قائم علی شاہ قائم نہ رہے


\"benish\"اور قائم علی شاہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، گزشتہ 8 سال سے وزیر اعلیٰ کے عہدےپر فائز رہنے والے سائیں کو ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہمیشہ وزیر اعلیٰ کی ہی کرسی پر دیکھا۔ جب سے ان کے جانے کی خبر سنی تب سے ہر ٹی وی چینل پر ان کے خلاف رپورٹس ہی چلتی دیکھیں یعنی کہیں ان کی زبان پھسلنے پر پیکج چلایا گیا تو کہیں ان کی باتوں پر ان کا مذاق اڑایا گیا۔ مجھے ہنسی بھی آئی اور ساتھ میں دکھ بھی ہوا کہ کیا میڈیا یہ صحیح کر رہا ہے؟ کیا میڈیا کو ان کے اچھے کام نہیں دکھانے چاہیئے تھے؟

سات مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن اور ایک ایک مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور سینیٹر رہنے والے قائم علی شاہ کی عمر 88 برس ہے۔ وہ 90 کی دہائی میں پارلیمانی لیڈر تھے۔ ان سے زیادہ سینئیر اور تجربہ کار سیاستدان اور کوئی نہیں۔ یہی قائم علی شاہ کسی اور ملک میں ہوتے تو انہیں لیجنڈ قرار دیا جاتا لیکن ہمارے ملک میں انہیں \’بھنگ والی سرکار\’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

قائم علی شاہ کے دور میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے اتنے کسی اور صوبے میں نہیں ہوئے۔ کراچی میں جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ٹراما سینٹر، جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا واٹر پلانٹ، گمبٹ میں پاکستان میں جگر کی پیوند کاری کا پہلا مرکز، کراچی میں ماس ٹرانزٹ کا منصوبہ اور کراچی میں پاکستان کا ریپ سے متاثرہ خواتین کی بحالی کا پہلا مرکز سائیں سرکار کے ہی دور اقتدار میں بنایا گیا۔ لیکن کیا کبھی کسی چینل نے ان پر رپورٹ بنائی؟ مجھے تو لگتا ہے کہ کئی لوگ یہ باتیں جانتے بھی نہ ہوں گے

اسی بارے میں: ۔  ایک دیہاتی کی ڈائری (1)۔

یہ بات درست ہے کہ قائم علی شاہ میڈیا کی تضحیک کا مقابلہ نہیں کر پاتے لیکن اس میں ان کا تو کوئی قصور نہیں ان کی میڈیا ٹیم ہی نااہل ہے جو جوابات نہیں دے پاتی۔ اس بات کا اندازہ اسی چیز سےلگا لیجیے کہ اپنے کرئیر میں آج تک قائم علی شاہ پر کرپشن کا کبھی کوئی الزام نہیں لگا، قائم علی شاہ کا نہ کبھی کوئی اسکینڈل سامنے آیا اور نہ ہی ان پر کرپشن، اقربا پروری اور عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام ہے جبکہ اگر باقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ پر نظر ڈالی جائے تو سب پر ہی کرپشن کے الزامات ہیں چاہے وہ پرویز خٹک ہوں یا پھر شہباز شریف یا پھر ثناء اللہ زہری ہوں

لیکن شاباش ہے ہمارے میڈیا پر کہ وہ وزیراعلیٰ پر تنقید نہیں کر رہا بلکہ بات اس سے آگے نکل کر تضحیک، تحقیراورتذلیل تک جا چکی ہے۔ اس قدر بے عزتی کی جارہی ہے کہ افسوس ہورہا ہے۔ 88 سال کی عمر میں اتنے ایکٹیو ہو کر اتنا پریشر کوئی عام آدمی تو نہیں لے سکتا۔ پاکستان کے پہلے انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے قائم علی شاہ پاکستان کا دستور بنانے والی 11 رکنی کمیٹی کے ممبر رہے، اس وقت اس کمیٹی کا کوئی رکن حیات نہیں اور قائم علی شاہ واحد ہیں جو پاکستان کے دستور کے خالق ہیں۔

قائم علی شاہ کی زبان لاکھ لڑکھڑائے، بھلےوہ شعر بھول جائیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی عمر 88 سال ہے اور اس ضعیف العمری میں ایسے ایکٹیو ہو کر سیاسی امور انجام دینا بچوں کا کھیل نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے قائم علی شاہ کو ہٹانے کا فیصلہ تو کرلیا لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ نیا آنے والا قائم علی شاہ جیسا ثابت قدم ہو گا؟ اگر آج ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو زندہ ہوتے تو سندھ کی سیاست کا چہرہ ہی کچھ اور ہوتا۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ قائم علی شاہ کسی نہ کسی صورت میں سندھ کی سیاست کا حصہ ضرور ہوتے کیونکہ قائم علی شاہ جیسا سینیر لیڈر اور تجربہ کار سیاستدان صدیوں میں ہی پیدا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پشتونوں کی غلطی پہ زیرو ٹالرنس کیوں

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔