کراچی: کیا تشدد کی ایک بڑی لہر اٹھنے کو ہے؟


کراچی میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو فوجی جوانوں کی شہادت کی خبر نے باقی ماندہ اہم ترین خبروں اور واقعات کو وقتی \"mujahidطور پر پیچھے دھکیل دیا ہے اور ملکی ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا موضوع یہ اندوہناک واقعہ بن گیا ہے۔ فوری طور پرجماعت الاحرار نامی دہشت گرد گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کراچی میں فوجی اہلکاروں پر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سندھ کسی حد تک سیاسی بحران کا شکار ہے، وزیراعلیٰ کو تبدیل کردیا گیا ہے اور سندھ کی بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے کئی اہم رہنما جیل میں ڈال دئیے گئے ہیں۔ آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ سندھ اور بالخصوص کراچی کسی بڑی ہلچل کا شکار ہونے والا ہے۔ دوسری طرف رینجرز کے اختیارات کا معاملہ ابھی تک کھٹائی میں پڑا ہوا ہے کیوں کہ مقتدر جماعت اور اس کے ڈانواں ڈول سیاسی حلیفوں کو کراچی میں رینجرز کے بڑھتے ہوئے عمل دخل پر شدید نوعیت کے تحفظات ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی سیاسی و انتظامی کشیدگی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کراچی میںاثرو رسوخ کے حامل دہشت گرد گروہوں سے نبٹنے میں دشواریوں کا سامنا ہے، جس کی ایک تازہ مثال گذشتہ روز کراچی صدر کے علاقے میں فوجی اہلکاروں پر مہلک حملہ ہے۔ کراچی کے بارے میں قومی سطح پر لاتعداد نقطہ ہائے نظر موجود ہیں جن کے اجزائے ترکیبی میں نہ صرف شدید سیاسی اختلافات کی بھرپور آمیزش نظر آتی ہے بلکہ بعض اوقات ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ پاکستان کے دیگر گھمبیر مسائل کسی نہ کسی طرح حل ہوجائیں گے لیکن کراچی کا بحران جوں کا توں رہے گا۔

ماضی میں منتخب سیاسی حکومتوں کو ہٹائے جاتے وقت جاری کی جانے والی فرد جرم میں کراچی کی صورت حال کا ذکرایک لازمی عنصر کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جب کہ ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ ماضی کی سول اور فوجی حکومتوں نے کراچی کی متنوع سیاسی حیثیت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ کراچی کو کئی مرتبہ بے یارو مددگار چھوڑا گیا، لسانی فسادات میں مخصوص طبقوں کی مدد کی گئی اور سب سے بڑھ کر کراچی کے مذہبی انتہا پسندوں کو کبھی استعمال کیا گیا اور کبھی اِن کی مدد سے کئی دوسرے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ کراچی کو بے رحم انتہا پسندوں اور فرقہ پرست قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا اور محض دو سال کے عرصے میں سینکڑوں ڈاکٹروں ، وکلا، ہنر مندوں اور کئی اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ اقلیتوں کو جی بھر کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، احمدی، ذکری، آغاخانی، شیعہ، بوہری اور کئی دوسرے فرقوں کے لوگوں کو قتل کیا گیا۔ القاعدہ، داعش، لشکر جھنگوی اور کئی دوسری دہشت گرد تنظیموں کے افراد گرفتار ہوئے لیکن پھر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ایک گھمبیر خاموشی چھائی رہی جب کہ قومی ذرائع ابلاغ کی پیش کردہ معلومات سے یہی اخذ ہوتا رہا کہ ایک سیاسی جماعت اور اِدھر اُدھر کے محض مٹھی بھر انتہا پسندکبھی کبھی کراچی کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، باقی سب ٹھیک ہے۔ بدقسمتی سے یہ ایک ایسی قومی روش ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ سال میں کئی مرتبہ ہمارے ہر قسم کے قومی رہنما یہ اعلان کرتے ہیں کہ کراچی میں سب کچھ ٹھیک کرلیا گیا ہے۔ پھر اچانک ہی کوئی واقعہ اِن رہنماﺅں کے دعوئے باطل کردیتا ہے اور’کام‘ نئے سرے سے شروع ہوجاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد نئے دعوئے سامنے آتے ہیں اور ساتھ ساتھ’کام‘ بھی جاری رہتا ہے، پھر کوئی مہلک واقعہ نئی صورت سامنے لے آتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  چونکہ ہم حکمران ہیں۔۔۔

کراچی کا المیہ جہاں پاکستان کا انتظامی و سیاسی المیہ ہے وہاں یہ مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کا المیہ بھی ہے، جس کا تدارک نہیں کیا جا سکا۔ بدقسمتی سے طاقت ور دھڑوں کی طرف سے ’انتظام‘ اور ’انتقام‘ کے درمیان توازن قائم رکھنا ممکن نہی ہوسکا جس کی وجہ سے ابتری مزید نمایاں ہونے لگی ہے۔ ماضی کے کئی ایسے شواہد ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح بعض پسندیدہ دھڑوں کی مخصوص مفادات کے حصول کے لیے مدد کی گئی اور بعض ناپسندیدہ دھڑوں کی بیخ کنی کے لیے اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ انتظامی طور پراس تاریخی عدم توازن نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا اور کراچی جلتا رہا۔ حکومتیں بدلتی رہیں لیکن کراچی کے حالات بد سے بدتر ہوتے رہے۔ آج کوئی ایک واقعہ ہمیں فوری طور پر جگا دیتا ہے اور ہم حقیقی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن چند روز کے بعد پھر سب کچھ ’معمول‘ پر آجاتا ہے۔ کراچی کا بنیادی مسئلہ تشدد ہے جو ہر سطح پر موجود ہے۔ کبھی اس کی نوعیت سیاسی ہوتی ہے، کبھی لسانی اور اکثر اوقات مذہبی۔ جبکہ ایسے مواقع بھی آئے ہیں کہ تشدد کی مذکورہ بالا تینوں انواح آپس میں گڈمڈ ہوتی ہیں اور اِنہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں اکثر جذبہ قومی سے سرشار سادہ لوح یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی کو فوری طور پر فوج کے حوالے کردیا جائے۔

کراچی میں تشدد کا مسئلہ تاریخی نوعیت کا ہے جو اس کی بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی سے لے کر اس کی معاشی کمک اورتیزی کے ساتھ مذہبی عسکریت پسندی کی لپیٹ میں آنے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ تشدد پسند گروہوں سے لے کر لسانی متشدد گروہوں اور مذہبی انتہا پسندوں نے اس شہر سے معاشی فوائد کشید کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اس کوشش میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ اتنے زیادہ طاقت ور اور متنوع کرداروں کی آویزش نے انتظامی طور اس شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے جس کو ’فوری طور پر‘ ٹھیک کرنے کے دعویداروں کی عجلت نے بھی پیچیدہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا کئی برسوں سے گڑھ ہے۔ داعش کے قاتل گروہ کراچی میں پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں اور گاہے بگاہے اپنے مخالفین کا قلع قمع کرتے رہتے ہیں۔ کالعدم گروہوں لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان کے لیے کراچی ہمیشہ ایک’سودمند‘ شہر رہا ہے اور اِنہوں نے اس شہر میں جی بھر کر قتل و غارت کی ہے اور اغوا  برائے تاوان سے لے کربینک ڈکیتیوں تک کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں کوئی معجزہ کراچی کو نارمل کردے گا کیوں کہ جس قسم کے انتظامی تجربات آج کل کیے جارہے ہیں، اس قسم کے تجربات ماضی میں شدید ناکامی کا شکار ہوچکے ہیں۔ جب تک کراچی کے سیاسی و مذہبی کردار اور گروہ ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کسی متفق حل کی طرف نہیں بڑھتے کراچی بے چین رہے گا۔ کراچی کا مسئلہ اہل کراچی کی مدد سے حل کیا جاسکتا ہے محض تشدد کا رخ موڑ دینے سے اس کے حالات مزید ابتر ہوں گے، جس کا ہم ماضی میں کئی بار مشاہدہ کرچکے ہیں۔ کراچی مکمل طور پر سیاسی و انتطامی شفافیت کا متقاضی ہے جہاں ریاست کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا پڑے گا بصورت دیگر کراچی، کابل، بغداد اور دمشق کے درمیان مماثلت اب دور کی بات نہیں رہی۔

اسی بارے میں: ۔  اسلام اور جمہوریت کا تقابلی جائزہ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔