اسحاق ڈار کی فقید المثال غریب دوستی


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

ملکی سیاست میں دیکھیں تو پیپلز پارٹی سوشل ازم کی علمبردار بن کر خود کو غریب کی پارٹی کہتی ہے لیکن گزشتہ دور حکومت میں اس نے غریب کے لیے اس نے آخر کیا کیا ہے سوائے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے؟ تحریک انصاف والے اس بات پر روتے دکھائی دیتے ہیں کہ ملک میں کرپشن اور دھاندلی بہت زیادہ ہے لیکن اب خود مانتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت میں بھی ناکام رہے۔ ان جماعتوں کا پروپیگنڈا بہت شدید اور گمراہ کن ہے اس لیے عوام یہ دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ملک پاکستان میں غریبوں کا سب سے بڑا ہمدرد کوئی دوسرا نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار صاحب ہیں۔

یہ بات اب تو سرکاری طور پر ثابت بھی ہو چکی ہے۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں کے سامنے سینیٹ میں جناب اسحاق ڈار صاحب نے ایسے ناقابل تردید ثبوت پیش کر دیے ہیں جن کی رو سے پاکستان کی تاریخ میں ان سے بڑھ کر غریب پرور ہونے کا کوئی دوسرا شخص دعویدار نہیں ہو سکتا ہے۔ لیکن ڈار صاحب کی کسر نفسی دیکھیں کہ خود زبان سے ایسا دعوی ہرگز نہیں کیا ہے۔ بس قوم کے سامنے اعداد و شمار رکھ دیے ہیں گویا شہنشاہ وقت کے اتالیق کی مانند زبان حال سے کہتے ہوں کہ

جن کو دعویٰ ہو سخن کا یہ سُنا دو ان کو
دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا

لیکن بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ آخر غریب ہوتا کون ہے؟ وہ جس بچارے کے پاس پہننے کے لیے ایک دو جوڑے کپڑے ہوں، کھینچ تان کر تین وقت کا کھانا کھا سکتا ہو۔ کسی بہت ہی غریب آبادی میں رہتا ہو جہاں زمین کا ریٹ بہت سستا ہو۔ اور ممکن ہے کہ وہ گھر بھی کرائے کا ہو۔ کہیں آنے جانے کے لیے بس پر یا میٹرو پر سفر کرتا ہو۔ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہوں جہاں فیس معاف ہو اور کتابیں سرکار دیتی ہو۔ سر پر پانچ دس ہزار کا قرضہ چڑھا ہوا ہو کیونکہ نہ وہ اس سے زیادہ قرضہ مانگتا ہے اور نہ ہی کوئی اسے اس سے زیادہ قرضہ دیتا ہے۔

جبکہ امیر وہ شخص ہوتا ہے جو کہ خوب ٹھاٹھ سے شہر کے کسی مہنگے علاقے میں ایک بڑے سے بنگلے میں رہتا ہو۔ اس کے پاس بیس لاکھ سے لے کر دو کروڑ تک کی گاڑی ہو۔ پہننے کے برانڈڈ کپڑے رکھنے کے لیے گھر کے ہر فرد کے پاس وارڈ روب کے نام پر پورا کمرا سجا ہوا ہو۔ اس کے بچے بیس تیس ہزار کی فیس والے مہنگے پرائیویٹ سکول میں پڑھتے ہوں۔ اس کے سر پر پانچ دس ارب روپے کا قرضہ چڑھا ہوا ہو۔

\"ishaq

یہ امیر اور غریب کے وہ نظریات ہیں جو کہ گمراہ کن کمیونسٹ پروپیگنڈے کی وجہ سے ایک عام پاکستان کے ذہن میں راسخ ہو چکے ہیں۔ اگر یہ عام پاکستانی بھی جناب اسحاق ڈار کی طرح چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہوتا اور اسے جمع تفریق کر کے کسی بندے کی اصل اوقات نکالنی آتی، تو پھر اسے پتہ چلتا کہ غریب کون ہے؟

غریب کا گھر چلو بیس لاکھ کا ہوا۔ اس کے سر پر چڑھا ہوا قرضہ نکال دیں تو بندے کی ویلیو ہوئی انیس لاکھ نوے ہزار۔ جبکہ اسحاق ڈار کی مہربانی سے وہ پچاس لاکھ کی بس یا سوا کھرب روپے کی میٹرو کی سواری کرتا ہے۔ اور اس نام نہاد امیر کی حیثیت کیا ہے؟ پانچ کروڑ کا گھر جمع دو کروڑ کی گاڑی، یعنی مبلغ سات کروڑ سکہ رائج الوقت۔ اب اس کے سر پر چڑھا ہوا دس ارب کا قرضہ دیکھیں تو یہ شخص منفی ویلیو رکھتا ہے، یعنی اس کی حیثیت منفی نو ارب ترانوے کروڑ روپے ہے۔ اب آپ خود انصاف کریں کہ غریب کون ہے، وہ شخص جس کے پاس انیس لاکھ سے زیادہ رقم موجود ہو، یا پھر وہ شخص جس کی غربت کا یہ عالم ہو کہ اس نے دوسرے کا تقریباً دس ارب روپے کا قرض ادا کرنا ہو؟

بہرحال صد شکر کہ جناب اسحاق ڈار صاحب کمیونسٹ نہیں ہیں اور وہ یہ حقیقت پسندانہ تجزیہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مختلف افراد کی یہ اصل حیثیت، یعنی نیٹ ورتھ نکالی اور فوراً عملی کام شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں سینیٹ نے ان سے رپورٹ طلب کی کہ غریب غربا کے لیے آپ نے کیا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سنہ 2013 میں ان نہایت ہی غریب افراد کی کمپنیوں کے چھے ارب روپے کے قرضے معاف کر دیے۔ اگلے سال ان کا دل کچھ سخت ہو گیا تھا اس لیے محض ساڑھے چار ارب روپے کے قرضے معاف کیے گئے۔ لیکن خدا نے ان کے دل کو سنہ 2015 میں اتنا زیادہ نرم کر دیا کہ اس سال ان نہایت ہی غریب افراد کی کمپنیوں کے دو کھرب ستر ارب روپے، جنہیں وہ دو سو ستر ارب کہتے ہیں، کے قرضے معاف کر دیے۔ یہ قرضے بظاہر تو مختلف سرکاری اور نیم سرکاری بینکوں نے معاف کیے تھے جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جناب اسحاق ڈار غریب پروری اور خیرات وغیرہ کے کاموں میں اپنا نام مشہور ہوتے دیکھنا پسند نہیں کرتے اور پس پردہ رہنا چاہتے ہیں، لیکن اہل نظر جانتے ہی ہیں کہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے ان بینکوں کے مائی باپ تو اسحاق ڈار صاحب ہی ہیں ناں۔

اب ملک کے یہ غریب ترین افراد دوبارہ اربوں کھربوں کے قرض کی مہیب دلدل سے نکل کر دوبارہ مثبت بیلنس پر آ چکے ہیں اور ایک مرتبہ پھر معاشرے میں سر اٹھا کر چل سکتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف اسحاق ڈار صاحب کے ناقدین تو وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے چلتے ہوئے پنکچر کے کاروبار بھی بند ہو چکے ہیں کہ لوگ ان کو تضحیک کا نشانہ بنا کر ’پنکچر والا‘ کہہ کر پکارتے تھے اور اس معاشرے میں ان کا جینا حرام ہو گیا تھا۔

جو لوگ ہر شے میں دھاندلی اور کرپشن دیکھنے کے عادی ہیں، وہ یہ کہیں گے کہ ملک میں انڈسٹری ہے ہی کہاں جو ان کمپنیوں کو ایسے قرضے دیے اور معاف کیے جا رہے ہیں، ساری انڈسٹری اور سرمایہ کاری تو بنگلہ دیش اور امارات میں منتقل ہو چکی ہے، اور پاکستان میں تو صرف پلاٹوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ ہر شے کو منفی انداز میں دیکھنے والے ان حضرات سے درخواست ہے کہ حقائق سے منہ مت چرائیں۔ ہم خود کئی لوگوں کے کاروبار اس رفتار سے پھلتے پھولتے دیکھ رہے ہیں کہ بل گیٹس بھی دیکھے تو رشک کرے۔ خواہ وہ دودھ اور مرغی کا کاروبار کریں، یا سونے کو ہاتھ لگائیں، وہ سونا بن جاتا ہے۔ کامیابی تو صلاحیت اور مقدر کی بات ہوتی ہے۔

ان سب ناقدین سے گزارش ہے کہ ایسی بے جا تنقید کر کے غریب کے ہاتھ سے نوالہ مت چھیںیں اور اسحاق ڈار صاحب کی مکمل حمایت کریں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar