یہ کراچی کا کچرا ہے یا سیاست کا؟


\"usman

سنہ 2010 میں منظور ہونے والی اٹھارہویں ترمیم کا کراچی کے کچرے سےگہرا تعلق ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے منظورہونے سے پہلے صوبائی خودمختاری پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تھی، علاقائی جماعتیں صوبائی خودمختاری کے نعرے پر سیاست کرتیں اور چونکہ ان کا مؤقف درست ہوتا تو ان کو ووٹ بھی ملتے مگر ترمیم کی منظوری کے بعد صوبوں کو خودمختار کردیاگیا اور علاقائی جماعتوں کی سیاست پر سوالیہ نشان لگ گیا
چناچہ عوامی نیشنل پارٹی جو کل تک خیبرپختونخوا کی ایک نمایاں جماعت تھی، بظاہر صفحہ ہستی سے مٹ گئی کہ وہ کس بنیاد پر سیاست کرے، ان کو اپنے صوبے کا نام چاہیے تھا، وہ نام مل گیا، صوبائی خودمختاری چاہیے تھی، وہ بھی مل گئی، اب وہ کس نعرے کے تحت عوام میں جائیں گے۔

یہی مسئلہ اندرون سندھ اور کراچی کی سطح پر قائم علاقائی جماعتوں کو پیش آیا، اٹھارہویں ترمیم نے ان کا سب سے طاقت ور نعرہ چھین لیا تھا، عوامی نیشنل پارٹی تو بظاہر اس مسئلے سے نکلنے میں مکمل طورپر ناکام نظرآرہی ہے مگر کراچی کی مقبول سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ذمہ داری سے ان نئے چیلنجز کو قبول کیا۔ ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی کو ایک الگ صوبہ بنانے کی تحریک کا آغاز کیا مگر مناسب حمایت نہ ملنے کی وجہ سے یا پھر تحریک کے اندرونی مسائل کے باعث وہ اس سلسلے کو جاری نہ رکھ سکے تو فورا ایک دوسرا لائحہ عمل اختیار کیا گیا اور وہ کراچی کی کچرا سیاست ہے۔

ایم کیوایم نے عوام میں جانے کے لیے کراچی کو مسائل زدہ ثابت کرنے پر اپنا پورا زورصرف کردیا تاکہ لوگ مسائل کے حل کے لیے ان کی جانب دیکھیں، یہ معاملہ بلدیاتی انتخابات کے بعد شدت اختیار کرگیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے ہوتے ہی کراچی میں پراسرارطورپر بلدیاتی مسائل بڑھنے لگے، دلچسپ واقعات بھی ظہور میں آئے جیسے گلشن اقبال میں عزیز بھٹی کے قریب پانی کی پائپ لائن ہفتے میں دوبار پھٹنے لگی، ایک بار ایسا ہی ہوا تو واٹر بورڈ کا عملہ آیا اور مقامی افراد کے مطابق دو مزید جگہوں پرشگاف کرکے چلا گیا۔

اس دوران تحریک انصاف کے رہنما عالمگیر بھی سامنے آئے جنہوں نے عام آدمی کے بینر تلے فکس اٹ مہم شروع کی، ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے گٹروں پر ڈھکن نہیں ہیں، وہ گٹروں کے اطراف سندھ کے رخصت ہونے والے وزیراعلیٰ کی تصاویر بناتے اور میڈیا ان کو خوب نمایاں کرتا، یہ سلسلہ عروج پر پہنچا ہی تھا اور بظاہر عالمگیر کا ہدف سندھ حکومت ہی تھی مگر عالمگیر کی بڑھتی مقبولیت سے ایم کیوایم بوکھلائی ہوئی نظر آئی اور شاید اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عالمگیر نے یہ مہم بند کردی۔

فکس اٹ مہم کے دوران یہ بات عام تھی کہ کراچی کے گٹروں میں سے پتھروں کی بوریاں نکلتی تھیں، مقامی لوگوں کے مطابق ایک دلچسپ واقعہ یہ پیش آیا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ کے سخت احکامات کے پیش نظر ایڈمنسٹریٹرکراچی نے یونی ورسٹی روڈ پر گٹر کے ڈھکن لگوائے، ابھی ایک رات بھی نہ گزری تھی کہ وہ سارے ڈھکن غائب ہوگئے اور عالمگیر نے ہر گٹر کے آگے سندھ کے وزیراعلیٰ کی تصویر بنائی۔ گٹروں میں پتھر کی بوریاں نکلنے کا معاملہ سیاست دانوں کی زبان پر بھی آیا چناچہ سندھ میں بلدیات کے وزیر اور کراچی کے نامزد میئر میں اس حوالے سے دلچسپ مکالمہ ہوا، وسیم اختر نے ایسے کسی بھی الزام کو جھٹلایا۔

شہرقائد میں بارشوں سے پہلے ایم کیوایم رہنماؤں کے بیانات شاید اسی سوچ کے مظہر ہیں، کراچی کے نامزد میئر جو وقت تحریر پولیس کی حراست میں ہیں، انہوں نے بیان دیا کہ اگر کراچی میں بارش ہوئی تو شہرڈوب جائے گا تاہم بارش کو ہفتوں گزرگئے، شہر اور اس میں رہنےوالے سلامت رہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن کا سارا زور اس بیان پر صرف ہونے لگا کہ کراچی ایک تباہ حال شہر ہے، یہ اپنی جگہ ایک حیران کن معاملہ ہے کہ کراچی کی منتخب سیاسی جماعت کا نمائندہ شہر قائد کی بدترین منظر کشی کرنے لگا۔

سندھ حکومت نے حالیہ بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے دس ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی تو یہ اقدام بھی خواجہ اظہارالحسن کی تنقید سے نہ بچ سکا۔ اب ان کے نزدیک کراچی کو سنوار کر سندھ حکومت ایم کیوایم کو ناکام کرنا چاہتی ہے اور خواجہ اظہارالحسن کی یہی اپروچ دراصل کراچی کی کچرا سیاست ہے یعنی کراچی کے تباہ حال ہونے کا تاثر بظاہر ایم کیوایم کی جیت ہے۔ اس دوران ایم کیوایم کے اراکین اسمبلی نے صفائی مہم بھی چلائی، گوسیاست دان کا کام یہ نہیں کہ وہ انتظامیہ کا کام سنبھال لے بلکہ ایک سیاست دان انتظامیہ کو چلاتا ہے مگر ایم کیوایم نے ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کے ہاتھ میں جھاڑو پکڑا دی۔ یہ مہم غالباً علامتی تھی کہ شہر کی صفائی کی صورتحال جوں کی توں رہی اور میڈیا نے بھی متحدہ قومی موومنٹ کے اقدام کو منفی انداز میں لیا۔ اس مہم سے یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ شہرقائد کی صفائی کی ذمہ داری ایم کیوایم کی ہے تو جلد ہی یہ مہم ختم کردی گئی۔

یہ بات مدنظر رہے کہ یہ تاثر عام ہے کہ کراچی کے تمام انتظامی اداروں پر ایم کیوایم سے تعلق رکھنےوالے افراد کا غلبہ ہے، پرویزمشرف کےدور میں ایم کیوایم نے بڑی تعداد میں اپنے ہمدردوں کو کراچی میونسپل کارپوریشن اور کراچی واٹر بورڈ میں ملازمتیں دلوائیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب کراچی کی صفائی کے لیے رخصت ہونے والے سندھ کے وزیراعلیٰ نے تمام ڈی ایم سیز کو ایک ایک کروڑ روپے جاری کئے تو صفائی تو کیا خاک ہوتی، میڈیا رپورٹس کے مطابق جو صاف علاقے تھے، کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے ان کو بھی مزید گندا کردیا گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ اس وقت کراچی میں صفائی کی بدترین صورت حال ہے، جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں، کچرا کنڈیا ں بھری ہوئی ہیں اور اہل کراچی نے جن راستوں پر کبھی کچرا نہیں دیکھا، وہ بھی گندگی سے اٹے ہوئے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کراچی کی مقامی انتظامیہ جوصفائی کی ذمہ دار ہے، اس کو مکمل فنڈز مل رہے ہیں۔ ڈی ایم سیز کا ڈیزل کوٹہ اور خاکروبوں کی یومیہ دیہاڑی ذمہ داری کے ساتھ ادا کی جارہی ہے مگر صفائی تو دور کی بات ہے، شہر میں مزید گند پھیلتا جارہا ہے۔

سندھ کے رخصت ہونےوالے وزیراعلیٰ نے کراچی کی صفائی کا متبادل نظام بنانے کے لیے ایک ویسٹ منجمنٹ کا بورڈ بنایا مگر نامعلوم وجوہات کے تحت یہ بورڈ اب تک فعال نہیں ہوسکا ہے۔ اس بورڈ نے سروے سے لے کر انتظامی جانچ تک اپنا تمام کام کرلیا ہے، افسران کا بھی تقررہوگیا ہے مگر ویسٹ منجمنٹ بورڈ کو سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز نہیں دیئے جارہے اور اس کی وجوہات بھی نہیں بتائی جارہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ سندھ کے رخصت ہونے والے وزیراعلیٰ نے صفائی کے ایک اور متبادل انتظام کے لیے اپنے آخری دن ایک سمری منظورکی جس کے تحت ایک چینی کمپنی کو کراچی کی صفائی کا ٹھیکہ دیا جانا تھا۔ نئے وزیراعلیٰ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں یا نہیں تاہم یہ بات بالکل واضح ہوچکی ہے کہ کراچی میں صفائی کا موجودہ انفرا سٹرکچر سندھ حکومت کے قابومیں نہیں ہے۔

اس صورت حال کے تناظر میں اگر آپ کراچی کے کچرے کو صرف کچرا سمجھ رہے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے، یہ کراچی کا کچرا نہیں بلکہ مکمل سیاست ہے، اگر یہ کچرا صاف ہوجائے تو شاید بہت سی سیاسی جماعتوں کے پاس عوام میں جانے کے لیے کچھ نہ ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ کراچی کیسے صاف ہوگا تو اس کا بڑا سیدھا ساجواب ہے کہ جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، ان کو درست کام کرنا ہوگااور بالکل ویسے کام کرنا ہوگا، جیسے وہ حالیہ بلدیاتی انتخابات سے پہلے کررہے تھے اور اگر صفائی کے ذمہ داران یہ کام نہیں کرتے تو میڈیا کا کام ہے کہ ان کی بازپرس کرے۔ مگر بدقسمتی سے میڈیا ذمہ داران کی سرکوبی کے بجائے ابھی تک سندھ کے ڈھکن وزیراعلیٰ کی تضحیک میں مشغول رہا ہے۔ سندھ میں درجنوں چھوٹے بڑے شہر ہیں، سندھ حکومت صفائی کے لیے ان شہروں کی مقامی انتظامیہ کو فنڈز دیتی ہے اور شہرصاف ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کام کی ذمہ دار مقامی انتظامیہ پر تنقید کی جاتی ہے مگر کراچی کے سلسلے میں یہ معاملہ الٹ ہے، اگر کراچی میں صفائی نہ ہوتو سندھ حکومت ذمہ دار ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ سندھ حکومت کو گندگی کا ذمہ دار ٹہرا کر حقیقی ذمہ داران کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہو۔

سندھ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر کراچی کی انتظامیہ سے وہ کام نہیں لے پارہی تو فورا متبادل نظام بنایا جائے تاکہ شہرقائد صاف ہو سکے، یہاں ایم کیوایم کے لیے بھی مشورہ ہے کہ اگر وہ سیاست کے لیے کچرے کا میدان منتخب کریں گے تو جلد یابدیر اہل کراچی ان سے بدظن ہوجائیں گے۔ یہ چیز زیادہ عرصے تک چلنے والی نہیں ہے کیونکہ کراچی کے ہر شہری کے ذہن میں سوال کلبلارہا ہے کہ پہلے کے ایم سی کی گاڑی روز کچرا اٹھانے آتی تھی، اب کیوں نہیں آتی۔

شہریوں کے ذہن میں یہ سوال بھی پیداہورہا ہے کہ پہلے گٹر ابلتے تھے تو اسی روز خاکروب آکر بند کردیتا تھا، اب خاکروبوں کو تلاش کرنا مشکل ہورہا ہے، شہری اپنے طور پر خاکروبوں کو تھوڑے بہت پیسے دے کر گٹر صاف کرا دیتے تھے مگر اب خاکروب ملتے ہی نہیں، جو مل جائیں، وہ کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔

کراچی دنیا کے دس بڑے شہروں میں سے ایک ہے، ساحل سمندرکے کنارے یہ خوب صورت شہر یہاں رہنےوالوں کی نفرت زدہ سیاست کا شکارہورہاہے۔ بلند عمارتوں اور بڑی بڑی سڑکوں والے شہر کی خوب صورتی کو منفی سیاست کی بدصورتی نگل رہی ہے۔ کراچی کا تاثر خراب کرنا کراچی دشمنی کے مترادف ہے اور اہل سیاست یادرکھیں کہ یہ اس شہر کے باشندوں کو گراں گزر رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔