حفاظت، خدمت اور کاروبار: بہت شکریہ جناب


\"saleemکچھ لوگوں کی عقل پر تو بہت ہی گہرا پردہ پڑ چکا ہے۔ سرحد پار کے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لئے آپ کے منصوبے تو انہیں کیا نظر آئیں گے جب وہ آنکھوں کے سامنے ہونے والی خدمات اور کرامات ہی نہیں سمجھتے۔ Friends not Masters سے لے کر In the Line of fire تک اس ملک اور قوم کی شاندار تاریخ آپ ہی کے دم اور نہایت مضبوط اور قابل صد احترام قدم سے ہے۔ یہ جی ٹی روڈ تو محض ہمیں دلی کے لال قلعے تک کی معلومات دیتی تھی یروشلم تک کے فاصلے اور خواب کی آگاہی تو آپ ہی نے بخشی ہے۔ بلا شبہ ہماری خوشحالی کا راز اسی میں پوشیدہ ہے۔

یہ ساری گیم تقریباً پہلے دن سے آپ کی فرض شناسی اور دور اندیشی کی بدولت ہے۔ ورنہ یہ سیاست دان تو کب کا اس ملک کو دشمنوں کے حوالے کر کے نئی دلی یا ماسکو میں چھٹیاں گزار رہے ہوتے اور ہم غلامی میں بیگار کاٹ رہے ہوتے۔ آپ ہی تو ہیں کہ یہ پاک خطہ اس شان سے ساری دنیا میں ایک منفرد نام اور مقام رکھتا ہے ورنہ اس جاہل عوام کے ہاتھوں چنے ہوئے سیاست دانوں کے لچھن تو اسی وقت سامنے آ گئے تھے جب وہ پہلے دس سال تک ایک آئین نہ بنا سکے۔ ان لوگوں نے ملک کیا خاک چلانا تھا۔ اور جب آئین بن بھی گیا تو وہ بالکل ہی بیکار نکلا۔ وہ تو ایک پاجامے سے بھی کم چلا اور اس کو پھاڑ کر پھینکنا پڑا۔ شکر ہے کہ آپ نے کاغذ کے اس بیکار ٹکڑے سے جلد ہی ملک کی جان چھڑا دی وگرنہ آج ہم یہ نہ ہوتے جو کہ ہیں۔ اور اس سے ایک اچھی روایت بھی پڑ گئی۔ کاغذ کا یہ بیکار ٹکڑا جب بھی ملکی سلامتی کی راہ میں حائل ہوا بڑی آسانی سے پھاڑ دیا گیا۔

پھر آپ نے ساٹھ کی دھائی میں اس ملک کو ایک آئین دیا اور بنیادی جمہوریت بھی۔ اس جاہل عوام سے اتنی ہی جمہوریت برداشت ہوتی تھی۔ اس آئین کو \”ون یونٹ\” وغیرہ کی کامیابی سے پرکھ بھی لیا۔ اگلے گیارہ سالوں میں ملک اچھا بھلا مضبوط ہو گیا۔ خاص طور پر عوام میں برابری اور ہم آہنگی تو عروج پر تھی۔ کسی خطے کے پاس احساس محرومی کا کوئی جواز نہ تھا۔ اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ بنگالی یا ان جیسی شکل اور قد کے لوگوں کو ملکی دفاع جیسی اہم ذمہ داری نہیں دی جا سکتی تھی۔ آپ نے ملک کو اسلام آباد جیسا دارالحکومت دیا۔ مجیب الرحمٰن جیسے کم عقل سیاست دان کی شرارت دیکھو کہ سڑک پر بچھی تارکول سے پٹ سن کی بو سونگھتا تھا۔ ایک دفعہ کچھ فوجی اسے گرفتار کرنے گئے تو آرام سے ساتھ چل پڑا۔ ایک پنجابی سپاہی نے چیک کرنے کے لئے چلتے چلتے ایک تھپڑ رسید کیا تو کانپنے لگا۔ بزدل کہیں کا۔ اس غدار کی وجہ سے ہم اکہتر کی جنگ جیتنے سے رہ گئے۔ ورنہ آپ نے دشمن کو پینسٹھ والے مزے چکھانے تھے۔ خیر چھوڑیں اس بات کو یہ اصغر خان اور نور خان جییسے سٹھیائے ہوئے بڈھوں نے پینسٹھ پر بیان بازی کر کے مزا کرکرا کر دیا ہے ورنہ ہمارا سلیبس تو پرفیکٹ تھا۔ خیر ان بڈھوں کی اب بھی کون سنتا ہے۔

پہلے گیارہ سالوں میں اس ملک کو سیاست دانوں نے اتنا خراب کر دیا تھا کہ اس کو ٹھیک کرنے میں آپ کو کوئی تیرہ سال لگے اور آپ نے ستر کی دھائی شروع ہوتے ہی نہایت مستحکم ملک سیاست دانوں کے ہاتھ میں دے دیا۔ لیکن عوام اور سیاست دانوں کے لچھن اس دفعہ تو اور بھی خراب تھے اس سے پہلے تو زیادہ خطرہ ملکی سلامتی کو ہوتا تھا مگر اس دفعہ مذہب بھی خطرے کی زد میں آ گیا۔ اور صرف چھے سالوں کے بعد ہی اس ملک کو بچانے کے لئے آپ کو ایک دفعہ پھر قربانی دینی پڑی۔ اب اگلے گیارہ سال ملکی سلامتی اور مذھبی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں لگ گئے۔ اس دوران بھی جاہل عوام کی اوقات اور برداشت کے مطابق انہیں جمہوریت سے نوازا گیا۔ 1984 کا ریفرنڈم اور کئی الیکشن اس بات کے گواہ ہیں۔

آپ کے یہ گیارہ سال بھی بہت کامیاب گزرے۔ ملکی سلامتی یقینی بنائی گئی اور اکیلے دم دنیا کی ایک لادین سپر پاور کو نہ صرف شکست دی بلکہ اس کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ شکر ہے کہ دوسری سپر پاور لادین نہیں تھی ورنہ آپ اس کا بھی یہی حشر کرتے۔ ملک میں مذہب کی بنیادوں کو خوب مضبوط کیا۔ مذہبی جماعتوں کی \”آن دی جاب تربیت\” ہو گئی کیونکہ وہ اقتدار کا حصہ تھیں۔ ملک کے اندر کی ہم آہنگی تو اب کوئی مسئلہ ہی نہ تھا بلکہ پوری اسلامی دنیا ایک امہ بن چکی تھی۔ اس کا عملی نمونہ ہی تھا کہ پوری دنیا سے وہ سچے مسلمان نوجوان جو اس عارضی دنیاوی زندگی سے بیزار خود کشی کے کنارے پہ بیٹھے تھے بغیر کسی ویزے یا کاغذات کے پاکستان آئے، یہاں جدید امریکی ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل کی اور شہادت کے جذبے سے سرشار افغانستان سدھارے۔ زیادہ تر کو ان کی مراد مل گئی یعنی شہید ہوئے اور باقی ماندہ پاکستان ہی واپس آئے۔ مزید جنگی تربیت حاصل کی اور جا بجا کفار سے لڑنے کو روانہ ہوئے اور اپنے اکلوتے ہنر کا خوب مظاہرہ کیا۔ ان جنگجو نوجوانوں نے پاکستان اور مسلم امہ کا نام روشن کیا اور ان کی اگلی نسل اس کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ نت نئے محاذ کھل رہے ہیں اور ہر محاذ پر ہمیں یاد کیا جاتا ہے۔ اس دور میں ملک میں خوشحالی کا راج تھا امریکی ڈالر اور صعودی ریال ہمارے حکمرانوں اور مذہبی جماعتوں کے پاس بوریوں میں بھرے ہوتے تھے۔

یہ دور نہ جانے آپ کو کتنا چلانا پڑتا لیکن آم پھٹ پڑے اور ایک دفعہ پھر حکومت سویلین کے پاس چلی گئی۔ آپ کو علم تھا کہ یہ الیکشن وغیرہ کا کام ان سے ہو نہیں سکے گا لہٰذا آپ نے خوب مدد کی اور آئی جے آئی جیسا عظیم الشان اتحاد ترتیب دیا تاکہ کوئی متوقع سیاست دان اپنی اوقات سے زیادہ پاؤں نہ پھیلا لے۔ آپ کی پالیسی، میل ملاقاتیں اور تقسیم کی گئی رقوم رنگ لائیں اور کسی بھی پارٹی کو کوئی حتمی اکثریت نہ مل سکی۔ بینظیر کو حکومت مل گئی مگر آپ کا کنٹرول بہت مفید رہا اور وہ راجیو کے ساتھ مل کر پاکستان کی سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکی۔ سویلین کو حکومت دے کر دیکھ لیا۔ دس سالوں میں چار الیکشن۔ پے در پے الیکشن کے اخراجات یہ قوم کیسے برداشت کر سکتی تھی۔ پاکستان میں الیکشن کا خرچہ ڈبل ہوتا ہے کیونکہ الیکشن کرانے کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی کے نتائج لانے کا خرچہ بھی ہوتا ہے۔ ورنہ کسی سیاستدان پر زرا سا اعتبار کر لو تو وہ اپنی اوقات سے باہر ہو جاتا ہے۔ اپنی مرضی کے فیصلے کرنے لگتا ہے اور چھیڑخانی شروع کر دیتا ہے۔ جہاز اغوا کرنے جیسے جرائم کر بیٹھتا ہے۔ کتنا برداشت کرتے، حکومت کی براہ راست ذمہ داری 1998 میں پھر آپ کو اپنے ہاتھ لینی پڑی۔ ایک دہائی پھر لگ گئی ملک کو سیدھا کرنے میں۔

اس دفعہ صدر بش جیسے جنونی کو آپ نے بجا طور پر بے وقوف بنایا اور پاکستان کو ایک مرتبہ پھر خوب منافع ہوا۔ ڈالروں اور لاشوں کی ریل پیل رہی۔ شکر ہے کہ ملک آپ نے سنبھالے رکھا۔ یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ ایک مرتبہ پھر آپ نے ملک کی باگ ڈور سیاست دانوں کے ہاتھ میں دی ہوئی ہے۔ اب سیاسی حکومت اپنی خود مختاری پر بہت خوش ہے۔ سڑکوں اور پلوں وغیرہ کے ٹھیکے اپنی مرضی سے دیتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ اس ساری مصروفیت کے باوجود پچاس نہایت کامیاب اور منافع بخش کاروبار بھی چلا رہے ہیں۔ ہم عوام اس حفاظت، خدمت اور خوشحالی پر آپ کا شکریہ ادا کر کے خوش ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 125 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “حفاظت، خدمت اور کاروبار: بہت شکریہ جناب

  • 29-07-2016 at 8:03 pm
    Permalink

    اس سے زیادہ بیکار تحریر اس سائٹ پر نہیں دیکھی. اسٹیبلشمنٹ پہ تبری کرنا ہو تو سلیقے سے کرنا چاہیے

Comments are closed.