کتابوں کا عاشق…..کامریڈ واحد بلوچ


ساجد حسین بلوچ

میں کبھی اس امر پر یقین نہ کرسکا انہوں نے وہ تمام کتابیں پڑھی ہونگی جو وہ خریدتا رہا ہے….وہ درجنوں کے حساب سے کتابیں خریدتے \"0001\"تھے….مہینے میں نہیں بلکہ تقریباً ہر ہفتے وہ کتابوں کی خریداری کرتے تھے….

\”کافکا کے افسانوں کا مجموعہ مجھے اردو میں کہاں سے مل سکتا ہے؟\”…

انہوں نے جواباً مجھے اردو بازار کراچی میں واقع ایک ایسی دوکان کا پتہ سمجھایا جسے گوگل میپ سے بھی ڈھونڈھنا ممکن نہیں، حتی کہ 2050 میں بھی نہیں…..

\”آصف بھائی سے کہنا، مجھے کامریڈ نے بھیجا ہے، وہ تم کو 50 فیصد رعایت دیں گے\”….

انہیں کتابوں سے عشق تھا۔ ادب، فلسفہ، تاریخ، سیاسیات.. انہیں ہر قسم کے موضوعات سے محبت تھی..میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انہیں ان کتابوں کے مطالعے کا بھی شغف تھا..

\”ایسے لوگوں کو Bibliomaniac کہا جاتا ہے\”…سندھی افسانہ نویس، تنقید نگار اور میرے ادبی رہنما ممتاز مہر نے کامریڈ واحد بلوچ اور سحر انصاری کی جانب دیکھتے ہوئے مجھے بتایا، دونوں اس وقت فریئر ہال میں خریدی گئیں کتابوں کے بنڈل بنا رہے تھے…نوآبادیاتی دور کی اس عمارت کے سبزہ زار پر ہر ہفتے نئی، پرانی اور چوری شدہ کتابیں ارزاں نرخوں پر بیچی جاتی ہیں…

تاہم ریگل چوک صدر کی تنگ گلی میں زمین پر بکھری پرانی کتابیں یہاں سے زیادہ سستی ہیں…میں کتابوں کی تلاش میں وہاں جاتا تھا…اگر کتاب فروش ادب اور ادیبوں سے زیادہ واقفیت نہ رکھتا ہو تو آپ ایک انمول کتاب صرف پانچ روپے میں بھی خرید سکتے ہیں…

\"FB_IMG_1469702500182\"\”اسے رہنے دو\” کامریڈ نے اچانک مجھے گلے لگاتے ہوئے کہا، میں اس وقت مابعد جدیدیت کے موضوع پر ایک کتاب خرید رہا تھا…

\”یہ کتاب، وہاں نکڑ کے اسٹال پر موجود ہے، اس کے پاس گاہک کم ہیں، سستی مل جائے گی اور اس کے مقابلے میں اس کتاب کی حالت بھی بہتر ہے\” وہ مجھے سمجھانے لگے…

طالبعلم ہونے کے باعث میری جیب ہمیشہ ہلکی رہتی تھی اس لیے کتابوں کی خریداری کے معاملے پر ان کی رائے میری لیے ہمیشہ اہمیت رکھتی تھی…\”وہ (ریگل چوک کے کتاب فروش) کتاب کی قدر سے بے بہرہ لیکن چہرہ پڑھنے میں ماہر ہیں اس لیے کبھی ایسا تاثر مت دو کہ آپ فلاں کتاب کے حصول کیلئے مرے جا رہے ہیں\”…

مشکل یہ تھی کہ کامریڈ مجھ سے پہلے تمام اچھی کتابیں خرید لیتے تھے…اتوار کی صبح جلدی اٹھنا قیامت سے کم نہیں لیکن ایک دن خود پر جبر کرکے میں اٹھا اور یہ سوچ کر جلد از جلد ریگل چوک پہنچا کہ آج کامریڈ یا دیگر کو مات دے جاؤنگا…حیرت کی انتہا نہ رہی کامریڈ نہ صرف مجھ سے پہلے وہاں موجود تھے بلکہ تمام بہترین کتابیں بھی خرید چکے تھے…

\"FB_IMG_1469702448545\"\”کیا خیال ہے، کیا یہ واقعی ان تمام کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں؟\”..ممتاز مہر، جو خود بھی وسیع المطالعہ ہیں ہمیشہ ریگل چوک اور فریئر ہال میں کامریڈ یا انصاری کو کتابوں کے بنڈل خریدتے دیکھ کر پوچھتے…میرا جواب نفی میں ہوتا، حتی کہ آج بھی….

کامریڈ صرف کتابوں کی خریداری کے دھندے سے منسلک نہیں ہیں…گزشتہ تین دہائیوں سے بیشتر بلوچی کتابوں کی اشاعت انہی کی رہینِ منت ہیں…

بلوچی کتابوں کی اشاعت کا کوئی باقاعدہ نظام وجود نہیں رکھتا…شاعر رقم اور مواد کامریڈ کو ارسال کرتا، آگے کی ذمہ داری کامریڈ کی تھی، شاعر مطمئن ہوکر بیٹھ جاتا کہ کتاب نہ صرف شائع ہوگی بلکہ تمام بک اسٹالوں پر پہنچ بھی جائے گی…وہ اپنی زات میں ایک پبلشنگ ہاؤس تھے…

کراچی میں جدید اشاعتی نظام کی مقبولیت سے قبل، ایک شخص مواد کو خطاطی کا روپ دیتا، اس کے بعد پیسٹنگ ہوتی، فلم بنتی بعد ازاں پرنٹ کیلئے بھیجی جاتی….اگر کسی قلم کار کے پیسے کم پڑ جاتے تو کامریڈ بعض کام جیسے، پیسٹنگ وغیرہ اپنے سر لے لیتے…کامریڈ کو اگر کوئی کتاب پسند آجاتی تو اشاعت کا تمام خرچہ وہ خود اٹھاتے…

\"FB_IMG_1469702827311\"\”یہ اتنے سارے پیسے لاتا کہاں سے ہے؟، میں آپ کو بتاؤں مجھے اس شخص پر اعتماد نہیں، کچھ تو گڑبڑ ہے\”….ایک دوست نے مجھے بتایا…ویسے اس معمے پر بلوچ ادبی محفلوں میں بھی کافی چہ میگوئیاں ہوتی رہتی ہیں….

کامریڈ سول ہسپتال کراچی میں ٹیلی فون آپریٹر ہیں…دنیا بھر کی کتابوں کی خریداری اور بلوچی کتابوں کی مفت اشاعت دیکھ کر لوگوں کے دل و دماغ میں سوال اٹھنا غیر فطری نہیں….

\”وہ (بلوچ ادبا) رقم بھیجنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن جب کتاب چھپ کر مارکیٹ میں آجاتی ہے تو فون کا جواب نہیں دیتے بلکہ دوسری کتاب چھپنے کیلئے میرے پاس پہنچ جاتی ہے، کیا کروں ان کا، کہاں لے جاؤں، کراچی کے تمام پرنٹرز کا مقروض ہوچکا ہوں\”…کامریڈ ہمیشہ بڑبڑاتے رہتے…

مجھے تاحال حیرت ہے انہیں کامریڈ کیوں کہا جاتا ہے…بعض افراد کے مطابق وہ کسی زمانے میں پکے سوشلسٹ تھے تاہم میں نے کبھی ان سے ان کے سیاسی پس منظر پر بات نہیں کی….کتابوں کی دوکانوں اور اسٹالوں میں ملاقات کے علاوہ جب بھی میرا کراچی پریس کلب جانا ہوا میں نے ان کو وہاں بیوی، بچوں اور کیمرے کے ساتھ پایا…وہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی احتجاجی ریلیوں میں شرکت کرتے، ان کی تصاویر اتارتے اور پوسٹر و بینر چھاپنے میں ان کی مدد کرتے….

\”جانتے ہو یہ ان تصویروں کا کیا کرتا ہے؟\” میرے ایک اور شکی مزاج دوست نے مجھ سے پوچھا…\”یہ فیملی کے ہمراہ یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، یہ تصاویر سیاسی پناہ کی درخواست قبول کروانے میں مدد گار ثابت ہونگی\”… اس نے مجھے اس \"FB_IMG_1469702439419\"یقین سے بتایا جیسے اسے الہام ہوا ہو…

2009 کو جب فوج نے کشت و خون کا آغاز کیا تو یہ صاحب خود بھاگے بھاگے یورپ پہنچے اور آج وہاں سیاسی پناہ حاصل کیے بیٹھے ہیں…میں خود بھی فرار ہو گیا تاہم اپنی سست طبیعت کے باعث تاحال یورپ نہ پہنچ سکا….

اس وقت کوئی بھی بلوچ مرد ریلیوں میں شرکت کرنے سے قبل ہزار دفعہ سوچتا تھا….مجھ جیسے بلوچ صحافی بھی لاپتہ افراد اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر لکھتے ہوئے گھبراتے تھے مبادا کوئی لفظ یا جملہ جان کے ضیاع کا باعث نہ بنے….

لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے منعقدہ ریلیوں کی تصاویر میں وہ اب (2016) بھی نظر آتے ہیں….میں خود شک میں پڑگیا…یہ اب تک کیسے زندہ بچا ہوا ہے؟، فوج ان کو گرفتار کیوں نہیں کرتی؟، وہ کیوں ان تمام بلوچوں کی طرح فرار کا راستہ اختیار نہیں کرتے جنہوں نے ہمیشہ \”پکڑو، مارو اور پھینک دو\” پالیسی کی مخالفت کی؟…

میں  جب بھی کسی تصویر میں ان کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے نعرے سے مزین بینر تھامے دیکھتا تو مجھے اس دوست کا جملہ یاد آتا، \”اس شخص کے ساتھ کچھ نہ کچھ تو گڑبڑ ہے\"FB_IMG_1469702875785\"\”…

بالآخر، کامریڈ بھی لاپتہ ہوگئے…26 جولائی 2016 کو انہیں سہراب گوٹھ سے اس وقت نقاب پوش مسلح افراد نے اغوا کرلیا جب وہ اندرونِ سندھ سے کراچی آرہے تھے…

سوچ رہا ہوں وہ نقاب پوش کون تھے…ظاہر ہے ریاستی اہل کار ہوں گے اس معاملے میں انہیں دوسروں پر سبقت حاصل ہے…یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ ان پبلشرز کے بھیجے ہوئے لوگ ہوں جن کے کامریڈ مقروض تھے تانکہ پیسوں کی واپسی کی کوئی سبیل نکل سکے….

(ترجمہ : ذوالفقار علی زلفی…  بشکریہ: بلوچستان ٹائمز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔