ملتان کے افلاطون کا قصہ


\"0001\"لندن ایک سال بعد آنا ہوا ہے۔

صفدر عباس کے کوئینز پارک علاقے میں واقع اس فلیٹ کے ساتھ بہت ساری یادیں جڑی ہیں۔ بیک یارڈ میں میں اور صفدر بھائی رات گئے تک گپیں لگاتے ہیں۔ دنیا بھر کی باتیں ہوتی ہیں۔ صفدر بھائی اپنی باتوں سے بور نہیں ہونے دیتے۔ وہ ملتانی ہیں۔ ہمارے بہت سے دوست مشترک ہیں۔ بہت سی یادیں مشترک ہیں۔ وہ شاید واحد انسان ہیں جن کے سامنے بیٹھ کر چپ چاپ انہیں سننے کو جی چاہتا ہے۔ ان کے پاس سننانے کو بہت کچھ ہے۔ ان کے پاس بے پناہ واقعات ہیں۔ سنجیدہ سے لے کر ہسنانے تک سب کچھ ان کی عمرو عیار جیسی زنبیل میں موجود ہے۔ ملتان سے لے کر لاہور تک ریڈیو، ڈرامہ، اسٹیج، تھیٹر تک سب کچھ وہ جانتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا انداز بہت دلکش ہے۔ درمیان میں وہ خود ہی اٹھ کر جاتے ہیں، میرے لیے کافی بنا کر لاتے ہیں۔ اپنے لیے سگریٹ سلگا لیتے ہیں جو میں ان کے لیے اسلام آباد سے لایا ہوں کیونکہ لندن میں سگریٹ بہت مہنگے ہیں۔ موسم میں خنکی ہے، ٹھنڈک ہے، اچھی لگتی ہے۔ اگرچہ کسی وقت جی چاہتا ہے کہ کچھ اوپر اوڑھ  لیا جائے۔

ان کے ہاں دو افریقین بھائی رہتے ہیں ہیں جن کے ماں باپ انہیں چپکے سے لندن کے ایک ہوٹل میں چھوڑ کر افریقہ چلے گئے۔ پولیس کو اطلاع ہوئی، انہوں نے بچوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ برطانوی ریاست اب ان کے تمام اخراجات برداشت کرتی ہے۔ وہ اب صفدر بھائی کے گھر میں رہتے ہیں۔ یہ ایک طویل کہانی ہے اسے پھر کسی وقت پر اٹھا کر رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک بچے کو اچھے سکول میں ترقی ملی ہے۔ صفدر بھائی بتانے لگے کہ جس سکول میں وہ گیا ہے وہاں یہ سب دیکھا جاتا ہے کہ سب بچے لائق نہ ہوں، کچھ نالائق بھی کلاس میں ہوں، کچھ سفید تو کچھ بلیک تو کچھ ایشائی۔ ۔ تو کچھ یورپین کیونکہ ان بچوں نے لندن جیسے معاشرے میں رہنا ہے جو اب ملٹی کلچرل ہے۔ ۔ لہذا سب اکھٹے کلاس میں ہوں تاکہ بڑے ہوکر ایڈجسٹ ہوسکیں۔

میں نے صفدر بھائی سے پوچھا کچھ نالائق کو بھی اچھے سکول میں داخلہ ملتا ہے؟ بولے یہاں بیلنس رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ۔ نالائق کوئی نہیں ہوتا۔ مقابلے کا ماحول ملے تو سب قابل ہوجاتے ہیں۔

 مجھے یاد آیا اٹھارہ برس قبل جب میں، ملتان میں ڈان کا رپورٹر تھا تو ایک دن ایک دوست میرے پاس آیا۔ وہ بہت پریشان تھا۔ اس کے اٹھویں جماعت کے بیٹے کو ہیڈ ماسٹر نے سکول سے نکال دیا تھا کہ وہ نالائق تھا۔ اس دوست نے پورے ملتان کی سفارشیں کرا کے دیکھ لی تھیں لیکن ہیڈ ماسٹر نہ مانے۔ ہیڈ ماسٹر کی مشہوری تھی وہ ایماندار ہیں۔ کسی کی سفارش نہیں مانتے۔ دوست نے ہیڈ ماسٹر کے بھائی تک کی سفارش کرا کے دیکھ لی تھی۔ مجھے ویسے ایماندار لوگوں سے یہ شکایت رہی ہے وہ اپنے اوپر ایمانداری کا ایسا چوغہ پہن لیتے ہیں دوسرے کو سانس لینے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ ایماندار اکثر زعم تقوی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کے جائز کام بھی نہیں کرتے۔

 خیر یہ ایک اور بحث ہے۔

اس دوست کا خیال تھا میں صحافی ہوں شاید میرے رعب سے وہ ان کے بیٹے کو دوبارہ داخل کر لیں۔ میں نے اسے اپنی پھٹ پھٹی موٹرسائیکل پر بٹھایا اور سکول کی طرف چل پڑا۔ راستے میں وہ مجھے بتاتا رہا اس نے کس کس سے سفارش کرائی لیکن وہ ایماندار اور کسی کی نہ سننسے والا ہیڈماسٹر ماننے کو تیار نہیں۔ میں چپ کر کے سنتا رہا۔

دوست بولا میں تو شاید تہمیں نہ کہنا کیونکہ مجھے علم ہے وہ ہیڈماسٹر کسی کی نہیں مانتا لیکن تمہاری بھابی کا خیال تھا کہ آخری دفعہ تمہیں کہہ کر دیکھوں کیا پتہ ہیڈماسٹر صحافی کو دیکھ کر کچھ خیال کرے یا ڈر جائے۔

میں مسکرا پڑا۔

خیر سکول پہنچے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ سکول کی ایک درخت کی چھاﺅں تلے ہیڈماسٹر اپنے چند استادوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ میرا دوست مجھے اس طرف لے گیا۔ قریب پہنچے تو وہ تھوڑا سا ڈر کر میرے پیچھے ہوگیا کیونکہ اسے علم تھا کہ یہ ہیڈماسٹر کبھی نہیں مانے گا اور اب اسے دوبارہ ڈانٹ بھی پڑے گی۔

ہیڈماسٹر کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری جس پر واضح لکھا تھا انہوں نے بچے کو دوبارہ داخلہ نہیں دینا۔ ہمارے سلام کا انتظار کیے بغیر ہی میرے دوست کو مخاطب کر کے کہا بھائی کس کو پکڑ لائے ہو آج میرے اوپر رعب ڈلوانے۔۔۔ تہمیں بتا چکا ہوں تہمارا بیٹا نالائق ہے۔ نکما ہے۔ وہ میرے سکول میں پڑھنے کے لائق نہیں۔ کیوں میرا اور ان کا وقت ضائع کرتے ہو۔

ہیڈماسٹر کے ساتھ بیٹھے چند استاد بھی ہنس پڑے۔

ہیڈماسٹر نے ابھی تک میری طرف توجہ نہ دی تھی۔

میرا دوست بے چارگی کی کیفت طاری کیے میرے پیچھے چھپا کھڑا تھا۔

میں نے گلہ صاف کیا اور بولا ہیڈماسٹر صاحب آپ کو کس نے کہا ہے کہ میں اس کے بیٹے کی سفارش کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں؟

پہلی دفعہ ہیڈماسٹر نے میری طرف غور سے دیکھا۔ کچھ حیران ہوئے اور بولے ان کے ساتھ انے کا مطلب تو یہی بنتا ہے۔

میں بولا نہیں جناب آپ غلط سمجھے ہیں۔ یہ تو بے چارہ ڈر کے مارے نہیں لا رہا تھا کیونکہ آپ سے پورا ملتان ڈرتا ہے۔ آپ بہت ایماندار ہیں۔ ایماندار کا مطلب تو یہ ہے آپ مخلوق خدا کو جتنا تنگ کر سکتے ہو کرو کیونکہ آپ نے یہ طے کر لیا ہے آپ اچھے اور باقی برے لوگ ہیں۔ آپ قابل ہیں اس لیے آپ ہر ایک کی بے عزتی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جیسے اس کی پچھلے ایک ماہ سے ہورہی ہے۔ ہر دفعہ آتا ہے۔ کسی کو ساتھ لاتا ہے۔ آپ کی منتیں کرتا ہے۔ آپ اس پر ہنستے ہیں۔ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بے بسی اس کو آپ کے پاس لاتی ہے۔ آپ کی انا کو تسکین ملتی ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کے لیے ذلیل ہو رہا ہے۔ آپ اسے ہر دفعہ ذلیل کر کے خوش ہوتے ہیں۔ ۔ کیونکہ آپ کے ہاتھ میں کچھ اختیارات ہیں۔ کچھ طاقت ہے۔ جو اس کا فائدہ کرسکتے ہیں اس لیے یہ ہر دفعہ اپ سے بے عزت ہونے کے لیے آجاتا ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ آپ بھی قابل ہیں اور آپ کے سکول میں قابل بچے ہی پڑھتے ہیں اور اگر اس کا بیٹا بھی آپ کے ہاں پڑھ گیا تو وہ بھی قابل ہوجائے گا۔ زندگی میں کسی قابل ہوجائے گا۔ یہ وہ لالچ ہے جو اسے ہر دفعہ آپ کے پاس لاتی ہے اور یہ سوچ اسے آپ سے بے عزتی کراتی ہے۔ اس کا خیال ہے آپ کی قابلیت اس کے بیٹے کو فائدہ دے سکتی ہے۔

ہیڈماسٹر صاحب خلاف توقع خاموش رہے۔

میں نے کہا میں کسی کی سفارش کے لیے نہیں آیا۔ میں تو صرف ملتان کی اس ہستی کا دیدار کرنے آیا ہوں جو صرف قابل بچوں کو اپنے سکول میں داخلہ دیتی ہے۔ جس کے سکول میں صرف قابل بچے ہی پڑھ سکتے ہیں۔ نالائق کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ آپ کے ہاں جو بھی بچہ پڑھنا چاہتا ہے وہ کم از کم افلاطون کے استاد سقراط کی طرح قابل ہوں۔

میں نے کہا ہیڈماسٹر صاحب مجھے ایک بات سمجھائیں۔ ایک قابل بچے کو پڑھانا کون سی بڑی بات ہے؟ یہ کون سا بڑا کارنامہ ہے جس پر آپ اتراتے ہیں؟ بچے کا ٹیسٹ ہونا چاہیے۔ وہ پاس کرے گا تو پھر کلاس میں بیٹھ سکتا ہے۔ قابل بچے تو آپ کا کام آسان کرتے ہیں۔ آپ کا نام روشن تو قابل بچے کرتے ہیں۔ اپ کو قابل بچوں میں اس لیے لالچ ہوتی ہے کہ اس کی قابلیت آپ کے کام آتی ہے۔ ہر کوئی آپ کی تعریف کرتا ہے کہ دیکھیں جناب کمال کا سکول ہے جہاں بچے فرسٹ ڈویژن لیتے ہیں۔ ۔ محنت قابل بچے کرتے ہیں اور نام آپ کا اونچا ہوتا ہے۔

مجھے یوں لگا ملتان کی گرمی میں پھیلا چار سو سناٹا کچھ اور گہرا ہوگیا تھا۔

 میرا دوست مجھے پیچھے سے کہنی ماررہا تھا کہ جانے دو۔ وہ اپنی جگہ پریشان کہ اچھا سفارشی لایا تھا جو ہیڈماسٹر کے گلے پڑ گیا تھا۔ اب تو کبھی داخلہ نہیں ملے گا۔

میں نے دوست کی کہنی پیچھے کی اور ہیڈماسٹر کو دیکھ کر بولا مجھے حضرت اجازت دیں۔ آپ کا دیدار ہوگیا۔ ملتان کے سقراط اور ارسطو اور افلاطون سے مل لیا جو صرف قابل بچوں کو پڑھاتا ہے۔ بات تو تب بنتی جب آپ میرے دوست کے نالائق بچوں کو پڑھا کر قابل بناسکیں۔ یہ کیا بات ہوئی سب قابل بچے ہی آپ کے سکول پڑھ سکتے ہیں۔ اور آپ یہاں بیٹھ کر ایک باپ کو روزانہ ذلیل کرتے ہیں۔

میں یہ کہہ کر مڑا۔ اپنے دوست کے چہرے پر نظر پڑی تو مجھے مجرمانہ احساس ہوا کہ شاید کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا۔

 میں نے دوست کا بازو پکڑا تو یوں لگا کاٹو تو لہو نہیں۔

 اسے تقریبا گھسیٹا ہوا چل پڑا۔ ۔

چند قدم ہی اٹھائے ہوں گے کہ پیچھے سے ہیڈماسٹر کی آواز ابھری۔۔۔ کل بچے کو سکول بھیج دینا۔۔۔ میں اسے خود پڑھاﺅں گا۔۔۔!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “ملتان کے افلاطون کا قصہ

  • 27-07-2016 at 6:54 pm
    Permalink

    Awesome as ever… Great Klasra Sahib.

  • 27-07-2016 at 10:17 pm
    Permalink

    ملتان کے افلاطون کو نہیں معلوم نہی تھا کہ ارسطو خود چل کر آیا ہے … بہت خوب لکھا کلاسرا بھائی … سلامت رہیں

  • 28-07-2016 at 11:44 am
    Permalink

    We agree Klasra esq effort,, well done. I think equally contribution is from head teacher showing flexibility and and maturity to change his decision and showing his humble ness

Comments are closed.