ہم خود کرپٹ ہیں


\"tanveerکچھ روز قبل کی بات ہے خاکسار کا ایک کام کے سلسلے میں صدر جانا ہوا۔ عموماً جب کبھی صدر جانا ہوتا ہے تو آگرہ تاج سے میرا ناکہ اور وہاں سے لی مارکیٹ اور پھرحاجی کیمپ سے ہوتے ہوئے جامعہ اردو اور سیدھا ایم اے جناح روڈ پر آنکلتے ہیں۔کیونکہ آئی سی کے پُل پر گُڈز ٹرانسپورٹ کی شیطان کی آنت کی طرح طویل قطار سے گزرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔اس روز شومئی قسمت شارٹ کٹ کے چکر میں گُل بائی سے سیدھا نکل آئے۔

اب گُڈزٹرانسپورٹ کا بے ہنگم جم غفیر اورکڑکتی چمکتی دھوپ کی شدت نے بے حال کر دیا۔ اللہ اللہ کر کے وہاں سے نکلے تو ٹاور پر \”ٹریفک\”پولیس کے شیر دلیر سپاہی نے روکا اور بائیک سائیڈ پر لگانے کا کہا۔ ہم چونکہ انتہا کے قانون پسند ٹھہرے ۔بائیک بعد میں چلانی سیکھی پہلے لائسنس بنوایا تھا۔ کاغذات بھی موجود تھے اس لئے بائیک سائیڈ پر لگائی اور انتہائی اطمینان سے بائیک کے ڈاکومنٹس اورلائسنس بہادر سپاہی کو دیئے۔

ڈاکومنٹس اور لائسنس دیکھنے کے بعد صاحب بہادر نے درشت لہجے میں سوال پوچھا یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا سر لائسنس اور کاغذات ہیں۔ تو صاحب بولے وہ تو مجھے بھی پتا ہے لیکن یہ تو ڈپلیکیٹ ہے اوریجنل کہاں ہے۔ پہلے تو میں نے سر کھجایا اور مسکرا کر کہا سر جی اوریجنل گھر پر ہیں ڈپلیکیٹ اس لئے رکھی ہیں کہ کراچی کے حالات آپ کے سامنے ہیں کب کیا چھن جائے کون جانے۔ صاحب بہادر نے پہلے تو لائسنس کے بارے میں پھول جڑے اور پھر کہا یہ قابل قبول نہیں چلان کٹے گا۔ اوریجنل دو۔ چونکہ ہم نئی نئی بائیک سیکھے ہیں اوراپنی قوم کے شیر دلیر ایماندار سپاہ کی چالاکیوں سے بے خبر تھے جٹ سے اوریجنل شناختی کارڈ نکالا اور بڑے فخر سے صاحب بہادر کو تھما دیا۔

صاحب بہادر نے شناختی کارڈ کوالٹ پلٹ کر دیکھا اورپھر اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے فرمایا۔ تمہارا چالان ہوگا یہ لائسنس قابل قبول نہیں۔اسی دوران اشرف نامی ایک اور ٹریفک اہلکار نمودار ہوا۔ تو موصوف نے کہا صاحب ان کا چالان کرو۔ میں نے تقریباًچیختے ہوئے کہا کس چیز کا چالان؟ صاحب بہادر بھی ترکی بہ ترکی بولے کہ تمہارا لائسنس اوریجنل نہیں ہے۔ اب میں نے کہا کاٹ چالان میں سامنے سڑک پر بیٹھوں گا جو کرنا ہے کر لینا۔اب دونوں نے کن اکھیوں سے ایک دوسرے کودیکھا اور اشرف صاحب نے بائیک کی نمبر پلیٹ دیکھ کر خوشی سے چیختے ہوئے کہا کہ تمہاری نمبر پلیٹ فینسی ہے۔شرافت سے چالان کٹوا لو ورنہ نمبر پلیٹ بھی ضبط ہوگی اور چالان بھی الگ سے ہوگا۔

میں نے کہا جناب والا یہ نمبر پلیٹ فینسی نہیں اس پر ڈیزائننگ کیلئے اسٹیکر وغیرہ چپساں ہیں خود چیک کرلیں لیکن وہ مصر تھے کہ یہ فینسی ہے قانوناً جرم ہے۔جب کوئی چارہ نا رہا تو میں نے کہا کہ میں ایک اخبار میںکام کرتا ہوں اگر چالان کاٹا تو اچھا نہیں ہوگا۔پھر کیا تھا دونوں سٹپٹائے اور ایک ساتھ بولے ہمیں دھمکی دے رہے ہوجوکرنا ہے کرلینا ہم نمبر پلیٹ ضبط کررہے ہیں تم نے ہیلمٹ بھی نہیں پہنا ہواتھا تمہاری بائیک کی ہیڈ لائٹس بھی صحیح نہیں اینڈیگیٹر میں بھی مسئلہ ہے الغرض دوسومسئلے بتادیئے۔بائیک اتنے سارے مسئلے تو مجھے بھی پتا نہ تھے ۔بالآخر میں نے کہا چالان کاٹنا ہی ہے تو سب سے کم والا کاٹیں تو جناب اشرف صاحب نے 150 روپے کا چالان کاٹا وہ بھی ہیلٹ نہ ہونے کا۔جبکہ میرے پاس ہیلمٹ موجود تھا۔

دیکھئے !

مسئلہ یہ نہیں کہ کرپشن کون کررہا ہے مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن کن وجوہات کی بنا پر ہورہی ہے ۔وجہ ہم خود فراہم کرتے ہیں ہم خود کرپٹ ہیں ۔ہرہر شعبے میں ہماری کمی کوتاہی کا نتیجہ کرپشن کا موجب ہوتا ہے۔اگر ہم خود صحیح ہوں قانون کی پاسداری کریں دوسروں کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں ۔توکوئی رشوت نہیں لے سکتا کوئی چالان نہیں کاٹ سکتا یہ ملک صحیح سمت پر گامزن ہوسکتاہے۔ہم بجلی چوری نہ کریں لوڈشیڈنگ ختم ہوسکتی ہے ہم جرائم سے کنارہ کش ہوجائیں رشوت اور پولیس گردی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ہم ناپ تول میں کمی کرنی چھوڑدیں معاشرہ ایماندارہوجائے گا۔ہم ووٹ کا صحیح استعمال کریں صاف شفاف لوگوں کو ایوان حکومت تک پہنچائیں نظام صحیح ہوجائے گا۔لیکن ہم کب ٹھیک ہوں گے ہم کب صحیح سمت میں جائیں گے ہم کب اپنے لئے اور ملک کے لئے سوچیں گے ۔یہ ہم بھی نا ! بس باتیں ہی کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔