منڈی کے بھاؤ اور چینل چالیس کی خبریں


\"wajahat\"کالم لکھنا چاہا تو ایک پردیسی یاد آیا، پردیسی بھی کون، احمد مشتاق۔ پتہ ٹوٹا ڈال سے، لے گئی پون اڑا۔ احمد مشتاق اب لوٹ بھی آئے تو وطن میں کون بیٹھا ہے جس سے ملاقات کا امکان ہو؟ رات کی تاریکی میں جمع ہونے والے دوست کسی اور بستی کی طرف نکل گئے۔ تو اچھا یہی ہے کہ احمد مشتاق کی شاعری سے رجوع کیا جائے، بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھے…. مگر اس کار دنیا میں بہت دھبے لگے ہم کو۔ انگریزی کا شاعر لکھتا ہے کہ محبت کے ہر تجربے میں معصومیت کا ایک منطقہ صرف ہو جاتا ہے۔ ہماری روایات میں یہ تجربہ کچھ اور طرح سے آیا ہے۔ ہمارے استاد کہتے تھے کہ عشق اور فن کا منصب ہی معصومیت کو قائم رکھنا ہے۔ معصومیت کا ذکر آیا تو مجھے کچھ اچھے لوگوں کو یاد کرنے دیجئے۔ گھاس کے قطعے پر رکھی کرسیوں پر قیوم نظر اور صابر لودھی بیٹھے تھے۔ قیوم نظر کے قہقہے اور لودھی صاحب کی مسکراہٹ میں تعلق سمجھنا ہو تو قیوم نظر ہی کا مصرع کام آئے گا؛ خوشبو کی مہک سی آئی…. خیال کی کیسی رعنائی ہے کہ خوشبو بھی نتھر کر کچھ اور لطیف ہو گئی۔ یہ لطافت کی باتیں ہیں، ہمارا سامنا تو اب سوچ کی اس کثافت سے ہے جہاں ہر سیاست دان چور ہے، ہر صحافی لفافہ لیتا ہے، ہر سرکاری افسر نااہل ہے اور ہر سرمایہ دار ٹیکس چوری کرتا ہے۔ ہم نے جمہوریت کی جوابدہی کو اعتماد کے بحران میں بدل ڈالا ہے۔ بار بار عرض کی جاتی ہے کہ افراد گروہوں اور اداروں کو قلم کی ایک جنبش اور انگلی کے ایک اشارے سے مسترد کرنے کا رویہ صحتمند نہیں۔ خرابی کی نشاندہی کرنی چاہئے اور ایسے ختم کرنے کا جتن کرنا چاہئے لیکن زندگی کا رنگ انسان پر اعتماد سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر اچھائی کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا جائے گا تو صاحب، ہم اور آپ ایسے کون سے دودھ میں دھلے فرشتے ہیں، کمزوریاں کیا ہم میں نہیں ہیں؟ کوتاہی کیا ہم سے سرزد نہیں ہوتی؟

ٹھیک ستاون برس پہلے 24 جولائی 1959 کا دن تھا۔ امریکا کے نائب صدر نکسن سوویت یونین کے دورے پر تھے۔ روس کے رہنما خروشچیف کے ہمراہ ایک نمائش دیکھنا پروگرام کا حصہ تھا۔ دونوں رہنما امریکی اسٹال پر پہنچے تو ان کی نوک جھونک میں تلخی کا رنگ آ گیا۔ خروشچیف نے نوجوان امریکی رہنما کو تحکمانہ انداز میں بتایا، ’تم کچھ نہیں جانتے‘۔ نکسن نے انگلی لہراتے ہوئے جواب دیا ’ تم بھی ہر بات نہیں جانتے‘۔ بڑی طاقتوں میں رسہ کشی گاہے ایسی جملہ بازی پر اتر آتی ہے لیکن توجہ فرمائیے، سوچ کا ایک زاویہ یہ ہے کہ جس میں\"1240328\" خود کو عقل کل قرار دے کر یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ مخالف کچھ نہیں جانتا۔ ایک دوسرا زاویہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جسے ہر بات معلوم ہو۔ انکسار کے اس درجے سے علم کا راستہ کھلتا ہے۔ ایک دوسرے پر اعتماد کی راہ سجھائی دیتی ہے۔ تاریخ کہتی ہے کہ تحکمانہ رعونت ناکام ہو جاتی ہے اور ایک دوسرے کا سہارا بن کر چھوٹی چھوٹی خوبیوں کو باہم ملانے سے دریا کا وہ دھارا مرتب ہوتا ہے جسے آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اونچے سنگھاسن پر بیٹھ کر تاریخ کو اپنی خواہشات کا اسکرپٹ یاد کروانے سے وقت کا دھارا نہیں رکتا۔ سکرپٹ ایک فرد لکھتا ہے اور فرد کو بالآخر فنا ہونا ہے۔ جمہوریت اجتماعی فراست کی باہم مشاورت ہے۔ جمہوریت کو شکست نہیں ہوتی۔ یہ ممکن ہے کہ نیکی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہار جائے مگر نیکی جنگ نہیں ہارتی۔ کیونکہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جسے سب معلوم ہو اوراسے ہمیشہ زندہ رہنا ہو۔

ہمارے ملک کو کچھ اہم فیصلے کرنے ہیں۔ ہم نے آزادی کے پہلے ستر برس دوسروں کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کوشش میں اپنے وطن کے معاشی، پیداواری اور تخلیقی امکان کو زحمت نہیں دی۔ اپنی زمین پر پیداوار کی فصل کاشت نہ کی جائے، مصنوعات کا کارخانہ نہ کھولا جائے، صلاحیت کو اہلیت میں بدلنے کا جتن نہ کیا جائے، تو اپنا وطن بیرونی طاقتوں کا ذیلی سیارہ بن جاتا ہے۔ ایک دروازے سے اٹھیں گے تو دوسرے دروازے پر جا بیٹھیں گے۔ اپنی زمین سے تجارت کا راستہ نہ دیں گے تو دوسرے لوگ بازو کی گلی سے ہو کر نکل جائیں گے۔ قومی معیشت کی ترقی سیاسی بند و بست کے تسلسل سے بندھی ہے۔ اگر آئین کا تسلسل ایسی ناکارہ چیز ہوتا تو \"000\"جنرل ایوب کی رہنمائی میں ترقی کا عشرہ خلیج بنگال میں غرق نہ ہوتا۔ جنرل ضیا الحق کے گیارہ برس میں ہماری معیشت کی ترقی کی شرح چھ سے سات فیصد رہی۔ معیشت میں پھیلاو¿ کی یہ شرح بھی ہمیں ترقی کے راستے پر نہیں ڈال سکی۔ جنرل پرویز مشرف کے عہد میں پیرس کنسورشیم نے 2002 میں ہماری معیشت کو قریب چھتیس ارب ڈالر کا ٹانک پلایا۔ آئین میں تعطل اور ہنگامی بندوبست سے معیشت کی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ ابھی معیشت کے کچھ اشاریے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج کی ترقی کو ایشیا میں پہلے نمبر پر اور دنیا میں پانچویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ یہ معیشت کا صرف ایک اشاریہ ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ترقی کے راستے پر گامزن ہو چکے ہیں۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی ایک درجہ بندی کو N-11 یعنی آئندہ گیارہ کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اسے مسلم لیگ نواز حکومت کی اچھی کارکردگی سے زیادہ اس پہلو سے سمجھنا چاہیے کہ گزشتہ آٹھ برس سے پاکستان میں آئینی تسلسل موجود ہے اور یہ کہ ہماری قیادت نے بحیثیت مجموعی ذمہ دار رویے اختیار کئے ہیں۔ دوسروں کا سیارہ بننے کی خواہش ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اور یہ بھی کہ ہم شرح صدر سے یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہم نے جغرافیائی حدود میں رد و بدل کے ذریعے ترقی کرنا ہے یا اپنی جغرافیائی حدود کے اندر رہتے ہوئے ترقی کا دروازہ کھولنا ہے۔ دوست ملک چین نے اپنی معاشی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سے معیشت کے علاوہ سیاست اور معاشرت میں بھی نئے راستے تعمیر ہوں گے۔ خبر یہ ہے کہ اگلے بارہ مہینے میں گوادر کی بندرگاہ پوری طرح فعال ہوجائے گی۔ شمالی علاقوں میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر نو پوری رفتار سے جاری ہے۔ معیشت کے اس منصوبے سے ایک اہم نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ مذہبی انتہا پسندی کا کاروبار اب نہیں چل سکے گا۔ ہم نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا بدترین وقت دیکھ لیا۔ 2007 سے 2013 کے لہو رنگ برس اب اس زمین پر واپس نہیں آئیں گے۔ ہمسایہ ملک افغانستان میں داعش نے کچھ جگہ حاصل کر لی ہے لیکن پاکستان کی ریاست اگر یکسو ہو تو داعش پاکستان نہیں پہنچ سکے گی۔ انتہا پسندی کے کچھ جراثیم ہماری صحافت، نظام تعلیم اور ادھر ادھر موجود ہیں لیکن اس میں زیادہ تشویش کی ضرورت نہیں۔ کرائے پر وی سی آر دینے والے موسم بدلنے پر موبائل فون کی دوکان کھول لیتے ہیں۔ روٹی کا دھندا ہے۔ ہمارے باخبر مہربان ہمیں بتاتے ہیں \"0001\"کہ ترکی میں بغاوت اس لئے ناکام ہوئی کہ ایک چھوٹے سے گروہ نے حکومت پر قبضہ کرنا چاہا تھا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات سے رائے عامہ کے بارے میں کوئی نتیجہ نکالنا اس لئے بے کار ہے کہ آزاد کشمیر میں تو وہی سیاسی جماعت کامیاب ہوتی ہے جو اسلام آباد میں بر سر اقتدار ہو۔ کیسے مہربان لوگ ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی عمل کی ساکھ ایسے تجزیہ کاروں کی مرہون منت ہے۔ دیکھئے سبزی منڈی میں بنیادی فریق دو ہیں، ایک اناج اگاتا ہے، اورایک اسے خریدتا ہے۔ منڈی میں دوکان نمبر بائیس پر بیٹھا چوہدری صدیق اور چینل چالیس پر بیٹھا ڈاکٹر شفیق تو مندی تیزی کے مرغ باد نما ہیں۔ سیاست کی منڈی میں ایک فریق ووٹر ہے جس کے پاس کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہے اور دوسرا فریق وہ سرمایہ دار ہے جس کے اشارے پر نفع نقصان کا بھاو¿ طے پاتا ہے۔ متوسط طبقہ رائے عامہ تشکیل دیتا ہے لیکن اگر رائے عامہ محض نعروں کا غلغلہ اور گالی دشنام کا آوازہ ہو تو ووٹر اپنا فائدہ بہتر جانتا ہے اور سرمایہ دار گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ سیاست کی میزان میں اتار چڑھاو¿ پر آنکھ رکھنی چاہئے، درست فیصلے کرنے چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں، جسے سب معلوم ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔