وردی کے اندر بھی ایک انسان ہی ہوتا ہے


\"hayaآج کل میڈیا پر پولیس کے حق میں اشتہاری مہم زور و شور سے جاری ہے جس میں عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کے پولیس کو اپنا سمجھیں اور یہ کہ وردی کے اندر بھی ایک انسان ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ وطن عزیز میں یہ رواج جڑ پکڑ چکا ہے کہ بجلی کی فراہمی ہو یا گڈ گورنس کے قصّے، تعلیمی ترقی ہو یا صحت کی سہولتیں یہ صرف عوام کو اشتہاروں میں ہی دی جاتی ہیں۔ بالکل اسی طرح پولیس کے انسان ہونے کا یقین بھی اشتہاروں کے ذریعہ دلایا جا رہا ہے۔

مودبانہ گزارش ہے کہ پولیس نے جو اپنی پہچان خود بنائی ہے اس کے لیے سالوں کی بے ایمانی، رشوت خوری اور ناانصافی درکار تھی اور اس کے لیے پولیس نے بڑی جانفشانی سے کام کیا جس کے نتیجہ میں آج عوام مجرموں سے زیادہ پولیس سے ڈرتی ہے۔ آپ اتنی آسانی سے ان کی محنت سے بنائی ہوئی سالوں کی شناخت اشتہاروں کے ذریعہ کیسے چھین سکتے ہیں؟

وردی کے اندر ایک انسان ہوتا ہے اس پر شاید ہم تو یقین کر لیں پر آپ پولیس والوں کو یہ کون بتائے گا وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح کی مخلوق سمجھیں۔ ان کی وردی شاید فرعون کی کھال سے تیار کردہ ہوتی ہے جسے پہنتے ہی وہ خود کو خدا سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے اندر جو رعونت پیدا ہوتی ہیں اس کا شکار عام عوام ان اشتہاروں کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ خصوصاً وہ موٹر سائیکل سوار جنہیں روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف ذلیل کیا جاتا ہے بلکہ ان کی جیبیں بھی خالی کی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  روس اور پاکستان کا دفاعی تعاون بڑھ رہا ہے

پولیس والوں کو البتہ مساوات کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔ مجرموں، ملزموں اور معصوموں کے درمیان کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھتی سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے۔ مجرموں پر تو ہاتھ صاف کرتی ہی ہے ملزموں پر بھی ایسا تشدد کرتی ہے کہ وہ اپنے ناکردہ جرم بھی قبول کر کے بقول عمر شریف کے اپنے ہاتھی ہونے کا اعتراف کر لیتے ہیں۔ ہاں البتہ قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر کا بہت احترام کرتے ہیں اور انہی کی وجہ سے ملزم ہو یا مجرم ان کی گلو خلاصی ہوتی ہے۔ مدّعی بھی ان تصاویر کے صدقے میں ہی مقدمات درج کرواتے ہیں اور انہی تصاویر کی بدولت مقدموں سے مجرم چھوٹ جاتے ہیں۔ شریف شہریوں سے بھی پیسہ نکلوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنی روایتی رعونت کی وجہ سے عام شہریوں سے ان کا طرز تخاطب اتنا ذلت آمیز ہوتا ہے کہ عام شہری کی بے بسی اس کے اندر جس نفرت کو جنم دیتی ہے اسے اشتہار ختم نہیں کر سکتے۔ ابھی پچھلے ہی دنوں دو موٹر سائیکل پر سوار لڑکوں کی غلطی سے ٹکر ہونے پر قانون کے محافظوں نے سڑک پر عدالت لگا کر انہیں جو سزا دی تھی، ان پر جس طرح تشدد کیا تھا اس کی گواہ عوام ہیں۔ اس تشدد کے شکار وہ لڑکے پولیس کو کس طرح انسان سمجھیں گے؟

قانون کے رکھوالوں پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ یہ وردی کے زعم میں میں کھلے عام شہریوں پر اتنا تشدد کرتے ہیں تو اس بات کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ حوالات میں کیا کرتے ہوں گے؟

اسی بارے میں: ۔  سرظفراللہ خان، باؤنڈری کمیشن اور کھوٹے سکے

ایسے لوگ تو وحشی درندے ہیں جو پیسوں کی خاطر ظلم کا بازار گرم کرتے ہیں۔ یہ بڑے مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں اور چھوٹے موٹے چوروں اور نشے کے عادی افرادوں کو پکڑ کر اپنی کارکردگی دکھاتے ہیں۔

اگر اشتہاری مہم ہی چلانی ہے تو پولیس کی اخلاقی تربیت کے لیے چلائی جائے۔ ان کی ٹریننگ میں ایسے پرگروام رکھے جائیں جس میں انہیں جدید طریقہ تفتیش سکھایا جائے بلکہ سب سے اہم لوگوں سے برتاؤ کا طریقہ بتایا جائے۔ انہیں رشوت سے نفرت کی ترغیب دی جائے اور یہاں انہیں سکھایا جائے کہ یہ وردی قانون کی حفاظت کے لیے ہے نہ کہ قانون توڑنے کے لیے اور نہ ہی اسے ہاتھ میں لینے کے لیے، اس وردی کی شناخت ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس وردی کو دیکھ کر اگر لوگوں میں تحفظ کا احساس جاگنے کے بجائے ڈر اور نفرت کا جذبہ جاگتا ہے تو خرابی لوگوں میں نہیں پولیس کے اپنے رویے میں ہے۔ اگر پولیس اپنے برتاؤ میں تبدیلی لائے گی تو پھر ان اشتہاروں کی ضرورت نہیں پڑے گی اور لوگ پولیس کی وردی کو دیکھ کر بھی وہی تحفظ محسوس کریں گے جو فوج کی وردی کو دیکھ کر محسوس کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

صائمہ وقاص کی دیگر تحریریں
صائمہ وقاص کی دیگر تحریریں