سوشل میڈیا کے عہد میں آزادی اظہار


\"Tanveerوہ دور لد گئے جب اخباروں میں مخصوص کالم نگاروں کے کالم پڑھنا پڑتے تھے، یا پی ٹی وی کے ایک چینل پر اظہر لودھی کی ضیا الحقی خبریں یا پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ٹریکٹر کی دیکھ بھال یا امریکن سنڈی کا حملہ اور اسکا تدارک جیسے رس بھرے موضوعات دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، ہمارا میڈیا اور نصابی کتب جو بھی بتا تے تھے ، وہی سچ ہوتا تھا اور ان اطلاعات کی بنیاد پر عوام اور خاص طور پر مڈل کلاس کی ایک طرح کی اسٹیریو ٹائپ رائے ہوتی تھی او ر کافی حد تک اب بھی ہے ۔

ایک پاکستانی قاری کا دنیا کے بارے میں جو عمومی رائے یا تاثر ہے وہ بڑا محدود اور بڑا مزیدا ر اور بھولا بھالا سا لگتا تھا اور اب بھی لگتا ہے، مثلاً اگر ایک پاکستانی مڈل کلاسیے کو کسی اٹلس پر بٹھایا جائے تو مختلف ممالک پر اسکے تبصرے یو ں ہونگے؛

چین: یہاں لوگ کتے بلی کھاتے ہیں، اچھا کافر ہے؟ مگر یارہمارا دوست ہے، انڈیا کو ٹائٹ رکھا ہے اس نے

روس: یہ امریکہ کا جانی دشمن ہے ، یہاں کی واڈکا بڑی مشہور ہے

جاپان: الیکٹرونکس بہت اچھی بنتی ہے ، ٹویوٹا کرو لا ا ٓتی ہے یہاں سے

بھارت: یہاں سب ہندو رہتے ہیں اور بہت غربت ہے او ر یہ ہمارا دشمن ہے

کیریبین: یہاں سے ویسٹ انڈیز کے کالے آتے ہیں کرکٹ کھیلنے

کینیڈا: میرے ماموں رہتے ہیں فیملی کے ساتھ، میں بھی ٹرائی کر رہا ہوں

ارجنٹینا: میرا ڈونا ہوتا ہے یہاں، کلاس کی ہاکی بھی کھیلتے ہیں

بنگلہ دیش: سالے غدار بنگالی

افریقہ: سارے کالے ہوتے ہیں یہاں، (یار ساو ¿تھ افریقہ کے ویزے کی کوئی جگاڑ بتانا، ویسے ساو ¿تھ افریقہ کی ٹیم بڑی دبنگ ہے )

جرمنی: یہاں ہٹلر ہوتا تھا، بڑا ہی جان کو ہٹلر تھا قسم اللہ کی

امریکہ: یار میرا بھائی گیا تھا، سلپ ہوگیا، میں بھی جگاڑ میں ہوں

بینکاک سنگا پور: یہاں سے کھیپیے مال لاتے ہیں

پاپوا نیو گنی: یہ کونسا ملک ہے یار اتنا بڑا؟

کیوبا: یہاں کا سگار شیخ رشید پیتا ہے

آسٹریلیا: یہاں کی ٹیم بڑی ظالم ہے بابے، ویزے کا کیا چکر ہے یہاں کا؟

برازیل: یار ورلڈ کپ برازیل ہی جیتے گا اس مرتبہ دیکھنا

ٓ

آ پ نے ستر کی دھائی میں ایک گانا ضرور سنا ہوگا، اگر آپ میری عمر کے گروپ میں ہیں Video kills the radio star آج میرا دل چاھتا مے کہ میں گاؤں

ارے سوشل میڈیا نے میڈیا کو ماردیا رے، ہائے او ربا، ہائے او ربا ہائے ہائے ہائے

سوشل میڈیا ایک دھماکے سے ہماری زندگیوں میں وارد ہوا ہے، یہ ایک عجیب سی آزادی کا احساس دیتا ہے جو پہلے مفقود تھا، مثلاً آپ ٹی وی پر ایک مناظرہ دیکھ رہے ہیں جہاں بکواس ہورہی ہے ، یا کسی عظیم دانشور کا کسی حکمران کی ہجو والا کالم پڑھ رہے ہیں مگر اگر آپ کو اس سے اختلاف ہے تو آپ دل میں کڑھنے اور زیرلب گالیاں دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے تھے، مگر اب، کی بورڈ یا موبائل اٹھائیے اور فیس بک یا ٹویٹر پر بھڑاس نکال لیجئے ۔ لیکن جدید موبائل فون کے آنے کے بعد فیس بک اور ٹویٹر کا استعمال کافی بڑھا ہے، پہلے بابو ٹائپ لوگ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر سوشل میڈیا سے منسلک ہوتے تھے مگر اب اینڈرائیڈ موبائل فون سیٹ کی لوگوں تک رسائی نے ایک نیا سوشل میڈیائی انقلاب برپا کردیا ہے، میرا خیال ہی کم و بیش دو کروڑ لوگ تو سوشل میڈیا کو استعمال کر رہے ہوں گے پاکستان میں، سیلفیاں اپلوڈ کرنا، اسٹیٹس اپڈیٹ کرنا اور لائکس گنتے رہنا، مذھبی بحث و مباحثہ، سیاست پر بے لاگ تبصرے، ٹویٹر پر سیاسی پارٹیوں کی ٹرینڈ بازی، شاعری، کاروبار، روابط، کیا نہیں ہورہا سوشل میڈیا پر، لوگ اپنے دور پرے کے دوستوں رشتے داروں سے روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہیں، ترکی میں بغاوت ہوئی اور سوشل میڈیا پر آگ لگ گئی، اور یہ دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کہ اب ایک عام سوشل میڈیا صارف یہ کہتا نظر ٓرہا ہے کہ بدترین جمہوریت، بہترین آمریت سے بہتر ہے، اور یہ کہ سسٹم جیسا لولا لنگڑا ہے اسے چلنے دیا جائے، ہمارا خیال ہے کہ مقتدر ادارے بھی سوشل میڈیا کی اہمیت سے واقف ہیں، اور کوئی اچھا برا قدم اٹھانے سے پہلے پھونک پھونک کر قدم اٹھائیں گے، مگر یہ الگ بات ہے کہ ان کی سرشت میں میڈیا یا سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا بدرجہ اتم موجود ہے، بجائے اس کو آزادی دینے کے۔

 آج یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے آنے سے روایتی میڈیا کی گرفت کمزور پر رہی ہے؟ جی ہاں یقینا ایسا ہوتا لگ رہا ہے، اب لوگ ٹی وی پر عمران خان، شیخ رشید، حسن نثار، اوریا مقبول جان، عامر لیاقت، قندیل بلوچ، کامران خان وغیرہ کو دیکھ اور سن رہے تو ضرور رہے ہیں مگر وہ سوشل میڈیا پر ان لوگوں کے متعلق اپنی رائے بھی بنا رہے ہیں اور بحث و مباحثہ بھی کر رہے ہیں، اب ہمارے چینل دانشور کے لئے یہ ممکن نہیں کہ جو مرضی آئے انا پ شناپ بک کر چلاجائے، دوسرے ہی لمحے لوگ سوشل میڈیا پر اسکی کلاس لے رہے ہوتے ہیں، اب لوگ پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کئے ہوئے انٹرویو یعنی عرف عام میں پلانٹڈ پروگرام کو بھانپ لیتے ہیں، لوگ میڈیا کی ریٹنگ کی بھوک کو سمجھ چکے ہیں، اب بہت کم لوگ پرائم ٹائم ڈاگ فائٹ یا انسانی کتا لڑائی میں دلچسپی لیتے ہیں جس میں مخالف سیاسی پارٹیوں کے لوگوں کو بلا کر آپس میں لڑوایا جاتا ہے اور اینکر مزے لوٹ رہا ہوتا ہے، اور تو اور اب اینکرز اور خود ساختہ دفاعی اور سیاسی مبصرین کو بھی بہت احتیاط سے کچھ کہنا ہوتا ہے کیونکہ انکو پتا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے کھال اتار لینی ہے ان کی کسی چول پر

 پہلی دفعہ ایسا دیکھنے میں آرہا ہے کہ روایتی میڈیا، سوشل میڈیا کے مزاج اور رجحان کا اندازہ کرکے پالیسی اور پروگرام بنانے پر مجبور ہوا ہے، ٓآج ہم کو ضرورت نہیں کہ کسی سماجی یا سیاسی موضوع پر جیو یا اے آر وائی وغیرہ کی رائے کا انتظار کریں، موبائل اٹھایا اور ٹویٹ ٹھوک مارا، عمران خان نے، الیکٹرونک کا سارا جوس نکالنے کے بعد سوشل میڈیا کو اپنی طاقت بنایا تھا اور ایک منظم سوشل میڈیا ٹیم کے زریعے اپنی پارٹی کی مقبولیت بڑھائی، دیکھا دیکھی اب تمام پارٹیوں کی میڈیا ٹیمیں چوبیسوں گھنٹے ایک دوسرے کے ساتھ نبرد آزما نظر آتی ہیں، فیس بک کی نسبت پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹویٹر پر متحرک ہے، اسی لئے تمام سیاسی لیڈروں، اداکاروں، کھلاڑیوں اور سیلیبریٹیز نے ٹویٹر اکاوًنٹ کھولے ہوئے ہیں

سوشل میڈیا پر ہی طنز یا مزاح کے طور پر فیسبکی دانشور، فیسبکی جہادی، کی بورڈ دانشور، ٹویٹری لبرل، لنڈے کے دانشور، لبرل فاشسٹ، وغیرہ کی اصطلاحات دیکھنے کو مل رہی ہیں، مگر طنز و مزاح اور ابلاغ میں پختگی بھی آرھی ہے، ہمارا خیال ہے کہ پڑھنے لکھنے والے طبقے اور پیشہ ور صحافیوں اور اخبارات و چینل مالکان میں ایک طرح کی حسد اور جلن بھی محسوس کی جارہی ہے، سوشل میڈیا کے اس اسپ بے لگام یا شتر بے مہار کے پر، مگر ہمارے خیال میں سیاسی و سماجی شعور کی ارتقا کے لئے یہ ایک مرحلہ ہو جس سے ہمیں گزرنا ہی ہوگا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابلاغ فروغ پا رہا ہے، ہم ٓپس میں بات کررہے ہیں، دلائل دے رہے ہیں، مذاق اڑا رہے ہیں، بھپتیاں کس رہے ہیں، گالیاں بک رہے ہیں، اخلاقی درس دے اور لے رہے ہیں، سیاسی لیکچر، نو آموز شاعروں اور میرے جیسے اناڑی لکھاریوں کی تو عید ہوگئی ہے، پہلے تو محال تھا کہ کوئی گھٹیا سے اخبار کا ایڈیٹر لفٹ بھی کراتا، اور جناب سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر کوئی ا ٓزادی سے اپنی رائے اور جذبات کا اظہار کر رہا ہے، اور اس عمل سے گزر کر سوشل میڈیا دھیرے دھیرے پختگی کی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں صرف حکومتی پریس ریلیز یا کسی ادارے کے تعلقات عامہ کے سیل کے ٹویٹ سے ہی اطلاعات اور آرا ¾ کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا بلکہ لاکھوں ٓزاد زرایع صارفین کی شکل میں ایک عظیم الجسہ اطلاعاتی نیٹ ورک کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اب تو لوگ اتنے تیز ہوگئے ہیں کہ منٹوں میں کسی فوٹو شاپڈ تصویر یا افواہ کا پتا لگالیتے ہیں اور لوگوں کو بروقت ہوشیار بھی کردیتے ہیں

ہم نہیں سمجھتے کہ سائبر کرائم کا قانون اطلاعات اور ابلاغ کی اتنی بڑی سونامی کو روک پائے گا، لہذا اس کے بارے میں جو بے چینی پائی جارھی ھے وہ بہت زیادہ شاید اوور ری ایکشن ہے، یہ 1970 کا سنسر والا دور نہیں، ا ور حکومت و ریاست کی جانب سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کئے جانے والے اقدامات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلنا ، مگر پھر بھی سول سوسائٹی کو اظہار رائے کی آزادی کو چند اخلاقی قیود (جن کا تعلق کسی فرد کی ذاتی زندگی اور کسی عقیدے کے تقدس کے تحفظ سے ہو) کو مانتے ہوئے اس قانون کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔