بارہ مئی: وسیم اختر کا اعتراف جرم


\"farnood01\" پہلی بار نہیں ہوا کہ ایم کیو ایم کے کسی رہنما نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔ وسیم اختر کا اعتراف جرم بھی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ نوے کی دہائی میں ان کی وہ جے آئی ٹی فلم کے فیتے پر محفوظ ہے،جس میں وہ کچھ ایسے ہی جرائم کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ہمارا عسکری ذہن چونکہ ہمیشہ سے ذہین چلا آ رہا ہے اس لیے ایم کیو ایم کے ہر اہم رکن کی جے آئی ٹی افشا ہوتی چلی آ رہی ہے۔ خوشی سے ہم مر نہ جائیں اگر تحقیقاتی اداروں کو احساس ہوجائے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ ان کی محبت کا یہ انداز خود ان کے کردار پہ طرح طرح کے سوالات چھوڑ رہا ہے؟ یعنی کمال ہے کہ عامر خان صبح دس بجے نائن زیرو مرکز سے گرفتار ہوئے اور شام ڈھلے سماجی ذرائع ابلاغ پر جرائم کا اعتراف کرتے دکھا  دیے گئے۔

 وسیم اختر نے بارہ مئی کے حوالے سے جرم کا اعتراف کیا ہے، تو کچھ یادیں ہیں جو لوٹ آئیں۔ بارہ مئی سے دو رات قبل کراچی کے محلوں میں یہ تیاریاں شروع ہوچکی تھیں کہ وکلا تحریک کی سرگرمیوں کو کراچی میں سبوتاژ کرنا ہے۔ بارہ مئی کو ائیر پورٹ جانے والوں میں ہم بھی تھے۔ خدانخواستہ ہم استقبال کرنے نہیں گئے تھے، بلکہ استقبال دیکھنے گئے تھے۔ شوق سے زیادہ یہ مفت کا فریضہ تھا۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہمارے دل میں وکلا تحریک کے لیے کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ علی احمد کرد کے بعد ہم ہی تو تھے جو چکرائے گئے۔ صبح دم نکلتے ہی یہ احساس ہو گیا کہ شہر کے گرد کنٹینر کھینچ دیئے گئے ہیں۔ ایک کے بعد ایک کنٹینر عبور کرتے ہوئے ناظم آباد انڈر پاس پہنچے تو کماں بدست لشکریوں کو انڈر پاس کے اوپر موجود پایا۔ اجتماعی گالم گفتار کی ایک قافیہ بند لہر اوپر سے ہم پہ چھوٹی اور ساتھ ہی دو گولیاں چلیں۔ گولیوں نے ہمارا تو کچھ نہیں بگاڑا البتہ موٹر سائیکل کی رفتار بڑھا دی۔ جہاں یہ مسلح کارکن صفیں ترتیب دیئے کھڑے تھے اس سے پانچ قدم پیچھے رینجرز کا کوارٹر ہے۔ یہ کون لوگ تھے؟ جھنڈوں اور شکلوں سے یہ سب واضح تھا۔\"aacchhkk\"

 کارساز سے ڈرگ روڈ تک شیری رحمان صاحبہ اور ہم شانہ بشانہ چلے۔ ڈرگ روڈ پل سے کچھ پہلے ہی شیری رحمن نے حالات بھانپ لیے، وقت ضایع کیے بغیر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ گاڑی کی چھت کھلی اور ان کا سیکورٹی گارڈ برامد ہوا۔ ڈرگ روڈ پل کے ہم اتنے قریب پہنچ گئے کہ پل کے اوپرسے یہ اعلان صاف سنائی دے رہا تھا کہ آگے مت بڑھنا گولی ماردیں گے۔ سبھی کو جان عزیز تھی، سو رک گئے۔ اسی اثنا میں فائرنگ کی تڑ تڑاہٹ سے علاقہ گونج اٹھا۔ کم وبیش چار گولیاں شیری رحمان کے گارڈ کے حصے میں آئیں جو موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ دو گولیاں دائیں کھڑے اے این پی کے ایک کارکن کے کندھے پر لگیں جس نے اسے تڑپا کے رکھ دیا۔ شیریں رحمن اتریں زخمی کارکن کو اپنی گاڑی میں ڈالا، گاڑی زن زن دوڑاتی لے گئیں۔ یہاں مجھے صرف اتنا کہہ لینے دیجیئے کہ اس خاتون کی ہمت پہ مجھے رشک آیا کہ ایک شہید ڈرائیور اور ایک زخمی کارکن کو بقائمی ہوش و حواس خود ڈرائیو کرتی ہوئی لے گئیں۔ ہم واپس ہو لیے۔ اس کے سوا چارہ بھی کیا تھا۔ ڈرگ روڈ کے جس پل سے ایک ہجوم نے فائر کھولے، اس پل کے عین نیچے پولیس تھانہ ہے۔ تھانے کی چھت پر لیٹ کر اخبار نویس اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ یہ گولیاں چلانے والے کون تھے؟ جھنڈوں سے اور شکلوں سے یہ سب واضح تھا۔

\"008\" واپسی پر یہ احساس شدید تر ہوگیا کہ ہم سیاسی کارکنوں کے ہی نشانے پہ نہیں ہیں، ریا ستی جبر بھی تعاقب میں ہے۔ یہ بات واضح تھی کہ سیکورٹی اداروں تک کو کیا احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ پولیس کو غیر مسلح رہنے کا حکم ہے، جہاں بھی کھڑے ہیں ہاتھ میں لاٹھی لیے کمر کھجا رہے ہیں۔ رینجر اہلکار خال خال کہیں برکت کے لیے موجود ہیں مگر انہیں بندوق کی نال زمین کی طرف رکھنے کا حکم ہے۔ مسلح کارکنوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے ڈھائی گھنٹے میں ہم گرومندر پہنچے۔ پہنچ کر احساس ہوا کہ ایک نجی ٹی وی چینل اس وقت نرغے میں ہے۔ کیمرے کی آنکھ ہر طرف سے دیکھ رہی تھی مگر کارندے کھلے چہرے اور کھلی شناخت کے ساتھ رزم گاہ میں اترے ہوئے تھے۔ دوسرا رستہ لیکر مزید دیڑھ گھنٹے کی جدو جہد کاٹی، گرتے پڑتے گھر پہنچ ہی گئے۔ منہ دھوکر ٹی وی لگایا تو اسی نجی ٹی وی چینل کے دفتر کا اندرونی منظر سامنے تھا، جس میں ایک میز کے نیچے پناہ لیے ہوئے اینکر طلعت حسین ناظرین کو صورت حال سے آگاہ کر رہے تھے۔ ٹی کا کیمرا نیچے سڑک پہ جن دندناتے کارکنوں کے کلوز اپس دکھا رہا تھا، وہ کون تھے؟ جھنڈوں اور شکلوں سے سب واضح تھا۔

 یہ سب جو جھنڈوں اور شکلوں سے واضح تھا، کیا اس پر اس قوم کو اس وقت تک یقین نہیں آنا تھا کہ جب تک وسیم اختر سے اعتراف جرم نہ کروا لیا جاتا؟ پھر یہ اعتراف کیا واقعی کوئی ایسا سربستہ راز تھا کہ جس کے لیے برسوں کا تیل پانی ضایع کرنا پڑے؟ بھئی اعتراف ہی مقصود تھا نا؟ اعتراف تو اس وقت کے وردی پوش صدر پرویز مشرف نے اسی بارہ مئی کی شام کھلے آسمان تلے ایک بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے چیخ چلا کر کردیا تھا۔ اپرویز مشرف نے مکا لہرا کر فرمایا تھا\"1267078\"

 ’’آج دنیا نے کراچی میں عوام کی طاقت دیکھ لی کہ کس طرح ہمارے مخالفین کو جواب دیا گیا‘‘

 یہ جواب کیا تھا؟ افتخار محمد چوہدری ساتھیوں سمیت ائیر پورٹ میں محصور رہے، چار سو وکلا ہائی کورٹ میں اور دیڑھ سو وکلا سٹی کورٹ میں یرغمال رہے، اخبار نویس زد وکوب ہوئے، ٹی وی دفاتر گھیرے میں لیے گئےِ، باون شہری قتل ہوئے، سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے، بے شمار گاڑیاں نذر آتش ہوئیں۔ یہ سارے حالات وواقعات ملا کر وہ جواب بنتا ہے جس پر پرویز مشرف صاحب سگار کا کش لگا کر مکے لہرا رہے تھے۔

 بات یہ نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ اس ملک میں جب بغاوت ہوتی ہے تو وہ آفیسر نامعلوم نہیں ہوتا جس کے حکم پرایک بندوقچی پارلیمنٹ کے پچھلے دروازے پہ لات مار کے اندر آتا ہے۔ اس سپاہی کا چہرہ سب دیکھتے ہیں جو پی ٹی وی کی دیواریں پھاند کر نشریاتی پردے پہ سیاہی پیل دیتا ہے۔ اس ملک میں کسی پیر تسمہ پا کا احتساب کبھی نہیں ہوا، لیکن یہ احتساب اگر ہو جائے تو کیا انصاف یہ ہے کہ ٹرپل ون بریگیڈ کو ٹانگ دیا جائے؟ کیا اس آفیسر کی گردن ناپی جائے جس کے حکم پہ بندوقچی نے ایوان اقتدار پہ شب خون مارا؟ کیا اس سپاہی کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے جسے عینی شاہدین نے پی ٹی وی کی دیوار پہ چڑھتا دیکھا تھا؟ لایئے جس کو بھی کٹہرے میں لا سکتے ہیں، ضرور لایئے مگروہ سرخیل و سرغنے؟ ہمارے تحفظ کی قسم کھانے والوں سے کرنے کو ایک سوال رہ گیا۔ بس ایک سوال\"0001\"

 ’’پرویز مشرف کو تو رات کے اندھیرے میں پتلی گلی سے نکال دیا گیا، وسیم اختر کے ساتھ بیٹھ کر کیا تاش کھیلنا ہے؟‘‘

 یعنی کہ۔!

 جیب سے تو اسلحے کے کنٹینر برامد ہوجاتے ہیں، توپ خانے سے آدھا پاؤ بارود بھی برامد نہیں ہوتا؟ یہ کیسا چمت کار ہے صاحب۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “بارہ مئی: وسیم اختر کا اعتراف جرم

  • 28-07-2016 at 1:17 pm
    Permalink

    12 ,مئی واقع ایک واظع حقیقت اور الالاعلان دہشت گردون کی عوام پر قابض ہونے کی جنگ تھی, سب کو پتہ ہے جج جانتے ہیں, پولیس,رینجرس,ملٹری,اس وقت کی گورمنٹ ,پاکستان بچہ بچہ جانتا ہے,یہ را کو کراچی میں کس نے مضبوط کیا,اور را کی یہ ایجنٹ کس طرح بندوق کے زور پر ووٹ بنک اپنا کرتے ہیں . یہ سب جمہوریت کے لئے مفاہ متی سیاست کا کمال ہے,کہ غریب کارکنوں کا خون اپنے مفاد کی خاتر اس کرسی کی خاتر اس وقت کے فوجی جرنل نے بھی اپنا ضمیر بیچ دیا, کس کس کو قصوروار سمجھیں جب یہاں رہبر ہی رہزن ہوں. اب اللہ ہی کوئی قوم کو بیدار کرے اور غیرت دے.

  • 30-07-2016 at 1:38 am
    Permalink

    اس ملک کے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے جرنل اور کرنل کس کس طرح اپنا ضمیر بیچتے آئے ہیں یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہین رہ گئی ہے اسلیئے اتنا نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت دامن کو زرا دیکھ زرا بند قباء دیکھ

Comments are closed.