کے پولےس کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے منعقد ہوا تھا، جس کے بارے میں مبینہ طور پر آصف زرداری کو تحفظات ہیں اور وہ رینجرز پر بعض پابندیاں لگانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم اجلاس کے دوران قائم علی شاہ کو بتایا گیا کہ قیادت نے سندھ کابینہ میں دور رس تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی فیصلہ کے تحت قائم علی شاہ کو بھی وزارت اعلیٰ سے علیحدہ ہونا پڑ رہا ہے۔ پارٹی کی طرف سے اس فیصلہ کی فی الوقت کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم بلاول بھٹو زرداری اس ہفتے کے دوران دبئی سے واپسی پر صوبائی قیادت سے ملاقات کے بعد جب نئے وزیراعلیٰ کا اعلان کریں گے تو شاید ان وجوہ پر بھی بات کریں جو قائم علی شاہ جیسے وفادار کو اس عہدہ سے ہٹانے کی وجہ بنی ہیں۔

خبروں کے مطابق سید قائم علی شاہ دراصل آصف علی زرداری کی خواہش کے تحت وزیراعلیٰ کے عہدہ پر متمکن رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ کافی عرصہ سے سید قائم علی شاہ کو ہٹا کر کسی نوجوان شخص کو یہ ذمہ داری سونپنا چاہتے تھے۔ اگر بلاول بھٹو زرداری نے بطور چیئرمین اب اپنی بات منوانے اور اپنے والد کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ پارٹی کے حقیقی لیڈر وہ خود ہیں اور ان کے نام کے ساتھ ”بھٹو“ لگے ہونے کی وجہ سے ہی پیپلز پارٹی بہرصورت ان کی محتاج رہے گی۔۔۔ تو یہ پارٹی اور بلاول دونوں کیلئے ایک اچھی خبر ہے۔ کیونکہ ملک کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔ اس صورت میں اگر بلاول ایک ذمہ دار سیاستدان کے طور پر سامنے آ کر اہم معاملات میں فیصلے کرنے اور منوانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ پیپلز پارٹی کو ان بزرگ سیاستدانوں سے نجات دلا سکتے ہیں جو اپنے شاندار ماضی کے باوجود اب پارٹی کیلئے بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ اس طرح پیپلز پارٹی قیادت کے بحران اور عملی میدان میں درپیش مشکلات پر قابو پانے کیلئے نئے چہروں کو سامنے لا سکے گی۔ اس کے علاوہ ملک کو بھی ایک اہم سیاسی پارٹی میں نوجوان نسل کے قوت پکڑنے سے فائدہ ہو گا۔

آزمودہ لوگ پرانے ہتھکنڈوں سے معاملات کو چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ صورتحال نئے تقاضوں اور ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ میں ہی نہیں ملک بھر میں اسی بے یقینی کا شکار ہے۔ بلاول بھٹو زرداری برائے نام اس کے چیئرمین ہیں لیکن پارٹی کیڈر اور قیادت فیصلوں کیلئے آصف زرداری کی طرف دیکھتی ہے۔ اس طرح کوئی انقلابی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اب اگر بلاول بھٹو زرداری اپنے اختیارات کو پہچانتے ہوئے اور یہ سمجھ کر کہ پیپلز پارٹی بہرحال ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ بے نظیر بھٹو کی محنت کا ثمر ہے اور اس کی آبیاری کر کے اسے آگے لے کر چلنا ان کی ذمہ داری ہے، تو پیپلز پارٹی کیلئے یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہو گی۔ شروع میں ناتجربہ کاری کی وجہ سے بھی اور بزرگوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بھی انہیں نت نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن پیپلز پارٹی کی ایک بار پھر متحرک سیاسی قوت بنانے اور اس پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے بلاول کو کسی نہ کسی مرحلے پر تو ان چیلنجز کا سامنا کرنا ہی ہو گا۔ اس لئے اگر قائم علی شاہ کی رخصتی بلاول کی خواہش کے مطابق ہو رہی ہے اور وہ اپنی مرضی سے سندھ میں نیا وزیراعلیٰ لا رہے ہیں تو اس سے صوبائی حکومت کی کارکردگی میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ ایسا وزیراعلیٰ آصف زرداری کی بجائے بلاول بھٹو زرداری کو جوابدہ ہو گا۔ بلاول ملک میں رہتے ہیں اور سندھ کے معاملات میں وہ دلچسپی کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔

کسی بھی پارٹی کیلئے اپنے زیر انتظام صوبے میں حکومت کو تبدیل کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ تاہم قائم علی شاہ 8 سال تک مسلسل وزیراعلیٰ رہنے کے بعد رخصت ہو رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل 1988 کے بعد بھی وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ پارٹی کے ساتھ ان کی دیرینہ وابستگی ہے اور انہوں نے گرم سرد ہر موسم میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے اور قیادت سے وفاداری نبھائی ہے۔ وہ 83 برس کے ہو چکے ہیں۔ یہ عمر کسی صوبے کا انتظامی سربراہ بننے کی بجائے آرام کرنے اور تجربہ کار سیاستدان کے طور پر پارٹی اور لوگوں کی رہنمائی کیلئے زیادہ مناسب ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاست کیلئے عمر کا تعین نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ وہ قائم علی شاہ جیسا بے لوث ہو یا مفاد پرست ذہن کا مالک ہو، سیاسی عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ سید قائم علی شاہ کو بہت پہلے خود ہی اپنی عمر کی بنیاد پر وزارت اعلیٰ چھوڑ دینی چاہئے تھی۔ تاہم اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھا تو پیپلز پارٹی کی قیادت کو انہیں علیحدہ کرنے کیلئے زیادہ مہذب اور باوقار طریقہ اختیار کرنا چاہئے تھا۔ انہیں فیصلہ سے مطلع کر کے استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا جا سکتا تھا۔ ان کی علیحدگی کی خبر کہ پارٹی قیادت نے وزیراعلیٰ سندھ بدلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ سید قائم علی شاہ نے پارٹی قیادت کو مطلع کیا ہے کہ وہ اب وزیراعلیٰ کے طور پر خدمت سرانجام نہیں دے سکتے۔ تاہم پارٹی نے بوجوہ ایک طویل المدت خدمتگار کو یہ عزت دینا مناسب نہیں سمجھا۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ قائم علی شاہ جب دبئی پہنچے تو انہیں اس بارے میں علم نہیں تھا۔ بلکہ ان کی دبئی آمد سے پہلے ان کی جگہ لینے کے امیدوار پہلے سے موجود تھے اور پارٹی قیادت سے طویل ملاقاتیں کر چکے تھے۔ اتوار کو اجلاس کے دوران قائم علی شاہ کو اس فیصلہ سے مطلع کیا گیا۔ یہ ان کی شرافت ہی ہے کہ انہوں نے فراخدلی سے اس فیصلہ کر قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ ان کی جگہ لینے والا امیدوار انہی کی کابینہ کا رکن ہے لیکن وزیراعلیٰ ان معاملات سے بے خبر تھے جو پارٹی کے لیڈر ان کی کابینہ کے ایک رکن کو بتا چکے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری اگر پارٹی کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے اقدام کرنے لگے ہیں تو انہیں اس قسم کے پارٹی کلچر کو تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہو گی۔ تا کہ وفادار یہ محسوس کر سکیں کہ پارٹی لیڈر ان کی خدمات اور وفاداری کی قدر کرتے ہیں اور نئے لیڈروں کو یہ احساس ہو سکے کہ اس پارٹی کے ساتھ چلتے ہوئے عزت و وقار کے ساتھ معاملات طے ہوتے رہیں گے۔ آصف علی زرداری نے پارٹی کو چلانے کیلئے اپنی بہن اور چند وفاداروں کو اہمیت دے رکھی ہے۔ وہ پارٹی کے کسی فورم کی بجائے، ان لوگوں کے ذریعے فیصلے کرتے اور انہیں مسلط کرتے ہیں۔ یہ طریقہ بجائے خود غیر جمہوری ہے۔ 2013 کے انتخابات میں ناکامی سے لے کر آزاد کشمیر کے انتخابات تک پیپلز پارٹی کو جو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے، اس میں پارٹی پر بدانتظامی اور بدعنوانی کے الزامات کے علاوہ اس قسم کی گروہی سیاست کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ بلاول کو ان غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ صحت مند جمہوری روایت کے مطابق پارٹی کے معاملات چلانے کا آغاز کر سکیں اور 2018 کے انتخابات میں پارٹی کو اہم سیاسی قوت کے طور پر سامنے لانے میں کامیاب ہو سکیں۔

قائم علی شاہ کو پیپلز پارٹی کی اندرونی سیاست کی بھینٹ چڑھنا پڑا ہے لیکن پارٹی کے بعض نادان ترجمان اس فیصلہ کو فوج اور رینجرز کے ساتھ زیادہ قوت سے مقابلہ کرنے کی حکمت عملی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ قائم علی شاہ کمزور اور شریف النفس انسان ہیں۔ اس لئے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سختی سے بات کرنے اور وہ زبان استعمال کرنے سے قاصر تھے جو اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہو۔ حیرت ہے کہ ایسے لوگ خود کو پارٹی کا نمائندہ اور خیر خواہ بھی قرار دیتے ہیں۔ آصف علی زرداری ترش گوئی ہی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر دبئی سے پارٹی معاملات چلانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اصول کی بنیاد پر بات کرنے اور معاملات کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے لیکن اگر اس مقصد کیلئے الطاف حسین کا لب و لہجہ اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی یا آصف علی زرداری کی اسلام آباد میں کی گئی آتشیں تقریر کے تجربے کو دہرانے کی خواہش پروان چڑھائی جائے گی، تو اس سے غلط فہمیاں بھی بڑھیں گی اور مسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس لئے امید کرنی چاہئے کہ قائم علی شاہ کی علیحدگی صوبے میں رینجرز کے ساتھ تصادم کے ایک نئے باب کا اضافہ نہیں ہو گا۔ بلکہ افہام و تفہیم سے معاملات کو سمجھنے اور چلانے کی طرف سیاسی ہوشمندی سے پیش رفت کی جائے گی۔

سندھ میں اب نیا وزیراعلیٰ لایا جائے گا۔ اخباری خبروں کے مطابق وزیر خزانہ مراد علی شاہ اس عہدے کے لئے طاقتور امیدوار ہیں تاہم آغا سراج درانی ، نثار کھوڑو اور منظور وسان کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کسی کو بھی بنایا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ نئی صوبائی قیادت صوبے کے عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مستعدی سے کام کا آغاز کرے۔ آئندہ دو برس میں سندھ حکومت کی کارکردگی قومی سیاست میں پیپلز پارٹی کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 620 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali