جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ اور ایک مکالمہ


 

husnain jamal (2)

جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں آئی ایس پی آر کا بیان بہت خوش آئند ہے۔ ناقدین کے لیے وطن عزیز کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ایک صفحے پر ہونے کو جھٹلانا اب مزید مشکل ہو گا۔
سات آٹھ دن قبل ایک دوست سے اس بارے میں اپنے فیس بک پیج پر گفت گو ہوئی، پیش خدمت ہے۔ اس گفتگو میں جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کا موضوع بھی زیر بحث آیا اور دیگر ایسے سوال بھی پیش آئے کہ جن کا تعلق ہماری رائے عامہ سے ہے، ملاحظہ فرمائیے۔

دوست: بہت خوب لکھا جناب نے پرنالہ بھارت میں گرنے کی بجائے ان پر ہی گرنا چاہیے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ مگر فوج کی کچھ زیادہ ہی تعریف سی ہو گئی جناب۔۔۔۔ !
جمال: شکریہ۔ بھائی دیکھیے، جس وقت جو محسوس ہو گا وہ لکھا جائے گا، نہ تعریف میں بخیل رہیں نہ تنقید میں۔ باقی خدا جانے کتنی بار تنقید بھی کی ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ فصل بونے والے اور تھے، یہ تو بے چارے کاٹنے والے ہیں بھائی۔ شاید آپ متفق نہ ہوں، ذاتی رائے ہے میری۔ شکریہ۔
دوست:،برادر محترم میں آپ کی اس بات سے متفق ہو گیا ہوں۔ جنرل راحیل شریف نے جس انداز میں معاملات کو سنبھالا وہ قابل تحسین ہے، مگر خیبر سے مہران تک جس طرح پی آر ڈیپارٹمنٹ نے ایک شخص کو پروموٹ کیا ہے اس کا تبھی پتہ چلے گا اگر جنرل صاحب اپنی مدت ملازمت میں توسیع سے انکار کریں۔ ورنہ ہماری بد گمانیاں بے جا نہیں ہیں۔
جمال: بہت نوازش۔ اب دیکھیے ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے امریکن صدر ہوتے ہیں، جو مرضی کہیں، جب منتخب ہوں گے تو پالیسی وہی چلائیں گے جو ان کا تھنک ٹینک کہے گا۔ درست؟
ایسے ہی، موجودہ فوجی قیادت کی جو پالیسی چل رہی ہے، اگر آئندہ قیادت کی صورت میں بھی یہی چلتی رہے تو حالات بہتر ہونے کا بہرحال امکان موجود ہے۔ تو چونکہ یہ امکان پہلی بار پیدا ہوا ہے، اس لیے due credit دیا جانا فرض ہوا۔
اب جو توسیع والا معاملہ ہے، اس میں خوش گمانی تو یہی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا، کیوں کہ ماضی میں کئی بار کی گئی توسیع کے نتائج سے وہ سب بھی واقف ہیں۔ اور آخری بات یہ، کہ یار، پیارے بھائی، وہ بھی ہمارا حصہ ہیں، جیسے آپ ہیں، میں ہوں، ویسے ہی وہ ہیں، چلنا ساتھ ہے، چاہے لڑ لیجیے، گلے شکوے کیجیے، لیکن چلنا بہرحال ساتھ ہی ہے۔ تو بس یہ سارا معاملہ تھا۔
دوست: اتنا ہی حسن ظن سیاستدانوں سے رکھنا چاہیے۔ سیاستدان کم از کم عوامی نمائندے تو ہیں۔
جمال: جی بالکل، ان سے بھی ہے۔ لیکن سوائے رحمان ملک کے، کھل کر کبھی کوئی سامنے نہیں آیا دہشت گروں کے خلاف، اور انہوں نے بھی اس بار عجیب بیان دیا، تو اس مخصوص واقعے میں ایسا ہی ہے۔ باقی جمہوریت کے ہم پرانے راگی اور روگی ہیں۔ آپ دیکھیں گے، بلکہ تنگ آئیں گے آئندہ بھی پذیرائی جمہور دیکھ کر۔ یاد رہے کہ ہم سب اسی سوچ سے گزر کر اکٹھے ہوتے ہیں، ٹرانزیشن ہے، کوئی کہیں چلا جاتا ہے، کوئی کہیں۔ خیال مگر زندہ رہے گا!
دوست: سوچ انسان کے ارتقاء کی ضامن ہے۔ جن کو سوچنا ہی نہیں آتا انہیں غداری کے فتوے لگانے آتے ہیں۔
جمال: بس، تو اس ارتقا کو سنبھالیے۔ زندہ رہنے کے لیے سوچ ضروری ہے۔ خدا خوش رکھے!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain