غیرتی قتل کا معاشرتی احترام ختم کرنے کی ضرورت


\"Amjadزیادہ پرانی بات نہیں کہ کینیڈا میں \”شفیع\” نام کے ایک افغان باپ نے اپنی تین بیٹیوں اور بیوی کو قتل کرنے کے بعد انہیں ایک گاڑی میں بٹھا کر نہر مییں دھکیل دیا۔ اس سازش میں اس کا بیٹا بھی شامل تھا۔ گرفتاری پر انہوں نے بتایا کہ اس کی بیٹیوں اور بیوی کے اپنے اپنے بوائے فرینڈز سے مغربی نوعیت کے تعلق تھے اور ایک افغان ھونے کے ناطے یہ سب کچھ برداشت کرنا اس کی \”غیرت\” کے خلاف تھا لہٰذا۔۔۔۔۔۔۔\”اب شیطان بھی ان کی قبر پر پیشاب کرتا رہے گا\” یہ بیان اس کے بیانات میں سے ایک تھا۔

 تین چار سال پہلے اسلام آباد کے \”پرویز\” نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کے چہرے پر تیزاب ڈال کراسے بری طرح جھلسا ڈالا تھا اور ریمانڈ پر اس کا بیان تھا کہ \” میں نے اسے اپنے شوھر سے بے وفاٰئی کرنے والی تمام عورتوں کے لیے عبرت کا نشان بنا ڈالا ہے\”۔ اور \” مقصود\”۔ جس نے \”غیرت کے نام پر\” اپنی بیٹی پر قاتلانہ حملہ کر کے اسے دریا میں بہا دیا ، اس کا بیان تھا کہ \”اب میرے خاندان میں سات پشتوں تک میرا نام عزت سے لیا جائے گا\” – اور حال ھی میں سوشل میڈیا میں ھلچل مچانے والی ماڈل گرل قندیل بلوچ کو اس کے نشئی بھاٰئی \”وسیم\” نے یہ کہہ کر قتل کر ڈالا کہ \”ہم بلوچ ہیں، لوگ مجھے طعنے دیتے تھے اورایک بلوچ کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ اس کی بہن۔۔۔۔۔\” اور یہ کہ \”اب بلوچ خاندانوں میں میرا سر فخر سے بلند ھو گیا ہے\” وغیرہ وغیرہ۔

ھر چند غیرت کے نام پر قتل – کم از کم تصوراتی سطح پر۔ دنیا میں کسی بھی جگہ ممکن ہے لیکن اس بنیاد پر برطانیہ، امریکا اور یورپ میں ایسے قتل کے جتنے واقعات بھی سامنے آتے ہیں ان میں اکثر سے زیادہ مشرق وسطیٰ ، جنوب اور وسط ایشیا سے آکر رھنے والے خاندان ملوث ھوتے ہیں۔ ۔\”غیرت\” درج بالا علاقوں کی ایک قدیم قبائلی قدر ہے جس کے ریشے اب وھاں وھاں پھیلے ھوے ہیں جہاں جہاں یہ لوگ آباد ھو گئے ہیں- لیکن یہ کہنا درست نہیں ھو گا کہ یہ روایت قدیم دور کے تمام قبائل میں یا پھر صرف اور صرف غیر یورپی علاقوں میں ھی مرِوِؔج تھی –تاریخ میں بہت سی متضاد مثالیں بھی ملتی ہیں۔ سماجی تناظر میں \”غیرت\” ایک دقیانوسی اور فرسودہ تصور ہے جو صرف اورصرف عورت کے جسم  اور جنسیت کے گرد طواف کرتا ہے – صنفی نظریا ت کے مطابق اس رویے کی جڑیں زیادہ تر پدرسری ملکییتی نظام میں پیوست ہیں – جس میں مرد عورت کو اشیائے صرف کی طرح اپنے قبضہ اور تصرف میں رکھنے میں ھی اپنا وقار اورعزت محسوس کرتا ہے – اور \”رشتہ ازدواج\” کے لیے لین دین اپنا بنیادی حق اور اختیار سمجھتا ہے۔

\”شفیع\” کا تعلق ایک ترقی یاافتہ آزاد خیال مغربی ملک کینیڈا کے اونٹاریو شہر سے تھا اور وہ عرصہ دراز سے وھاں ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت سے مقیم تھا – \”پرویز\” گوجرانوالہ جیسے گنجان آباد نواحی صنعتی اور نیم شہری علاقے سے وابستہ تھا، جبکہ \”مقصود\” کا تعلق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی مصروف ہمسایہ علا قے بہارا کہو سے تھا۔ جبکہ \”وسیم\” کا تعلق جنوبی پنجاب کے دور دراز اور غیر ترقی یافتہ دیہی علاقے شاہ صدر دین (ڈیرہ غازی خان) سے ہے – لیکن اس کے با وجود ان کی ذہنییت مشترک، عورتوں کے بارے میں ایک ھی رویہ اور کم و بیش ملتے جلتے \”بیانات\” ہیں –

 سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسے کون سے محرکات ہیں جو اتنے مختلف ماحول اور معا شروں میں رھنے والے مردوں کی مشترکہ سوچ اور ردۤعمل کا باعث بنتے ہیں – اور ساتھ ھی ساتھ اہم سوال یہ پیدا ھوتا ہے کہ ایسی صورت میں میں قوا نین بدلنے کی ضرورت ھوتی ہے یا سما جی اصلاحات کیِ؟ اس کا سطحی اور سادہ جواب ہے کہ \”دونوں\” جبکہ اس کے گہرے اور پیچیدہ ریسپانس میں ایک اور سوال پنہاں ہے کہ کیا سماج قانون پر طاقتوراور مستقل طریقے سے اثر انداز ھوتا ہے یا قانون سماج پرِ؟ – میری دانست میں کیونکہ قانون اولاً معاشرے ہی کی پیداوار ہے اس لیے معاشرہ اور سماج ھی قانون پر زیادہ بہتر اور موثر طریقے پر اثر انداز ھوتے ہیں اور نوزائیدہ جمہوری معاشروں میں تواس کے امکانات کئی گنا زیادہ ھوتے ہیں- اس لیے معاشرتی تبدیلی اور ترقی کے لیے زیادہ منظم جدوجہد کرنی چاھیے تاکہ ایسے گھناونے رحجانات اور روّیہ جات میں تخفیف کی جا سکے– اگر معاشرتی روایات اور رحجانات قانون سے کہیں زیادہ دقیانوسی، عقیدہ پرستانہ اور غیر ترقی پسندانہ ھوں تو بہتر سے بہتر قوانین میں بھی کنزرویٹوؔ ترامیم اورتشریحی استحصال – جیسا کہ پاکستان مین صورت حال رھی ہے – قانون کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتے ہے – سبب یہ کہ زیادہ تر قانون دان، وکلا اور پولیس بھی اسی معاشرتی نفسیات سے متاثر ھوتے ہیں اور روایتی قوانین کو حتمی، فطری، بدیہی اور پتہ نہیں کیا کچھ سمجھتے ہیں-

قانون ایسے اقدامات کے سدِۤٓباب کے لیے جزوی محرک ضرور ثابت ھوتا ہے لیکن اپنی اقدار و ازہان کو نہیں بدل سکتا یا پھر بہت وقت لیتا ہے – یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ قانونی غلام گردشییں ہر دوطرف راستہ بناتی ہیں بلکہ قانونی لغت اور تکنیک میں اچھے سے اچھا قانون برے سے برے لوگوں کے تحفظ اور ممکنہ دفاع کے لیے بنایا جاتا ہے۔ جبکہ سماجی دباؤ، سماجی خواھشات، سماجی رحجا نات اور سماجی قبولیت ہی زیادہ بہتر اور زیادہ منصفانہ قانون کے لیے مستقل راستہ ھموار کرتے ہیں – خیال رہے کہ قانون کا فلسفیانہ مقصد او\’لی \”انتقام لینا\” یا \”عبرت ناک سزا دینا\” اور \”اذیت دینا\” نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح، دوسرے لوگوں کو ضرررساں اشخاص سے محفوظ رکھنا اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات میں زیادہ سے زیادہ کمی لانا ھوتا ہے – کیونکہ ماضی کے نوع بنوع معاشرتی اور اعلٰی سے اعلی\’ قانونی تجربات کے باوجود فی الحال ایسے جرائم کا مکمل خاتمہ نظر نہیں آتا –

جہاں تک غیرت کے نام پر قتل، تیزاب گردی اور دوسرے متعلقہ جراٰئم کا تعلق ہے تواس نوعیت کے اقدامات میں انتہاٰئی تخفیف ممکن ہے بشرطیکہ معاشرے میں تعلیم اور دوسرے روشن خیال اور ترقی پسندانہ اقداراور رویوٰں کو فروغ دیا جائے –تعلیم اور روشن خیال سماجی بنیادوں کے بغیر کسی وقت بھی قانون کو پیچھے کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے – قانون سازی پارلیمان کرتا ہے۔ پارلیمان سیاستدان تشکیل دیتے ہیں اورزیادہ تر سیاستدان طبعاً روایتی ڈسکورس سے یا تو خود متاثر ھوتے ہیں یا کنزرویٹوِؔ حلقوں کی نمائندگی کا عذر پیش کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔