سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سائبر کرائم ترمیمی بل منظور کر لیا


\"0001\"سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سائبر کرائم ترمیمی بل منظور کرلیا۔ ارکان پارلیمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے سائبر کرائمز کے خلاف مشاورت سے قانون تیار کیا ہے ۔

 

بل کے مطابق سائبر دہشت گردی پر 14سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، انٹر نیٹ پردہشت گردی یا انتہاپسندی کی مہم چلانے، اس حوالے سے بھرتیوں، فنڈز اکٹھا کرنے یا ایسی کوشش کرنے پر 7سال قید ہو گی، کسی کے خلاف مذہبی،نسلی یا فرقہ واریت کی بنیاد پر مواد ڈالنے یا پھیلانے پر 7 سال قید کی سزا ہوگی، چائلڈ پورنوگرافی پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

 

بل کے تحت ریاستی سالمیت کے خلاف کارروائیوں میں ملوث اندرون یا بیرون ملک عناصر کو سزائیں دی جا سکیں گی، بیرون ملک سے ملزم کی گرفتاری کے لیے متعلقہ ملک سے رابطہ کیا جائے گا ، جعلی ویب سائٹ بنا کر فراڈ پر 3 سال قید ہوگی،

غیر قانونی سمز ، چوری کے موبائل کے استعمال یا موبائل ٹیمپرنگ پر 3 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، کوئی ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر لیا جا سکے گا نہ شیئر کیا جا سکے گا۔

 

بل کے مطابق انٹر نیٹ سروس پرووائیڈریا انویسٹی گیشن ایجنسی ڈیٹا کا غلط استعمال کرے گی تو متعلقہ افراد کو 3سال قید اور 10لاکھ جرمانہ ہوگا، سائبر کرائم کے تمام جرائم پر گرفتاری یا کارروائی سے پہلےعدالت سے اجازت لینا ضروری ہوگا، سائبر کرائمز کے کیسز میں ضمانت نہیں ہو سکے گی۔

 

سائبر کرائم ترمیمی بل پہلے سینیٹ میں بھیجا جائے گا، اس کے بعد قومی اسمبلی میں دوبارہ منظوری کے لیے جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سائبر کرائم ترمیمی بل منظور کر لیا

  • 27-07-2016 at 11:44 pm
    Permalink

    سوشل میڈیا ایک بہت کارآمد چیز ہے جو دنیا بھر میں نہایت کامیابی سے عوامی بہبود اور تعلقات عامہ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے. ہماری قوم چونکہ ابھی سوشل میڈیا کے مثبت استعمال سے عام طور پر خالی ہے اس لیے بیشتر اس کے خراب تر پہلو رپورٹ ہوتے رہتے ہیں. بہت دیر سے یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ وطن عزیز میں سائبر سہولیات کے استعمال پر نگرانی کے لیے صرف اخلاقی درس نہ دیے جائیں بلکہ اس نگرانی کو قانونی شکل بھی دی جائے. بہت اچھا ہوا کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے آج سائبر کرائم ترمیمی بل 2016 منظور کیا.

    اس بل کے گہرے مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ نہایت ذمہ داری اور سنجیدگی سے بنایا گیا ہے اور اس میں جن جرائم کے سد باب کے لیے کئی سطحی سزائیں تجویز کی گئی ہیں ان کے اطلاق سے کسی شہری کے بنیادی انسانی آئینی حقوق پر کوئی زد نہیں آتی. اس بل کا حقیقی روح کے ساتھ نفاذ 1973 کے آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی شہری حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے اور اس سے ریاست کے امن و عامہ کی صورت حال بہتر ہوگی.

    وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب ایک پالیسی بیان میں لبرل پاکستان کو کامیابی کی منزل قرار دے چکے ہیں جس پر اس خاکسار نے ان کو مبارک باد پیش کی تھی. 1973 کے آئین میں دی گئی سماجی آزادیوں اور سماجی تحفظ کے درست استعمال کے لیے یہ سائبر کرائم ترمیمی بل وقت کی اشد ضرورت تھا تاکہ دہشت گردوں کے گرد قانونی شکنجہ کسا جا سکے اور معصوم شہریوں کو دہشت گرد، شدت پسند اور فرقہ ورانہ عناصر کی گرفت سے بچایا جا سکے.

    میں سائبر کرائم ترمیمی بل 2016 کی منظوری پر ریاست اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں.

Comments are closed.