باچا خان کا بیانیہ اور یار طرحدار کا اظہاریہ


 

farnood01

بات پھیل گئی ہے اور بہت پھیل گئی ہے۔ نظریں جھکا کر پھر اٹھائیے تو ایک جواب حاضر ہوتا ہے۔ مجھے اندازہ تو تھا کہ جب ’چارسدہ سے باچا خان پکارتے ہیں‘ تو روحانی فضائیں کتنی سوگوار ہوجاتی ہیں، لیکن یہ اندازہ پہلی بار ہوا کہ وہ جو ایک بات جس کا ذکر پورے فسانے میں کہیں نہیں ہوتا، وہی بات زیادہ ناگوار کیوں گزرتی ہے۔ ہمیں البتہ یہ بات ناگوار گزر گئی کہ فیض اللہ خان جیسے یار طرحدار کے قلم نے ہمارے نام سے اس قدر احتراز کیوں برتا؟ کسی روٹھی ہوئی حسینہ کی مانند برتی گئی اس گریز پائیوں کی دو وجوہات سمجھ آئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کہیں خدانخواستہ ہم خود کو اہم جان کر اترانے ہی نہ لگ جائیں یا پھر یہ کہ ہماری مصنوعات کو کہیں ’فری سبیل اللہ‘ شہرت نہ مل جا ئے۔ اگر آپ جیسے دوست بھی ہمیں اتراتا دیکھ کر خوش نہ ہوں اور ہماری شہرت پہ آسودہ نہ ہوں تو پھر کیسی دوستی اور کہاں کی دوستی صاحب۔ سخت سست ہی سہی مگر کیا یہ کم تھا کہ آپ کے کنج لب سے ہمارا نام پھوٹتا۔ یقین جانیے وسیم بریلوی والی حالت ہوگئی ہے ۔آتے آتے میرا نام سا رہ گیا۔ اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا۔ کچھ نہ کچھ تو حضرت جون ’اولیا‘ والی بے بسی نے بھی آن گھیرا ہے۔ سنیں گے؟ چلیں سنیے۔

شرم دہشت جھجک پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ وہ جی مگر یہ سب کیا ہے
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں

اچھا نہیں لینا تھا نام تو نہ لیتے۔ جب نہیں لینا تھا تو پھر جمعہ خان صو فی کا نام بھی کیوں لیا؟ احساس محرومی میں تو آپ نے مبتلا کیا سو کیا، مگر رقابت والے جذبات کو بھی ہوا دے گئے۔ فرط جذبات میں کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ جمعہ خان کون ہیں اور آپ نے بھری بزم میں نام لے کر انہیں شرف کیوں بخشا۔ رات کروٹیں بدلتے اور پیج وتاب کھاتے رہ رہ کر ہمیں ایک ہی جمعہ خان یاد آتے رہے جنہوں نے حال ہی میں ایک کتاب ’فریبِ ناتمام‘ لکھی ہے۔ صبح سویرے منہ اندھیرے اپنے جذبات پہ کچھ قابو پاکر آپ کا نوشتہ پھر سے دیکھا تو وہی جمعہ خان صوفی نکلے جن کے فریب کا سفر تیز سے تیزتر ہوا جارہاہے۔ فیض بھیا یہ تو زیادتی پہ ایک اضافی زیادتی ہے۔ یعنی کہ یہ دن بھی آنا تھا کہ جمعہ خان صوفی کی کتاب پہ تائیدی کلمات ایک تنخواہ دار مورخ رقم کرر رہا ہے۔ پھر تاریخ نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ جمعہ خان صوفی کی کتاب کا سرورق الٹو تو پہلے ورق پہ ہی خاکی وردی میں ملبوس دربان تسمے کس کے کھڑا ہے۔ مجھے یہ دن دیکھنا تھا آپ جیسا پیارا دوست ہمیں وہی کتاب تجویز کر کے اذیتوں میں اضافہ کررہا ہے۔ ایسا ہوتا ہے کیا؟

دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں اگر میں آپ کو فوج کی تاریخ پڑھنے کیلئے جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب ’یہ خاموشی کہاں تک‘ پڑھنے کو کہوں تو آپ کو کیسا لگے گا؟ اچھا لگے گا کیا؟ نہیں نا؟ تو پھر؟ دوسرا شکوہ آپ سے یہ پیدا ہوگیا کہ آپ مجھے جانتے بھی ہیں پھر بھی توقع لگا بیٹھے ہیں کہ میں اے این پی کا دفاع کروں گا۔ یہ مخول مجھ غریب کے ساتھ آپ نے یہ جاننے کے باوجود کیا کہ میری نظر میں اے این پی کا تعلق باچا خان سے اتنا ہی ہے جتنا کہ جماعت اسلامی کا سید مودودی سے ہے۔ دو روز میں اب تک جماعت اسلامی کے جن دوستوں نے ہماری گوشمالی کی ہے وہ مسلسل یہ بتا رہے ہیں کہ سید مودودی تو پرائیویٹ جہاد کے قائل ہی نہ تھے۔ تو فیض بھائی اب آپ ہی پوچھ کر بتائیں نہ کہ پھر پیروکاروں نے پرائیویٹ جہاد کو باقاعدہ ایک آرٹ کیوں بنالیا؟

یہ کچھ تضادات کتنے خوبصورت ہوتے ہیں نا؟ مجھے پتہ ہے آپ خود ان تضادات سے کتنے پریشان رہتے ہیں۔ گاہے بگاہے ان تضادات پر آپ سر بہ زانو بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اب ان تضادات کو خود بیان کرنے سے ہچکچا رہے تھے تو یہ کہہ کر مجھے آگے کردیا کہ پختونوں نے باچا خان کی سوچ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ مجھے پتہ ہے آپ نے یہ بات اس لئے کہی کہ جواب میں میں کہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے بھی تو سید مودودی کی سوچ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ جب کچھ نہیں بچا تو مودودی صاحب نے سوچا اب انشا جی کوچہِ یار میں کیا چاک گریبان پھرا کریں گے تو کہہ دیا انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں اب جی کو لگانا کیا۔

ویسے کس قدر یارِ شاطر واقع ہوئے ہیں، آپ کہ آخر مجھ سے بلی کے گلے میں گھنٹی ڈلوا ہی لی نہ۔ خیر ہے کوئی بات نہیں، دوست کا کندھا ہی دوست کے کام آتا ہے۔ اب آپ کی خاطر میں اتنا ہی کر سکتا تھا۔ ایک بھیانک غلطی جو آپ مجھ سے سرزد ہوتی دیکھنا چاہتے ہیں، اس کا ارتکاب تو خیر میں کسی صورت نہیں کروں گا۔ آپ نے مور بی بی کا جملہ نقل کیا کہ اے این پی کی قیادت نے امریکہ جا کر پینتیس لاکھ ڈالر میں پختونوں کے خون کا سودا کیا۔ اب آپ چاہ رہے ہیں کہ میں اس کا جواب دوں اور یوں آپ کے چھوڑے ہوئے ایک تیر سے دو شکار لگ جائیں۔ ایک تو یہ کہ مجھ پہ اے این پی کی چھاپ لگ جائے اور دوسرا جماعت اسلامی کا تضاد بھی سامنے آجائے۔ خاطر جمع رکھیں کہ آپ کے دام میں نہیں آنے والا سو میں بالکل بھی یہ سوال نہیں اٹھاؤں گا کہ جہاد کی ندیوں میں بہتے خون کا جو معاوضہ ڈالروں کی صورت میں آتا تھا، اس بارے شریعت فقہ قانون اور اخلاق کیا کہتے ہیں۔ میں یہ بھی نہیں پوچھنے والا کہ نصرت کے جو فرشتے امریکہ میں اترتے تھے اور پھر وہاں سے چاچا سام کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر افغان کوہساروں کا رخ کرتے تھے، اس پر غیرت کا کون سا کلیہ صادر آتا ہے۔ میں یہ سوال بھی نہیں کروں گا کہ حرمین کے دفاع میں نکالی گئی ریلیوں کا جو محنتانہ دو اطراف سے وصولا جاتا رہا اور تا دم تحریر جزاک اللہ کے ساتھ وصولا جاتا ہے، اس پر مورخ کا بیان کیا ہے۔ تاریخ پہ یہ سوال میں اس لئے بھی نہیں اٹھا سکتا کہ کشف والہام پہ یقین رکھنے والا راوی یا تو چین ہی چین لکھتا ہے یا پھر عین اس وقت سجدے میں گرجاتا ہے جب وقتِ قیام آتا ہے۔ سو ہم تو اس طرح کے سوالات سے باز آئے۔

ویسے آپس کی بات ہے یہ باچا خان کو کمیونسٹ ثابت کر کے آپ نے کمال ہی کر دیا۔ پھر یہ جو باچا خان اور اجمل خٹک کے بیچ سارے فرق آپ نے مٹا دیے یہ تو سونے پہ سہاگ رات ہوگئی۔ آپ کو شاید خود بھی اندازہ نہ ہو کہ آپ کے بیک وقت تین راگوں والی جگل بندی کا کم سے کم فائدہ بھی یہ ہوگا کہ کمیونسٹ اور نیشنلسٹ کے بیچ حائل جو ایک پردہ ہے وہ ادھڑ جائے گا۔ بالکل اسی طرح کہ جس طرح سیکولر ازم اور الحاد کے بیچ کے پردے روحانی مفکروں نے اٹھا دیے ہیں۔ اس سے الوہی سیاست کے فروغ میں بہت مدد ملے گی۔ یہ اصول یاد یاد رکھیے کہ کسی بھی جائز کام کے لئے اٹھنے والے ناجائز قدم کسی بھی جائز امرسے بڑھ کر ناجائز ہوتا ہے۔ پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم پر فتوی لگانے پر ہم مودودی صاحب کی گرفت اسی لئے تو نہیں کرتے کہ یہ سب انہوں نے رضائے خداوندی کیلئے کیا۔ باچا خان کی گرفت اس لئے ہوگی کہ وہ صرف انسان کی خوشنودی چاہتے تھے، اور یہ سراسر دنیا پرستی ہے۔ اب تین چار فکروں کے بیچ موجود کسی فرق کو مٹا کر ایک ہی راگ میں پیش کرنا بظاہر تو ایک بد دیانتی سی ہے، مگر چونکہ اس سے کفر کی کمر ٹوٹے گی تو روا رکھیے۔

اس دن پتہ ہے کیا ہوا؟ ایک صاحب نے کھو پچے میں ایک تحریر بھیج کر کہا کہ بارہ ربیعہ الاول کو حضورؐ کی شان میں یہ تحریر آپ نے لکھی تھی؟ ہم نے چوڑے ہوکر ہاں میں جواب دیا تو فورا بولے ’مگر آپ تو سیکولر ازم کی بات کرتے ہیں؟‘۔ ایسی چپ لگی کہ منہ چھپاتے پھرتے رہے۔ وہ مقدمہ تو گزشتہ دنوں آپ نے پڑھ ہی لیا ہوگا جس میں ایک بھلے مانس نے کہا کہ ایک شخص ایک وقت میں یا تو مسلمان ہوگا یا پھر سیکولر ہوگا۔ اب جب باچا خان کو آپ نے سرخ ٹینکوں کے انتظار میں بٹھایا تو یہ مجھے اسی مقدمے کی ایک کامیاب گرہ لگی۔ اچھا ہے بہت اچھا ہے، جمہوریت اور دہریت کو ہم جتنا باہم متشابہ کریں گے، خون اتنا ہی ارزاں رہے گا۔ یاد رکھیں کہ یہ پٹی ہم جتنی جلدی پڑھا لیں۔ اسلام کے وسیع تر مفاد میں اتنا ہی بہتر ہوگا ورنہ عقل کو الہامی تعلیمات کے متوازی ایک ادارہ سمجھنے والے یہ دماغ روز روز کاشت نہیں ہوسکتے۔

اندازہ کیجیئے کہ اب تک یہ وہم سلامت ہے کہ روس گرم پانیوں پہ قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اب اس بات کا ثبوت کیا ہے، دلیل کیا ہے، یہ کس نے پوچھنا ہے۔ اس فرمان کے مستند ہونے کو اتنا ہی کافی ہے کہ الہامی سیاست پہ یقین رکھنے والی ہستیوں کا یہ فرمایا ہوا ہے۔ اگر کوئی عقل کے چوتھائی حصے پہ یقین رکھنے والا پھر بھی کوئی ثبوت مانگ لے تو اس کی بے چین روح کو ماسکو کی کابل میں مداخلت کے ثبوت مہیا کر کے مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ ان ثبوت وشواہد کے بعد مزید کوئی سوال اس لئے بھی پیدا نہیں ہو سکتا کہ افغانستان کی الہامی تاریخ احمد شاہ ابدالی سے شروع ہوکر امیر المومنین ملا عمر حفظہ اللہ تعالی پہ ختم ہوجاتی ہے۔ اب سوال تو تب پیدا ہو جب امت مسلمہ بیچ میں کہیں موجود خلق پارٹی اور پرچم پارٹی کی تاریخ کو بھی تاریخ مانتی ہو۔ اس عرصے میں اول اول امریکی مداخلت نے جب افغانستان کی سیاسی قوتوں کو تقسیم کر کے براہ راست مداخلت کی تو راوی مع مورخ پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کر گیا۔ طویل خاموشی کے بعد عین اس وقت دوبارہ یہ منظر عام پہ آئے جب نجیب کو کابل میں لٹکا دیا گیا۔

یوں کہیے کہ مورخ نے تسلسل کو وہیں سے جوڑا جہاں سے توڑا تھا۔ اب اس بات پر تو دوست میرا اور آپ کا اتفاق ہے کہ جو نظریاتی سرحدوں پہ گراں گزرے تاریخ کے اس حصے پہ زمزم کے تین قطرے گرادو تاکہ سیاہی پھیل جائے۔ نظریاتی سرحدوں سے چمٹے رہو خواہ اس کے نتیجے میں ملک کے حصے بخرے ہوجائیں۔ اب زمین کو نظریے پہ تو خدا نخواستہ فوقیت تو نہیں دی جا سکتی ہے نہ صاحب۔ خود سوچو لوگ کیا کہیں گے۔

اوہ ہاں، یاد آیا آپ نے جاوید احمد غامدی کا ذکر بھی کیا۔ ویسے ان کا ذکر خیرو شر کس پس منظر میں آگیا، خیریت تھی؟ یونہی زیبِ داستاں کے لئے یا پھر یہاں بھی میرے ناتواں کندھے پہ رکھ کر سچائی کی کوئی گولی فائر کرنا چاہتے ہیں؟ اسے برسبیل تذکرہ چٹکی تو نہیں کہہ سکتے یقینا اس میں کوئی گہری حکمت پوشیدہ ہوگی۔ اب مجھے گہرائی میں اترنے کیلئے حضرت اقبال، سید مودودی، باچا خان اور حضرت حسین مدنی کے مقبروں پہ مراقبہ کرنا ہے۔ جب واپس آئیں گے تو بیانیے کی بحث پر مذاق سے ہٹ کر بات کریں گے۔ چونکہ اسی نکتے پہ آپ نہایت سنجیدہ ہوگئے تھے تو ہم پہ رقت طاری ہوگئی۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہ بات رواروی میں سگریٹ کے پیہم کش اور چائے کی چسکی کی نذر ہو جائے۔ ملتے ہیں مراقبے کے بعد ۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “باچا خان کا بیانیہ اور یار طرحدار کا اظہاریہ

  • 25-01-2016 at 7:29 pm
    Permalink

    واہ واہ مزہ آگیا کیا خوب جواب دیا ہے. جیتے رہیں اور خوش رہیں.

  • 25-01-2016 at 10:25 pm
    Permalink

    >>”اوہ ہاں، یاد آیا آپ نے جاوید احمد غامدی کا ذکر بھی کیا۔ ویسے ان کا ذکر خیرو شر کس پس منظر میں آگیا، خیریت تھی؟ یونہی زیبِ داستاں کے لئے یا پھر یہاں بھی میرے ناتواں کندھے پہ رکھ کر سچائی کی کوئی گولی فائر کرنا چاہتے ہیں؟”
    __________________________
    کیوں بھائی ؟ آپ کو حق کی راہ میں کندھے استعمال ہوتے ہوۓ تکلیف ہو رہی ہے ؟

  • 27-01-2016 at 12:03 pm
    Permalink

    کیا کہنے حضور …. لطف آ گیا … سلامت رہئیے

Comments are closed.