پاکستان ۔ پاکستان


\"mustansar

(مستنصر حسین تارڑ کی یادوں سے ایک انتخاب)

میرے گلے میں بستہ تھا جس میں دوسری جماعت کی کتابیں تھیں اور میری آنکھوں میں آنسو تھے جو ایک آٹھ برس کے بچے کےتھے اور میں منہ کھولے ہانپتا ہوا بھاگ رہا تھا۔
موچی دروازے کے باہر ایک شخص ٹانگیں پسارے لیٹا تھا اور اس کے سینے میں ایک خنجر پیوست تھا اور اس کا ایک ہاتھ خنجر کے دستے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا جیسے آغا حشر کے ڈرامے کا کوئی کردار موت کی اداکاری کررہا ہو۔ لیکن وہ اداکار نہ تھا ، کوئی انسان تھا اور میری پہلی ’لاش‘ تھا۔
میں نے اپنی رفتار تیز کرنے کی کوشش کی ۔ مگر میری چھوٹی چھوٹی ٹانگیں اس طرح لرز رہی تھیں جیسے ان میں ہڈی نام کی کوئی شے نہیں ، صرف گودا ہے جو لمحہ لمحہ مسمار ہوتا چلا جاتا ہے۔
سرکلر روڈ بالکل ویران پڑی تھی اور میرا بستہ میرے تیزی سے حرکت کرتے ہوئے گھٹنوں پر اچھل رہا تھا ۔ میں اپنی اس زندگی کے لئے بھاگ رہا تھا جس کا ابھی مجھے شعور تک نہ تھا۔
میں اپنے گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ گھر جو بہت دور تھا۔
رنگ محل مشن ہائی سکول میں کلاس دوئم کی استانی بچوں میں رنگین چاک تقسیم کر رہی تھی کہ پرنسپل کی طرف سے ایک ہرکارہ آیا
’شہر میں فساد شروع ہوگیا ہے اور کرفیو نافذ ہونے کو ہے تمام بچے فوراً اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ سکول تا حکم ثانی بند رہے گا‘ گرد ونواح میں رہنے والے بچے فورا اٹھ کر چلے گئے اور باقی ایک کونے میں دبک کر اپنے عزیز و اقارب کا انتظار کرنے لگے ۔
پسینے میں شرابور گبھرائے چہرے والا کوئی باپ ، بھائی یا ماموں کلاس روم میں داخل ہوتا اور ہم سب اٹھ کھڑے ہوتے اور وہ اپنے جگر گوشے کو سینے سے لگا کر تیزی سے باہر نکل جاتا ، تھوڑی دیر میں کلاس روم تقریبا خالی ہوگیا اور میرے علاوہ شاید ایک دو بچے ہی رہ گئے۔ ہماری استانی بھی اپنے گھر کی عافیت تک جلدی پہنچنا چاہتی تھی ۔ چنانچہ اس نے بقیہ بچوں کے گلے میں بستے ڈالے اور شاباش شاباش کی تھپکی دے کر ہمیں جلد از جلد گھر پہنچنے کو کہا کیونکہ اب کرفیو نافذ ہونے ہوا ہی چاہتا تھا ۔ میں چیمبر لین روڈ پر سبزی منڈی کے قریب واقع اپنے گھر سے رزانہ سکول آیا کرتا تھا ، مگر آج صدر دروازے کے باہر قدم رکھتے ہی گھر کے تمام راستے میری نم ّلود آنکھوں کے سامنے دھندلا گئے ۔ میں ایک سہمے ہوئے خرگوش کی طرح سمت کا تعین کئے بغیر بھاگنے لگا۔ سرکلر روڈ پر پڑی لاش نے مجھے مزید خوفزدہ کردیا ۔ موت یوں تو زندگی کے ہر حصہ میں خوفزدہ کرتی ہے مگر بچپن میں اس کا قرب بہت ہی غیر قدرتی اور بے انصافی پر مبنی لگتا ہے ۔ گورو ارجن نگر کے عین درمیان میں سے ایک شعلہ بلند ہوا اور پھر ایک دھماکے کے ساتھ گاڑھے دھویں میں بدل گیا۔
میں موچی دروازے کی گھاٹی کے قریب پہنچا تو دور سے ایک شخص میری جانب بھاگتا ہوا نظر آیا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ شخص میری جانب کیوں بھاگ رہا ہے۔ کیا اس کے ہاتھ میں خنجر ہے یا اس کی ہتھیلیاں میرے گالوں پر تسلی دینے کے لئے بھیگ رہی ہیں۔ پھر وہ شخص میرے قریب آیا اور میرے آنسوؤں سے بھیگے گالوں کو تھپتھپا کرمجھے اٹھا لیا۔ یہ میرے ماموں علی احمد تھے ۔ میں نے ان کے کندھے پر سر رکھ دیا اور آنسو پونچھ ڈالے کیونکہ میں گھر پہنچ چکا تھا۔
وہ سراسمیگی ، بے یقینی اور امید کے دن تھے۔
ہمارا گھر کرشنا گلی گورو ارجن نگر اور گاندھی سکوائر کی ہندو آبادی میں گھرا ہوا تھا۔ ہندو ہمیشہ کی طرح بے حد منظم اور ہتھیار بند تھے ۔ رات کے وقت ہمارے گھر کی جانب دوچار فائر ضرور ہوتے اور ہم نچلی منزل میں بیٹھے قیام پاکستان کے اعلان کا انتظار کرتے رہتے۔ چند دنوں میں ہم نے بھی دو تین رائفلوں کا بندوبست کرلیا اور یوں جب کبھی کسی سمت سے فائر ہوتا تو ہم جوابی فائر کرکے ثابت کردیتے کہ ہم اتنی آسانی سے قابو میں آنے والے نہیں ہیں ۔ ایک شام کسی خیر خواہ نے اطلاع دی کہ ہندووں کے اکسانے پر ڈوگرہ فوج کے کچھ سپاہی آج رات آپ کے گھر حملہ کریں گے اس لئے آپ عورتوں اور بچوں کو لیکر کسی محفوظ جگہ منتقل ہوجائیں۔ والد اور ماموں نے کہا کہ ہم کسان لوگ ہیں اپنی زمین اور گھر کو کبھی نہیں چھوڑتے ، یہیں رہیں گے چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو ۔ اسی وقت تمام دروازے مقفل کر دیئے گئے ۔ نچلی منزل پر ایک بچہ یعنی میں اور خواتیں اور کوٹھے پر تمام مرد رائفلوں سمیت گھر کی حفاظت کے لئے ۔ گورو ارجن نگر میں آگ لگنے کی وجہ سے بجلی کے کھمبے بھی جل گئے تھے ۔ چناچہ بجلی نہ آنے کی وجہ سے پورا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ میں نصف شب کے قریب چپکے سے کوٹھے پر آگیا ۔وہاں ایک مدہم سی سرخ روشنی تھی جو لاہور شہر کی جلتی ہوئی عمارتوں سے پھوٹ رہی تھی ۔ کوٹھے پر مورچہ بنا کر بیٹھے ہوئے چہرے اس ہلکی سی روشنی میں عزم اور استقلال کے مجسمے لگ رہے تھے ۔ اس دوران ہمارے مکان سے کچھ فاصلے پر جس علاقے میں بجلی تھی ریڈیو پر اعلان ہوا جس کے ختم ہوتے ہی وہاں سے ’ ’ پا کستان زندہ باد ، پاکستان زندہ باد ’ کے پرجوش نعروں کی آواز آنے لگی ۔ میرے والد نے اپنی قوت سے انہیں پکارا اور پوچھا کہ کیا بات ہے ، کیا ہوا ہے ؟ ادھر سے جو جواب آیا ، وہ وہی تھا جسے سننے کے لئے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے ایک طویل اور صبرآزما جدو جہد کی تھی۔
پاکستان کے قیام کا اعلان ہوگیا تھا ۔ اس خبر کو سنتے ہی تمام مردوں نے ہوائی فائر کئے اور پھر گلے پھاڑ پھاڑ کر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے لگے ۔ میری منحنی سی آواز بھی اس میں شامل تھی جسے کوئی نہ سن سکا ۔ اسی لمحے نیچے سڑک پر واقع دروازے پر دستک ہوئی ۔ تمام لوگ چوکنے ہوگئے ۔ ڈوگرہ فوج کے سپاہی۔ والد نے ادھر سے جھانک کر پوچھا کون ہے؟ نیچے سے آواز آئی ہم بلوچ رجمنٹ کے جوان ہیں۔ آپ کے کوٹھے سے نعرے لگ رہے ہیں شاید آپ کسی مصیبت میں ہیں ہم آپ کی مدد کے لئے آئے ہیں۔ والد صاحب نے جب انہیں قیام پاکستان کے بارے میں بتایا تو تمام جوان وہیں سڑک پر کھڑے ہوکر ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بلند کرنے لگے ۔ والد صاحب نے نیچے جا کر دروازہ کھول دیا اور ڈوگرہ رجمنٹ کے بجائے بلوچ رجمنٹ ہماے گھر داخل ہوگئی۔
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد۔
ان دنوں کو کتنے برس گزر گئے۔
میرے والد جوانی کی منازل طے کرکے بڑھاپے میں ہیں۔ میرے بالوں میں سیاہی پر سفیدی کا غلبہ ہورہا ہے اور میرے بچے بلوغت کی جانب قدم رکھ رہے ہیں ۔ میرے والد نے پاکستان کو بنتے محسوس کیا اور میرے بچوں کے لیے پاکستان ایک حقیقت ہے جو روز ازل سے وجود میں ہے اور پاکستان ان کے وجود میں سے ہے ۔
ہماری نسل نے اپنی کوتاہوں اور ملکی و غیر ملکی سازشوں کے باعث نصف پاکستان گنوا دیا ۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے یہ کوتاہیاں نہ کریں اور ان سازشوں سے خبردار رہیں کیونکہ ڈوگرہ فوج اب بھی گھات میں ہے ۔ مکان پر کسی وقت بھی حملہ ہوسکتا ہے اور اس لئے ہمیں اپنے مکان کا مورچہ مضبوط رکھنا ہوگا ورنہ سرکلر روڈد ویران پڑی ہوگی اور اس پر ایک بچہ بستہ گلے میں ڈالے روتا ہوا اپنی زندگی کے لئے بھاگ رہا ہوگا اور اسے گھر جانا نصیب نہ ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔