اردوان کو ہٹلر بنانے کی مہم اور انقلابی ہولوکاسٹ


محمد عاصم حفیظ

\"asimترکی کے طیب اردوان کا سب سے بڑا قصور تو یہی ہے کہ اس نے سامراجی طاقتوں کے ایجنڈے کو اپنی عوامی مقبولیت کے ذریعے روند ڈالا ہے۔ سیکولر قوتوں سے یہ شکست ہضم نہیں ہو گی۔ اب طیب اردوان کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ تا کہ کوئی دوسرا حکمران عوامی خدمت اور سیکولر سامراجی قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی جرات نہ کرسکے۔ اگر کوئی سمجھ رہا ہے کہ اردوان اور ترکی اب محفوظ ہیں تو یہ اس کی سب سے بڑی بھول ہو گی۔ دراصل جب کوئی بے قابو ہاتھی کو روک دیتا ہے تو وہ پھر غصے سے آگ بگولا ہو جاتا ہے۔ اردوان کو اب ایسے ہی آتش فشانی غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بغاوت کی ناکامی کے فوری بعد مغربی میڈیا کی پروپیگنڈا مہم شروع ہو چکی تھی۔ باغیوں کے حقوق کا رونا، انسانی حقوق سمیت پتہ نہیں کن کن حقوق کا رونا رویا جا رہا ہے۔ سامراجی قوتوں کو یہ شکست ہضم نہیں ہو رہی۔ دراصل اب اعصاب کی جنگ لڑی جائے گی۔ طیب اردوان کو \”ظالم ترین \” حکمران کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ اس کے لئے وہاں باغیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے۔ مغربی میڈیا کی \”حقائق\” پر مشتمل رپورٹنگ کا اندازہ اس تازہ ترین خبر سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بغاوت کے الزام میں قید دس ہزار سے زائد افراد کو \”ریپ\” کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آپ گواہ رہیں کہ آئندہ چند روز میں مزید \” انکشاف انگیز\” رپورٹس سامنے آئیں گی۔ کوئی نہ کوئی لڑکی بھی سامنے لائی جائے گی کہ جو \”ظلم و ستم\” کی داستان سنائے گی۔ کئی لوگ جانیں بچا کر یورپ پہنچیں گے جنہیں \” سیاسی پناہ \” دی جائے گی۔ ترکی میں انسانی حقوق کا راگ الاپا جائے گا۔ ہر روز مغرب کے کسی نہ کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر کوئی نہ کوئی ایسی خبر یا ویڈیو ضرور نشر ہو گی جس میں یہ ثابت کیا جائے گا کہ ترک صدر طیب اردوان ہی دور حاضر کے ہٹلر ہیں۔ باغیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کو گویا \” ہولوکاسٹ\” کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ یعنی ترکی میں جیسے قتل و غارت کا بازار گرم ہو اور ہر وقت لاشیں ہی گر رہی ہیں۔

\"turkish-soldiers-e1469379574785\"مغربی میڈیا اور عالمی سامراجی قوتوں کو اس کا بھرپور تجربہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں اسلام کے خلاف ایسی ہی مہم کامیابی سے چلائی تو جا رہی ہے۔ اب ترک صدر اردوان ہی دنیا بھر میں ہونے والی ہر \”برائی کی جڑ\” قرار پائیں گے۔ دنیا میں کوئی یہودیوں کے نام نہاد قتل عام ہولوکاسٹ کے بارے سوال تک نہیں کر سکتا۔ کئی ممالک میں اس بارے بات کرنا باقاعدہ جرم ہے۔ کیونکہ میڈیا میں اس حوالے سے بے پناہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے۔

ترک عوام اور صدر طیب اردوان کا قصور تو یہی ہے کہ انہوں نے ایک بنے بنائے کھیل کو بگاڑا ہے، ایک ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ بنے ہیں، وہ اسلام کا نام لیتے ہیں اور عوامی خدمت کے ذریعے مقبول ہیں۔ بھلا یہ کیسے برداشت ہو سکتا ہے کہ کوئی اسلام پسند اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے عوامی پسندیدگی حاصل کر لے۔ دراصل اس سے عالمی نظام کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ ایسے سر پھرے حکمرانوں کو سبق سکھانا ضروری سمجھا جاتا ہے اور میڈیا کے ذریعے انہیں بدنام کرانا فرض۔

\"160718110012-turkey-detainees-number-2-super-169\"شاہ فیصل، معمر قذافی، صدام حسین سمیت کئی ایسے نام ہیں کہ جنہیں بدنام کر کے اس دنیا سے رخصت کیا گیا۔ ترک صدر کو بھی اب دور حاضرکا \” ہٹلر \” بننے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ وہ باغی کہ جو ملک میں آتش و خون کی ہولی کھیلنا چاہتے تھے ان کے خلاف معمولی سی کارروائی اور کسی کو ذرا برابر خراش بھی آئی تو اسے \” ہولوکاسٹ \” قرار دیا جائے گا۔ نت نئی کہانیاں سامنے آئیں گی۔ جذباتی ڈاکومنٹریز بنائی جائیں گی۔ ترکی کی کسی خاتون مظلوم \”معصوم باغی\” کو عالمگیر شہرت دلائی جائے گی۔ ہو سکتا ہے اسے نوبل انعام یا اسی قسم کے دیگر اعزازات بھی ملیں۔ اور انہیں جذباتی اور جھوٹی سچی کہانیوں کی آڑ میں اردوان کو ظالم، ترکی کو قتل گاہ، باغیوں کو ہیرو اور ترک عوام کو شائد پاگل قرار دیا جائے گا۔

یہ سب ہوگا طاقتور میڈیا مہم کے ذریعے جو کہ شروع ہو چکی ہے۔ یا اللہ ترک قوم، ترک صدر طیب اردوان اور محب وطن حلقوں کی مدد فرمائے۔ آمین


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔