کراچی کی اڑن طشتری


کراچی کی فضاﺅں میں یاروں نے ایک اڈاری اڑائی ہے۔ فراق نے تو کہا تھا، ’یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں‘۔ اس سانحہ پر انشاءجی \"zafarہوتے تو لکھتے ، ’یاروں نے کتنے پاس اڈاری ہیں پھرکیاں‘۔ آسان فارسی میں مطلب یہ ہوا کہ کرانچی کی فضاﺅں میں ایک خلائی جہاز (سپیس شپ) دیکھا گیا ہے جس کی تصاویر کسی نابغے نے کھینچ کر قوم کو ہذیان میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک پروفیسر نما نیم اخبار نویس نے تو یہاں تک لکھاکہ خلائی اڈاری نے پورے پانچ منٹ تک حیدر آباد کی فضا میں ساکت درشن دے کر فوٹوگرافروں کے وارے نیارے کر دئیے۔ ان تصاویر کا آنا تھا کہ سوشل میڈیا کی پروپیگنڈہ ویب سائٹس( جن کے ماتھے پر اکثر کسی انسانی عضو کا حجم بڑھانے کا اشتہار چسپاں ہوتا ہے۔ جملہ معترضہ تھا۔ میں نے لکھا نہیں اور آپ نے پڑھا نہیں) نے وہ لولوئے حکمت ارزاں کیئے کہ الحفیظ والامان۔ پڑھنے والا جانتا ہے کہ کالم کی جگہ پڑھنے والے کی امانت ہے۔ قاری پوچھ سکتا ہے کہ یہ بھی بھلا کوئی کالم لکھنے کا موضوع ہوا؟ سوال جائز ہے۔ جواب ہی کے لئے تو کالم لکھنا پڑا ہے۔ مقصد اس کیفیت کی ترسیل ہے جس کا لکھنے والا شکار ہوا۔ بات کیفیت کی ہوئی تو بقول ماما قادر ایک کیفیت جہازی بھی ہوتی ہے۔ جہازی کیفیت سے ماما کی مراد وہ مثل خورشید والوں کے جیسی ہے جو یہاں وہاں ڈوبتے نکلتے رہتے ہیں۔ یعنی یہاں سنی وہاں اڑائی وہاں سنی یہاں اڑائی۔ ماما ایسے آتش دہن کاروں سے فرماتے بارہا سنے گئے ہیں ، ’ میاں جو کان سے سنو وہ پھنکارنے سے پہلے ذرا سینے کے پہلو سے پٹخ کر دیکھ لیا کرو۔ خدا ناخواستہ روا روی میں منہ سے کہیںسچ ہی نہ نکل جائے ظالم سماج‘۔ تو عرض یہ ہے کہ موضوع چھوٹا نہیں ہوتا اور اس وقت تو بالکل بھی چھوٹا نہیں ہوتا جہاں اجتماعی دانش کی نگاہ الموصوف اورنگ زیب والمعروف الحافی کی خرگوشنی یا آغا وقار کی پانی والی آلٹو سے خیرہ ہوتی ہو۔ پیٹر میکس نے لکھا تھا،’ میں نہیں جانتا کہ کینوس پر کونسا رنگ ڈالنا ہے۔ کینوس اپنے آپ کو خود پینٹ کرتا ہے۔ میں تو درمیان کا واسطہ ہوں‘۔ ویسے بھی درویش فرماتے ہیں کہ لکھنے والے کو موضوع سے دست و گریبان ہونا پڑتا ہے۔ کیسی اڈاری؟ کیسے اڑائی؟ کس نے اڑائی؟ اس پر بات کرتے ہیں پہلے مگر کچھ سنجیدہ ادھر ادھر کی کر لیں پھر موضوع کے کینوس پر رنگ پھینکتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں تجارتی جہازوں میں سب سے بڑے جہاز کا اعزاز ائیر بس\"0001\" A380 کو حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جہاز اگر معمول کے مطابق 555 مسافروں کو لے جا رہا ہو تو اس کا زیادہ سے زیادہ وزن اڑان کے وقت 575,000 کلوگرام ہو سکتا ہے۔ اس وزن کے ساتھ اڑان کے وقت اس کی کم سے کم رفتار بھی 150 ناٹس یعنی 277.8 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونی چاہیے۔ لینڈنگ کے وقت اس جہاز کی کم سے کم رفتار 130 ناٹس یعنی 240.76 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونی چاہیے۔ تو معلوم ہوا کہ پانچ لاکھ کلوگرام کے وزن والے جہاز کی کم سے کم رفتار بھی 240 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونی چاہیے۔ جو احباب فوٹوگرافی سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ حرکت کرتے ہوئے کسی چیز کی تصویر اتارنے کے لئے کیمرے کے شٹر کی رفتار بڑھانی پڑتی ہے ورنہ تصویر دھندلی آتی ہے۔ ایک سائیکل سوار کی تصویر اتارنے کے لئے بھی ضروری ہے کہ کیمرے کی شٹر سپیڈ 1/20 ہونی چاہیے۔ یعنی کیمرے کا شٹر ایک سیکنڈ کے بیسویں حصے میں گر جانا چاہیے۔

پہلی بار جب کراچی کے سپیس شپ پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کہ یہ کم ازکم بھی ٹائٹینیک سے کوئی سوا گز توبڑا ہے۔ ائیر بس A380 تو چار پانچ اس کے اندر سما جائیں۔ سینے سے پٹخ کر دیکھا تو دل نے گواہی دی کہ فوٹو شاپ کی کرشمہ سازی ہے۔ بیس لاکھ کلوگرام کی جسامت رکھنے والے سپیس شپ کو کتنا بڑا رن وے درکار ہو گا؟ یہ رن وے کہاں موجود ہے؟یہ کس رفتار سے اڑان بھرے گا؟ بنیادی سائنس سمجھنے والے کو معلوم ہو گا کہ اس کی رفتارائیربس سے تو تین گنازیادہ ہی درکارہے۔ فرض کر لیتے ہیں ایسا کوئی معجزہ رونما ہو گیا ہو اور ہمیں معلوم نہ ہو تو سوچنا چاہیے کہ اس مہاشے کی رفتار تو ائربس کے لینڈنگ سپیڈ سے زیادہ ہونی چاہیے ورنہ گر جائے گا۔ 240 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اتنی کم بلندی پر اڑنے والے جہاز کی تصویر اتارنے کے لئے ایک ماہر فوٹو گرافر کو بھی اپنے کیمرے کی شٹر کی رفتار 1/100 سیکنڈکرنی پڑے گی۔ جبکہ کراچی کے سپیس شپ کی تصاویر سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ کسی موبائل کیمرے لی گئی ہیں جس کے شٹر کی رفتار زیادہ سے زیادہ بھی 1/10 ہو تی ہے اگر کیمرہ (Continuous Mode ) پر ہو ورنہ عام حالات میں شٹر کی رفتار ایک سیکنڈ ہی ہوتی ہے۔

چلیں یہ تو کسی حد تک پیشہ ورانہ باتیں ہوئیں۔ اس شپ کو دیکھنے والوں اور صدقہ جاریہ کے طور پر آگے بڑھانے والوں کو کم ازکم اس \"0002\"بات پر تو غور کرنا چاہیے تھا کہ اس ڈیزائن کی اڈاری پیٹرک اسٹورٹ صرف سٹار ٹریک فلموں میں اڑاتا تھا وگرنہ تو نہ ناسا نے آج تک اس ڈیزائن کا بے پر و بے پہیہ سپیس شٹل تیار کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی روس کی روسکوسموس کارپوریشن نے ایسا کوئی جہاز بنایا ہے جو دیکھنے میں گول مٹول ہو۔ کم و بیش بیس لاکھ کلوگرام ہو۔ اتنا بڑا ہونے کے باوجود مشکل سے ہزار میٹر کی بلندی پر محو پرواز ہو۔ اور ایسا خراماں خراماں چلے کہ دریامیں چلتی چپو والی کشتی بھی تیز لگے۔ اچھا یہ بھی نہ سوچا تو کم ازکم اتنا تو سوچا ہوتا کہ کوئی فضائیہ ہوتی ہے۔ کوئی ریڈار ہوتا ہے۔ کوئی سرکاری مخبر ہوتا ہے جو ایسے ٹائیٹینک کو اڑتا دیکھ کر ستو نہیں پیئے ہوئے ہو گا۔ مانا کہ ایک آدھ ہیلی کاپٹر یا ایک آدھ ڈرون کی’ بھول چوک لین دین ‘ ہو جاتی ہے مگر یہ تو سرکاری مخبر کی آنکھ میں شہتیر سے اوپر کی چیز تھی۔ ایک ہی امکان بچا ہے کہ یہ سپیس شپ PKکا جہازوا ہوئے ہے۔ پر ہم کو لاگت ہے کہ کونو رانگ نمبر پھرکی لے رہا ہے۔

مدعا یہ ہے کہ ہماری اجتماعی دانش سنسنی خیزی کا شکار ہو چکی ہے۔ چند گنے چنے موضوعات ہیں جن پر خیرہ چشمی تواتر سے جاری ہے۔ لبرل ازم کا مفہوم یہاں لادینیت ہے اور اس کا دھندا کبھی مندا نہیں پڑتا۔ ٹی وی اب ریٹنگ کا کھیل ہے اور ریٹنگ اوریائی منطق اور لقمانی منجن سے حاصل ہوتی ہے۔ کالم نگار صیغہ متکلم کا مجاور بنا ’میں‘ کے در پر کھڑا ہے۔ فلموں میں سلطان راہی مرحوم کا گنڈاسا مشہور تھا یا پھر شان کی خون سے رنگین قمیض اور ہاتھ میں کلاشنکوف کی تصاویر سے فن کے ساتھ بدکاری کا چلن رواں ہے۔ ایک ہی الزام کی بنیاد پرقندیلیں بجھتی رہتی ہیں اور قوی قوی تر ہوتے جاتے ہیں۔ بزرگان دین جو اعلی اخلاق کے فریضے پر مامور ہیں وہ اپنے نرم و نازک پاﺅں ملک کے وزیر اعظم کی تصویر پر رکھ کر استراحت فرماتے ہیں مگر اذان پنڈی رخ دیتے ہیں۔ نئی نسل نے بڑی آس سے سیاست کے چراغ جلانے کی کوشش کی مگر متبادل انقلابی مسیحا ہٹو بچو اوئے اوئے کے ناریل پھوڑنے سے آگے نہیں نکل پاتا۔ افغانستان میں کبھی اٹھارہ ہندوستانی سفارت خانے نکل آتے ہیں اور کبھی پندرہ۔ مشکل یہ ہے کہ پندرہ اٹھارہ کی تکرار والے صاحبین و مصاحبین کو افغانستان کے اٹھارہ شہروں کے نام یاد نہیں ہوتے۔ سنسنی خیزی، سازشی کہانیاں، مظلومیت کا پرچار اور گالم گفتار کا کھیل اب فن لطیف ہے اور بکری زوروں پر۔ آئے روزدانش فروش اور سیاپا فروش جمہوریت کی فصیل پر کالک ملتے ہیں۔ اورجب عوام کے حق حکمرانی پر قبضہ ہوتا ہے تو یہ انقلابی ٹوپیوں اور سگاروں والے اسی تنبو میں جا کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے شفافیت کا نقارہ بجتا ہے۔ پھر جب’ اٹھتے ہیں حجاب آخر ‘ تو شفافیت کے بطن سے کوئی مسلم لیگ قاف جنم لیتی ہے یا ایم ایم اے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا مدیر کے منصب سے آزاد ہے۔ بخشتے کسی کو نہیں۔ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میںآئے۔ سردار داﺅد کو ظاہر شاہ کا بیٹا سمجھنے والے افغان امور کے ماہر بنے بیٹھے ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگاری کے نام پر ضیاءالحقی کے دریا ہیں جو بہتے رہتے ہیں۔ شاہ کے مصاحب اتنے وفادار ہیں کہ مصباح الحق کے سترہ سال اور یونس خان کے اٹھارہ سال کے خون پسینے کی محنت پر ’ شکریہ ڈنڈ پریکٹس‘ کے پوسٹر لگا دئیے۔

لمبی داستان ہے۔ پیٹر میکس ایسا خوش رنگ ہاتھ اور رنگ بکھیرنے کا فن افتادگان خاک کو کیا نصیب۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ تقویم کا \"0003\"لحاظ لازم ہے۔ اکتشاف کے لئے اکتساب شرط اول ہے۔ ایک طرف زعم یہ ہے کہ سائنس ہماری میراث ہے دوسری طرف تقویم یہ ہے کہ کشکول میں سمندر سمونے کے آرزو مند ہیں۔ جنگلی کبوتر کی اڑان میں مرشد نظر آتے ہیں۔ سعودی عرب میں گھوڑے کی شکل کا غبارہ اڑتا دیکھیں تو اسے فرشتہ سمجھتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہیں یا کراچی میں بزور بازو اڑن طشتری دیکھتے ہیں اور مغرب کی کسی سازش کی بو سونگھنے کی سعی کرتے ہیں۔ کردار اور مقام بدلتے رہتے ہیں کہانی وہی پرانی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہم نے بہت قرینے سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ علم و ہنر سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہم ایسے اٹکل پچو ترقی اور ہنر کا خواب دیکھتے ہیں۔ دلی کے قلعے فتح کرتے ہیں یا امریکہ کی شکست کے خوابوں میں غلطاں و پیچاں ہیں۔ علم، ہنر، سوچ اور خود احتسابی کو خود پرستی کی نظر کرتے ہیں۔ اڈاریاں بے شک اڑائی جائیں لیکن میاں جو کان سے سنو وہ پھنکارنے سے پہلے ذرا سینے کے پہلو سے پٹخ کر دیکھ لیا کرو۔ خدا ناخواستہ روا روی میں منہ سے کہیںسچ ہی نہ نکل جائے ظالم سماج۔ رگھو پتی سہائے فراق گھورکھپوری سے آغاز ہوا تھا۔ مرحوم سائیں کمال خان کے جملے پر اختتام کرتے ہیں۔ آتش دہن کاروں سے فرمایا کرتے تھے، ’آپ تو شکر ہے کتاب نہیں پڑھتے‘۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah