مشرقی روشن خیالی اور یورپ


\"Majidمعاشرہ اچھائی کی عزت کرنا سیکھ لے تو اچھائی کی فی ایکڑ پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ معاشرہ اچھے لوگوں سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔ اچھائی کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ نام بدل جاتا ہے۔ یہاں صلاحیت کی کمی نہیں، ہم نے صلاحیت کی گاڑی کو تعصب، امتیاز، استحصال اور جہالت کے پتھروں پر رکھ چھوڑا ہے۔ ملک کی گاڑی کو مساوات، انصاف، علم اور ضابطے کے پہیوں پر نصب کر کے پٹری پر ڈال دینا چاہئے۔ وجاہت مسعود کی یہ باتیں آنکھوں پر جب معاشرے میں برایوں کا جنم ہو رہا ہوتا ہو اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا جائے وہاں پر معاشرے کو گھسیٹ کر اچھائی کی طرف لانا کون سا نظریہ ہے۔

اکیسویں صدی میں جب بچہ بچہ اپنا لباس کا چنائو خود کر رہا ہوتا ہے وہاں پر عورتوں کے لباس کی بات عورتوں پر چھوڑنے کیا مقصد نکلتا ہے۔ ویسے بھی خواتیں کا خریداری مشغلہ رہا ہے، جب وہ ہی خواتین کہنے لگیں کہ ان کو اپنے لباس کا چنائو خود کرنا چاہئے تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ کچھ خواتیں اپنے لباس کو مختصر کرنے کے حق میں ہیں۔

روشن خیال خواتیں کا خیال ہے کہ انہیں ہر وہ حق ہونا چاہئے جس سے اس کو ممانعت بھی کی گئی ہے۔ روشن خیالی کی مقرر حد تک تو ٹھیک ہے جب خواتیں اپنے فیصلے پر خودمختار ہونا اور ان کی زندگی میں کسی کا عمل دخل نا کرنا ان کے حق میں بھی نہیں ہے۔ ہم مشرقی خطے کے لوگ ہیں، ہمیں یورپ کے سسٹم کو ابھارنے کی کوئی ضرورت اس لئے نہیں پڑتی کہ اس خطے کے روشن خیالی اور یورپ کی روشن خیالی میں فرق نمایاں ہے۔ یورپ پر فیمنسٹ حامی خواتین کپڑے اتار کر روڈ پر احتجاج کرتی مبینہ حق مانگتی ہیں اس وہ اکثر پوسٹر پر یہ لکھتی ہیں کہ ان کے پاس کی ملکیت کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتی ہیں ان کو اس کی لیگل اجازت دی جائے۔

اسی بارے میں: ۔  پھل نہ خریدنے کی تین روزہ سوشل میڈیا کال.... ابتدائے عشق

ہر چیز کی حد مقرر ہے، حد سے زیادہ کسی کو کراس کرنا کسی کو زیب نہیں دیتا۔ آپ گلاس میں جگ جتنا پانی ڈالینگے تو پانی گرے گا اور پریشانی کا سامنا ہوگا۔ میری 38 سالہ زندگی میں میں نے پہلی بار اتنے الفاظ ان خواتین کے کالم یا بلاگ میں دیکھے جتنے الفاظ ہمارے ہاں آج کل خواتیں رائٹر خواتیں کے آڑے مرد پر استعمال کر رہی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا درست ہوگا۔ عورتوں کے حقوق پامال ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، مگر حقوق کے آگے جانا کسی اچھی خبر کی نوید نہیں۔ ہر مرد عورت کو اس سینس میں نہیں دیکھ رہا ہوتا جس طرح ہمارے ہاں خواتیں رائٹر ان کو پیش کر رہی ہوتی ہیں۔

عورتوں کے حقوق کے لئے لڑنا ان کا حق ہے مگر یہ کیسے درست مانا جائے گا خواتیں مرد معاشرے پر بلاگ یا کالم کو اچھا کرنے کے لئے مرد پر کیچڑ اچھالے ۔ ایک دوست نے \”ہم سب\” پر خواتین کہ بلاگ یا کالم پڑھ اس رائی کا اظہار کیا کہ خواتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے پاس ایسا ہتھیار ہو جس سے مرد کو نفسیاتی کمتری محسوس ہو۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مشرقی روشن خیالی اور یورپ

  • 27-07-2016 at 11:45 am
    Permalink

    جن مردوں کی اپنی برتری صرف عورتوں کو کمتر ثابت کرنے سے ہی مشروط ہے وہ خواتین کی حمایت میں لکھے گئے کالم پڑھ کر یقینآ نفسیاتی کمزوری محسوس کریں گے مگر جو حضرات یہ سمجھ چکے ہیں کہ کسی انسان کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت اسکے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنے میں ان کی برتری پنہاں نہیں ہے وہ اس ‘کمتری’ کا شکار نہیں ہوتے۔ فرق سوچ کا ہے سارا رونا اسی بات کا ہے۔

Comments are closed.